What is the future of my mission
Al-Risala, March 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے مذکورہ معتقد کو وہ کاغذ دکھاتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے ساتھ آشرَم میں چلتا ہوں۔ میں اُن سے زبانی طور پر کچھ سوال نہیں کروں گا۔ وہ خود سے جان کر میرے اس سوال کا جواب دیں۔ ہم دونوں وہاں پہنچ کر مجمع میں بیٹھ گئے۔ سائی بابا اپنے راؤنڈ پر نکلے۔ وہ چلتے ہوئے میرے پاس وہ چند سیکنڈ کے لیے میرے پاس ٹھہرے اور پھر کچھ بولے بغیر آگے بڑھ گئے۔ میں نے مذکورہ معتقد سے کہا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ سائی بابا خود سے میرے سوال کا جواب دے دیں گے۔ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مذکورہ معتقد لاجواب ہو کر خاموش رہے۔
ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں میں سماجی اصلاح کی تحریکیں کثرت سے اٹھائی گئیں مگر اُن کا مطلوب نتیجہ نہیں نکلا۔ میں نے کہا کہ میرے تجربہ کے مطابق، تحریکیں اُٹھانے والے بطور پروفیشن تحریک اُٹھاتے ہیں، نہ کہ بطور مشن۔ اُن میں نہ گہر اردہوتا اور نہ ظاہر ہے کہ ایسی تحریکوں کا کوئی مثبت انجام نکلنے والا نہیں۔ اُن کا حال یہ ہے کہ مسلمان اگر انسانیت کے نام پر کوئی تحریک اُٹھاتے ہیں تو عملاً اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ایڈوکیٹ بن کر ہندوؤں کو انسانیت کا سبق دیں۔ اور ہندو اگر مانوتا کے نام پر کوئی تحریک اُٹھاتے ہیں تو اس کا مقصد بھی یہ ہوتا ہے کہ وہ ہندوؤں کے ایڈوکیٹ بن کر مسلمانوں کو مانوتا کا سبق دیں۔ اس قسم کی تحریکوں کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ صحیح اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ مسلم قائدین مسلمانوں کو نصیحت کریں اور ہندو قائدین ہندوؤں کو نصیحت کریں۔ رہنما ایسا نہیں کرتے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ اُنہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں وہ اپنی قوم کے اندر اپنی مقبولیت کھودیں۔ عوامی نفسیات یہ ہے کہ اگر آپ اپنی قوم کے وکیل بن کر دوسروں کی مذمت کریں
تو آپ اپنی قوم کے اندر ہیرو بن جاتے ہیں اور اگر آپ خود اپنی قوم کے خلاف بولیں تو آپ اپنی قوم میں زیرو ہو جائیں گے۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے انہیں انگریزی میں چھپا ہوا ایک انویٹیشن اس میں مجھے تقریر کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ یہ دعوت نامہ دی انلائٹمنٹ فاؤنڈیشن کی طرف سے تھا۔ نئی دہلی میں اُس کا کنٹیکٹ نمبر یہ )The Enlightenment Foundation(
اس میٹنگ کا موضوع یہ تھا کہ میں کون ہوں (Who Am I) میں نے کہا کہ اس طرح کے ادارے بڑی تعداد میں تقریباً ہر شہر میں قائم ہیں۔ اس میں شرکت کرنے والوں کو پوری آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنے نقطۂ نظر سے زیر بحث موضوع پر بولے۔ اور اپنے علم کے مطابق، سوال کا جواب دے۔ اس طرح گویا ہر شہر میں ایک قسم کا دعوتی میدان کھلا ہوا ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمان وہاں جا کر آزادانہ طور پر اپنی بات پیش کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اُن کا انداز خالص علمی ہو۔ مناظرہ کا انداز، سیاسی پروپیگنڈے کا انداز یا قومی وکالت کا انداز نہ ہو۔ اس امکان کو اگر استعمال کیا جائے تو ہر شہر میں خاموش انداز میں دعوت کا کام شروع ہو جائے گا۔ مگر موجودہ مسلمانوں میں چونکہ دعوتی جذبہ نہیں اس لیے انہوں نے نہ اس جدید امکان کو جانا اور نہ اُس کو استعمال کیا۔
کچھ مسلمانوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں مومن کی تصویر ان الفاظ میں دی گئی ہے: ولم يخش الا الله (اُس کو اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر نہیں ہوتا)۔ اس کے مقابلہ میں منافق کی تعریف یہ کی گئی ہے: يحسبون كل صيحة عليهم (وہ ہر چیخ کو اپنے ہی خلاف
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھیے یا اُن کی تقریروں اور تحریروں کا جائزہ لیجیے تو تقریباً سارے ہی مسلمان اس کا مصداق نظر آئیں گے۔ آج تقریباً ساری دنیا کے مسلمان ایک ہی مشترک بولی بول رہے ہیں۔ وہ دنیا کی تمام قوموں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ دوسری قوموں کی سرگرمیوں کو بتانے
کے لیے اُن کے پاس ایک ہی مشترک لفظ ہے اور وہ ہے سازش، مواہرہ، کانسپریسی اُن کو نظر آتا ہے کہ دنیا کے تمام غیر مسلم لوگ صرف ایک ہی کام کر رہے ہیں اور وہ مسلمانوں کے خلاف سازش ہے۔
موجودہ مسلم دنیا میں شاید میں امکیلا مسلمان ہوں جو اعلان کے ساتھ اس نظریہ کے خلاف میں یہ کہتا ہوں کہ آج کی دنیا ہمارے لیے مواقع (opportunities) کی دنیا ہے، نہ کہ دشمنی اور سازش کی دنیا۔ میری یہ بات موجودہ مسلمانوں کو اتنی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ وہ مجھ کو مسلم دشمن طاقتوں کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ اعوذ باللہ من ذالک۔
ایک صاحب نے کہا کہ تعلیم یافتہ طبقہ عام طور پر یہ سوال کرتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان جہادی مزاج رکھتے ہیں۔ وہ جہاد کے نام پر صرف لڑنا بھڑنا جانتے ہیں۔ پر امن جدوجہد جیسے اُن کے مزاجی خانہ میں فٹ نہیں ہوتی۔
میں نے کہا کہ غور کیجئے تو اس کا سبب نہایت گہرا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں بعد کے زمانہ میں وہی ریورس کورس (reverse course) مطلوب تھا جو دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان نے اختیار مگر پچھلے ہزار سال میں مسلمانوں میں کوئی ایسا عالم پیدا نہ ہوسکا جو مسلمانوں کو ریورس کورس کا سبق نتیجہ یہ ہوا کہ گاڑی ایک ہی رُخ پر دوڑتی رہی۔
میں نے کہا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں تقریباً ہزار سال تک پر امن جدوجہد ہی کا طریقہ رائج اس کے بعد مخالفین کی جارحیت کے نتیجہ میں ہجرت کے بعد جنگیں شروع ہوگئیں جو خلافت راشدہ کے زمانہ تک جاری رہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ خلافت راشدہ کے آخری زمانہ میں جارحانہ طاقتوں کا مکمل خاتمہ اب وقت آ گیا تھا کہ کی دور والے پر امن طریق کا رکی طرف واپسی اختیار کی جائے۔ سیاسی حوصلہ مندوں نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے جنگ و قتال کا سلسلہ جاری رکھا جواب تک مختلف صورتوں میں جاری ہے۔
خلافتِ راشدہ کے بعد ضرورت تھی کہ کوئی بڑا عالم اور رہنما اٹھے جو جہاد کی پر امن تعبیر پیش کر کے مسلمانوں کو یورس کورس پر ڈال سکے۔ یعنی پر تشدد طریق کار کے بجائے پر امن طریق کار۔ ہزار سال کے دوران ایسا کوئی رہنما پیدا نہ ہو سکا۔ چنانچہ قومی رُخ بھی بدلا نہ جا سکا۔ ۱۰ دسمبر کی شام کو یہاں کے المعهد العالی الاسلامی کودیکھا اور اُس کے بانی مولا نا خالد سیف اللہ رحمانی کے ساتھ شام کا کھانا کھایا۔ اس موقع پر کئی لوگ میرے ساتھ تھے— ڈاکٹر شیزان صاحب، عمر عابدین صاحب، عبدالرؤف صاحب، عبدالغفار صاحب، وغیرہ۔ یہ ادارہ ۱۴۲۰ھ میں قائم کیا گیا۔ اس میں مدارسِ دینیہ کے فارغین کو داخل کیا جاتا ہے۔ مقصد اُس کے تعارف نامہ میں یہ بتایا گیا ہے: مختلف علوم اسلامی میں افرادِ کار کی تیاری، زمانہ شناس داعیوں کی تربیت، علماء کو انگریزی زبان اور جدید علوم سے باخبر کرنا، تحقیق و تالیف۔ یہ ادارہ ایک پہاڑی کے اوپر قائم کیا گیا ہے۔ یہاں بالکل سکون کا ماحول ہے۔ بھی یہاں تقریباً موجود نہیں۔ تعلیم و تحقیق کے لیے یہ ادارہ اپنے جائے وقوع کے اعتبار سے بہت اس ادارہ کی جو چیزیں میں نے دیکھیں اُن میں سے ایک اُس کی لائبریری تھی۔ لائبریری بہت جامع اور خوبصورت نظر آئی۔ اس لائبریری کی ایک قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ اُس کی ایک الماری میں ماہنامہ الرسالہ کے تمام شمارے نمبر اسے لے کر اب تک مجلد صورت میں رکھے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ مکمل فائل مسٹرکشن جیونت راؤ پاٹل (نانڈیڑ) نے دیا ہے۔
کشن جیونت راؤ پاٹل ۱۹۷۶ میں اُردو زبان بالکل نہیں جانتے تھے۔ اُن کے ایک ساتھی محمد عثمان چاؤش نے اُنہیں الرسالہ کے کچھ مضامین پڑھ کر سنائے ۔ اُنہیں اس سے اتنی زیادہ دلچسپی ہوئی کہ انہوں نے الرسالہ کو خود پڑھنے کے لیے اُردو زبان سیکھنا شروع کر دیا۔ ایک بار انہوں نے بتایا کہ اُردو الفاظ کا مراٹھی ترجمہ یاد کرتے کرتے اُن کا منھ دُکھنے لگتا تھا۔ مگر انہوں نے اپنی کوشش جاری یہاں تک کہ اب وہ الرسالہ کی اُردو زبان مکمل طور پر سمجھ لیتے ہیں۔ وہ پابندی سے ہر ماہ الرسالہ کا باقاعدہ مطالعہ کرتے ہیں۔ اُن کے پاس الرسالہ کے تمام شمارے محفوظ حالت میں موجود تھے۔
نے ان شماروں کی جلد بندی کروائی اور اُن کو المعهد میں بطور عطیہ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے گھر کے مقابلہ میں یہ جلدیں المعهد کی لائبریری میں زیادہ محفوظ رہیں گی۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سے اُن کی رہائش گاہ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ المعهد کے مقاصد نہایت اہم ہیں اور عین زمانہ کے مطابق ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ المعهد میں انگریزی زبان کو ذریعۂ تعلیم بنا دیں۔ یہاں عربی اور دینی علوم انگریزی زبان میں پڑھائے جائیں۔ طلبہ کو تاکید کی جائے کہ وہ المعهد کے احاطہ میں صرف انگریزی زبان بولیں۔ کوئی اور زبان بولنے کی صورت میں اُن پر جرمانہ عائد کیا جائے۔
میں نے کہا کہ المعهد کے موجودہ اساتذہ کو بظاہر یہ مشکل معلوم ہوگا۔ وہ سوچیں گے کہ ہم تو انگریزی زبان بہت کم جانتے ہیں۔ پھر ہم انگریزی زبان میں تعلیم کس طرح دیں۔ مگر میرے نزدیک اصل اہمیت زبان جاننے کی نہیں ہے بلکہ اپنے مقصد کے بارہ میں مجنونانہ جذبہ کی ضرورت ہے۔ نے کہا کہ سرسید احمد خاں انگریزی زبان نہیں جانتے تھے۔ مگر انہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کا سب سے بڑا انگریزی ادارہ قائم کیا۔ میں نے کہا کہ سرسید کا حال یہ تھا کہ انہوں نے ایک انگریز مستشرق کی انگریزی میں لکھی ہوئی سیرت کی کتاب کا جواب دیا تو پہلے اُس کا ترجمہ اردو زبان اسی طرح ایک بار انہوں نے’’انگریزی‘‘ میں تقریر کی۔ یہ انگریزی تقریر اردو الفاظ میں کاغذ پر لکھ دی گئی تھی۔ پھر اس اُردو تحریر کی مدد سے انہوں نے اپنی انگریزی تقریر کی۔ میں نے کہا کہ آج ساری دنیا میں ایسے علماء کی ضرورت ہے جو انگریزی زبان میں اسلام کی بات کہہ سکیں۔ میں نے کانفرنسوں میں دیکھا ہے کہ کچھ غیر عالم مسلمان انگریزی میں اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں مگر غیر عالم ہونے کی بنا پر اُن کی نمائندگی صحیح نہیں ہوتی۔ دوسرے مذہبوں میں ایسے علماء کثرت سے موجود ہیں۔ مگر مسلمانوں میں ایسے علماء کی شدید کمی ہے جو انگریزی زبان میں درست طور پر اسلام کی نمائندگی کر سکیں۔ اگر المعهد اس ضرورت کو پورا کرے تو بلا شبہ یہ اُس کا ایک تاریخی کارنامہ ہوگا۔ المعهد کے کچھ طالب علموں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ آج ہی سے
انگریزی بولنا شروع کر دیجیے۔ میں نے افریقہ کے ایک تاجر کی مثال دی۔ انہوں نے تجارتی ضرورت کے تحت انگریزی بولنا شروع کیا۔ ابتدا میں اُن کی انگریزی بہت غلط ہوتی تھی مگر بعد کو وہ صحیح انگریزی ابتدائی دور میں انہوں نے اس سلسلہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں غلط انگریزی بولتا ہوں تاکہ مجھے صحیح انگریزی بولنا آجاۓ:
I speak incorrect English, so that I may be able to speak correct English. میں نے کہا کہ انسان کو اللہ تعالی نے لامحدود صلاحیت دی ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ منصوبہ بند اور منظم انداز میں اپنی صلاحیت کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلہ میں میں نے مالیگاؤں کے مولانا انیس لقمان ندوی کی مثال دی۔ وہ ماشاء اللہ بیک وقت عربی اور انگریزی دونوں زبان روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوا۔ اُس کا راز یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے گھر کو تربیت گاہ بنا دیا۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ ہمیشہ انگریزی میں بولتے تھے اور اپنے برادر نسبتی کے ساتھ ہمیشہ عربی میں۔ اس طرح انہوں نے خود اپنے گھر میں دونوں زبان میں بولنے کی عمدہ مشق پیدا کر لی۔ یہی طریقہ ہر نوجوان اپنے حالات کے اعتبار سے استعمال کر سکتا ہے۔ مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے ۱۰ دسمبر کی ملاقات کے موقع پر اپنی کچھ کتابیں تحفہ کے طور پر عطا کیں ۔ مثلاً خطبات بنگلور اور شمع فروزاں، وغیرہ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی برصغیر ہند کے ممتاز علماء میں سے ایک ہیں۔ اللہ نے اُنہیں عالم بھی بنایا ہے اور حکیم بھی۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سے ملاقات کے بعد ہم لوگ آگے کے لیے روانہ ہوئے۔ ہم کو حبیب بھائی کے مکان پر پہنچنا تھا۔ پہنچے تو رات کے گیارہ بجے کا وقت ہو چکا تھا۔ حبیب بھائی اور کچھ دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ یہاں دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اولمپک کے کھیلوں کے موقع پر کھلاڑیوں کی ایک ٹیم کے کیپٹن نے کہا کہ میں غلطی کا تحمل نہیں کر سکتا: