IN TIMES OF STRIFE, REMEMBER IQBAL
Al-Risala, March 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی نزاع کے وقت اقبال کو یاد کرو۔ مضمون میں کہا گیا تھا کہ اجودھیا میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی کی جو نزاع ہے اُس کا حل اقبال کے کلام میں موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے مضمون میں اقبال کی ایک نظم (نیا شوالہ) کے حسب ذیل اشعار نقل کیے گئے تھے :
سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے تیرے صنم کدوں کے بُت ہو گئے پرانے اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھا جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے شکتی بھی، شانتی بھی بھکتوں کی گیت میں ہے دھرتی کے واسیوں کی مکتی پریت میں ہے اس مضمون سے یہ واضح نہ ہو سکا کہ اجودھیا کے نزاعی مسئلہ کا حل اقبال کے مذکورہ شعروں میں کس طرح ہے۔ مضمون نگار کے عقیدت مندہ ذہن میں تو یہ حل ضرور موجود ہو گا مگر چھپے ہوئے اشعار کے اندر یقینی طور پر اس کا حل موجود نہیں۔ مزید انوکھی بات یہ ہے کہ اقبال نے برصغیر ہند کی مذہبی تقسیم کا فارمولہ پیش کر کے خود ہی موجودہ نزاعات کی بنیاد رکھ دی۔ اس کے باوجود اُن کے عقیدت مندان اُن کے کلام میں برعکس طور پر اس مسئلہ کا حل دریافت کر رہے ہیں۔
انگریزی میگزین انڈیا ٹوڈے (۲ دسمبر ۲۰۰۲) دیکھا۔ اُس کے صفحہ ۶۶۔ ۶۷ پر برطانی جرنلسٹ سر مارک ٹلی (Mark Tully) کی تازہ کتاب پر تبصرہ شائع ہوا تھا۔ ۳۰۲ صفحہ کی یہ کتاب
پنگوئن بکس نے چھاپی ہے۔ کتاب کا نام یہ ہے:
INDIA IN SLOW MOTION (2002)
اس کتاب میں انٹروڈکشن کے علاوہ گیارہ ابواب ہیں۔ اس کا پہلا باب رام کی نئی دریافت کے بارے میں ہے اور آخری باب کا عنوان ہے، گم شدہ جنت (Paradise Lost) ۔ کتاب کا ایک باب صوفیوں اور اُن کے عقائد کے بارے میں ہے۔ اس باب کا عنوان یہ ہے: The Sufies and a Plain Faith اس کتاب کی ترتیب کے دوران سر مارک ٹلی نے راقم الحروف کا دو بار انٹرویو لیا تھا۔ کے مذکورہ باب میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ میرے خیالات کا ذکر کیا ہے جو کتاب کے صفحہ ۱۵۶ سے لے کر ۱۶۱ تک موجود ہے۔
سر مارک ٹلی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اُن کو یہ خیال ہوا کہ وہ اپنی کتاب میں اسلامی تصوف (Sufi Faith) پر ایک باب شامل کریں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے سب سے پہلے یہ کوشش کی کہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں جا کر موضوع کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ مگر وہ لوگ اس سلسلہ میں انتہائی حد تک غیر معاون (unhelpful) ثابت ہوئے۔ حتیٰ کہ انہوں نے یہ بتانے سے بھی انکار کر دیا کہ دوسرا کون مسلمان اس معاملہ میں ان کے لئے مددگار ہو سکتا ہے۔ سر مارک ٹلی نے لکھا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کوشش کیجئے تا کہ تبلیغ کا کوئی آدمی مل جائے جس سے میں تبلیغ کے بارے میں معلومات لے سکوں۔ ان کے کہنے پر میں نے کوشش کی لیکن مجھے کامیابی نہ ہوسکی۔ میں نے ان کو ٹیلی فون کیا اور اس سلسلہ میں معذوری ظاہر کی ۔ کی رپورٹ سر مارک ٹلی نے ان الفاظ میں لکھی ہے:
(Maulana) agreed but a few days later rang me back to confess failure. ‘These people are not living in this century’, he said. ‘They don't know what the media is.’ (p. 161)
اس کے بعد وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے صوفی ازم پر تفصیلی انٹرویو لیا۔
میں انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کے چند جملے یہ ہیں :
Maulana Wahiduddin Khan proved far more approachable. When we rang him he willingly agreed to see us both, and there was no question of Gilly (wife) not being welcome. (P. 156)
موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین نے تقریباً مشترک طور پر یہ غلطی کی ہے کہ انہوں نے عوام کو اپنی کوششوں کا نشانہ بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی نمائندگی صرف عوام کی سطح پر جہاں تک خواص کا تعلق ہے، وہ اسلام سے تقریباً بے بہرہ ہو کر رہ گئے۔ میں اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے خواص (تعلیم یافتہ طبقہ) میں اسلام کا پیغام انتہائی حد تک قابل قبول بن چکا ہے بشرطیکہ اس طبقہ کے سامنے اسلام کو اُس کی قابل فہم زبان میں پیش کیا جائے۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین لسانِ قوم میں بولنے کی صلاحیت اس معاملہ میں اُن کی بے خبری کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اکبر الہ آبادی جیسے ایک شاعر کو لسان العصر کا خطاب دے دیا۔ حالاں کہ اکبر الہ آبادی نہ تو عصر کو جانتے تھے اور نہ اُن کی زبان لسان العصر کا مصداق تھی۔
اس سلسلہ میں ایک سبق آموز ذاتی تجربہ یہ ہے کہ میں نے انگریزی اخبار کے لیے ایک مضمون یہ مضمون واضح طور پر موجودہ زمانہ کے ہندو گروؤں اور سوامیوں کے خلاف تھا۔ اس مضمون کا عنوان یہ تھا : The Role of Spirituality in De-stressing the Human Mind آج کل ہندو سوامی اور ہندو گرو ملک میں اور ساری دنیا میں بہت بڑے بڑے آشرم چلا رہے ہیں۔ یہاں میڈیٹیشن کے مخصوص تکنیک کے ذریعہ لوگوں کے ذہنی تناؤ کو دور کیا جاتا ہے۔ میرا مضمون اس کے سراسر خلاف تھا۔ انگریزی اخبار کے دفتر میں جب میرا مضمون پہنچا تو وہاں کے ذمہ داروں کے درمیان اس پر ایک ہندو صحافی نے کہا کہ یہ مضمون تو ہماری بنیاد کو ڈھا رہا ہے۔ دوسرے ہندو صحافیوں نے جواب دیا کہ ہمیں اس سے بحث نہیں۔ یہ مضمون سائنسی اور منطقی دلائل سے بھر پور ہے۔ اس لیے ہم اُس کو اپنے اخبار میں چھاپیں گے۔ چنانچہ یہ مضمون بعینہ دہلی کے مشہور انگریزی اخبار میں شائع ہوا۔
میرا یہ مضمون نئی دہلی کے مشہور انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کے انٹرنیٹ ایڈیشن میں موجود کوئی بھی شخص اپنے کمپیوٹر پر ڈاؤن لوڈ کرکے ہندوستان ٹائمز کے شمارہ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۲ میں اُس کو دیکھ سکتا ہے۔ اس اخبار کا انٹرنیٹ نمبر یہ ہے: www.hindustantimes.com دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد نو بجے میں دہلی پہنچ گیا۔ حیدر آباد میں موسم بالکل معتدل تھا جب کہ دہلی میں عین اُسی دن سردی کا موسم تھا۔ زمین کے اوپر موسم کا یہ فرق زمین کے مخصوص جھکاؤ (tilt) سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ جھکاؤ ایک انتہائی غیر معمولی اور استثنائی قسم کا شعوری واقعہ ہے اور شعوری واقعہ صاحب شعور کے وجود کا ایک زندہ ثبوت ہے۔
واپسی کے بعد مجھے ایک خط ملا۔ یہ خط یہاں نقل کیا جاتا ہے:
” ۵ دسمبر ۲۰۰۲ کا روز نامہ انقلاب نظر سے گذرا اس میں ایک خط شائع ہوا تھا جس میں مکتوب نگار نے گجرات اسمبلی الیکشن اور الیکشن کمیشن کے متعلق ایک خط لکھا تھا جس کا ایک حصہ یہ ہے: ’اور اب ’بی جے پی‘ کو دنیا کی پروا بھی نہیں۔ تمام اخلاق و آداب اور آئین اور دستور کو بالائے طاق رکھ دئے گئے ہیں اور کھلم کھلا زہر افشانی کی جارہی ہے۔ سابق جج حضرات کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ بھی شائع ہوگئی مگر سنگھ پر یوار ہے کہ اس کے سامنے اس کی بھی کوئی وقعت نہیں، لیکن اس عُسر میں الیکشن کمیشن کی صورت میں یُسر نظر آرہا ہے کہ الیکشن پروپیگنڈے کے نام پر ’زہر افشانی ’لنگڈ وہ کی عقابی نگاہ سے بچ نہ سکے گی‘۔ آپ کی ہی دی ہوئی ہے اور اب ہماری اُمّت کا ہر لکھنے والا اور بولنے والا اسی طرح کی باتیں لکھنے اور بولنے لگا ہے۔ اسی اخبار میں ایک دوسری سُرخی ان الفاظ میں تھی ” ۶ دسمبر کو مشتعل نہ اوّل روز سے آپ اسی صبر و اعراض اور مشتعل نہ ہونے کی تعلیم دے رہے ہیں۔ کو بعد از خرابیٔ بسیار قوم کا ہر دُانش ور اُمّت کو اختیار کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ پوری اُمّت الرسالہ کے نقطۂ نظر سے اتفاق کرنے لگی ہے۔ اب وہ حالت بھی نہیں جب بابری مسجد کے انہدام کے بعد بعض پڑھے لکھے لوگوں کی مجلس میں میں نے دیکھی تھی کہ اپنے آپ کو
’دانشور یا ڈینٹلیکچول‘ ثابت کرنے کے لئے مولانا وحید الدین خاں صاحب پر تنقید کی جائے۔ یعنی اب مخالفت کی بنیاد ہی ختم ہوگئی اور ہر ایک نے اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان الرسالہ کی پالیسی سے اتفاق کر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی فکر سے متاثر جملے اکثر سننے یا پڑھنے میں آرہے جب ساری امت آپ کی پالیسی سے متفق ہوچکی ہے، پھر یہ بے بنیاد مخالفت دسمبر کا الرسالہ پڑھ کر ایک وجہ جو میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری قوم اکابر پرستی کا شکار ہے اور آپ اکابر شکنی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ مولانا مودودی کے بارے میں آپ نے جو کچھ لکھا وہ بالکل برحق ہے۔ آپ نے مولانا مودودی کی ذات پر کچھ نہیں لکھا۔ بھی تنقید کی وہ اُن کے معلوم افکار پر کی۔ جو کہ اسلام میں عین جائز بات ہے۔ لیکن یہ جائز چیز بھی ہمارے عوام ہی نہیں بلکہ خواص کی نظروں میں بھی ’شجر ممنوعہ‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کا دو ٹوک بات کرنے کا انداز کچھ لوگوں کو بہت گراں گزرتا ہے۔ مثلاً آپ نے لکھا ہے: ”میرے نزدیک موجودہ زمانہ کی مسلم شخصیتوں میں سے کوئی بھی شخصیت (بشمول مولانا مودودی) ان شرائط پر پوری نہیں اترتی۔ اس لئے ان میں سے کوئی بھی مفکر کہے جانے کا مستحق نہیں۔ (الرسالہ، دسمبر ٢٠٠٢)۔ یہاں مجھے مرحوم محی الدین صدیقی ایم۔ اے یاد آتے ہیں۔ جناح کے زبردست پرستار ہونے کے باوجود آپ کی کسی تنقید پر برانہیں مانتے تھے، بلکہ آپ کی تعریف کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا نے جناح کے ذاتی کردار کے قابل اعتراض پہلو پر کبھی نہیں لکھا، نہ ہی اُن کی شراب نوشی کا ذکر کیا، نہ ہی خنزیر خوری کا تذکرہ بہت پہلے کی بات ہے جب الرسالہ لوگوں میں اپنی پہچان بنا رہا تھا۔ میں مرحوم حامد الانصاری غازی نے آپ کے بارے میں کہا تھا: ”بہت خوب! اچھے جارہے ہیں۔ (فاروق فیصل، بمبئی)