Conversions—Issues and Need for legislation
Al-Risala, March 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
رپورٹ کے مطابق، ہندو اسپیکروں نے کنورژن (تبدیلی مذہب) کو مکمل طور پر کنڈم کیا اور اس پر زور دیا کہ سارے ملک میں کنورژن پر بَین لگانے کے لیے قانون بننا چاہئے۔ بھارتیہ پرجنا کے شمارہ جنوری ۲۰۰۳ میں مذکورہ سیمینار کی رپورٹ بھی شائع ہوئی ہے۔
ایک ہندو سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کنورژن پر پابندی لگائی جائے یا نہ لگائی جائے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ مگر ایک بات میری فہم سے بالا تر ہے۔ ایک طرف تمام ہندو دانشور یہ کہتے ہیں کہ ہر مذہب سچا ہے۔ ہر مذہب نجات کی طرف لے جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اُن کا یہ کہنا ہے کہ ہم
اپنے سوا دوسرے مذہبوں کو صرف ٹالریٹ نہیں کرتے بلکہ اُن کو ایکسیپٹ (accept) کرتے ہیں۔ دوسری طرف یہی لوگ شدت سے کنورژن کے مخالف ہیں۔ میرے نزدیک یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جب آپ لوگ ہر مذہب کو سچا مانتے ہیں تو ایسی حالت میں کنورژن کا مطلب صرف یہ ہے کہ آدمی سچائی اے کو چھوڑ کر سچائی بی میں چلا گیا۔ خود آپ کے نظریہ کے مطابق، یہ کوئی برائی پھر اس کی مخالفت کرنے کی کیا ضرورت۔
۷ دسمبر کی رات منوہر ہوٹل میں گزری۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو سے میڈیٹیشن (meditation) پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کچھ سوامی لوگوں کا ذکر کیا جو اُن کے الفاظ میں، اسٹریس (stress) کو ڈی اسٹریس کرنے کا آرٹ جانتے ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنی تناؤ کو دور کر کے لوگوں کو شانتی بانٹ
میں نے کہا کہ میں ایسے کچھ سوامی لوگوں سے ملا ہوں اور اس آرٹ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ لوگ یہ کرتے ہیں کہ جو آدمی ذہنی تناؤ میں مبتلا ہو اُس کو میڈیٹیشن کے مخصوص کورس سے گزارتے اس کورس کا مقصد تناؤ کو سپریس (suppress) کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اُس کو ختم کرنا۔ جن لوگوں نے یہ کورس کیا ہے وہ بتاتے ہیں کہ چند گھنٹے کے لیے جب کہ وہ اس کورس میں ہوتے ہیں، بظاہر اُن کا ذہنی تناؤ دور ہو جاتا ہے۔ مگر جب وہ اس کورس سے نکل کر اپنی زندگی میں واپس آتے ہیں تو تناؤ کی وہی کیفیت دوبارہ لوٹ آتی ہے۔
میں نے کہا کہ اسٹریس کو دور کرنے کا یہ طریقہ مسئلہ کا علاج نہیں بلکہ وہ پین کلر گولی کے مانند ہے جو وقتی طور پر درد کو دبا دیتی ہے اور اُس کے بعد درد بدستور اُ بھر آتا ہے یا اُس کو ایک ذہنی تحذیر (intellectual anesthesia) کہا جاسکتا ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا کوئی طریقہ ہو جو فکری عمل کو مستقل طور پر روک کرتاؤ کو دور کر سکے تو وہ انسان کو باشعور انسان کی سطح سے اتار کر بے شعور اینمل کی سطح پر لانا ہوگا۔ یہ ڈی ہیومنائزنگ (de-humanising) ہوگا، نہ کہ ڈی اسٹریسنگ
میں نے کہا کہ ذہنی تناؤ کوئی برائی نہیں۔ وہ ذہنی ترقی کا ذریعہ ہے۔ تاریخ میں تمام بڑے بڑے کام اُنہی لوگوں نے کیے ہیں جو ذہنی تناؤ کا شکار ہوئے۔ وہ لوگ جن کی پوری زندگی سکون و عافیت میں گذری انہوں نے کبھی کوئی تخلیقی کام نہیں کیا۔ کسی پُر سکون ذہن نے کبھی کوئی سائنسی دریافت نہیں کی۔ کسی پُر عافیت آدمی نے کبھی کوئی تخلیقی کتاب نہیں لکھی۔ ایک مجلس میں میں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ حال میں دہلی کے شری پال جین (2215617 ,2248920 :.Tel) مجھ سے ملنے کے لئے میرے آفس میں آئے۔ وہ اپائنٹمنٹ کے بغیر اچانک آگئے تھے۔ اس وقت میں ایک ضروری کام میں مصروف تھا۔ مجبوراً کام چھوڑ کر اُن سے ملنے کے لیے ملاقات کے کمرہ میں جانا پڑا۔ جب ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اہنسا پر یا سماج کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔ اس کے تحت وہ مہاشکتی اہنسا ٹائمس چھاپنا چاہتے انہوں نے کہا کہ اس کے لئے آپ کا ایک آرٹیکل چاہئے۔ آج کل ہنسا بہت بڑھ گئی ہے۔ ہمیں ہنسا کے خلاف ایک آرٹیکل دیجئے۔ میں نے کہا کہ میرا آرٹیکل آپ کو سوٹ نہیں کرے گا۔ لئے کہ میں اس میں لکھوں گا کہ اہنسا وادی بھی ہنسا کرتے ہیں۔ میرے نزدیک ہنسا صرف گولی یا بم مارنے کا نام نہیں ہے۔ ہنسا وہ بھی ہے جو اس وقت آپ نے کیا۔ میں نے کہا کہ اپائنٹمنٹ کے بغیر کسی کے یہاں جانا اس کو ڈسٹرب کرنا ہے۔ اور ڈسٹرب کرنا بھی ایک قسم کی ہنسا ہے۔ میں نے کہا کہ انڈیا میں صرف دو اہنسا وادی پیدا ہوئے ہیں— مہاتما گاندھی اور اس کے بعد یہ آدمی جو اس وقت آپ کے سامنے بیٹھا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ میرا طریقہ یہ ہے کہ میں پوری طرح ایک نو پرابلم انسان بن کر رہتا ہوں، حتیٰ کہ خود اپنے گھر میں بھی۔ باہر کے سفروں میں لوگ مجھے اپنے گھر ٹھہراتے ہیں تو میں کبھی کسی چیز کی فرمائش نہیں کرتا۔ چائے کی ایک پیالی بھی ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ نہیں رکھتا۔ کبھی زور سے نہیں بولتا، کبھی خود سے نہ لائٹ جلاتا ہوں اور نہ اے۔ میں نے کہا کہ ہنسا صرف یہ نہیں ہے کہ آپ کسی کو جسمانی طور پر تکلیف پہنچائیں۔ روحانی تکلیف پہنچانا بھی ہنسا ہے۔ کسی کے لئے غیر ضروری طور پر مسئلہ پیدا کرنا بھی ہنسا ہے۔ کسی کو غلط
مشورہ دینا بھی ہنسا ہے۔ کسی کے خلاف بری بات پھیلانا بھی ہنسا ہے۔ کسی سے نفرت کرنا بھی ہنسا ہے۔ ۸ دسمبر ۲۰۰۲ کی صبح کو میں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ منوہر ہوٹل سے روانہ ہو کر مدینہ ایجوکیشن سنٹر پہنچا۔ یہاں میرا قیام اُس کے گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ یہ گیسٹ ہاؤس وسط شہر میں اس لیے لوگ رات دن مسلسل آتے رہے اور لوگوں سے ملاقاتیں جاری رہیں۔ صاحب نے کہا کہ میں الرسالہ پڑھتا ہوں ۔ مگر الرسالہ میں تکرار ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب آپ بوڑھے ہوگئے ہیں اور زیادہ باتیں آپ کے پاس نہیں ہیں اس لیے آپ پچھلی کہی ہوئی باتوں کو دہراتے رہتے ہیں۔
میں نے کہا کہ اگر آپ دہلی آئیں تو میں آپ کو ایک سوٹ کیس دکھاؤں گا۔ میں ہزاروں لکھے ہوئے صفحات موجود ہیں جو سب کے سب غیر مطبوعہ ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو آپ ہمارے رفیق کار مولانا ندیم احمد سے خط یا ٹیلی فون کے ذریعہ پوچھ لیجئے ۔ وہ آپ کو بتائیں گے۔ کہ آج کل میں املا کے ذریعہ انہیں سے مضامین لکھواتا ہوں۔
میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ قرآن میں مضامین کی تکرار ہے۔ مثلاً آدم اور ابلیس کے قصہ کو قرآن میں کئی بار دہرایا گیا ہے۔ اس کا مقصد بات کو ذہن نشین کرنا ہے۔ جب کوئی بات ماحول کے خلاف کہی جائے تو لوگ اُس کو ایک بار کہنے سے سمجھ نہیں سکتے۔ مثلاً سوسال سے مسلمانوں کا ذہن احتجاج اور شکایت کی باتوں سے بھر دیا گیا تھا۔ اب میں لوگوں کی سوچ کو بدل کر انہیں صبر و اعراض کے اصول پر سوچنے والا بنانا چاہتا ہوں۔ اسی طرح سوسال سے مسلمانوں کا ذہن قومی طرز فکر سے بھر دیا گیا تھا اب ہم اُن کے اندر دعوتی طرز فکر لانا چاہتے ہیں۔ یہ لوگوں کی کنڈیشننگ (conditioning) کو توڑنا ہے اور کنڈیشننگ کو توڑنے کا کام اس طرح نہیں ہوسکتا کہ بات کو قانون کی زبان میں ایک بار کہہ دیا جائے۔
۸ دسمبر کی شام کا کھانا ڈاکٹر شیزان صاحب کے یہاں تھا۔ کھانے پر کئی لوگ اکٹھا ہوئے۔ یہاں لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ موجودہ زمانہ
کے مسلمان لمبی مدت سے بڑی بڑی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ مگر مطلوب نتیجہ ابھی تک نہیں نکلا۔ صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ پورے معاملے پر از سرِ نو غور کیا جائے۔ وہ کام کیا جائے جس کو ری اسسمنٹ (re-assessment) کہا جاتا ہے۔ مثال کے طورپر اگر سلطان ٹیپو کی شہادت (۱۷۹۹) سے شمار کیا جائے تو نہ صرف ہندوستان بلکہ دوسرے مقامات کے مسلمان تقریباً تین سو سال سے مسلح جہاد کر رہے ہیں۔ مگر نتیجہ یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی تباہی کی صورت میں نکلا ہے۔ صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ مسلح جہاد کو یک طرفہ طور پر اور مکمل طور پر بند کر دیا جائے اور ساری کوشش پر امن عمل میں لگادی جائے۔
۹ دسمبر کی صبح ہوئی تو کئی ساتھی بالکل سویرے ہی مدینہ ایجوکیشن سینٹر آگئے۔ مثلاً عبدالغفار صاحب، عبدالرؤف صاحب، معین بھائی، وغیرہ۔ مدینہ ایجوکیشن سینٹر کے اوپر کی چھت پر باجماعت نماز کا یہاں ہم لوگوں نے دوسرے طلبہ کے ساتھ باجماعت فجر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میں نے کہا کہ پنج وقتہ نماز اصلًا اللہ کی عبادت ہے مگر اسی کے ساتھ وہ کتابِ موقوت ہے۔ نماز کا یہ نظام ہمارے اوقاتِ کار کو منظم کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے کام کو پانچ وقتوں میں تقسیم کریں اور ہر کام ایک نماز اور دوسری نماز کے درمیان انجام دیں تو یہ بہت مفید ہوگا۔ اس طرح پانچ وقت کی نماز ہمارے لیے ٹائم مینجمنٹ کا ایک فطری ذریعہ بن جائے گی۔
ایک مسلم نوجوان نے اپنی ڈائری پیش کی اور کچھ نصیحت لکھنے کے لیے کہا۔ میں نے ڈائری میں یہ الفاظ لکھ دیے کہ زندگی کا ہر لمحہ ایک تجربہ ہے اور ہر تجربہ ذہنی ارتقاء کا ذریعہ: Every moment is an experience and every experience is a source of intellectual development. ایک صاحب نے اپنی روداد بتائی۔ اس سے موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے مزاج کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرین کے ایک سفر میں ان کی ملاقات ہندو انتہا پسند لیڈر ڈاکٹر پروین توگڑیا سے ہوئی۔ اس طرح انہیں ڈاکٹر توگڑیا سے تقریباً تین گھنٹہ بات چیت کرنے کا
اسلام کی امتیازی حیثیت کو بتاتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر توگڑیا سے کہا کہ: Islam was the culmination of the evolution of religion. میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ اسلام ارتقائی مذہب نہیں ہے بلکہ وہ مذہب کا محفوظ ایڈیشن قرآن میں کئی مقامات پر پیغمبر اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم پچھلے نبیوں کی پیروی مثلاً فبهداهم اقتده ۔ اگر اسلام مذہب کی ارتقائی صورت ہو تو پچھلے پیغمبروں کی پیروی کا حکم ایک ناقابل فہم حکم بن جائے گا۔
اسی طرح اسلام کی خصوصیت بتاتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر توگڑیا سے کہا کہ محمد ﷺ کا ظہور اس وقت ہوا جب کہ زمانہ میں مکمل تبدیلی آ گئی تھی اور انسانی ذہن اتنا ترقی کر چکا تھا کہ خالص تعقل کی سطح پر وہ خدا کی معرفت حاصل کر سکے:
Human intelligence had developed sufficiently enough to recognize God through reason. میں نے کہا کہ یہ ایک مغالطہ آمیز بات ہے۔ اس لئے کہ ساتویں صدی عیسوی میں انسانی علم ابھی روایتی دور میں تھا۔ انسانی علم کا روایتی دور سے نکل کر سائنسی دور میں پہنچنا مسلمہ طور پر بہت بعد کو اب اس معیار کے مطابق، کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اسلام دور قدیم کا مذہب ہے، وہ دور جدید کا
انہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران ڈاکٹر توگڑیا نے کہا کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے اور مسلم تاریخ خون سے لکھی گئی ہے۔ یہ سن کر مذکورہ مسلمان نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اس معاملہ میں دوسرے مذاہب کی تاریخ کو جانتے ہیں۔ اُن کی تاریخ بھی اگر زیادہ نہیں تو اس سے کم ان کے الفاظ یہ تھے:
I countered by asking if he was aware of the history of other religions. They too were not less bloody if not more. یہ جواب کا وہ طریقہ ہے جس کو الزامی جواب کہا جاتا ہے۔ وہ اُس آدمی کے لیے مفید نہیں جو
دین حق کی نمائندگی کر رہا ہو۔ اسلام ہر حال میں با اصول کردار کا حکم دیتا ہے۔ دوسروں کا غلط رویہ اسلام کے لیے کبھی مثال نہیں بن سکتا۔ ڈاکٹر توگڑیا کے مذکورہ بیان کا صحیح جواب یہ تھا کہ۔ اصولی حیثیت سے ایک پر امن مذہب ہے۔ البتہ مسلمان، خاص طور پر مسلم حکمراں، تشدد کے مرتکب مگر آپ کو چاہئے کہ اسلام اور مسلمان میں فرق کریں۔ اسلام کو سمجھنے کے لیے اسلام کی تعلیمات کو دیکھیں، نہ کہ مسلمانوں کے عمل کو۔
انہوں نے اپنی گفتگو کی تفصیلی رپورٹ دینے کے بعد آخر میں کہا کہ جب میں نے مسلمانوں میں ریفارم کی ضرورت کو تسلیم کیا تو اس موقع پر ڈاکٹر توگڑیا نے آپ کا نام لیا اور آپ کی کوششوں کے بارہ میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مذکورہ مسلمان کے الفاظ یہ تھے: Dr. Togadia asked me about you. He said he had not met Maulana Wahiduddin but his colleagues had. He was aware of your views and appreciated them. اپنے تجربہ کے مطابق، میں ایسے بہت سے مسلمانوں کو جانتا ہوں۔ اسلام کے بارے میں ان کا علم محدود ہے۔ وہ اسلام کے بارے میں جب بولتے ہیں تو وہ اسلام کی یا تو غلط نمائندگی کرتے ہیں یا ایسے مسلمانوں سے میں کہتا ہوں کہ وہ دو میں سے ایک کا انتخاب کریں۔ یا تو وہ اپنے دوسرے کاموں کو چھوڑ کر ساری زندگی مطالعہ اور تحقیق میں لگائیں تا کہ وہ اسلام کی صحیح نمائندگی کے اور اگر ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو دوسری صورت ان کے لئے یہ ہے کہ اگر کسی عالم نے اپنی پوری زندگی صرف کر کے اسلام پر ایسا لٹریچر تیار کیا ہے جس کا اعتراف دوسرے بھی کرتے ہوں تو وہ اس لٹریچر کو استعمال کریں اور خود لکھنے اور بولنے کے بجائے اُس کی کتابیں دوسروں کو پڑھنے کے لئے دیں۔ مگر بدقسمتی سے ان لوگوں نے تیسری صورت کا انتخاب کر رکھا ہے۔ اور اس طرح کے معاملہ میں تیسرا انتخاب ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔
کچھ مسلم نو جوانوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوت کا کام آدمی کو فطرت کے راستہ پر لے آنا ہے۔ اس کا مقصد کنڈیشننگ کو ختم کرکے انسان کو اپنی فطرت پر قائم کرنا ہے، مسلم
وغیر مسلم دونوں کو مسئلہ یہی ہے:
Dawah is de-conditioning, both of Muslims as well as of non-Muslims. حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اُس کے ماں باپ اُس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں (كل مولود يولد على الفطرة فابواه يهودانه اوينصرانه او يمجسانه) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عام انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو کر سچائی سے ہٹ جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے بارہ میں قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ بعد کے زمانہ میں وہ، دوسری امتوں کی طرح خود ساختہ دین کو دین سمجھ کر اُس پر قائم ہو جائیں گے۔ اس اعتبار سے دونوں ہی گروہوں کا کیس اپنے اپنے لحاظ سے کنڈیشننگ کا کیس ہے۔ اور دونوں ہی کے سلسلہ میں یہ کرنا ہے کہ اُن کی کنڈیشننگ کو ختم کر کے اُنہیں اپنی اصل حالت کی طرف لوٹایا جائے۔ لوگوں سے ملاقات ہوئی اُن میں سے چند نام یہ ہیں: مولانا فیروز عادل قاسمی صاحب، حافظ وقاری اعجاز عادل صاحب ، مفتی احتشام صاحب ، خالد بھائی ، حمزہ بھائی ، انور خاں صاحب ، مفتی اشرف علی قاسمی، وغیرہ۔
ایک بار میں ایک صاحب کے ساتھ ان کی کار میں سفر کر رہا تھا۔ وہ ایک کمپنی میں مینیجر ہیں۔ ان کی کار میں اسٹیریو سسٹم لگا ہوا تھا۔ وہ گاڑی چلاتے ہوئے اس سے میوزک سنتے رہتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ ایک کسٹمر سے ایک بڑے سودے کے لئے سنجیدہ گفتگو میں مشغول ہوں اور عین اسی وقت کوئی شخص آپ کی میز پر ایک ٹیپ ریکارڈر لا کر رکھ دے اور پوری آواز کے ساتھ اس پر میوزک بجانے لگے۔ ایسے وقت میں آپ کا احساس کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا اس کو میں ایک غیر مطلوب مداخلت (unwanted distraction) سمجھوں گا اور فوراً اس کو بند کر دوں گا۔ میں نے کہا کہ گاڑی چلاتے ہوئے جب آپ اپنا میوزک ریکارڈر بجاتے ہیں تو یہ اس سے بھی زیادہ بڑی غیر مطلوب مداخلت ہوتی ہے۔ اس قسم کی چیز آپ کے اندر تفکیری عمل (thinking process) کو رخ سے بے رخ کر دیتی ہے۔ گاڑی چلاتے ہوئے آپ کا اعلیٰ تفکیری عمل
کہ غیر متحرک مادہ موٹر کار کی صورت میں متحرک مادہ بن کر سڑک پر دوڑنے لگے۔ اس طرح کی سیکڑوں باتیں آپ سوچ سکتے ہیں۔ مگر آپ ذہنی ترقی کے اس عظیم امکان سے محروم ہو کر کچھ پیشہ وروں کے میوزک اور سانگ میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
ایک بار میں لوگوں کے ساتھ کھانے کے دستر خوان پر تھا۔ میں نے چمچہ مانگا۔ نے ہاتھ سے کھانا کھایا اور میں نے چمچے سے۔ یہ دیکھ کر ایک صاحب بولے: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ یورپ اور امریکہ کا سفر کرتے کرتے مغربی کلچر سے مرعوب ہو گئے ہیں۔ اس لئے آپ چمچے سے کھانا پسند کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی چیز کو اسلام میں بُرا گمان کہا گیا ہے۔ برا گمان اسلام میں سخت گناہ ہے (الحجرات ۱۲)
میں نے کہا کہ یہ میرا پیدائشی مزاج ہے۔ چنانچہ جب میں گاؤں میں رہتا تھا اور یورپ اور امریکہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا تب بھی میں چمچے سے کھانا پسند کرتا تھا۔ ایک اور موقع پر ایک بزرگ نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ انگریزوں کی اور لارڈ میکالے کی تعریف کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ تبصرہ تاویل القول بما لا يرضى به قائله کا میں نے کہا کہ میرے بارے میں جو بات آپ نے سنی وہ دراصل بخاری کی ایک روایت (ان الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر) کی تشریح تھی۔ اگر آپ خالی الذہن ہو کر اُس پر غور کریں تو اس میں آپ کو کوئی قابل اعتراض بات نظر نہ آئے گی۔
انگریزی زبان کے ایک مسلم ہفت روزہ (۱۶ دسمبر ۲۰۰۲) میں حیدر آباد کے مسلمانوں کے بارہ میں ایک رپورٹ دیکھی۔ اُس کو لکھنے والے ایک حیدر آبادی مسلمان تھے۔ اُنہوں نے اپنی پوری رپورٹ منفی انداز میں لکھی تھی۔ اُس کی چند سطریں یہ تھیں:
Andhra Pradesh may be progressing under the able leadership of chief minister Chandrababu Naidu, but the state of Muslims there is as bad as in other parts of the country.... At the time of
Independence of the country, the ratio of Muslims in government jobs was about 30 per cent, which has now dropped to mere two per cent. یہ بلاشبہ ایک غلط رپورٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حیدر آباد میں مسلمانوں کی حالت ہر اعتبار سے ۱۹۴۷ء کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ بہتر ہے۔ حتیٰ کہ خود مضمون نگار اگر اپنا جائزہ لیں تو یقیناً وہ پائیں گے کہ ۱۹۴۷ء میں اُن کے خاندان کی جو اقتصادی حالت تھی، اُس کے مقابلہ میں اب وہ بہت زیادہ بہتر ہو چکی ہے۔
جہاں تک سرکاری ملازمتوں میں کمی کا سوال ہے، اُس کی ذمہ داری تمام تر یہاں کے نام نہاد مسلم لیڈروں پر ہے۔ ۱۹۴۷ء میں یہاں کی انتہائی حد تک ناعاقبت اندیش قیادت نے علیحدہ حیدر آباد کی جو تحریک چلائی اُس کی وجہ سے یہاں کے مسلمانوں کا ذہن غلط طور پر یہ ہو گیا کہ انڈیا کا حصہ بننے کے بعد حیدر آباد میں مسلمان ہر قسم کے مواقع سے محروم ہو جائیں گے۔ اس بے بنیاد سوچ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۴۸ء میں جب حیدر آباد انڈیا کا حصہ بنا تو بیشتر تعلیم یافتہ افراد غیر ضروری طور پر مایوسی کا شکار ہو کر حیدر آباد چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں چلے گئے۔ انہی باہر جانے والوں میں خود تحریک حیدر آباد کے قائد بھی شامل تھے۔ ظاہر ہے کہ جب تعلیم یافتہ لوگ حیدر آباد چھوڑ کر چلے جائیں تو ملازمتوں میں اُن کا تناسب اپنے آپ گھٹ جائے گا۔
میں ذاتی طور پر اِس تحریک کو دیوانگی کی تحریک سمجھتا ہوں جو شکایت اور احتجاج اور پڑوسیوں کو دشمن بنانے کی بنیاد پر چلائی جائے۔ اِس قسم کی تحریک کے دو لازمی نقصانات ہیں۔ اول یہ کہ اِس سے منفی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ اور منفی سوچ بلاشبہ ایک ذہنی خودکشی ہے۔ دوسرے یہ کہ تحریک اگر اپنے نشانہ کو پورا کرنے میں ناکام ہو جائے تو اُس سے متاثر لوگ سخت مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حال یہ ہوتا ہے کہ مواقع کی فراوانی کے درمیان بھی وہ مواقع کو دیکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ واقعہ ابتدائی طور پر حیدر آباد میں ۱۹۴۷ء کے بعد ہوا۔ اور یہی واقعہ پورے ملک میں اس طرح پیش آیا کہ آزادی کے بعد ہندوستان کے مسلمان تقریباً تیس سال تک مایوسی کی حالت میں رہے۔
بنگلہ دیش کا قیام اور پاکستان میں مسلمانوں کی باہمی خونریزی کے بعد اُن کی آنکھ کھلی اور پھر انہوں نے ہندوستان میں اپنی جگہ بنانا شروع کیا۔
مدرسہ کے طلبہ کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ ’’بڑوں‘‘ کے بارے میں قوموں کے اندر دو قسم کے نظریات ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس کی نمائندگی کرتے ہوئے عنترہ نے کہا: ہل غادر الشعراء من متردم (پچھلے شعراء نے کیا کوئی جگہ پیوند لگانے کی باقی چھوڑی ہے)۔ یعنی وہ سب کچھ کہہ گئے اب کسی شاعر کے لیے کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ اس پر وہ کچھ کہے۔
اس معاملہ میں دوسرا نقطہ نظر وہ ہے جس کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک فارسی شاعر نے کہا کہ دنیا کا کام کسی نے مکمل نہیں کیا جو بھی آیا اس نے نئی عمارت بنائی: