I can not afford to make a mistake.
Al-Risala, March 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ بات آخرت کے مسافر کے لیے مزید اضافہ کے ساتھ اہم ہے۔ کھیل کے مقابلہ کا کیپٹن اگر
غلطی کر جائے تو وہ صرف ایک کھیل کو وقتی طور پر کھوئے گا، لیکن آخرت کا مسافر اگر غلطی کرے تو وہ ابدی جنت کو کھودے گا۔ اس سنگینی کا تقاضا ہے کہ کھیل کے کیپٹن کے مقابلہ میں آخرت کا مسافر مزید اضافہ کے ساتھ یہ کہے کہ میں غلطی کا تحمل نہیں کر سکتا۔
ایک اور بات میں نے یہ کہی کہ سچائی کے مشن میں اپنا واجبی حصہ ادا کرنے کے لیے ایک ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی کا سینہ شکایتوں سے خالی ہو۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص سچائی کا ارادہ لے کر کچھ لوگوں کے ساتھ سفر شروع کرتا ہے۔ اس کے بعد شکایتوں کا عذر لے کر وہ قافلہ سے الگ ہو جاتا ہے۔ یہ مزاج بے حد خطر ناک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا معاملہ، کامیابی کا واحد فارمولا یہ ہے کہ اگر تمہارے پاس ایک اچھا عذر ہو تب بھی تم اُس کو استعمال نہ کرو: If you have a good excuse, don't use it. ۱۰ دسمبر کی رات کو ہم لوگوں کا قیام حبیب بھائی کے مکان پر تھا۔ حبیب بھائی کے والد بابو بھائی (غلام محمد مرحوم) الرسالہ کے زبردست شیدائی تھے۔ وہ آخر وقت تک پوری طرح الرسالہ مشن سے ۲۱ جولائی ۱۹۸۷ کو ان کا انتقال ہو گیا جب کہ ان کی عمر صرف ۵۳ سال کی تھی۔ حبیب بھائی نے بتایا کہ بابو بھائی کے انتقال کے کچھ پہلے انہوں نے ایک خواب دیکھا۔ واضح تھا کہ ابھی تک وہ انہیں اچھی طرح یاد ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک سیدھی چوڑی سڑک اس پر وہ کھڑے ہوئے ہیں۔ اتنے میں پیچھے سے ایک بہت بڑا سانپ آیا۔ اس کو دیکھ کر حبیب بھائی آگے کی طرف دوڑنے لگے۔ سانپ تیزی سے انہیں دوڑا رہا تھا اور حبیب بھائی پوری طاقت کے ساتھ اس کے آگے بھاگ رہے تھے۔ وہ اسی طرح دوڑتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک مقام آیا جہاں انہوں نے دیکھا کہ میں تنہا سڑک کے بیچ میں کھڑا ہوا ہوں۔ میرے پاس پہنچ کر حبیب بھائی رک سانپ بھی رک گیا۔ حبیب بھائی نے گھبراہٹ کے لہجے میں کہا کہ دیکھئے یہ سانپ مجھے دوڑارہا ہے، میں کیا کروں۔ حبیب بھائی کے بیان کے مطابق، میں نے پر سکون طور پر کہا: آپ دعوت کیجئے ۔ حبیب بھائی نے بتایا کہ یہ خواب ٹھیک اسی طرح انہیں بار بار آتارہا۔
بارے سے زدہ انہیں یہ خواب ٹھیک اسی طرح دکھائی دیا۔ انہوں نے بابو بھائی سے کہا کہ اس قسم کا خواب مجھے بار بار دکھائی دیتا ہے۔ میں کیا کروں۔ بابو بھائی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم مولانا کے ساتھ مل کر دعوت کا کام کرو۔
حبیب بھائی نے اپنا یہ خواب بتایا تو میں نے اس پر غور کرنا شروع کیا۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس خواب میں حبیب بھائی کی حیثیت ملت مسلمہ کے نمائندہ کی ہے۔ یہ خواب گویا یا پوری ملت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ تم دعوت اسلامی کا کام کرو ورنہ مسائل کا سانپ تم کو دوڑاتا رہے گا۔ وہ کبھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔
میں یہ بات بار بار لکھ چکا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو مسائل پیش آرہے ہیں وہ سادہ طور پر صرف مسائل نہیں ہیں۔ وہ خدا کی تنبیہہ (warning) ہیں۔ یہ مسائل مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر یاد دلا رہے ہیں کہ تم اگر تباہی سے بچنا چاہتے ہو تو اپنی دعوتی ذمہ داری کو پورا کرو۔ یہ حقیقت میں نے قرآن سے اخذ کی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے، اہل ایمان کے لئے عصمت من الناس کا راز تبلیغ ما انزل اللہ میں ہے (المائدہ ۶۷)
موجودہ زمانہ کے مسلمان نہایت جوش و خروش کے ساتھ ”تحفظ ختم نبوت“ کی تحریک چلاتے مگر اس قسم کی تحریکیں مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہیں۔ ختم نبوت کے تحفظ کی ذمہ داری تو خود اللہ نے لے رکھی ہے پھر مسلمان اس میں کیا رول ادا کر سکتے ہیں۔ اس قسم کی تحریک اتنا ہی بے معنی ہے جتنا کہ شمس و قمر کے تحفظ کی تحریک چلانا۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ذمہ داری ختم نبوت کا تحفظ نہیں ہے بلکہ ختم نبوت کی دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔ ختم نبوت کے بعد وہ مقام نبوت پر ہیں۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کا وہ کام کریں جو پہلے پیغمبر کے ذریعہ انجام پاتا تھا: لیکون الرسول شہیدا علیکم و تکونوا شہداء علی الناس (الحج ۷۸)
قرآن اور حدیث اور سیرت کا میں نے جو گہرا مطالعہ کیا ہے اس کی بنیاد پر میں پورے یقین
کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ امت محمدی صرف نماز روزہ کی ادائیگی سے خدا کے یہاں بری الذمہ نہیں حتیٰ کہ خود ساختہ نظریات کے تحت موجودہ زمانہ میں اسلامی جہاد اور اسلامی سیاست کے جو ہنگامے مسلم دنیا میں جاری ہیں وہ بھی ہرگز اس کی نجات کا ضامن نہیں بن سکتے۔ مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ اور اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ اس کو مسلسل انجام دیں۔ دعوتی فرض کی انجام دہی کے بغیر مسلمانوں کا امت محمدی ہونا ہی مشتبہ اور جب اصل حیثیت ہی مشتبہ ہو تو انعامات کس بنیاد پر دیے جائیں گے۔
ایک گفتگو کے دوران ایک نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دہلی میں ایک صاحب اکثر ہمارے دفتر میں آتے ہیں۔ وہ دیکھتے تھے کہ گرمیوں کے موسم میں میں اے۔ سی استعمال نہیں اب وہ سردی کے موسم میں ہمارے یہاں آئے تو انہوں نے دیکھا کہ میرے کمرے میں ہیٹر لگا انہوں نے کہا کہ آپ تو اے۔ سی استعمال نہیں کرتے۔ پھر آپ ہیٹر کیوں استعمال کرتے کیا یہ تضاد نہیں۔
میں نے کہا کہ میرے بھائی، آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق نہ کر سکے۔ سی آرام کے لیے ہوتا ہے اور ہیٹر ایک ضرورت کی چیز ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ گرمی کا موسم مجھے بیمار نہیں کرتا۔ سی لگانے سے جسمانی آرام تو ملتا ہے مگر اس کا تعلق بیماری سے نہیں۔ برعکس میرا بار بار کا تجربہ ہے کہ اگر مجھے سردی لگ جائے تو میں بیمار ہو جاتا ہوں۔ زکام، کھانسی، بخار کی وجہ سے ہفتوں کے لیے کام کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے سخت سردی میں میں ہیٹر کا استعمال کرتا ہوں۔ آپ آرام اور ضرورت میں فرق نہ کر سکے۔ اس لیے آپ کو یہ شبہہ لاحق ہوا۔ یہ حکمت (wisdom) کی بات ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنا میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے پڑھے لکھے لوگ عام طور پر اس حکمت سے بے بہرہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ باتوں کو واضح انداز میں سمجھ نہیں پاتے۔ وہ خود بھی کنفیوژن میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنے تحریر وتقریر کے ذریعہ دوسروں کو بھی کنفیوژن میں مبتلا کرتے ہیں۔
11 دسمبر کی صبح کو حبیب بھائی کے گھر سے ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ اُن کے گھر سے ایئرپورٹ بہت قریب ہے۔ ساتھیوں سے رخصت ہو کر ایئرپورٹ کے اندر داخل ہوا۔ حیدر آباد سے دہلی کے لیے واپسی دوبارہ انڈین ایرلائنز کی فلائٹ سے تھی۔ جہاز ٹھیک اپنے وقت پر حیدر آباد سے روانہ ہوا۔ حیدر آباد اور دہلی کے درمیان سفر کرتے ہوئے کچھ اخبارات دیکھے۔ انڈین ایکسپریس کے بمبئی ایڈیشن (11 دسمبر، ۲۰۰۲) میں صفحہ 6 پر ایک مضمون تھا۔ مضمون نگار کا نام مسٹر عندلیب اختر چھپا ہوا عنوان کے الفاظ یہ تھے :