کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت
Al-Risala, March 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
بدقسمتی سے ہمارے یہاں کسی کو بڑا سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو تنقید سے بالاتر سمجھ لیا جائے۔ حالانکہ بڑے کی صحیح تعریف یہ ہے کہ اس کا عمل ایک بوسٹ (boost) کا کام کرے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں صحت مند نقطۂ نظر وہ ہے جس کو برناڈ شا نے ان الفاظ میں کہا تھا کہ میرا قد شیکسپئر سے کم ہے مگر میں شیکسپئر کے کندھوں پر کھڑا ہوا ہوں:
I am smaller in stature than Shakespeare but I stand upon his shoulder. میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں شبلی نعمانی اور حمید الدین فراہی نے اپنے اپنے میدان میں بڑے کام انجام دئے ہیں۔ مگر یہ سمجھ لینا غلط ہوگا کہ ان کے کام میں کوئی بات قابل تنقید نہیں۔ یہ ہے کہ آپ اس طرح سوچیں کہ شبلی اور فراہی، ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ کے کندھے پر کھڑے اب آپ شبلی اور فراہی کے کندھے پر کھڑے ہوں اور اگلی نسل آپ کے کندھے پر کھڑی ہو ۔ اس طرح ترقی کا یہ سلسلہ چلتا رہے، یہاں تک کہ علم کا وہ قطب مینار بن جائے جس کی بلندی آسمان تک پہنچی ہوئی ہو۔
مسلمانوں کی ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ میں اور میرے گھر والے ہر سال شوّال کے مہینے کے چھ روزے پابندی کے ساتھ رکھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ شوّال کے چھ روزے کا ذکر اگرچہ حدیث میں آیا ہے مگر اُس کا زیادہ اہتمام مجھے اپنے مطالعہ کے مطابق، درست نظر نہیں آتا۔ اُس کا یہ اہتمام ثابت نہیں۔ یہ سُن کر ایک صاحب بگڑ گئے۔ اُنہوں نے پرجوش انداز میں کہنا شروع کیا کہ آج آپ شوّال کے روزہ کے بارے میں ایسا کہہ رہے ہیں، کل آپ کہیں گے کہ رمضان کے مہینہ کے روزے میرے نزدیک ضروری نہیں۔ اس کے بعد آپ کہیں گے کہ روزانہ پانچ وقت کی نماز میرے نزدیک ضروری نہیں۔ اس طرح آپ ہر چیز کو ختم کرتے جائیں گے۔ یہاں تک کہ آخر میں صرف آپ کا الرسالہ رہ جائے گا۔
اُن کی اس نامنصفانہ بات پر مجھے غصہ آ گیا۔ مگر میں دل ہی دل میں استغفر اللہ کہہ کر خاموش میرا طریقہ ہے کہ جب مجھے غصہ آتا ہے تو میں چپ ہو جاتا ہوں۔ میرے تجربہ کے مطابق، غصہ کا بہترین علاج یہ ہے کہ جب غصہ آئے تو آدمی چپ ہو جائے اور اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔ والی بات کو بھلا کر دوسری بات سوچنا شروع کر دے۔
جہاں تک شوّال کے چھ روزوں کا معاملہ ہے تو میں نے جو بات کہی وہ شرعی طور پر بالکل درست تھی ۔ یہ روایت ترمذی ، ابن ماجہ اور مسلم میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : عن ابی ایوب الانصاری، ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : من صام رمضان ثم اتبعہ ستاً من شوّال كان كصيام الدهر (صحیح مسلم، کتاب الصيام، باب استحباب صوم ستة أيام من شوال اتباعاً لرمضان) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے رمضان کے مہینہ کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد اُس نے شوّال کے چھ روزے اور رکھے تو یہ اُس کے لیے پورے سال روزہ رکھنے کے برابر ہو گا۔
یحییٰ بن شرف النووی (وفات ۶۷۶ ھ ) شام میں پیدا ہوئے ۔ وہ مشہور عالم دین ہیں۔ حدیث میں امام کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مختلف دینی موضوعات پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔
میں سے ایک المنہاج فی شرح صحیح مسلم ہے جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہے۔ النووی اپنی اس کتاب میں مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: فیہ دلالة صريحة لمذهب الشافعى و أحمد و داؤد وموافقيهم في استحباب صوم هذه الستة وقال ابو مالك وابو حنيفة قال مالك ما رأيت احداً من اهل العلم يصومها قالوا فیکرہ لئلا يظن
ترجمہ: اس میں شافعی اور احمد اور داؤد اور اُن کے موافقین کے مسلک کی کھلی دلیل ہے۔ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ چھ روزے مستحب ہیں۔ اور مالک اور ابوحنیفہ کا قول ہے کہ یہ روزے مکروہ امام مالک نے موطّا میں کہا ہے کہ میں نے کسی اہل علم کو نہیں دیکھا کہ وہ یہ روزے رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ مکروہ اس لیے ہیں کہ کہیں اُس کو واجب نہ سمجھ لیا جائے۔ یہ معاملہ در اصل شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) کا ہے۔ یعنی زیادہ اہم کو کم اہم اور کم اہم کو زیادہ اہم بنا لینا ۔ مثلاً روزہ میں اُس کی روح کے مقابلہ میں تعداد کو زیادہ اہم اسی طرح دعوتِ حق کے مقابلہ میں سوشل سروس کو زیادہ بڑا درجہ دے دینا ۔ رسول کی اتباع کے مقابلہ میں رسول کی نعت خوانی کو زیادہ اہم سمجھ لینا۔ قرآن میں تدبّر کے مقابلہ میں قرآن کی لفظی تلاوت کو زیادہ بڑا درجہ دے دینا ۔ کلمۂ توحید کی حقیقت کو اپنے اندر اتارنے کے بجائے کلمہ کے الفاظ کی تکرار کو زیادہ اہم بنا لینا۔ افراد کی اصلاح کے مقابلہ میں حکومت کی اصلاح کے نام پر سیاسی تحریک چلانا ، وغیرہ۔
صبح کے وقت ریڈیو پاکستان پر وہاں کے کسی وزیر کی تقریر آرہی تھی۔ انہوں نے پر جوش طور پر کہا کہ کشمیر کے ایشو کو لے کر بھارت ہمارے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتا ہے۔ حالاں کہ ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ کشمیر کے معاملہ کو اقوام متحدہ کے رزولوشن (۱۹۴۸) کی روشنی میں طے کیا جائے۔ اس پر جوش تقریر کو سن کر میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ ایک غیر عملی اور غیر حقیقت پسندانہ مطالبہ ہے۔ کے لیڈر لمبی مدت سے اس قسم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مگر اس کا کوئی نتیجہ نہ اب تک نکلا اور نہ آئندہ اس کا
کوئی امکان ہے کہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ اُن کے حق میں نکلے۔
پھر میں نے کہا کہ یہود کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ نے اپنے پیغمبر کی زبان سے فرمایا تھا: يقوم ادخلوا الارض المقدسة التي كتب الله لكم (المائدہ ۲۱)۔ یعنی اے میری قوم، اس پاک زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔ اب اگر فلسطین کے یہودی اس قرآنی آیت کو لے کر یہ کہیں کہ ہم اپنے وطن سے باہر ڈائسپورا (diaspora) میں تھے، پھر خود تمہارے قرآن کے مطابق، ہم واپس آ کر فلسطین میں آباد ہو گئے۔ خود تمہارے قرآن کے مطابق، یہ ہمارا قومی حق تھا۔ اب تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم ہمیں اپنے قومی حق سے محروم کرنے کی کوشش کرو۔ ظاہر ہے کہ موجودہ یہودی اگر اس قدیم نوشتہ کا حوالہ دے کر فلسطین میں اسرائیل کے قیام کو جائز قرار دیں تو کوئی بھی مسلمان اس کو تسلیم نہیں کرے گا۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ میں کچھ یہود قبائل آباد تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد ایک اعلانیہ (declaration) جاری کیا جس کو عام طور پر صحیفہ المدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے لوگوں کے بارہ میں یہ اعلان فرمایا تھا کہ لليهود دينهم وللمسلمين دينهم (سیرت ابن کثیر ۲/ ۳۲۲) یعنی یہاں کے یہود کے لیے اُن کا دین اور یہاں کے مسلمانوں کے لیے اُن کا دین۔
پیغمبر اسلام کا جاری کردہ یہ صحیفہ مدینہ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے پُر فخر طور پر اُس کو تاریخ عالم کا پہلا تحریری دستور قرار دیا ہے۔ اب اگر آج کے یہود یہ کہیں کہ یہ پیغمبرانہ صحیفہ مدینہ میں ہمارے وجود اور ہمارے حقوق کو تسلیم کرتا ہے اس لیے ہم کو حق ملنا چاہئے کہ ہم مدینہ میں داخل ہو کر دوبارہ وہاں اپنی بستیاں بنائیں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ وہاں رہیں تو مسلمان کبھی اس قسم کے مطالبہ کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات قدیم تاریخی دستاویزات کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے بلکہ وہ وقت کے حقائق کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت یا صحیفہ مدینہ کی مذکورہ دفعہ اب
یہود کے لیے ایک غیر متعلق چیز بن چکی ہے۔ آج کے یہودان قدیم الفاظ کا حوالہ دے کر اپنے لیے کچھ نہیں پا سکتے۔ ٹھیک اسی طرح اقوام متحدہ کے قدیم رزولیوشن کا حوالہ پاکستان کے لیڈروں کے لیے سراسر غیر مفید ہے۔ خود اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو فی عنان کہہ چکے ہیں کہ یہ قدیم رزولیوشن اب اپنا ریلیونس (relevence) کھو چکا ہے۔ ایسی حالت میں پاکستانی لیڈروں کو جاننا چاہئے کہ اقوام متحدہ کے رزولیوشن کے بیس سال بعد ہونے والا شملہ ایگریمنٹ (۱۹۷۲) اس معاملہ میں پچھلی کاغذی دستاویزات کو منسوخ کر چکا ہے۔ اب اُن کے پاس قابل حوالہ چیز شملہ ایگریمنٹ ہے، نہ کہ اقوام متحدہ کا رزولیوشن۔
ایک اخبار میں ایران کے بارہ میں ایک رپورٹ دیکھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ آج کل ایران کے نوجوانوں میں ایک نیا ذہن اُبھر رہا ہے۔ وہ مانگ کر رہے ہیں کہ ہم کو مذہبی ریاست نہیں چاہئے بلکہ ہم کو ترقی پسند ریاست چاہئے۔ مغربی نیوز ایجنسی کی اس رپورٹ میں بظاہر یہ تاثر دیا گیا تھا کہ اسلام دور قدیم کا ایک مذہب تھا، دور جدید میں اب وہ ایک غیر متعلق چیز بن کر رہ گیا ہے، حتی کہ خود مسلمانوں کی نئی نسلیں اب اس قدیم نظام سے بیزار ہو رہی ہیں۔
اس اخباری رپورٹ کو لے کر ایک صاحب نے کہا کہ مغربی نیوز ایجنسیاں اسی طرح اسلام کو بدنام کرتی رہتی ہیں۔ وہ اسلام کو ایک فرسودہ نظام ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس طرح وہ یہ تاثر دیتی ہیں کہ اسلام کے مقابلہ میں جدید مغربی نظام زیادہ بہتر ہے۔ میں نے کہا کہ اس نامطلوب صورت حال کی ذمہ داری خود مسلم لیڈروں پر ہے، نہ کہ مغربی میڈیا پر۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں یہ ہوا کہ وہاں کے انتہا پسند (radical) رہنما اسلامی نظام قائم کرنے کے شوق میں اچانک سخت تبدیلیاں نافذ کرنے لگے۔ جب کہ یہ کام صرف تدریجی طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ اسلام میں پہلے ذہن بنایا گیا، اُس کے بعد احکام اتارے گئے۔ اس کے برعکس اگر شروع ہی میں یہ حکم آتا کہ تم لوگ زنا کو چھوڑ دو اور شراب کو چھوڑ دو تو لوگ کہتے کہ : لا ندع الزنا ابداً و لا ندع الخمر ابداً۔
(کتاب فضائل القرآن، باب تالیف القرآن) یعنی ہم تو کبھی زنانہ چھوڑیں گے اور ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔
عین یہی بات موجودہ زمانہ کے مسلم ملکوں میں پیش آئی ہے۔ نا عاقبت اندیش مسلم لیڈروں نے افراد سازی اور معاشرہ سازی سے پہلے شرعی قوانین نافذ کر دیے۔ اس غیر حکیمانہ طریقہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم کو اسلام نہیں چاہیے، ہم کو ترقی پسند ریاست چاہئے۔ شام کا کھانا مولانا اسحق کمال قادری کے گھر پر تھا۔ یہاں لوگوں سے مختلف دینی اور ملی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ یہاں مولانا اسحق صاحب کی رہائش ایک صاف ستھرے فلیٹ میں ہے۔ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ یہ فلیٹ ایک مسلمان تاجر کا ہے۔ انہوں نے کسی کرایہ یا معاوضہ کے بغیر اس کو مولانا اسحق صاحب کے استعمال کے لیے دے دیا تھا۔ وہ یہاں اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ فلیٹ میں ٹیلی فون بھی موجود تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ ٹیلی فون بھی ایک مسلمان تاجر نے اپنی طرف سے اُن کے یہاں لگوایا ہے۔ مسلمان تاجروں میں اہلِ دین کی خدمت کا یہ مزاج اگر ہر جگہ پیدا ہو جائے تو وہ بہت زیادہ مفید ہوگا۔
مولانا اسحق کمال قادری کے اندر تقریر کا اچھا ملکہ ہے۔ وہ ٹکراؤ کے بغیر کام کرنے کا اچھا سلیقہ رکھتے ہیں ۔ وہ تنقید بھی کرتے ہیں تو اُن کی تنقید بھی ایسے خوبصورت انداز میں ہوتی ہے کہ کوئی اُس کو بُرا انہوں نے ایک رنگین تولیہ مجھے تحفہ میں پیش کیا۔ میں نے اُسی وقت یہ تولیہ اُن کے چھوٹے بچے کو اوڑھا دی اور اُس کو دعائیں دیں۔
حیدر آباد میں کئی اردو اخبارات نکلتے ہیں۔ اُردو اخبارات کے لحاظ سے غالباً صرف حیدر آباد کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہاں ایک قسم کا صحافت کلچر وجود میں آچکا ہے۔ یہ بات شاید کسی اور ہندوستانی شہر میں موجود نہیں۔ یہاں کئی اردو اخبارات نکلتے ہیں۔ مثلاً رہنمائے دکن ، سیاست ، منصف ، عوام، حیدر آباد میں قیام کے دوران ان اخبارات کا مطالعہ جاری رہا۔
روزنامہ عوام کے شمارہ ۱۰ دسمبر ۲۰۰۲ کے آخری صفحہ پر حیدر آباد کی ایک درد ناک خبر پڑھنے کو
اس خبر کا عنوان یہ تھا: بیٹے کو عید کے کپڑے دلانے سے محروم والد کی خودسوزی۔ یہ خبر یہاں نقل کی
” حیدر آباد۔ ۹ دسمبر (عوام نیوز) عیش و عشرت اور شادی بیاہ کے موقعوں پر لاکھوں روپیوں کا اسراف کرنے والوں کے اس شہر میں ایک ایسا خاندان بھی موجود ہے جو عید الفطر کے موقع پر اپنے اکلوتے فرزند کے لیے نئے کپڑے خرید نہ سکا اور اُس سے دل برداشتہ ہو کر اس خاندان کے ایک فرد نے خودسوزی کر لی۔ پولیس نے اس درد ناک واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ۳۵ سالہ حمید خان ساکن بہادر پورہ جن کو خانگی ملازم بتایا جاتا ہے، عیدالفطر کی رات ہی اپنے جسم پر کیروسین چھڑک کر خودسوزی کی کوشش کی تھی کیوں کہ وہ اپنے اکلوتے فرزند کو نئے کپڑے نہ دلانے کے باعث بہت افسردہ تھے۔ اُنہیں شدید جھلسی ہوئی حالت میں دواخانہ عثمانیہ میں شریک کروایا گیا تھا جہاں وہ آج جانبر نہ ہوسکے۔ “ (صفحہ ۱۲) اس طرح کے درد ناک واقعات مسلم سماج کے اندر مختلف شکلوں میں ہر روز ہوتے رہتے مگر مسلمانوں کے اندر اُن کو لے کر کوئی تحریک نہیں اُٹھتی۔ البتہ اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کے خلاف ایسا واقعہ کر دے تو تمام مسلمانوں میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو جائے گا۔ یہ صورتِ حال ثابت کرتی ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان قومی مذہب پر ہیں، نہ کہ خدائی مذہب پر۔ اُن کی سوچ ذاتی عصبیتوں کے تابع ہے، نہ کہ احکام دین کے تابع۔
روزنامہ عوام کو کے۔ عارف الدین ایڈوکیٹ نے سات سال پہلے جاری کیا تھا۔ موصوف نے حیدر آباد میں تعلیم کے میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ حیدر آباد شہر میں ایک قدیم وقف تھا جو لوگوں کے بیان کے مطابق، بڑی حد تک اجاڑ ہو چکا تھا۔ عارف الدین صاحب نے اس وقف کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ایک ٹیم بنا کر اس کو آباد کرنا شروع کیا۔ اس ٹیم میں بشیر الدین ایڈوکیٹ جیسے کئی لوگ شامل ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اب یہ ایک تعلیمی ایمپائر کی صورت اختیار کر چکا اس سے ہزاروں نوجوان تعلیمی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا
ہے کہ کس طرح یہ ممکن ہے کہ ماضی کے کھنڈر پر مستقبل کا نیا محل تعمیر کیا جائے۔ حیدر آباد کے اس سفر میں مجھے اس تعلیمی ادارہ کو بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ اُس کی مرکزی بلڈنگ کے اوپر قائم شدہ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کی توفیق بھی خدا کے فضل سے حاصل ہوئی۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اخباری رپورٹر عام طور پر غلط رپورٹ مگر اُن کی غلط رپورٹنگ کسی کے خلاف دشمنی کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ یہی اُن کا مزاج ہے۔ اُن لوگوں پر فارسی کا یہ شعر صادق آتا ہے:
نیش عقرب نہ از پئے کین است مقتضائے طبیعتش این است اصل یہ ہے کہ اخبار کے لیے سنسنی خیز خبریں مفید ہیں۔ اس لیے خبروں کو اپنے مفید مطلب بنانے کے لیے وہ اُس کو سنسنی خیزی کا رنگ دے دیتے ہیں۔ مثلاً ایک اُردو اخبار نے میری ایک پریس کانفرنس کی رپورٹ دیتے ہوئے یہ لکھا کہ ـــ مولا نا وحید الدین خاں نے دعویٰ کیا کہ بحیثیت ملت ہندوستانی مسلمانوں نے بابری مسجد کے مسئلہ سے دستبرداری حاصل کر لی ہے (راشٹریہ سہارا، ۲۳ دسمبر ۲۰۰۲)۔ یہ میری بات کی صحیح ترجمانی نہیں۔ میں جو بات کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے حادثہ کے فوراً بعد جنوری ۱۹۹۳) تو مسلمانوں نے کچھ جوش دکھایا مگر جلد ہی بعد وہ اپنے ذاتی کاموں میں مصروف ہو گئے۔ خود ساختہ مسلم رہنماؤں نے یہ کال دی کہ ہر سال مسلمان ۶ دسمبر کو یوم بابری مسجد مگر ۱۹۹۳ سے لے کر ۲۰۰۲ تک کسی بھی سال ہندوستانی مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا۔ بابری مسجد کا ایشو صرف اُن افراد کا ایشو ہے جو اسی قسم کی چیزوں کے نام پر سطحی لیڈری کرتے ہیں ۔ جہاں تک مسلم عوام کا معاملہ ہے، وہ عملاً اس سے بے تعلق ہو چکے ہیں ۔ میں نے اپنے بیان میں مسلمانوں کی عملی طور پر بے تعلقی کی بات کہی تھی ، نہ کہ اصولی طور پر مسجد سے دستبرداری کی بات۔ ایک صاحب نے نئی دہلی کے انگریزی ماہنامہ مسلم انڈیا کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ مجھے کبھی بھی مسلم انڈیا سے دلچسپی نہ تھی۔ میں صرف اُس کام کو کام سمجھتا ہوں جو قابل بقا (sustainable) ہو ۔ انڈیا مسلمانوں کی احتجاجی سیاست کا نمائندہ تھا اور احتجاجی سیاست میرے نزدیک نہ مفید ہے اور نہ
قابلِ بقا ۔ برصغیر ہند میں احتجاجی صحافت کی لمبی تاریخ ہے — ہمدرد، کامریڈ، الہلال، ڈان، قائد، ندائے ملت، وغیرہ۔ یہ سب احتجاجی صحافت کے علم بردار تھے۔ مگر یہ تمام صحافتی تحریکیں تھوڑے دن تک زور و شور دکھا کر فضا میں تحلیل ہو گئیں۔
ماہنامہ مسلم انڈیا ۲۰ سال جاری رہ کر دسمبر ۲۰۰۲ میں ختم ہو گیا۔ اُس کے بانی اور ایڈیٹر نے دسمبر ۲۰۰۲ میں اپنا الوداعی ایڈیٹوریل ان الفاظ میں شروع کیا:
As I pen my last editorial, my mind goes back to the spade work اس ایڈیٹوریل میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلم انڈیا نے اپنا مقصد پورا کر لیا۔ مگر خود یہی ایڈیٹوریل یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اُس کا مقصد تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ اس ایڈیٹوریل کی یہ
The Muslim India, thus became the record of the community's ان مطبوعہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم انڈیا کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو عظمت اور مساوات اور انصاف ملے۔ اسی کے ساتھ وہ ہندو کٹر واد کے خطرے سے بچ سکیں ۔ مگر جیسا کہ ہر آدمی جانتا ہے، یہ مقاصد کسی بھی درجہ میں پورے نہیں ہوئے ۔ اس اعتبار سے بیس سال پہلے مسلمانوں کی جو حالت تھی وہی آج بھی برقرار ہے۔ ایسی حالت میں مسلم انڈیا کے بانی اور ایڈیٹر کو یہ اعلان کرنا چاہئے تھا کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس لیے اب ہم اس میدان سے ہٹ رہے ہیں۔ کے برعکس اُنہوں نے یہ دعویٰ کر دیا کہ ہمارا مقصد پورا ہو چکا ہے اس لیے اب ہم اپنا آخری ایڈیٹوریل لکھ رہے ہیں۔
۹ دسمبر کو جب کہ میں مدینہ ایجوکیشن سینٹر کے گیسٹ ہاؤس میں مقیم تھا، دو تعلیم یافتہ مسلمان
ملاقات کے لیے آئے۔ بیٹھتے ہی اُن میں سے ایک شخص نے کہا: آپ کو معلوم ہے کہ آج کے اخبار میں یہ خبر چھپی ہے کہ امریکہ ایک مہینہ کے بعد عراق پر حملہ کرنے والا ہے۔ میں نے کہا کہ عراق پر امریکہ کا حملہ تو ایک مہینہ کے بعد ہوگا مگر ہر ایک شخص کے اوپر شیطان نے تو آج ہی حملہ کر رکھا ہے۔ بڑے حملے کے خلاف آپ جیسے لوگ کیا کر رہے ہیں۔
عام طور پر یہ حال ہے کہ لوگ خبر کے نام پر اسی طرح کی خبروں کو جانتے ہیں۔ جب بھی چند آدمی کسی مجلس میں اکٹھا ہوں تو یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی اس قسم کی کوئی خبر بیان کرتا ہے اور دوسرے لوگ اُس کو مان کر فوراً اٗس پر رائے زنی شروع کر دیتے ہیں اور پھر پوری مجلس اسی قسم کی اخباری باتوں کا چرچا بن کر رہ جاتی ہے۔ مصلح کا کام یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس قسم کی بے فائدہ باتوں کو چھیڑے تو فوراً وہ گفتگو کو مثبت اور تعمیری رُخ پر موڑ دے۔ اسی کا نام تزکیہ اور تربیت ہے۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اُن کے اندر اسلامی سوچ موجود نہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ لوگ اپنے بارہ میں سوچیں مگر آج کل کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہر ایک دوسروں کے بارہ میں تقریر کر رہا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ داخلی تعمیر پر زور دیا جائے۔ مسلمان خارجی تخریب کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کا انداز اختیار کیا جائے۔ مگر مسلمان دوسروں کو دشمن قرار دے کر اُن کو بُرا بھلا کہنے میں مشغول ہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ اسپرٹ پر زور دیا جائے۔ مگر آج کل کے مسلمان ظواہر کی دھوم مچائے ہوئے ہیں۔ اسلام کے نزدیک پہلا بنیادی کام تعلیم یا شعوری بیداری ہے۔ چنانچہ قرآن میں پہلی آیت اقراء مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر جگہ سیاست کا ہنگامہ کھڑا کیے ہوئے ہیں، وغیرہ۔ ۹ دسمبر کی شام کو مسجد عثمان غنی میں تقریر تھی۔ اس تقریر کے لیے مجھے جو موضوع دیا گیا وہ یہ تھا کہ حیدر آباد کے مسلمان موجودہ حالات میں کیا کریں۔ میں نے اپنی تقریر شروع کی تو میں نے کہا کہ حیدر آباد کے مسلمان یہ کریں کہ وہ خدا کا شکر ادا کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی اپنی کسی منصوبہ بندی کے بغیر یہاں کے مسلمان عمومی طور پر آج بہت زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ مسلم دور کے
مقابلہ میں تقریباً سوگنا زیادہ۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں کو شکر کے جذبہ کے تحت سجدہ میں گر جانا تا کہ آپ کو اور بھی زیادہ خدا کی نعمتیں حاصل ہوں (لئن شکرتم لأزید نكم)۔ میں نے کہا کہ میں غالباً ۱۹۴۳ میں پہلی بار حیدر آباد آیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن میں یہاں کی ایک سڑک سے گزر رہا تھا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ سڑک پر پولیس کے لوگ آ گئے ہیں اور سیٹیاں سیٹی کی آواز سن کر لوگ تیزی سے سڑک کے دونوں طرف کی گلیوں میں چلے گئے۔ بھی ایسا ہی کرنا پڑا۔ جب سڑک پوری طرح صاف ہوگئی تو میں نے دیکھا کہ تین کاریں آئیں اور تیزی سے گزرتی ہوئی آگے چلی گئیں۔ معلوم ہوا کہ یہ سابق حیدر آباد کے نواب کی سواری تھی۔ وہ روزانہ اسی طرح اپنی رہائش گاہ سے کسی مقام پر جاتے تھے اور ہر دن سڑک اُن کے لئے خالی کر دی جاتی تھی۔ میں نے کہا کہ ۱۹۴۳ میں حیدر آباد میں صرف چند کاریں تھیں اور یہ کاریں صرف نواب یا کسی بڑے جاگیر دار کے پاس تھیں۔ آج یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کے پاس ہزاروں کی تعداد میں کاریں لوگ پہلے سے زیادہ اچھے مکانات میں رہتے ہیں۔ مسجد اور مدرسے اور اسلامی ادارے پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ آج امام اور مدرس کے جیب میں بھی موبائل ٹیلی فون ہوتا ہے جو گذشتہ دور میں نواب کے پاس بھی نہیں ہوتا تھا۔ آج کے مسلمان پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ دھوم کے ساتھ شادی وغیرہ کی تقریب مناتے ہیں۔ آج پہلے سے زیادہ تعداد میں یہاں کے لوگ حج کے لیے جاتے ہیں، وغیرہ۔
ایسی حالت میں حیدر آباد کے مسلمانوں کے لیے شکایت اور احتجاج کی بولی بولنا گناہ ہے۔ پر فرض ہے کہ وہ یا تو شکر کی بولی بولیں یا چپ رہیں ۔ (من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً أو ليصمت)۔
تقریر کے بعد کچھ سوالات کیے گئے جن کا میں نے مختصر جواب دیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ غیر مسلموں میں دعوت کی بات کرتے ہیں۔ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کس طرح کیا جائے۔ میں نے کہا کہ دعوت کا عمل گہری خیر خواہی کے جذبہ کے تحت انجام پاتا ہے۔ اور جہاں گہری خیر خواہی
ہو وہاں یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ہم یہ کام کیسے کریں۔
میں نے کہا کہ کیا کوئی ماں کسی سے پوچھنے جائے گی کہ میں اپنے بیٹے کی خدمت کس طرح کیا کوئی باپ کسی سے پوچھنے جائے گا کہ میں اپنی اولاد کے ساتھ پدری حقوق کس طرح ادا ماں اور باپ خود اپنی قلبی محبت کے تحت یہ جان لیتے ہیں کہ انہیں اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ اسی طرح جو لوگ انسان کی محبت میں تڑپیں، جن کے دل میں یہ درد ہو کہ اُن کے آس پاس کے لوگ جہنم میں نہ جائیں، اُنہیں کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ لوگوں کی اصلاح و دعوت کا کام کس طرح کریں۔ اُن کا داخلی جذبہ ہی اُنہیں یہ بتانے کے لیے کافی ہوگا کہ اُنہیں اپنی دعوتی ذمہ داری کو کس طرح ادا کرنا چاہئے۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اکرام مسلم کو جانتے ہیں، اکرام انسان کی اہمیت سے شعوری طور پر وہ باخبر ہی نہیں۔ ایک صاحب کی عیادت کرنے کا موقع ملا۔ وہ لمبی بیماری سے کافی پریشان ہو چکے تھے۔ میں نے اُن کا حال پوچھا تو انہوں نے گانے کے انداز میں کہا: تڑپنا اور مرجانا۔ میں نے سوچا کہ تڑپنا اور مرجانا یہی ہر آدمی کا کیس ہے۔ ہر آدمی تڑپ کر ہی مرتا ہے۔ اپنی تڑپ کو جانتے ہیں مگر دوسروں کی تڑپ سے وہ واقف نہیں۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا میں میں ہی ہوں جس کو تڑپ کا تجربہ ہورہا ہے۔ حالانکہ خود خالق فطرت نے تڑپ کو ہر ایک کا مقدر بنا دیا ہے (لقد خلقنا الانسان فی کبد)۔
۱۰ دسمبر کو تقریباً آدھا دن یہاں کی ایک کورٹ میںگذرا۔ ایک کیس کے سلسلہ میں مجھے وہاں جانا پڑا تھا۔ اس سے پہلے بھی چند بار مجھے بادل ناخواستہ کورٹ میں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ اپنے علم اور تجربہ کی بنا پر میں نے پایا ہے کہ موجودہ عدالتیں قانونی پہلوانی کے ادارے ہیں۔ ان عدالتوں میں حقائق کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ ساری بحث فنی بنیاد (technical ground) پر ہوتی ہے۔ تجربہ کے مطابق ، اس نظام میں جج ایک بے اختیار مشین کی طرح کام کرتا ہے۔ وہ مجبور ہے کہ وکیلوں کے نکالے ہوئے فنی نکتوں پر فیصلہ دے۔ چنانچہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ فیصلہ میں فنی نکتہ کی رعایت تو ضرور
ہوتی ہے مگر اصل حقیقت سے اُس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
۱۰ دسمبر کے اس تجربہ کے بعد میں نے سوچا کہ آخر میرے جیسے بے ضرر انسان کے ساتھ ایسے حالات کیوں پیش آئے کہ اُس کو مجبورانہ طور پر عدالت میں جانا پڑا۔ اس پر غور کرتے ہوئے مجھے حضرت علیؓ کا قول یاد آیا کہ: الخیر فیما وقع۔ اور پھر میرے دل نے کہا کہ شاید میرے لیے یہ مقدر تھا کہ میرے ساتھ وہ تجربہ گزرے جس کو حضرت مسیح نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: ابن آدم کو عدالت میں لے جاتے ہیں۔
۱۰ دسمبر کو عدالت کے کمرہ میں جناب مجاہد الدین احمد ایڈوکیٹ سے ملاقات ہوئی۔ نے بتایا کہ وہ میری کتابیں پڑھ چکے ہیں اور ہمارے مشن سے پوری طرح اتفاق رکھتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے انگریزی میں چھپا ہوا ایک آرٹیکل دیا جو ستیہ سائی بابا کے بارہ میں تھا۔ اُس میں بتایا گیا تھا کہ ستیہ سائی بابا کا طریقہ بے کُچھ آدمی کو سب کچھ دے دیتا ہے۔ اس کا عنوان یہ تھا: Sai Baba and theory of Everything اُؔس میں بتایا گیا تھا کہ خدا نے ہم کو دماغ کی صورت میں ایک سپر کمپیوٹر دیا ہے۔ مگر ہم اس کو دس فیصد سے بھی کم استعمال کر پاتے ہیں۔ سادھنا کے روحانی طریقہ کے ذریعہ یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے مائنڈ کو زیادہ بہتر بنا سکیں تاکہ ہم اپنے دماغ کے غیر استعمال شدہ طاقت کو بڑھا سکیں: This places a ceiling on the proportion in use of the God-given super computer—our brain— we use less than ten percent of its capacity. By spiritual discipline (Sadhana)
it is possible to reprogramme our minds to increase the unused capacity of our brain. میں نے کہا کہ یہ ایک بے دلیل دعویٰ ہے۔ سائی بابا اور اُن کے ہزاروں معتقدین نے سادھنا کے اس طریقہ کو بھر پور استعمال کیا مگر وہ دماغی ترقی کے اعلیٰ درجہ تک نہ پہنچ سکے۔ سائی بابا سمیت اُن کے کسی معتقد نے کوئی سائنٹفک ڈسکوری نہیں کی اور نہ کوئی اعلیٰ درجہ کی کتاب لکھی۔ پھر میں نے اپنا ذاتی واقعہ بیان کیا۔ ایک بار سائی بابا کے ایک معتقد مجھ کو سائی بابا کے آشرم میں لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ
سائی بابا ہر چیز کو جانتے ہیں، یہاں تک کہ آپ کے دل کا حال بھی۔ میں نے جاتے ہوئے ایک کاغذ پر یہ جملہ لکھا: