Al-Risala · April 2003

ایمان کی شاخیں

Al-Risala, April 2003, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

عن ابی ہریرة ، قال قال رسول الٰہ صلی الله عليه وسلم: الایمان بضع وسبعون شعبة. فافضلھا قول لا الله الا الله و ادناھا اماطة الاذى عن الطريق والحياء شعبة من الایمان (متفق علیہ)۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے اعلیٰ لا الہ الا اللہ کہنا ہے۔ اور اس کا ادنیٰ درجہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔

اس حدیث کو کچھ لوگوں نے حسابی معنیٰ میں لے لیا اور گنتی کے لحاظ سے اس کی تشریح کرنے لگے۔ مثلاً ابو عبد اللہ حلیمی (م ۴۰۳ھ) جو بخارا میں شوافع کے امام تھے، انہوں نے المنهاج فی شعب الایمان کے نام سے ایک مفصل کتاب اس حدیث کی تشریح میں لکھی ہے۔ انہوں نے ایمان کے ۷۷ شعبہ شمار کئے ہیں اور اسی نسبت سے کتاب میں ۷۷ باب قائم کئے ہیں۔ اسی طرح حافظ ابو بکر البہیقی (م ۳۵۸ھ) کی کتاب اس موضوع پر بہت مشہور ہے جس کا نام الجامع المصنف فی شعب الایمان ہے ۔ حجر نے قلبی اعمال ، لسانی اعمال اور بدنی اعمال کی تقسیم کر کے اس کی ۶۹ شاخیں شمار کی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس حدیث کی شماریاتی تشریح درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ایک بڑے درخت کی شاخوں کی گنتی نہیں کی جاسکتی، اسی طرح ایمان کی شاخوں کی بھی کوئی گنتی نہیں۔ آغاز اللہ کی معرفت سے ہوتا ہے۔ جب ایک انسان پر اللہ رب العالمین کی حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے تو گویا اس کی روحانی زمین میں ایک ربانی بیج بود یا جاتا ہے۔ یہ بیج بڑھتا ہے، وہ شاخیں نکالتا آدمی کی سوچ سے لے کر اس کے قول وفعل تک ہر چیز میں اس کا رنگ شامل ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں ایمان کی شاخوں سے مراد ایمان کے مظاہر ایمان جب کسی آدمی کے قلب و دماغ میں شامل ہو جاتا ہے تو اس کی ہر ادا میں اس کا ظہور ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان گنت حد تک پہنچ جاتا ہے۔

خدا کا تجربہ صحیح مسلم میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے اس کا حصہ یہ ہے:

ان الله عز و جل يقول يوم القيمة يابن آدم مرضت فلم تعدنی قال یا رب كيف اعودك وانت رب العلمين قال ما علمت انّ عبدی فلانا مرض فلم تعده اما علمت انك لو عدته لوجدتنی عنده (صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والادب، باب فضل عيادة المريض ۱۲۶/۱۶) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کہے گا اے ابن آدم، میں بیمار ہوا مگر تم نے میری عیادت نہ کی۔ بندہ کہے گا کہ اے میرے رب، میں کس طرح تیری عیادت کرتا جب کہ تو سارے عالم کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ کہے گا، کیا تم نے نہیں جانا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا مگر تم نے اس کی عیادت نہ کی۔ کیا تم نے نہیں جانا کہ تم اگر اس کی عیادت کرتے تو یقیناً تم مجھ کو اس کے پاس پاتے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی آدمی خالص رضائے الہی کے لئے ایک کام کرتا ہے تو کام کے درمیان اس پر ایسی کیفیات گزرتی ہیں جب کہ وہ لقاء رب کا تجربہ کرتا ہے۔ اس کا یہ حال ہوتا ہے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔

مریض کی ایک عیادت وہ ہے جس میں رضام الہی کا جذبہ شامل نہ ہو۔ جس کو آدمی نمائش کے لئے یا کسی فائدہ کے لئے کرے ۔ ایسی عیادت صرف دنیوی مقصد کے لیے ہوتی ہے۔ وہ آدمی کے اندر ربانی کیفیات پیدا نہیں کرتی ۔ دوسری عیادت وہ ہے جب کہ خدا کا ایک بندہ کسی انسان کی بیماری کو سن کر تڑپ اٹھتا ہے۔ اس کو خدا کا یہ حکم یاد آتا ہے کہ تم دوسرے انسانوں پر رحم کرو میں قیامت کے دن تمہارے اوپر رحم کروں گا۔ وہ خالص رضائے الہی کے جذبہ کے تحت مریض کی طرف روانہ ہوتا ہے اور مریض کے حق میں دعائیں کرتا ہوا اس کے پاس پہنچتا ہے۔

بندۂ مومن خدا کا تجربہ دنیا میں بھی کرتا ہے اور آخرت میں بھی۔ فرق یہ ہے کہ دنیا میں یہ تجربہ بالواسطہ انداز میں ہوتا ہے اور آخرت میں وہ زیادہ مکمل صورت میں براہ راست انداز میں ہوگا۔

Printed page