Al-Risala · April 2003

گمراہ نہ ہونا

Al-Risala, April 2003, pp. 3–4

By Maulana Wahiduddin Khan

امت محمدی کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : ان امتی لا تجتمع علی ضلالة (ابن ماجہ ، کتاب الفتن) یعنی بے شک میری امت کبھی کسی گمراہی پر جمع نہ ہوگی ۔ کا مطلب عام طور پر یہ لیا جاتا ہے کہ پوری کی پوری امت ہمیشہ ہدایت پر رہے گی ۔ وہ کبھی ضلالت پر جمع نہ حالاں کہ حدیث کا یہ مطلب نہیں ۔ حدیث کا مطلب صرف یہ ہے کہ امت محمدی پر ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا کہ دوسری امتوں کی طرح ، ساری امت ضلالت پر مجتمع ہو جائے ۔ بلکہ ہمیشہ ایسا ہوگا کہ ضلالت عام کے باوجود کچھ لوگ ضلالت سے بچے رہیں گے اور لوگوں کو ہدایت کا راستہ دکھاتے رہیں گے ۔ میں ایک تاریخی حقیقت کو بتایا گیا ہے ، نہ کہ دوسری امتوں کے مقابلہ میں امت محمدی کی فضیلت کو۔ اصل یہ ہے کہ یہ کوئی فضیلت کا معاملہ نہیں ۔ بلکہ وہ ایک سادہ فطری حقیقت کا بیان ہے۔ امتوں میں عمومی بگاڑ کا سبب یہ تھا کہ ان کا آسمانی متن محفوظ نہ رہا۔ اس بنا پر ان کے یہاں صحیح اور غلط کو جانچنے کا کوئی معیار باقی نہ تھا۔ یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ رہا کہ خدا کی مستند ہدایت کیا ہے۔ چیز غلط ہے تو کیوں غلط ہے ۔ کتاب ہدایت کے غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے ان کی حالت اندھیرے میں بھٹکے ہوئے مسافر کی ہوگئی ۔ مگر امت محمدی اس نوعیت کے بگاڑ سے محفوظ ہے۔ پچھلی امتوں میں کتاب ہدایت کے گم یا غیر محفوظ ہونے کی بنا پر بعد کے زمانہ میں دین کو معلوم کرنے کا ذریعہ لوگوں کا عمل یا لوگوں کی اپنی تشریحات ہی باقی رہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ صحیح اور غلط کو پرکھنے کی جو آسمانی یا خدائی کسوٹی ہے وہی موجود نہ رہی ۔ مستند ہدایت کے گم ہونے کی وجہ سے لوگ ہدایت سے دور ہو گئے۔ مگر امت محمدی میں چونکہ کتاب ہدایت اصل حالت میں موجود ہے ، اس لئے حق کے طالب اس سے ہدایت معلوم کرتے رہیں گے ۔ اور لوگ کبھی عمومی گمراہی میں مبتلا نہ ہوں گے ۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے ۔

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من قال لا اله الا الله دخل الجنة ۔

اس حدیث کے الفاظ کو لے کر کچھ لوگوں نے یہ مسئلہ بنایا کہ کلمہ گو کے لئے جنت ہے۔ یعنی کلمہ کے الفاظ میں کچھ ایسی پراسرار فضیلت موجود ہے کہ زبان سے اس کا تلفظ کر لینا ہی جنت میں داخلہ کے لئے کافی ہو جائے گا۔ یہ تشریح درایت کے نقطۂ نظر سے بظاہر قابل فہم معلوم نہیں ہوتی۔ کیوں کہ جنت جیسی قیمتی چیز کسی آدمی کو حقیقی عمل کی بنیاد پر ملنی چاہئے، نہ کہ محض کچھ الفاظ کی لسانی ادائیگی سے۔ اب اگر قرآن خدا نخواستہ محفوظ حالت میں نہ ہو تو ہمارے پاس وہ مستند معیار (criterion) ہی موجود نہ ہوگا جس پر جانچ کر اس کے صحیح یا غلط ہونے کو معلوم کیا جاسکے۔

اب اگر اس نظریہ کو قرآن کے معیار پر جانچا جائے تو قرآن میں ہمیں اس کا واضح جواب مل جاتا اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے سورہ المائدہ ۸۳۔ ۸۵ کا مطالعہ کیجئے۔ قرآن کی اس آیت میں بھی وہی بات کہی گئی ہے جو مذکورہ حدیث میں ہے، یعنی قول پر جنت کا انعام (فاثابهم الله بما قالوا جنت) مگر اسی کے ساتھ قرآن کی اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قول سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد قول معرفت ہے، نہ کہ مجرد قول لسانی۔ اس سے مراد معرفت حق ہے (مما عرفوا من الحق)۔ یہ بشارت اس انسان کے لئے ہے جس کو سچائی کا گہرا عرفان حاصل ہو۔ یہ عرفان اتنا گہرا تھا کہ اس کے اثر سے اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ اس نے سچائی کا اعتراف کرتے ہوئے ایک زندگی کو چھوڑ اور دوسری زندگی کو اختیار کیا۔ کلمہ کی گواہی اس کی اندرونی شخصیت میں ایک مکمل انقلاب کا اظہار تھی۔ اس بات کا اعلان تھی کہ کلمہ کی دریافت نے اس کو ایک نیا انسان بنا دیا ہے۔ نیت اور قول اور عمل، ہر اعتبار سے اب وہ ایک بدلا ہوا انسان ہے، نہ کہ وہ انسان جو کلمہ کے اقرار سے پہلے تھا۔ قرآن اگر خدا نخواستہ محفوظ حالت میں نہ ہو تو ’’کلمہ گو‘‘ کے نظریہ کی صحت اور غلطی کو معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہ ہوگا۔ جب کہ قرآن کے محفوظ ہونے کی بنا پر ہم اس حیثیت میں ہیں کہ اس نظریہ کی صحت و غلطی کو مستند طور پر جان سکیں۔ یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ پچھلی امتیں مجموعی طور پر گمراہی کا شکار ہو گئیں۔ جب کہ امت مسلمہ کے لیے محفوظ کتاب الہی اس بات کی ضامن ہے کہ وہ کبھی بھی عمومی گمراہی کا شکار نہ ہو سکے۔

Printed page