Al-Risala · February 2002

ایک قاری الرسالہ کا خط

Al-Risala, February 2002, pp. 43–47

By Maulana Wahiduddin Khan

قابل احترام جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمة الله خدا کرے مزاج گرامی بخیر ہو آپ نے میرے سوالات کا جواب نہیں دیا تھا۔ صرف آپ نے پوسٹ کارڈ کے ذریعہ یہ نصیحت کی کہ ”میں مطالعہ کو بڑھاؤں۔ آپ کی یہ نصیحت میرے لئے بہت کارگر ثابت ہوئی۔ میں نے از سر نو مطالعہ کرنا شروع کر آپ کے بارے میں میرے تمام اشکالات ختم ہو گئے۔ اور اب میں آپ سے صد فی صدا تفاق

میں نے ۳ مارچ ۲۰۰۰ء کو آپ کی کتاب ’’پیغمبر انقلاب‘‘ خریدی تھی۔ اپریل ۲۰۰۰ میں اس کا مطالعہ کیا۔ پھر مزید کتابیں منگاتا رہا اور پڑھتا رہا۔ اپنے سابقہ ذہن کے تحت مجھے ایسا محسوس ہوا کہ آپ بس ایک بات کو بار بار دہراتے ہیں جس کو ہماری زبان میں ’’گھسی پٹی باتیں‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ کے اوپر مجھے شبہ ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ میں نے آپ کے خلاف ایک کتاب ’’وحیدالدین خاں علماء اور دانشوروں کی نظر میں‘‘ (مرتب ڈاکٹر محسن عثمانی) پڑھی۔ تب آپ مجھے اور غلط نظر آنے لگے، جیسا کہ آپ کو میرے ماضی کے خطوط کے مطالعہ سے معلوم ہوا ہوگا۔ اب آگے سنیے پھر کیا ہوا؟ وہی آپ کا جواب ’’اپنے مطالعہ کو بڑھائیں‘‘ دوبارہ موصول ہوا۔ میں شدید الجھن میں پھنس گیا اور سوچنے لگا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ مجھ کو ایک ہی جواب بار بار دے رہے ہیں۔ میں نے اب آپ کی باتوں کا پریکٹیکل کر کے دیکھنا شروع کیا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں بہت بڑے گناہ میں مبتلا تھا۔ مثلاً میں نے علماء دین کی تقریریں سننا شروع کیں تو معلوم ہوا کہ وہ صرف نفرت

انسان کے علاوہ کچھ نہیں تھیں۔ مسلم اخبارات کے مطالعہ سے بھی ایسا ہی محسوس ہوا۔ پھر میں نے دیگر علماء دین کی تحریریں پڑھنا شروع کیں تو اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ کسی تحریر میں مسئلہ مسائل کو ہی دین کہا گیا ہے، کسی کتاب میں یہود و نصاریٰ کو اسلام کا دشمن بتایا گیا ہے۔ غرض کہ دوسروں کی ہر تحریر ایسی ملی جس کو عام انسان پڑھ کر کچھ نہ پاسکے۔ یعنی موجودہ زمانے کا انسان۔ پھر میں نے آپ کی کتابوں اور دوسرے علماء کی کتابوں کا تقابل کر کے دیکھا۔ ہر پہلو سے مجھے آپ کی بات صد فی صد درست لگی۔ جہاں تک الرسالہ پڑھنے کا تعلق ہے تو مجھے کسی بھی آدمی نے الرسالہ پڑھنے کی ترغیب نہیں دی یہ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ کرم ہے کہ اس نے مجھے سچی باتوں سے آگاہ کیا۔ میں نے مزید یہ کیا کہ آپ کے بارے میں دار العلوم ندوۃ العلماء (لکھنؤ) سے فتویٰ منگایا۔ اس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ الرسالہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ میں نے مختلف لوگوں سے مشورہ لینا شروع کیا۔ میں نے جولائی ۲۰۰۰ کا الرسالہ خریدا۔ پھر ۲۰۰۱ء میں ایجنٹ سے لینے لگا۔ اور اب میں الرسالہ کا سالانہ ممبر (9837.U.S) بن گیا ہوں ۔ چند ماہ بعد ایجنسی بھی لوں گا، انشاء اللہ۔ وقت کا پہیہ دھیرے دھیرے گھومتا رہا۔ اور مجھ پر یہ حقیقت کھلی کہ میں دعوت والا کام شروع اور اب میں اپنے دوستوں اور دیگر لوگوں میں الرسالہ اور آپ کی تصنیفات تقسیم کرنے لگا۔ بہت سارے دوست آپ کی تحریریں پڑھ کر بہت خوش ہوئے ۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے ہیں، جس کا مجھے شدید افسوس ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں میں آپ سے مدد چاہتا ہوں۔ مجھے کچھ نصیحت ضرور کریں تاکہ میں یہ کام اچھی طرح انجام دے سکوں۔ میرا ایک دوست آپ سے ایک سوال کر رہا ہے آپ اپنی روزانہ کی زندگی (daily life) کے بارے میں بتائیں کہ آپ صبح سے سونے تک کیا کیا کرتے ہیں؟ (گستاخی کے لئے معافی چاہتا ہوں)

مجھے میرٹھ کے جناب محمد شہزاد علی خان صاحب نے خط کے ذریعہ یہ اطلاع دی کہ یکم اکتوبر ۲۰۰۱ کو وہ اور ان کے ساتھی محمد ساجد خان آپ سے ملے۔ گفتگو کے دوران میرا بھی تذکرہ ہوا۔ سے آپ خوش ہوئے۔

میرے نام پتہ کے ساتھ " ایک ضروری اعلان " کے عنوان کے تحت مندرجہ ذیل مضمون الرسالہ میں شائع کردیں۔

اسلام کی فطری دعوت اور اس کے ابدی پیغام کو جدید اسلوب میں سمجھنے کے لئے الرسالہ اپنی نوعیت کا واحد جریدہ ہے۔ ماہنامہ الرسالہ کا مطالعہ کیجئے۔ مونگیر (بہار) اور اس کے قریبی اضلاع کے حضرات جو مولانا وحید الدین خاں صاحب کی تصنیفات اور الرسالہ (یہ تینوں زبانوں ہندی، اردو، اور انگلش میں شائع ہوتا ہے) کے حصول کے خواہشمند ہیں، وہ حضرات مندرجہ ذیل پتہ پر مجھ سے رابطہ

Shah Imran Hasan, S/O Shah Shabbir Hasan Mohalla:Dilawarpur, Ward No. 20 Kali Tazia Road, Post+Dist: Munger (Bihar) Pin-811201 مذکورہ جملے یا آپ ایک چھوٹا سا مضمون اسی عنوان کے تحت الرسالہ کے ایک صفحہ پر شائع کردیں تاکہ میں اس کے شائع ہونے کے بعد اس کی فوٹو کاپیاں کر کے لوگوں میں آسانی سے پھیلا سکوں۔ کرتا ہوں کہ آپ میرے اس خط کا جواب جلد از جلد دیں گے اور پچھلے تمام خط مجھے واپس کر دیں۔ نے آپ کے ساتھ بہت گستاخی کی ہے اس لئے بہت شرمندہ ہوں۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ میں آپ کے جواب کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں۔ (شاہ عمران حسن، مونگیر، بہار)

अपने आप की के कलम से

مولا نا وحید الدین خاں قال الله وقال الرسول از مولا نا وحید الدین خاں از مولا نا وحید الدین خاں سیرت کے، سماجی، علمی اور تمدنی مباحث از مولا نا وحید الدین خاں از مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مولانا اور سید معین الدین ندوی اسلام دور جدید کا خالق مولانا اور سید معین الدین ندوی ششم برگول کا مسلہ قرآن حدیث اور تاریخ کی روشنی میں مولانا اور سید معین الدین ندوی مولانا اور سید معین الدین ندوی احادیث اور آمار کی روشنی میں مولانا اور سید معین الدین ندوی

Printed page