Al-Risala · January 2003

رشی کیش کا سفر

Al-Risala, January 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

رشی کیش میںپرمارتھ نکیتن کے نام سے ایک انٹرنیشنل ہندوسنٹر ہے۔ اس کی شاخیں بہت سے ملکوں میں قائم ہیں۔ ۳ جون ۲۰۰۲ کو اس سنٹر کے تحت ایک بڑا پروگرام ہوا جس میں ملک کے اندر اور ملک کے باہر کے لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر رشی کیش کا سفر ہوا۔ یکم جون ۲۰۰۲ کوروانگی ہوئی اور ۴ جون کو دوبارہ دہلی واپس آیا۔

یکم جون ۲۰۰۲ کی صبح کو 6 بجے ہمارا قافلہ دہلی سے روانہ ہوا۔ جب ہماری گاڑی دہلی کی سڑکوں پر چلتے ہوئے یوپی میں داخل ہوئی تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بظاہر آپ ایک مادی سفر کر رہے ہیں لیکن اگر آپ سوچیں تو آپ کا یہ سفر ایک روحانی سفر بن جائے گا۔ میں نے کہا کہ یہ کار کار جامد مادہ (dead matter) کا متحرک مادہ (moving matter) کی صورت اختیار کرنا دوسرے لفظوں میں، یہ ایک تبدیلی (conversion) کا معاملہ ہے۔ یہ کنورژن ہماری دنیا کا ایک عالمی اصول ہے۔ ایک کنورژن وہ ہے جو فطری طور پر ہوتا ہے۔ مثلاً ناقابل خوراک (non-edible) چیز کا بدل کر قابل خوراک (edible) چیز کی صورت اختیار کرنا۔ دوسرا کنورژن وہ ہے جس کو انسان قانون فطرت کے استعمال کے ذریعہ کرتا ہے۔ کار اور ہوائی جہاز اور موبائل ٹیلی فون جیسی چیزیں، اسی دوسری قسم کے کنورژن کی مثالیں ہیں۔

سفر کے دوران ہمارے ایک ساتھی نے بتایا کہ رشی کیش اس وقت ہندو روحانیت کا عالمی سنٹر بن گیا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے بتایا کہ کناڈا کا ایک سیاح رشی کیش گیا۔ واپسی کے بعد اس نے اپنے مشاہدات پر مبنی ایک رپورٹ تیار کر کے شائع کی جس کا عنوان یہ تھا: A week spent in the flakes of Shankara. اس رپورٹ میں سیاح نے لکھا تھا کہ رشی کیش اس وقت ہندوسوامیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سوامی کسی نہ کسی طور پر رشی کیش سے وابستہ ہیں۔ ان کے شاگرد نہ صرف ہندوستان میں بلکہ بیرونی ملکوں

میں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لیے سوامیوں کے پاس ہر وقت موبائل ٹیلی فون موجود رہتا ہے۔ کے پاس انٹرنیشنل رومنگ ہوتا ہے۔ دور دور کے علاقوں میں پھیلے ہوئے ان کے شاگرد اپنے مسائل کے لئے اُن سے رجوع کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً بیماری، تجارتی گھاٹا، حادثہ وغیرہ۔ سوامی لوگ موبائل اپنے کان میں لگائے ہوئے اپنے شاگردوں کو ان کے سوالات کا جواب دیتے رہتے ہیں۔ میں اس نے لکھا تھا کہ ٹکنالوجی آج روحانیت کی ایک شدید ضرورت ہے:

Printed page