Al-Risala · January 2002

National Symbols that we are proud of.

Al-Risala, January 2002, pp. 8–13

By Maulana Wahiduddin Khan

۳ مئی کی صبح کو ڈھاکہ ایئر پورٹ پہنچا۔ بنگلہ دمان کی اس فلائٹ میں مجھے ایک چیز قابل تعریف نظر آئی اور وہ اس کی لینڈنگ تھی۔ ڈھاکہ ایئر پورٹ پر جہاز اس طرح اتر گیا کہ مجھے اس کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔ ایئر پورٹ کے لاؤنج میں کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ جو کانفرنس میں شرکت کے لئے آج ہی صبح یہاں پہنچے تھے۔ مثلاً پاکستان کے ائیر مارشل اصغر خاں، پروفیسر اے ایچ دانی، مسٹر ایچ کارلیکر، ایم جے اکبر، ڈاکٹر عالیہ امام (پاکستان)، وغیرہ۔

بنگلہ دمان سے دہلی سے ڈھاکہ تک کا سفر زیادہ خوشگوار نہ تھا۔ جہاز بھی پرانا تھا اور سروس بھی معمولی تھی ۔ لیکن جب ہم لوگ ایئر پورٹ پر پہنچے تو یہاں منظر بالکل دوسرا تھا۔ ایئر پورٹ شاندار نظر آیا۔ ایئر پورٹ کے باہر پارک اور سڑکیں بھی دہلی ایئر پورٹ سے اچھی تھیں ۔ ایئر پورٹ سے چل کر ہم لوگ ہوٹل ڈھاکہ شیرٹن(Dhaka Sheraton) پہنچے۔ میرا قیام روم نمبر ۱۰۱۹ میں تھا۔

۳ مئی کی شام کو کانفرنس کے شرکاء ڈھاکہ ساور (Dhaka Savar) لے جائے گئے۔ یہ مقام ڈھاکہ سے تقریباً ۲۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہاں ایک یادگار تعمیر کی گئی ہے

جس کو نیشنل میموریل کہا جاتا ہے ۔ یہ بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی (۱۹۷۱ء) کی یادگار ہے جو پاکستان کے خلاف لڑی گئی تھی ۔ یعنی وہ واقعہ جب کہ اقبال اور جناح کی ایک قوم دو مختلف قوم بن کر ایک دوسرے کے خلاف خونیں جنگ میں شریک ہوگئی۔

ہمیں بتایا گیا کہ اس جنگ میں ۳ ملین بنگالی مارے گئے اور ۲۰ ہزار ہندوستانی فوجی ہلاک اس واقعہ کی یادگار میں یہ میموریل تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ میموریل ایک سو آٹھ ایکڑ رقبہ میں بنگلہ دیش کی اس جنگ آزادی میں ہندوستان کو اپنی شمولیت کی یہ قیمت دینی پڑی کہ ملک میں مہنگائی بے پناہ حد تک بڑھ گئی اور مہنگائی میں اضافہ کے علاوہ دوسرے بے شمار مسائل پیدا ہوئے جس کا بظاہر کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔

یہ نیشنل یادگار بنگلہ دیش کی سب سے اہم جگہ سمجھی جاتی ہے۔ باہر کی بڑی شخصیتیں (dignitaries) جب بنگلہ دیش آتی ہیں تو وہ یہاں آکر اس شہیـدی یادگار پر پھول چڑھاتی ہیں۔ یہ میموریل ایک وسیع رقبہ میں نہایت خوبصورت انداز میں بنایا گیا ہے۔ اس کو بنگلہ دیش میں وہی مقام حاصل ہے جو ہندوستان میں بننے والی دہلی کی گاندھی سمادھی کو حاصل ہے۔ ۳۱ مئی کی شام کو ڈھا کہ کے ہندوستانی ہائی کمیشن کی طرف سے کانفرنس کے شرکاء کو ریسپشن کانفرنس میں شریک ہونے والے تمام لوگ ہائی کمشنر کی رہائش گاہ آئے اور دیر تک کھانے پینے کے ساتھ ساتھ آپس میں باتیں کرتے رہے۔

ایک بوڑھی خاتون آکر ہمارے پاس بیٹھ گئیں ۔ ان کے حلیہ سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ کوئی مقامی خاتون ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ بنگالی ہیں۔ خاتون نے کسی قدر بلند آواز سے جواب دیا:

ان کے کہنے کے انداز میں فخر کا جذبہ نمایاں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ بنگالی خواہ وہ بنگلہ دیشی ہو یا ہندوستانی بنگال سے تعلق رکھتا ہو، وہ اپنی زبان اور کلچر کے بارے میں بہت زیادہ نازاں (proud)

پاکستان کے لیڈروں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ انہوں نے اردو زبان اور اردو کلچر کو مشرقی پاکستان پر تھوپنا چاہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اردو زبان اور اردو کلچر تو یہاں رائج نہ ہوسکا البتہ اس کے خلاف یہاں سخت ردعمل ہوا یہاں تک کہ مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ پاکستان سے آئے ہوئے دوڈیلی گیٹ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے شیخ مجیب الرحمن کی تعریف کی۔ اس کوسن کر دوسرا شخص غصہ میں آگیا۔ اس نے کہا کہ تم ایک غدار (traitor) کی تعریف کر رہے ہو۔ حالانکہ یہی شخص ہے جس نے پاکستان کو توڑا۔ دوسرے آدمی نے جواب دیا کہ اگر شیخ مجیب الرحمن نے ہمارے ملک کو توڑا ہے تو تم نے بھی کسی کے ملک کو توڑا ہے۔ شیخ مجیب الرحمن نے پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش بنوایا ہے اسی طرح تم نے انڈیا کو توڑ کر پاکستان بنوایا ہے۔ اس پر وہ آدمی مزید غصہ ہو گیا اور یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ تم پاکستان کے دشمنوں کے ایجنٹ معلوم ہوتے ہو۔

یہ انسان کی عجیب و غریب کمزوری ہے کہ ایک ہی فعل وہ خود کرے تو اس کی برائی اس کو دکھائی نہیں دیتی مگر اسی فعل کو جب کوئی دوسرا کرے تو وہ اس کی برائی کو اس طرح دیکھ لیتا ہے جیسے کہ اس کی آنکھ پر دوربین اور خوردبین سے بھی زیادہ طاقتور آلہ لگا ہوا ہے۔ ڈھاکہ کی اس کانفرنس میں مختلف ملکوں کے لوگ آئے تھے۔ پاکستان سے بھی کئی لوگ شریک ہوئے ۔ ان میں سے ایک اعلی تعلیم یافتہ خاتون پروفیسر ڈاکٹر عالیہ امام تھیں۔ سرکاری عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔ وہ اسلام آباد میں رہتی ہیں۔ ان کا ٹیلی فون نمبر یہ ہے: ایک مجلس میں انہوں نے کہا کہ انڈیا میں تو اردو کا جنازہ نکل چکا ہے۔ میں نے کہا کہ انڈیا میں بالفرض اگر اردو کا جنازہ نکلا ہو تو پاکستان میں تو خود اسلام کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ اکثر ہندوستان کو اور ہندوستانی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے یہ بہت نا انصافی کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا کے مسلمان پاکستان کے مسلمانوں

سے کہیں زیادہ بہتر حالت میں ہیں ۔ میں نے کہا کہ میں ہندوستان میں مہاتما گاندھی پر تنقید کرتا ہوں اور وہ وہاں کے انگریزی اخبار میں چھپتی ہے (مثال کے طور پر روزنامہ پائینیر، نئی دہلی، ۲۶ جنوری، ۱۹۹۷) آپ لوگ پاکستان کے اخباروں میں قائد اعظم پر تنقید شائع نہیں کر سکتے ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد آج پاکستان کے مسلمانوں سے بہت زیادہ ہے ۔ اردو زبان کے تمام بڑے بڑے مسلم رائٹر ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ پوری مسلم دنیا کا سب سے بڑا دولت مند آدمی ہندوستان میں موجود ہے ۔ تمام بڑے بڑے اسلامی ادارے ہندوستان میں پائے جاتے ہیں ۔ مسلم عہد کی تقریباً تمام تاریخی یادگاریں ہندوستان میں ہیں، وغیرہ، وغیرہ۔

انہوں نے کہا کہ کوئی زبان ابتدائی اسکولوں کی بنیاد پر زندہ رہتی ہے ۔ میں ابتدائی اسکولوں میں اردو زبان کا خاتمہ کر دیا گیا ہے ۔ پھر ہندوستان میں اردو زبان کیسے زندہ رہ سکتی ہے۔ میں نے کہا کہ خدا کے فضل سے ہمارے یہاں اسکولوں میں بھی اردو کی تعلیم دی جاتی مگر اس سے بڑھ کر یہ کہ ہندوستان میں تقریباً ۵ لاکھ کی تعداد میں چھوٹے بڑے مدرسے پائے جاتے ہیں اور ان سب مدرسوں کا ذریعہ تعلیم اردو ہے۔ پھر آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ ہندوستان میں اردو زبان کی جڑ کاٹ دی گئی ہے۔

اس سفر میں بہت سے بنگلہ دیشی مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ کئی لوگ مجھ کو اپنے گھر لے جانا چاہتے تھے۔ مگر کانفرنس کی مصروفیتوں کی وجہ سے میرے پاس زیادہ وقت نہ تھا۔ بنگلہ دیشی مسلمان کے اصرار پر ان کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ ۲ جون کی صبح کو وہ اپنی گاڑی لے کر ہوٹل پر آئے اور مجھ کو اپنے گھر لے گئے ۔ اس طرح ۲ جون کی صبح کا کچھ وقت ان کے گھر پر یہ محمد صادق صاحب کا گھر تھا۔ ان کے چھوٹے بھائی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ محمد صادق صاحب اردو زبان نہیں جانتے مگر وہ جاپانی زبان روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جاپانی کاروں کے امپورٹر ہیں۔ اس بنا پر انہیں اکثر

جاپان جانا پڑتا ہے۔ اپنے بزنس کے تقاضہ کے تحت انہوں نے جاپانی زبان سیکھ لی۔ بنگالیوں کو اردو داں نہ بنا سکا مگر جاپان نے ان کو جاپانی داں بنا دیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی میں عملی حقائق کتنی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

ڈھاکہ میں ہماری کتابوں کے بعض ڈسٹری بیوٹر ہیں۔ محمد صادق صاحب کے گھر پر ان کا ذکر ہوا تو ان کے ۱۳ سالہ صاحبزادے نے فوراً کہا کہ مجھ کو ان کا ایڈرس دیجئے میں وہاں سے اسلامی کتابیں لاؤں گا۔ وہ انگلش اسکول میں پڑھتے ہیں۔ اس طرح کے مختلف واقعات سے اندازہ ہوا کہ بنگلہ دیش کے مسلمان اسلام کے ساتھ گہرا جذباتی تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم مورخ کو اس مشکل سوال کا جواب معلوم کرنا ہے کہ سابق مشرقی پاکستان میں اسلامی قیادت کیوں ناکام ہوگئی۔ اور سیکولر قیادت کیوں اتنا کامیاب ہوئی کہ یہ ملک اسلامی پاکستان سے کٹ کر سیکولر بنگلہ دیش بن گیا۔ یکم جون ۲۰۰۱ کی صبح کو میں ڈھاکہ کے شیریٹن کے ڈائننگ ہال میں ناشتہ کر رہا تھا۔ قریب کی میز پر ایک اور صاحب بیٹھے ہوئے تھے جو غالباً انڈونیشیا سے آئے تھے۔ اتنے میں ایک اور صاحب اپنا خوبصورت بیگ لئے ہوئے داخل ہوئے۔ انہوں نے مذکورہ انڈونیشی سے کہا کہ تکلیف کے لئے معافی (sorry to disturb you) ۔ اور پھر وہ ان کے قریب کی کرسی پر بیٹھ اس کے بعد ناشتہ کی میز پر دونوں کے درمیان انگریزی میں گفتگو ہونے لگی۔ شخص کے لفظ لفظ سے حوصلہ اور اعتماد کا اظہار ہو رہا تھا۔ ناشتہ مکمل کر کے دونوں پر اعتماد انداز میں اٹھے اور اپنے خوب صورت بیگ ہاتھ میں لئے ہوئے باہر چلے گئے۔

میں نے سوچا کہ اس زمانہ میں جو شخص یہ صلاحیت رکھتا ہو کہ وہ انگریزی زبان میں بخوبی اظہار خیال کر سکے ، اس کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ جہاں بھی جائے وہ فوری طور پر دنیا کی کلچرل مین اسٹریم میں شامل ہو سکے۔ قدیم فارسی شاعر نے اپنے زمانہ میں جو بات منعم کے لئے کہی تھی وہ آج زیادہ بہتر طور پر انگریزی داں کے لئے صحیح ثابت ہوتی ہے :

منعم به کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا که رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت

میری تقریر یکم جون کو دو پہر بعد کے اجلاس میں ہوئی۔ میری تقریر کے بعد ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اسلام کے مخالفین کا جواب تشدد کے بجائے پر امن ذرائع سے ہم نے اس کی کوشش کی مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ایسی حالت میں ہم کو آپ اس مسئلہ کا کیا حل بتاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا حل بہت آسان ہے اور وہ مشہور انگریزی مقولہ کے مطابق یہ ہے کہ اپنی کوشش جاری رکھیے:

Printed page