Al-Risala · January 2003

Speed thrills but kills.

Al-Risala, January 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

راستہ میں کئی جگہ گاڑیاں الٹی ہوئی پڑی تھیں۔ اس قسم کے حادثے ان سڑکوں پر اکثر ہوتے ان حادثات کے اسباب زیادہ تر دو ہوتے ہیں — شراب پی کر گاڑی چلانا یا غیر ذمہ دارانہ طور پر گاڑی دوڑانا۔

اس موقع پر ہمارے ایک ساتھی نے بتایا کہ ان کے گھر کی ایک خاتون ڈرائیونگ لائسنس لینا چاہتی تھیں ۔ وہ دہلی میں ٹسٹ دینے کے لیے گئیں۔ ان کے بیچ میں ۱۰ آدمی تھے۔ ٹسٹ کے بعد ۸ آدمیوں کو ڈرائیونگ لائسنس دے دیا گیا۔ خاتون نے کہا کہ میں نے ان لوگوں سے اچھا چلایا تھا پھر تم نے مجھ کو لائسنس کیوں نہیں دیا۔ جواب دینے والے نے جواب دیا کہ ہمارا آج کا کوٹہ ۸ لائسنس کا تھا وہ پورا ہو گیا۔ آپ کل آئیں تو ہم پہلے نمبر پر آپ کو لائسنس دے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا میں، خاص طور پر دہلی میں، اتنے زیادہ ایکسیڈنٹ ہونے کا سبب یہ ہے کہ لوگوں کو کوٹہ سسٹم‘‘ کی بنیاد پر لائسنس دئے جاتے ہیں، نہ کہ واقعی معنوں میں ٹریننگ کی بنیاد پر۔

اس طرح کی باتوں میں راستہ طے ہوتا رہا، یہاں تک کہ چھ گھنٹہ کا سفر کرنے کے بعد ہم لوگ

دوپہر کے وقت پرمارتھ نکیتن پہنچے۔ یہاں کے آشرم میں تقریباً ایک ہزار کمرے ہیں۔ مجھے یہاں کمرہ نمبر ۲۱۵ میں ٹھہرایا گیا۔

سب سے پہلے میں نے غسل کیا۔ اسی کے بعد ہم لوگوں کو دوپہر کا کھانا کھلایا گیا۔ سادہ تھا، اس کے ساتھ وہ صحت بخش اور زود ہضم تھا۔ قدیم تصور کے مطابق، کھانا صرف دو مقصد کے لیے ہوتا تھا_ لذت اور شکم سیری۔ مگر موجودہ سائنسی زمانہ میں دوا اور تصور زیادہ اہم سمجھے جانے لگے ہیں_ اور وہ ہیں متوازن خوراک (balanced diet) اور غذائی اجزاء (nutritive value) کا

رشی کیش ہندو دھرم کے بڑے مرکزوں میں سے ایک مرکز ہے۔ یہاں کا موجودہ پروگرام ایک ایسا پروگرام تھا جس میں ہندو دھرم کے بڑے بڑے نمائندے شریک ہورہے تھے۔ یہاں ہندو مذہب کا ایک مکمل مظاہرہ متوقع تھا۔ اس لیے میں بعض دوسرے پروگراموں کو کینسل کرکے رشی کیش آیا تاکہ ہندو مذہب کو قریب سے دیکھ سکوں اور اس کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کروں۔ یکم جون کی شام کو مغرب کے بعد افتتاحی پروگرام تھا۔ میں جس آشرم میں ٹھہرا تھا وہ گنگا کے عین کنارے تھا۔ یہاں گنگا کے اندر کشتیوں کی مدد سے بہت بڑا پلیٹ فارم بنایا گیا تھا۔ دور دور تک روشنیاں جگمگاتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ ممتاز ہندو رہنما گنگا کے کنارے مخصوص نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ فضا میں لاوڈ اسپیکر پر گائے جانے والے بھجن کی آواز گونج رہی تھی۔ اس بھجن کا ایک حصہ جو بار بار دہرایا جارہا تھا وہ یہ تھا۔ میا گنگا تم ہی داتا۔

ایک طرف یہ الفاظ فضا میں گونج رہے تھے اور دوسری طرف میں یہ دیکھ رہا تھا کہ گنگا ہمالیہ پہاڑ سے اتر کر تیزی کے ساتھ میدانی علاقے کی طرف بہہ رہی تھی۔ چوں کہ یہاں گنگا ڈھلوان پر ہوتی ہے اس لیے یہاں اس کا بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے۔ اس کا مسلسل بہتا ہوا پانی اپنی پرشور آواز کے ساتھ گویا یہ کہہ رہا تھا کہ وہ کسی کی طرف سے مسخر کیا ہوا ہے۔ وہ ایک برتر طاقت کے حکم کے تحت ہے۔ ہزاروں لوگ گنگا کی پوجا کے لیے ہاتھ جوڑے اس کے سامنے کھڑے ہوئے تھے اور دوسری طرف خود

گنگا اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنی پرشور موجوں کے ذریعہ یہ اعلان کررہی تھی کہ میں ایک عاجز مخلوق ہوں، معبود کوئی دوسرا ہے، نہ کہ میں۔ میں نے غور سے دیکھا تو یہاں گنگا کا پانی ویسا صاف و شفاف نہ تھا جیسا کہ وہ ہمالیہ کی چوٹی پر ہوتا ہے۔ بلکہ وہ ایک گدلے پانی کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ چند مہینہ پہلے میں سوئزرلینڈ کو گیا تھا۔ سوئزر لینڈ جھیلوں کا ملک سمجھا جاتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہاں کی جھیلوں کا پانی صاف وشفاف اپنی اصلی حالت میں تھا۔ یہ ایک بڑا عجیب منظر تھا۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ سوئزر لینڈ کے لوگ اپنی جھیلوں کی صفائی کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس گنگا کا حال یہ ہے کہ ہر قسم کی گندگی اس میں بہادی جاتی ہے۔

ایک ہندو نے گفتگو کے دوران کہا کہ گنگا کے بارے میں ہندو عقیدہ یہ ہے کہ اس میں نہانے سے ہر قسم کے پاپ دھل جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کوئی شخص جرم کرکے آئے اور گنگا میں ڈبکی لگالے تو وہ اپنے جرم سے پاک صاف ہو جائے گا۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ یہاں اشنان کرنے کا ارادہ رکھتے انہوں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گنگا کے ساحل پر آباد شہروں اور بستیوں کی گندگی مسلسل بہہ کر گنگا کے پانی میں شامل ہوتی رہتی ہے۔ اس وجہ سے گنگا کے پانی کی کثافت (pollution) اتنا بڑھ گئی ہے کہ اب بہت سے ہندو اس میں نہانا پسند نہیں کرتے۔ کیوں کہ گنگا کا پانی اب آلودگی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، نہ کہ پاک کرنے کا ذریعہ۔

میں نے سوچا کہ پانی کا جو ذخیرہ اپنی صفائی کے لئے خود ہی دوسرے انسانوں کا محتاج ہو پھر وہ کسی انسان کی کیا مدد کرسکتا ہے۔ سوئزر لینڈ اور ہندوستان کا یہ فرق گویا ایک مشاہداتی ثبوت ہے کہ پانی ایک مجبور مخلوق ہے، وہ کوئی با اختیار ہستی نہیں۔

یکم جنوری کی شام کو گنگا پوجا کے مناظر دیکھنے کے بعد گنگا کے کنارے ہم لوگ ایک سجے ہوئے مقام پر لے جائے گئے۔ اس کو روشنیوں اور رنگین کپڑوں سے مزین کیا گیا تھا۔ یہاں کھانے کا انتظام میز کرسی پر تھا۔ کھانے کے دوران کچھ تعلیم یافتہ ہندو میرے پاس آکر بیٹھ گئے۔ ایک صاحب جو انگریزی اخبار کے کالمسٹ ہیں، انہوں نے کہا کہ میں سچائی اور روحانیت (spirituality) میں یقین

رکھتا ہوں ۔ میں نے ہر مذہب کا مطالعہ کیا ہے۔ اسلام کے بارے میں آپ کی کچھ کتابیں پڑھی ہیں ۔ میں نے پوچھا کہ آپ سچائی کی تعریف کس طرح کرتے ہیں اور یہ کہ اس کی کیا پہچان ہے کہ کسی کو سچائی مل گئی۔ وہ غیر مربوط انداز میں دیر تک بولتے رہے مگر کوئی واضح بات نہ بتا سکے ۔ کہا کہ آپ متعین اور محدود (specific) الفاظ میں میرے سوال کا جواب دیں۔ مگر کافی دیر تک سننے کے باوجود میں ان کی تقریر سے اپنے سوال کا واضح جواب نہ پاسکا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ سچائی ایک ذاتی تجربہ (experience) کی بات ہے ، اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ پنجاب سے آئی ہوئی ایک خاتون پروفیسر بھی کھانے کی میز پر موجود تھیں ۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ گنگا میا میری ہر ضرورت کو پوری کر دیتی ہیں ۔ جب بھی میں ان کو پکارتی ہوں میں ان کو موجود پاتی ہوں ۔ میں نے ان سے کہا کہ اس سلسلہ میں آپ اپنا کوئی عملی تجربہ بتائیں ۔ انہوں نے کہا ، ایسے بہت تجربات ہیں۔ کافی اصرار کے بعد انہوں نے ایک تجربہ بتایا۔

انہوں نے کہا کہ رشی کیش کے اس پروگرام میں میں آنا چاہتی تھی۔ میں اس کے لئے بہت زیادہ خواہش مند تھی۔ میں نے اپنے شوہر سے اپنی اس خواہش کے بارے میں کچھ نہیں بتایا اس لئے کہ میں جانتی تھی کہ وہ انویٹیشن (دعوت نامہ) کے بغیر کہیں نہیں جاتے ۔

میرے مَن میں یہ تھا کہ گنگا میا انویٹیشن بھیج دیں تو میرا کام بن جائے ۔ اگلے دن صبح کی ڈاک سے مجھے انویٹیشن مل گیا ، اس طرح میں یہاں پہنچ گئی۔

میں نے کہا کہ اب آپ میری مثال لیجئے ۔ مجھے یہاں کے پروگرام کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا اور نہ میں نے اس میں شرکت کی خواہش کی تھی ۔ مگر اپنے آپ مجھے اس کا انویٹیشن مل گیا۔ اب یہ بتائیے کہ اگر آپ کا انویٹیشن گنگا میا نے بھیجا تو میرا انویٹیشن کس نے بھجوایا۔ میرے اس سوال کا وہ کوئی جواب نہ دے سکیں ۔

ایک اور تعلیم یافتہ ہندو نے گفتگو کے دوران کہا کہ میں اس طرح کے مندروں اور مذہبی مقامات پر بہت زیادہ گیا ہوں ۔ اب میں ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ بھگوان کے مندر بہت بن چکے

اب انسان کا مندر بناؤ۔ مندر کے نام پر جھگڑے بھی بہت ہو رہے ہیں۔ انسان کے مندر میں کوئی جھگڑا نہ ہوگا۔ انسان کے مندر سے ان کی مراد یہ تھی کہ ایجوکیشن اور اسپتال جیسے سوشل کام بڑے پیمانہ پر کئے جائیں۔

اس طرح کی گفتگوؤں سے میں نے سمجھا کہ برادران وطن کی بہت بڑی تعداد ہے جو ہندوازم کے موجودہ روایتی ڈھانچہ سے غیر مطمئن ہے۔ اس کی فطرت اس کے سوا کچھ اور چاہتی ہے۔ ’’کچھ اور‘‘ کا کوئی واضح نقشہ اس کے سامنے نہیں۔

رشی کیش کے آشرم میں ہر طرف مختلف ہندو بت نصب کیے ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ لاؤڈ اسپیکر پر ہروقت ہندو روایات کے مطابق، سنسکرت کے منتر یا بھجن سنائی دیتے رہتے تھے۔ ایک ضخیم انسائیکلوپیڈیا آف ہندوازم بھی تیار کی جارہی ہے۔ اس کے ایڈیٹوریل بورڈ میں ۱۲ ہندوستانی اور ۱۲ بیرونی ہندو پروفیسر شامل ہیں۔ ڈاکٹر شیشا گری راؤ اس کے ہیڈ ہیں۔ میں نے اس انسائیکلوپیڈیا کے کچھ حصوں کو دیکھا۔ مجھے یہ انسائیکلوپیڈیا بظاہر انسائیکلوپیڈیا آف ہندوازم کے بجائے انسائیکلوپیڈیا آف ہندو مائتھالوجی نظر آئی۔ مثلاً اس میں بتایا گیا ہے کہ گنگا ایک دیوتا کی جٹا سے نکلی۔ اس قسم کی افسانوی باتوں سے یہ انسائیکلوپیڈیا بھری ہوئی ہے۔ ’’انسائیکلوپیڈیا‘‘ کا لفظ علمی اور تاریخی معلومات کے لئے ہوتا ہے، نہ کہ افسانوی معلومات کے لیے۔ مگر موجودہ زمانہ میں ہر مذہب میں مختلف پہلوؤں سے اس قسم کا غیر علمی انداز عام ہورہا ہے۔ ایسا انداز عقیدت مندوں کو خوش کر سکتا ہے مگر وہ جدید ذہن کو مطمئن کرنے والا نہیں۔

یہاں کثرت سے اس قسم کے تجربات اور مشاہدات ہوئے ۔ میں نے سوچا کہ برادران وطن سیکڑوں سال سے توہماتی عقائد اور روایات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مگر مسلمان ان کی ہدایت کے لئے نہیں ان کی خیر خواہی نے انہیں بے چین نہیں کیا۔ خود ہندوؤں میں ایسے لوگ اٹھے جنہوں نے محدود طور پر اصلاح کی کوششیں کیں۔ مثلاً کبیر نے اس سلسلہ میں بہت سی باتیں کہیں۔ ان کا ایک شعر یہ ہے : ماتھے تِلک ہاتھ ملبانا لوگن رام کھلونا جانا

آریہ سماج کی تحریک بھی اسی نوعیت کی ایک ادھوری تحریک تھی۔ گرو نانک کی تحریک اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے غیر خداؤں کی پرستش کے بجائے ایک خدا کی پرستش کا پیغام تھا۔ گرو نانک کے بارے میں یہ شعر کہا تھا:

نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے مسلمانوں کے پاس محفوظ آسمانی کتاب کی صورت میں کامل سچائی موجود تھی مگر مسلمان برادران وطن کی اصلاح کے لئے کچھ نہ کر سکے۔ رشی کیش میں گفتگو کے دوران بہت سے ہندوؤں نے مجھ سے اسلام کے مطالعہ کی خواہش ظاہر کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی حقیقی اصلاحی کوشش کے لئے گہری خیر خواہی درکار ہوتی ہے۔ وہ خیر خواہی جو شکایتوں کے باوجود نہ ٹوٹے، بیٹے کے ساتھ ماں کی محبت کی طرح جو ہر حال میں قائم رہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کے اندر برادران وطن کے لئے اس قسم کی خیر خواہی موجود نہ تھی۔ مسلم سلطنت کے دور میں وہ ہندوؤں کو کمتر سمجھتے رہے اور ۱۹۴۷ کے بعد وہ ہندوؤں سے اپنے سینہ میں نفرت اور شکایت لئے ہوئے ہیں۔ اور جو لوگ اس طرح کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ کبھی اصلاح ودعوت کا کوئی گہرا کام نہیں کر سکتے۔

۱۱۹۷ سے پہلے کے دور میں مسلم صوفیوں نے ضرور کچھ مفید کام کئے مگر جہاں تک مسلم علماء کا تعلق ہے، وہ اس سلسلہ میں کوئی قابل قدر خدمت انجام نہ دے سکے۔ کچھ لوگوں نے ہندوستان کو دار الحرب بتا کر مسلمانوں کے اندر منفی نفسیات پیدا کیں۔ کچھ لوگوں نے ہندوؤں کے ’’مسلم ملچھ‘‘ کے تصور کا مقابلہ کرنے کے لئے ’’ہندو کافر‘‘ کا نظریہ پھیلایا۔ کچھ لوگوں نے بت شکنی کے نام پر ایسے کام کئے جو اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف دل شکنی کے ہم معنی تھے۔

حال میں پاکستان نے اس فرقہ وارانہ تناؤ کو آخری حد تک پہنچا دیا ہے۔ اس نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ہند ونفرت کا عالمی کارخانہ کھول دیا۔ اُس نے ہندوستان کے خلاف اپنی قومی جنگ کو اسلامی جہاد کا نام دیا۔ اسی معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ اس نے ہندوستان سے امکانی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے کچھ میزائل بنائے تو ان کے نام غوری میزائل، غزنوی میزائل اور ابدالی میزائل رکھ

یہ نام بلاشبہ سخت اشتعال انگیز ہیں ۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ساری مسلم دنیا میں کوئی بھی عالم یا غیر عالم نہیں جو پاکستانی رہنماؤں سے یہ کہے کہ تم اپنی قومی لڑائی کو انتہائی نا عاقبت اندیشانہ طور پر یہ مجرمانہ رنگ دے رہے ہو کہ ہندوؤں کی مسلم نفرت یا اسلام نفرت اس حد تک بڑھ جائے کہ وہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کے پیغام کو سننے کے قابل ہی نہ رہیں ۔ مجھے یاد آتا ہے کہ میرے بچپن کے زمانہ میں کچھ علماء نے’’ تبلیغ‘‘ کے نام پر مناظرہ بازی کی مہم شروع کر رکھی تھی۔ حالانکہ اس قسم کی مہم کو تبلیغ کے بجائے اینٹی تبلیغ کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔

مثلاً ایک مناظر عالم کو جوش آیا۔ انہوں نے ایک کتاب تیار کی جس کا نام انہوں نے ’’کفر توڑ‘‘ اس کے جواب میں ایک ہندو مناظر نے کتاب شائع کی جس کا نام تھا’’ کفر توڑ کا بھانڈا پھوڑ‘‘۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ اردو زبان عمومی طور پر ہندو اور مسلمان دونوں کی مشترک زبان تھی ۔ گویا داعی اور مدعو کے درمیان وہ لسانی بعد (language gap) موجود نہ تھا جو آج پایا جاتا ہے۔ مگر اس سنہری زمانہ کو خیر خواہانہ دعوت کے بجائے مناظرہ بازی کے لیے استعمال کیا گیا جو صرف یہ کر سکتا تھا کہ برادرانِ وطن کو متنفر کر کے انہیں اسلام سے کچھ اور دور کر دے۔ اس قسم کی کوششوں نے یہی کارنامہ انجام دیا۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا:’’ اسلام ہند و ازم کی ایک شاخ ہے۔ ہندو ازم اصل ہے اور اسلام اور دوسرے مذاہب اس کی برانچ ‘‘۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کون اصل ہے اور کون برانچ ۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مختلف مذاہب میں کون سا مذہب زیادہ مستند اور قابل اعتماد ہے۔ ۲ جون کی صبح کو ناشتہ پر مسٹر پر کاش ہندو جا اور ان کے ساتھی سے ملاقات ہوئی ۔ برادرس کا کاروبار اتنا بڑا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ ۵۰ برلا اکٹھا کئے جائیں تو ایک ہندو جا بنتا ہے۔ تقریباً ایک گھنٹہ گفتگو ہوئی۔ مگر عجیب بات ہے کہ میرے کسی بھی سوال کا منطقی جواب ان کے پاس نہ وہ ہر سوال کے جواب میں ایک غیر متعلق بات کہہ دیا کرتے تھے۔ چنانچہ گفتگو کسی نتیجہ پر نہ پہنچی۔ مثلاً میں نے کہا کہ آپ اسلام کو سمجھنے کے لیے خود اسلام کو دیکھیے، نہ کہ موجودہ مسلمانوں کو۔ مگر یہ فرق ان کی سمجھ میں نہیں آیا۔

میں نے اپنے تجربہ میں اکثر یہ پایا ہے کہ جو لوگ کسی مادی شعبہ میں بہت زیادہ کامیاب ہوتے ہیں وہ اپنے مخصوص شعبہ کے علاوہ دوسرے معاملات میں تفکیری انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ اپنی ساری فکری صلاحیت کو صرف ایک پسندیدہ رخ پر مرکوز کر دیتے ہیں۔ ایک مخصوص شعبہ میں تو ان کی معلومات بہت زیادہ ہوتی ہیں مگر دوسرے شعبہ میں ان کی واقفیت بقدر ضرورت بھی نہیں ہوتی۔

یہاں انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس کا شمارہ ۲ جون ۲۰۰۲ دیکھا۔ اس میں ایک سبق آموز یہ رپورٹ اخبار کے ہفتہ وار کالم انٹرویو آف دی ویک (Interview of the Week) کے تحت چھپی تھی۔ مسٹر یشونت راج نے مشہور لیڈر نٹور سنگھ سے انٹرویو کر کے یہ رپورٹ تیار کی۔ اخباروں میں یہ خبر آچکی ہے کہ مسٹر نٹور سنگھ کے یہاں دوز بر دست خاندانی حادثے ہوئے۔ ان کی بہو نتا شا نے مارچ ۲۰۰۲ میں اور ان کی بیٹی ریتو نے اپریل ۲۰۰۲ میں خودکشی کر لی۔ نٹور سنگھ کے لیے بڑا سخت حادثہ تھا۔ اس کے بعد کانگریس کی صدر مسز سونیا گاندھی ان کے یہاں تعزیت کے لئے گئیں۔ مسز سونیا گاندھی جب وہاں پہنچیں تو اس وقت مسٹر نٹور سنگھ اپنے گھر کے کمرۂ مطالعہ (study) میں تھے۔ یہاں کتابوں سے بھری ہوئی الماریاں ہر طرف دکھائی دیتی تھیں۔ غمزدہ نٹور سنگھ نے رپورٹر سے کہا کہ سونیا گاندھی جب یہاں آئیں تو میں اپنی اسٹڈی میں تھا جہاں تقریباً دس ہزار کتابیں موجود ہیں۔ میں نے سونیا سے کہا کہ یہاں ساری دنیا کی حکمت و دانش موجود ہے، مختلف ادوار کی حکمت و دانش کا خلاصہ۔ مگر یہاں ایک بھی کتاب ایسی موجود نہیں جس کو پڑھ کر میں تسکین حاصل کر سکوں:

Within an hour of my daughter taking her life, Sonia came to see us. We were in our study upstairs—where I have close to 10,000 books. I told her, here you have the wisdom of the world, wisdom of the ages in concentrated form, but there is not a book I could pick up to console myself. (p. 14)

اسی اخبار میں صفحہ ۱۰ پر ایک سبق آموز رپورٹ تھی جس کا عنوان تھا— نصیحت نہ کرو بلکہ

Printed page