Just 16 minutes from home.....
Al-Risala, April 2003, p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے اس خبر کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ یہی اس دنیا میں ہر انسان کا آخری انجام ہے۔ انسان اپنا ایک خوابوں کا گھر (dream home) بناتا ہے جس میں وہ پر مسرت زندگی گزارنا چاہتا لیکن ابھی وہ اس گھر سے صرف ۱۶ منٹ دور ہوتا ہے کہ اچانک اس کی موت آجاتی ہے۔ بنائے ہوئے دنیوی گھر میں داخلہ کے بجائے آخرت کی عدالت میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس خلائی شٹل میں ایک ہندستانی نژاد خاتون کلپنا چاولہ (۴۱ سال) بھی تھیں جو کرنال میں پیدا ہوئیں۔ سارا ہندوستان ان کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا۔ ان کے دوست اور رشتہ دار سفر کر کے امریکہ پہنچ چکے تھے تاکہ اسپیس شٹل کے اترنے کے بعد وہ کلپنا چاولہ کو براہ راست مبارکباد دے سکیں۔ کلپنا چاولہ اگر حفاظت کے ساتھ واپس آگئی ہوتیں تو ان کا ہیروانہ استقبال ہوتا۔ مگر موت نے درمیان میں حائل ہو کر ایک کامیڈی کو ایک ٹریجڈی میں تبدیل کر دیا۔
یہ واقعہ کلپنا چاولہ کے لئے ایک ذاتی تجربہ تھا اور دوسروں کے لئے وہ ایک سبق۔ اس واقعہ کو جاننے والا وہی ہے جو اس کے اندر خود اپنی تصویر دیکھ لے، جو اس کے اندر اپنی ذات کے لئے سبق حاصل کرلے۔