سوال و جواب
Al-Risala, April 2003, pp. 20–32
By Maulana Wahiduddin Khan
عام طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اسلام نے جس طرح سود کو منسوخ کیا اسی طرح اسلام نے غلامی کو کیوں منسوخ نہیں کیا۔ انسان کو غلام بنانا اور انسان کی خرید و فروخت کرنا پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانہ میں جاری تھا۔ مگر قرآن وحدیث میں کوئی ایسا صریح حکم نہیں ملتا جس میں یہ اعلان کیا گیا ہو کہ انسان کو غلام بنانا جائز نہیں۔ خطبہ حجۃ الوداع میں، وقت کی دوسری سماجی برائیوں کی طرح، یہ اعلان نہیں کیا گیا کہ آج سے غلامی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ (ساجد خاں، میرٹھ) اس معاملہ میں سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ غلامی ہے۔ غلامی دراصل زرعی دور (agricultural period) کے ایک ناگزیر تقاضے کے طور پر پیدا ہوئی۔ زرعی دور میں زمین معاش کا واحد ذریعہ تھی، اور زمین صرف چند لوگوں کے پاس ہوا کرتی تھی۔ خرید و فروخت کی چیزیں بھی اُس زمانہ میں بہت کم تھیں۔ اس بنا پر سماج کے وہ لوگ جن کے پاس زمین نہ ہو، مجبور تھے کہ مزدوری کر کے اپنا رزق حاصل کریں۔ تاہم یہ بھی عملاً ناکافی تھا اس لیے اُس زمانہ میں محدود معاشی ذرائع کی تلافی اس طرح کی گئی کہ انسان بھی تجارت کا ایک مال بن گیا۔
جب یہ حالات پیدا ہو گئے تو غلامی کے ادارے کے خاتمہ کا اچانک اعلان مسئلہ کا حل نہ تھا، بلکہ ایسے اعلان کا مطلب یہ تھا کہ ایک نیا سماجی مسئلہ پیدا ہو جائے۔ اس قسم کے اعلان کا نتیجہ صرف یہ ہوتا کہ بہت سے لوگ بے روزگار ہو جاتے اور عملاً غلامی سے بھی زیادہ بدتر حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے۔
اس بنا پر اسلام نے غلامی کے خاتمہ کی ابتدا کرتے ہوئے اس برائی کے کلی خاتمہ کے لیے تدریج کا طریقہ اختیار کیا۔ اس تدریجی طریقہ میں دوسری باتوں کے علاوہ اہم ترین بات یہ تھی کہ اُس دور کو بدل دیا جائے جس میں غلامی جیسے مجبورانہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ معاملہ کے اس پہلو کو میں نے اپنی کتاب ’’اسلام دور جدید کا خالق‘‘ میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔
دورِ اول کے اسلامی انقلاب نے ایسے حالات پیدا کیے جو آخر کار صنعتی انقلاب کا سبب بنے۔ یعنی انسانی تاریخ زرعی دور سے نکل کر موجودہ صنعتی دور میں پہنچ گئی۔ صنعتی دور میں یہ ہوا کہ زمین پر مبنی معاشی ذرائع کی محدودیت ختم ہو گئی ۔ اب معاشی حصول کے ان گنت نئے ذرائع پیدا ہو گئے ۔ زرعی دور میں اگر معاش کا صرف ایک ذریعہ پایا جاتا تھا تو اب معاش کے لاکھوں نئے ذرائع پیدا ہو گئے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ خود حالات کے زور پر غلامی کا خاتمہ ہو گیا۔ اب ایک طرف تاجروں کو نئی نئی زیادہ نفع بخش چیزیں حاصل ہوگئیں جن کی تجارت کر کے وہ اور زیادہ بڑے منافع حاصل کر سکیں۔ دوسری طرف عام انسان کے لیے بھی اپنی معاش کمانے کے لیے اس کی ضرورت نہ رہی کہ وہ کسی زرعی آقا کی غلامی قبول کرے تا کہ وہ اپنی ضروری معاش حاصل کر سکے۔ بلکہ اُس کے سامنے ان گنت نئے ذرائع معاش کھل گئے جن میں محنت کر کے وہ اپنے لیے با عزت روٹی حاصل کر سکے۔ یہ بلاشبہ اسلامی انقلاب کے نتائج میں سے ایک نتیجہ تھا کہ دنیا سے زرعی دور کا خاتمہ ہوا اور صنعتی دور آیا۔ زرعی دور میں معاشی ذرائع بہت محدود تھے مگر صنعتی دور میں معاشی ذرائع غیر محدود حد تک بڑھ گئے ۔ اس تبدیلی کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ غلام بننے اور غلام بنانے کے حالات عملاً ختم ہو گئے ۔ یہاں تک کہ غلامی کے ادارہ نے اس تبدیلی کے بعد اپنا جواز کھو دیا۔ کہا جاتا ہے کہ غلامی کا خاتمہ انیسویں صدی کے آخر میں امریکہ کے قانون انسدادِ غلامی نے کیا۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ امریکہ کے قانون نے غلامی کو ختم نہیں کیا، غلامی تو اپنے آپ ختم ہو چکی تھی ۔ اس قانون نے صرف یہ کیا کہ اُس نے ایک ختم شدہ واقعہ کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔
اقلیتی کمیشن کی طرف سے نئی دہلی میں جولائی ۲۰۰۲ میں ایک ہندو۔ مسلم سیمینار ہوا تھا۔ میں آپ بھی مسلمانوں کی جانب سے شریک ہوئے ۔ اس سلسلہ میں آپ کے بارے میں مسلم اُردو پریس میں کچھ عجیب باتیں شائع ہوئی ہیں۔ مثلاً دہلی کے ماہنامہ افکار ملی (اگست ۲۰۰۲) میں آپ کی نسبت سے یہ الفاظ چھپے ہیں: ”جن دو قابلِ ذکر شخصیات نے ان مذاکرات میں حصہ لیا ان میں سے
ایک مولانا وحید الدین خاں صاحب ہیں۔ خان صاحب کے خیالات سے مسلمان اچھی طرح واقف اُن کے نزدیک ہر مسئلہ مسلمانوں کا اپنا ہی پیدا کردہ ہے، سنگھ پریوار کے لوگ تو معصوم عن الخطاء ہیں، یہ مسلمان ہی ہیں جو ملک میں انتشار اور بد امنی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ، مسلمان ہندوؤں کو بالفاظ دیگر سنگھ پریوار کے افراد کو اپنا بڑا بھائی سمجھ کر بابری مسجد اور دیگر متنازعہ امور کے تعلق سے اپنی ضد وہٹ دھر می چھوڑ دیں۔ ایسا کر کے ہی مسلمان اس ملک میں "عزت" کی زندگی گزار سکتے ہیں‘۔ (صفحه ۶-۷) برائے کرم اس معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (ڈاکٹر ایس اے صدیقی، نئی دہلی) کوئی مسئلہ آدمی کو پیش آتا ہے، وہ آدمی کا خود اپنا پیدا کیا ہوا ہوتا ہے، یہ راقم الحروف کی بات نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ کی بات ہے۔ قرآن میں اس سلسلہ کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: وما اصابکم من مصيبة فبما كسبت ايديکم (الشوریٰ ۳۰)۔ اس آیت کا ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی نے اس طرح کیا ہے: اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے پہنچتی ہے۔
مفسر القرطبی نے اس آیت کی تشریح میں ایک حدیث نقل کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: یا علی ما أصابكم من مرض او عقوبة او بلاء فى الدنيا فبما كسبت ايديكم (الجامع لأحكام القرآن، الجزء ۱۶، صفحه ۳۰)۔ یعنی اے علی، جو مصیبت بھی تم پر آتی ہے، خواہ وہ بیماری ہو یا عقوبت ہو یا کوئی دنیوی مصیبت ہو تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
قرآن وحدیث کی اس تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی اہل ایمان کے ساتھ کوئی مسئلہ پیش آئے تو اس کے بعد اُن کے اندر احتسابِ خویش کا جذبہ اُبھرنا چاہئے، نہ کہ احتسابِ غیر کا۔ شریعت کے مطابق ، یہی مسئلہ کا حل ہے۔
مذکورہ عبارت میں راقم الحروف کے نقطہ نظر کو بگاڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ ہم نے اپنے
نقطۂ نظر کو بار بار الرسالہ میں واضح کیا ہے۔ وہ یہ کہ اسلامی تعلیم کے مطابق، مسلمان کی حیثیت داعی کی ہے اور غیر مسلم کی حیثیت مدعو کی۔ اس رشتہ کا تقاضا ہے کہ مسلمان یک طرفہ صبر و تحمل کے ذریعہ دونوں گروہوں کے درمیان معتدل فضا قائم کریں تا کہ دعوت کا عمل موافق فضا میں جاری ہو سکے۔ اُصول قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ مثلاً قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں: ولنصبرن علی ما آذیتمونا (ابراہیم ۱۲) یعنی ہم ضرور صبر کریں گے تمہاری ایذاؤں پر۔ افکار ملی نے میری طرف یہ قول منسوب کیا ہے کہ’’یہ مسلمان ہی ہیں جو ملک میں انتشار اور بد امنی پیدا کرتے ہیں۔ ‘‘ یہ بات بلا شبہ خلاف واقعہ ہے۔ وہ لغویت کی حد تک بے بنیاد ہے۔ میں نے ایسا کبھی نہیں کہا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ میری زبان ہی نہیں۔ افکار ملی کے مضمون نگار کے اندر اگر ادبی شعور ہوتا تو وہ اس جملہ کی ساخت ہی کو دیکھ کر کہہ دیتے کہ یہ صاحب الرسالہ کی زبان ہی نہیں۔ طرح کی زبان میں وہ کبھی کلام نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ ماہنامہ نے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں میرا کوئی اقتباس پیش نہیں کیا۔
یہاں ایک واقعہ قابلِ ذکر ہے۔ ہندوستان میں برٹش حکومت کے زمانہ میں ایک بار وائسرائے کی مشاورتی کونسل میں ایک انگریزی خط پیش کیا گیا۔ اس خط کے لکھنے والے مشہور مسلم لیڈر محمد علی جوہر یہ خط امیرِ کابل کے نام لکھا گیا تھا۔ خط کے مضمون کے مطابق، محمد علی جوہر نے امیرِ کابل کو لکھا تھا کہ تم اپنی فوج کو لے کر ہندوستان پر حملہ کر دو، اندر سے ہم بغاوت کر دیں گے۔ اس دو طرفہ دباؤ کے نتیجہ میں انگریز ہندوستان کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے اور ہندوستان آزاد ہو جائے گا۔ یہ خط وائسرائے ہند کی جس کونسل میں برائے غور پیش کیا گیا اُس کا ایک ممبر مشہور ’’ظالم‘‘ جنرل ڈائر تھا۔ جنرل ڈائر نے مذکورہ بظاہر غدارانہ خط کو پڑھا تو اس نے صرف اسلوب تحریر کی بنیاد پر یہ کہہ کر اُس کو رد کر دیا کہ یہ محمد علی کی زبان ہی نہیں۔
میرے مخالفین اکثر اس طرح کی باتیں میری طرف منسوب کرتے ہیں جو اپنے اسلوب کے اعتبار سے بالکل غیر معیاری ہوتی ہیں۔ میرا ایک معروف اسلوب تحریر ہے۔ ان مخالفین کے اندر اگر
جنرل ڈائر کے بقد ر بھی علمی اور ادبی ذوق ہوتا تو وہ ان عبارتوں کو دیکھ کر فورا ہی اُسے رد کر دیتے اور کہتے کہ یہ تو صاحب الرسالہ کی زبان ہی نہیں۔
ہمارے یہاں ایک صاحب پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ میں نے مولانا وحید الدین کو ٹی وی میں ایک شخص نے اُن سے ایک سوال کیا تو وہ ہنس پڑے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہنسنا ایک غیر سنجیدہ آپ ایک دینی مشن چلا رہے ہیں اور دینی مشن ایک سنجیدہ مشن ہوتا ہے، اس لحاظ سے ہنسنا آپ کے شایان شان نہیں۔ (ایک قاری الرسالہ، سہارنپور)
مجھے یاد نہیں کہ میں کب اور کس موقع پر کسی کے سوال پر ہنس پڑا تھا۔ تاہم اگر کسی اُلٹے سوال پر مجھے ہنسی آ گئی ہو تو یہ کوئی غلط یا نا جائز بات نہیں۔ خواہ مخواہ قہقہہ لگانا بلا شبہ ایک غیر سنجیدہ حرکت ہے اور اللہ کے فضل سے مجھے اس قسم کی عادت نہیں۔ البتہ بعض اوقات کوئی شخص ایسا غیر متعلق سوال کر سکتا ہے جس پر ایک سنجیدہ آدمی کو بھی ہنسی آ جائے۔
قرآن وحدیث سے یہ بات ثابت ہے۔ قرآن میں آیا ہے کہ ایک موقع پر حضرت سلیمان کو ہنسی آگئی۔ حضرت سلیمان کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فتبسم ضاحكاً من قولها (النمل ۱۹) یعنی سلیمان اُس کی بات سے مسکرا کر ہنس پڑے۔ اسی طرح حدیث کی کتابوں میں بہت سے ایسے واقعات کا ذکر ہے جب کہ رسول اللہ ﷺ کو کسی بات پر ہنسی آگئی۔ مثلاً بخاری میں ایک صحابی کا واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ راوی بتاتے ہیں کہ صحابی کی بات سُن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے دانت ظاہر ہو گئے۔ فضحك النبى صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذہ(فتح (فتح الباری، جلد ۱۱، صفحه ۶۰۴) اگست ۲۰۰۲ کا الرسالہ نظر سے گزرا۔ احادیث کو جب آپ عربی میں درج کرتے ہیں تو اس کا ترجمہ ضرور لکھئے۔ بعض اوقات اردو ترجمہ نہیں ہوتا تو اس کے مفہوم کو سمجھتے وقت دقت محسوس
مثلاً اگست کے شمارے میں صفحہ ۱۱ پر امام رازی کا خیال صرف عربی میں درج ہے۔ کے آخری پیرا گراف میں بھی حدیث کا ترجمہ ندارد۔ آئندہ سے اس کا خیال رکھیں تو مناسب ہوگا۔ (ظہیر الحق ایم اے، حیدر آباد)
ماہنامہ الرسالہ صرف ایک پرچہ نہیں، بلکہ وہ ایک مشن ہے۔ مشن ہمیشہ پھیلاؤ چاہتا ہے۔ میں اپنے آپ اشاعت کا مفہوم شامل ہے۔ ایسی حالت میں الرسالہ کے قاری کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ الرسالہ کا مطالعہ مل کر کرے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ الرسالہ میں جب کوئی ایسا عربی حوالہ ہو جو قاری کی سمجھ میں نہ آئے تو اُس کو چاہیے کہ وہ کسی مقامی عالم سے ربط قائم کرے اور اُس سے مل کر عربی عبارت کو حل کرے۔ اسی طرح اگر الرسالہ کا کوئی انگریزی حوالہ سمجھ میں نہ آئے تو یہاں بھی قاری کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ کسی انگریزی داں سے ملے اور اس سے بات کر کے انگریزی عبارت
ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کے لیے الرسالہ کا مطالعہ صرف مطالعہ نہ رہے بلکہ وہ ربط بڑھانے کا ایک ذریعہ بن جائے۔ یہ بلاشبہ ربط بڑھانے کا ایک فطری طریقہ ہے۔ اس طریقہ کے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔ مثلاً اس سے تواضع کی تربیت ہوتی ہے۔ سیکھنے کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے کے درمیان مذاکرہ (dialogue) کا ماحول قائم ہوتا ہے، وغیرہ۔
ستمبر ۲۰۰۲ کے الرسالہ کے صفحہ ۲۳ پر آپ نے حضرت معاویہ کو اچھا منتظم کار بتایا ہے۔ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ اردو کی بعض کتابوں میں ان پر خیانت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ آپ کی یہ بات معقول نظر نہیں آتی (مقبول احمد، کلکتہ)
معاویہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی تھے۔ اُن کے اوپر خیانت کا الزام ایک
بے بنیاد الزام ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، محدثین نے حضرت معاویہ کی روایت کو قبول کیا ہے اور یہی ایک واقعہ ان کی دیانت اور ثقاہت کے لیے کافی ثبوت ہے۔ معاویہ اگر خدا نخواستہ خائن ہوتے تو محدثین ہر گز اُن کی روایت کو قبول نہ کرتے۔
جن لوگوں نے حضرت معاویہ پر خیانت کا الزام لگایا ہے، اُن کا الزام علمی اعتبار سے سراسر بے بنیاد مثلاً آپ کی ذکر کردہ کتاب میں لکھا گیا ہے کہ حضرت معاویہ سرکاری اموال کو اپنی ذات کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اُس کا ایک ثبوت ایک تاریخی کتاب کے حوالہ سے یہ دیا گیا ہے کہ ایک بار جب کچھ سرکاری اموال آئے تو حضرت معاویہ نے اُس کے آدھے حصہ کو لوگوں میں تقسیم کیا اور اُس کا آدھا حصہ خود اپنے لیے لے لیا۔ اس بیان کی بنیاد مذکورہ تاریخی کتاب کا یہ جملہ ہے: واخذ النصف لنفسه (اور آدھا اپنے لیے لے لیا)۔
مگر اس حوالہ کی بنیاد پر خیانت کا الزام درست نہیں۔ کیوں کہ تاریخ کی دوسری زیادہ معتبر کتاب میں اس واقعہ کے ذیل میں یہ الفاظ آئے ہیں: وأخذ النصف لبيت المال (یعنی آدھا مال لوگوں میں تقسیم کیا اور آدھا مال بیت المال کے لیے لے لیا)۔ یہ دوسرا حوالہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پہلے حوالہ میں لنفسه سے مراد بیت المال ہے۔ ایسی حالت میں یہ سراسر غیر علمی بات ہے کہ زیادہ صحیح حوالہ کو نظر انداز کر کے مشتبہ حوالہ کی بنیاد پر اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ رائے قائم کی جائے۔ نئی دہلی کے اردو ماہنامہ زندگی نو (ستمبر ۲۰۰۲) کے شمارہ میں ایک امام صاحب کا خط چھپا یہ خط’’ رسائل ومسائل‘‘ کے عنوان کے تحت ہے۔ اس خط میں مکتوب نگار نے زندگی نو کے مدیر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے: آپ جماعت اسلامی کے آدمی ہیں۔ ’’ زندگی نو‘‘ جماعت کا آرگن مگر نہ جانے کیوں آپ نے فروری ۲۰۰۲ کے اشارات (زندگی نو) میں یہ لکھ دیا کہ’’ مگر ریاست اس کی بنیاد نہیں ہے‘‘ (صفحہ ۱۰، سطر : ۱۸)۔ سات الفاظ کا یہ مختصر سا جملہ جماعت کی پالیسی کے خلاف ہے اور یہ وہی بات ہوئی جو کہ جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب کہتے ہیں۔
مکتوب نگار کے اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے زندگی نو کے مدیر نے لکھا ہے ۔ کے قیام کے بغیر احکام الہی کے نفاذ کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ لیکن ریاست کا قیام ، دین حق کی بنیاد کیسے بن دین حق کی بنیاد تو توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان ہے اور وہ تمام عبادات اور اخلاق فاضلہ ہیں جن کا قرآن میں ذکر ہے۔ اقامت دین کی جدوجہد، مومن کی زندگی کا مقصد ہے۔ قیام ریاست اس کا جزو ہے، لیکن بنیادی ہے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے (صفحہ ۷۲) زندگی نو کے مدیر کا یہ جواب اگر چہ اردو زبان میں ہے جو کہ میری مادری زبان ہے۔ باوجود یہ جواب میری سمجھ میں نہیں آیا۔ چونکہ اس میں آپ کا نام بھی آگیا ہے اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (ایس اے آفاق، نئی دہلی)
مذکورہ جواب بلاشبہ ایک مبہم جواب ہے۔ کسی بھی شخص کے لیے اس جواب کو سمجھنا ممکن نہیں۔ آپ اس جواب کے الفاظ پر غور کیجئے۔ اس میں ریاست کے تصور کو بنیادی بھی بتایا گیا ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاست کی حیثیت دین میں بنیادی کیسے ہوسکتی ہے۔ اس جواب میں ایک طرف ریاست کے قیام کو جزئی کام کی حیثیت دی گئی ہے اور عین اُسی کے ساتھ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ لیکن وہ بنیادی ہے۔ یہ متضاد بیان کسی کے لیے بھی قابل فہم نہیں ہوسکتا۔ آخر وہ کلام کی کون سی قسم ہے جس کے مطابق ایک چیز بیک وقت جزئی بھی ہو اور عین اُسی وقت وہ بنیادی بھی ہو۔ اس شتر گر بہ کلام کا سبب یہ ہے کہ زندگی نو کے ایڈیٹر اپنی فکری غلطی کا کھلا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی کے بانی نے دین کا جو تصور پیش کیا اُس میں ریاست کی حیثیت بنیادی تھی۔ یہ بات اُن کے پورے لٹریچر میں نمایاں ہے۔ مثلاً انہوں نے مبینہ طور پر اقامت دین کو حکومت الہیہ کے قیام کے ہم معنی بتایا۔ انہوں نے لکھا کہ: دین کا لفظ قریب قریب وہی معنی رکھتا ہے جو زمانہ حال میں ’’اسٹیٹ‘‘ کے معنیٰ ہیں۔
بانی جماعت کی پیش کردہ دین کی یہ سیاسی تعبیر دلائل کے ذریعہ مکمل طور پر رد ہوچکی ہے۔
جماعت کے افراد اگر اپنی غلطی کو کھلے طور پر مان لیں تو اُن کے کلام میں تضاد نہ رہے گا۔ لیکن اُن کے اندر غلطی کے اعتراف کی جرات نہیں۔ اُن کی یہی کمزوری ہے جس نے انہیں مذکورہ قسم کی تضاد فکری میں مبتلا کر دیا ہے۔ یعنی ایک چیز کو ماننا اور اُسی کے ساتھ اُس کی تردید کرنا۔ زندگی نو کے مذکورہ جواب میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ: ریاست کے قیام کے بغیر احکام الہیٰ کے نفاذ کی تکمیل نہیں ہوسکتی (صفحہ ۷۲)۔ یہ ایک مغالطہ آمیز بات ہے۔ اگر یہ اصول درست ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی پیغمبر کے زمانہ میں دین کا تکمیلی نفاذ نہیں ہوا جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے۔ کہ خود پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی نہیں۔ اس کی ایک دلیل رہا کے بارے میں خلیفہ ثانی عمر فاروق کا وہ مشہور قول ہے جو ابن ماجہ (کتاب التجارات) اور احمد بن حنبل نے نقل کیا اس کے الفاظ یہ ہیں:
عن سعيد بن المسيب قال : قال عمر رضى الله عنه ان آخر ما نزل من القرآن آية الربا و ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض ولم يفسرها فدعوا الربا (مسند احمد ۱/ ۳۶)
ترجمہ: سعید بن مسیّب روایت کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قرآن میں سب سے آخری آیت جو اُتری وہ ربا کے بارے میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (جلد ہی) وفات ہوگئی اور آپ نے اُس کی تفسیر نہیں کی۔ پس تم لوگ رہا کو چھوڑ دو اور جس میں ربا کا شبہہ ہو اُس کو بھی
اصل یہ ہے کہ دین کی تکمیل کا تحقق ہمیشہ حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ شرعی احکام کی فہرست کے اعتبار سے۔ قرآن میں یہ اصول بتایا گیا ہے کہ اللہ کسی کو صرف اُس کے وسع کے بقدر مکلف کرتا ہے (البقرہ (۲۸۶) ایسی حالت میں کوئی فرد یا گروہ اگر حالات کے اعتبار سے اپنے وسع (capacity) کے بقدر عمل کرتا ہے تو اُس کا دین اس کے لئے بلاشبہ مکمل ہو گیا۔ اللہ کے یہاں وہ کامل دین پر عمل کرنے والا قرار پائے گا، نہ کہ ناقص یا نا مکمل دین پر۔
قرآن میں کئی آیتیں ایسی ہیں جو مسلمانوں سے کہتی ہیں کہ کافروں کو قتل کرو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان جہادی ہو گئے ہیں اور غیر مسلموں کو قتل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ مثلاً قرآن (البقرہ ۱۹۱) میں یہ آیت ہے: واقتلوهم حيث ثقفتموہم واخرجوهم من حيث اخرجوكم والفتنۃ أشد من القتل ولاتقٰتلوہم عندالمسجد الحرام حتى يقتلوكم فان قتلوكم فاقتلوہم كذلك جزاء الكفرين (اور قتل کرو اُن کو جس جگہ پاؤ اور نکال دو اُن کو جہاں سے انہوں نے تم کو اور فتنہ زیادہ سخت ہے قتل سے۔ اور اُن سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑو جب تک کہ وہ تم سے اس میں جنگ نہ چھیڑیں۔ پس اگر وہ تم سے جنگ چھیڑیں تو اُن کو قتل کرو۔ یہی سزا ہے کافروں کی)۔ قرآن میں جب تک اس طرح کی آیتیں موجود ہیں، مسلمانوں کا غیر مسلموں کے ساتھ شانتی سے رہنا ممکن نہیں (اشوک سنگھل، نئی دہلی)
یہ آیت خود ہی یہ بتا رہی ہے کہ جنگ کا حکم کافر کے خلاف نہیں ہے بلکہ مقاتل (حملہ آور) کے جیسا کہ خود اسی آیت میں کہا گیا ہے : فان قتلوکم فاققتلوهم (پس اگر وہ جنگ چھیڑ دیں تو تم بھی دفاع میں اُن سے جنگ کرو اسی طرح اسی سورہ میں اس سے پہلے یہ آیت ہے : وقاتلوا فى سبيل الله الذين يقاتلونكم ولا تعتدوا (البقرہ ۱۹۰) یعنی جو لوگ تم سے جنگ کرتے ہیں اُن سے تم دفاع میں جنگ کرو، اللہ کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے، اور تم خود جارحیت
اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ قرآن میں جن چند مقامات پر کافر کا لفظ آیا ہے، اُس سے مراد پیغمبر اسلام کے معاصر منکرین ہیں۔ قرآنی اصطلاح کے مطابق ، کافر کوئی نسل یا قوم نہیں اور نہ یہ لفظ ابدی طور پر ہر غیر مسلم گروہ کے لیے بولا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اہلِ اسلام نے بعد کے زمانہ کے لوگوں کے لیے جو الفاظ استعمال کیے وہ کافر یا کفار نہ تھے بلکہ یہ وہی الفاظ تھے جو کہ قومیں خود اپنے لیے استعمال
کر رہی تھیں۔ مثلاً ہنود، یہود، نصاریٰ، مجوس، بودھ (بوذا) وغیرہ۔ اسلامی اصول کے مطابق کسی قوم کو اسی لفظ سے پکارا جائے گا جو لفظ اُس نے خود اپنے لیے اختیار کیا ہو۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبروں نے جب اپنے زمانہ کے غیر مومن لوگوں کو پکارا تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اے کا فرو، بلکہ یہ کہا کہ اے میری قوم کے لوگو۔ چنانچہ قرآن میں پیغمبر کی زبان سے پچاس بار یہ الفاظ آئے ہیں: یا قومی، یا قوم (اے میری قوم)۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک پیغمبر کو اُس کے مخالفین نے پتھر مارا اور ان کے خون بہنے لگا، اُس وقت پیغمبر کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: رب اهد قومى فانهم لا يعلمون۔ (اے میرے رب، میری قوم کو ہدایت دے کیوں کہ وہ لوگ نہیں اسی طرح قرآن میں پیغمبروں کے ہم زمانہ غیر مومنین کو اُن کی قوم کا نام دیا گیا ہے۔ قوم لوط، قوم صالح، قوم ہود، قوم نوح، وغیرہ۔
اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کا نظریہ دو قومی نظریہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک قومی نظریہ تھا۔ قومیت پیغمبر کی تھی وہی قومیت پیغمبر کے مخاطبین کی تھی۔ پیغمبر اور اُس کے مخاطبین کے درمیان جو فرق تھا، وہ قومیت کا فرق نہ تھا بلکہ عقیدہ اور مذہب کا فرق تھا۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: لكم دينكم ولی دین (۶:۱۰۹)
قرآن میں الانسان (واحد) کا لفظ ۶۵ بار آیا ہے اور الناس (جمع) ۲۴۰ بار آیا ہے۔ کے مقابلہ میں کافر کا لفظ صرف پانچ بار قرآن میں آیا ہے اور اُس کی جمع الکفار، الکافرون اور الکافرین کے الفاظ ۵۰ بار آئے ہیں ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں قرآن کا تصور کیا ہے۔ کی نظر میں یہ زمین دار الانسان ہے، نہ کہ دار الکفار۔
تمام مساجد میں اذان کے لئے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ہوتا ہے۔ اذان کی آواز بعض وقت نہایت گراں محسوس ہوتی ہے۔ جب یہ گرانی افراد ملت کو ہے تو دیگر بندگان خدا کو کس قدر ہوگی۔ معاملہ کی وضاحت فرمائیں ۔ (حکیم انور علی صدیقی، میرٹھ)
عرض یہ کہ لاؤڈاسپیکر کا تعلق فتویٰ سے نہیں ہے بلکہ ضرورت سے ہے۔ بوقت ضرورت حسب حالات لاؤڈاسپیکر کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مگر جہاں لاؤڈاسپیکر کی ضرورت نہ ہو، نیز اُس سے کوئی غیرضروری مسئلہ پیدا ہوتا ہو تو لاؤڈاسپیکر کے استعمال سے احتراز کرنا چاہئے۔ یورپ، امریکہ میں بسنے والے مسلمان، ٹھیک اسی اصول پر عمل کر رہے ہیں۔
الرساله دسمبر ۲۰۰۲ء کے صفحہ ۴۳ پر لکھے گئے خط سے متاثر ہو کر اپنے تاثرات آپ تک پہنچانے کی اس قدر ترغیب ہوئی کہ لکھے بغیر نہ رہ سکا۔
مذکورہ خط آپ نے عبدالسلام اکبانی کے نام لکھا ہے۔ اس میں آپ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں مسلم لیڈران کرام اور اکابرین زمانہ کے بارے میں لکھا ہے۔ میں اس سے حرف بہ حرف متفق ہوں۔ کیوں کہ ہم بدقسمت کشمیریوں پر ایسے ہی خود ساختہ لیڈروں کی ایک فوج سوار ہوگئی ہے جنہوں نے کروڑوں کی دولت بنائی ہے اور یہ لوگ ناقابل یقین عیش وعشرت کی زندگی بسر کر کے عام غریب اور بے سہارا، نادار اور سادہ لوح عوام کا استحصال کر کے اُنہیں کٹواتے مرواتے ہوئے اپنے لیے زیادہ سے زیادہ سامانِ عیش بناتے ہیں۔ یہ لوگ ’’ من ترا حاجی بگویَم تو مرا حاجی بگُو‘‘ کے مصداق ایک دوسرے کو بڑے بڑے آداب والقاب دے دے کر عام لوگوں کا استحصال کر کے یہاں کشمیر میں قتل وغارت گری کا دور روا رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بتائیں کہ ہم کشمیریوں کی قسمت کس طرح بدل سکتی ہے۔ اس وادی گل پوش میں کوئی ایسا شخص پیدا ہو جو واقعی قوم کی رہنمائی کرے اور جس کا اندروباہر ایک ہو اور ایک صادق القول مسلمان ہوتے ہوئے اس پریشان حال قوم کی صحیح رہنمائی کر سکے ۔ (ایک کشمیری مسلمان، اننت ناگ) یہ کہنا صحیح نہیں کہ کشمیریوں پر استحصالی لیڈروں کی فوج سوار ہوگئی ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کشمیریوں نے خود سے ایسے لیڈروں کو اپنے اوپر سوار کر لیا ہے۔ کشمیر میں جہاد کے نام پر متشددانہ تحریک
خود کشمیری عوام کی مرضی سے اکتوبر 1989ء میں شروع ہوئی۔ اُس سے صرف ایک مہینہ پہلے میں کشمیر گیا اُس وقت کشمیریوں کے درمیان مسلح جہاد کا چرچا شروع ہو چکا تھا۔ سری نگر کے ٹیگور ہال میں میری میں نے کہا کہ جہاد کے نام پر جو مسلح تحریک آپ چلانے جا رہے ہیں وہ صرف کشمیر کے مسائل میں اضافہ کرے گی۔ میں نے اپنی تقریر میں رسول اللہ ﷺ کے ایک واقعہ کی مثال دی۔ آپ کے زمانہ میں مدینہ کی مسجد نبوی میں ایک دیہاتی شخص مسجد کے اندر آیا اور اس کو گندہ لوگ اُس کو مارنا چاہتے تھے مگر آپ نے منع کر دیا۔ آپ نے کہا کہ اُس مقام پر پانی بہادو، وہ صاف ہو جائے گا۔ اس سلوک کے بعد وہ شخص اور اُس کا پورا قبیلہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مقصد پانی بہا کر حاصل کیا تھا اُس کو آپ خون بہا کر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ اللہ کی توفیق سے میں نے جو کچھ پیشگی طور پر کہا تھا وہ حرف بہ حرف پورا ہوا۔ اگر چہ اس وقت کشمیریوں نے میری بات پر دھیان نہیں دیا تھا۔ اب کشمیریوں کے لیے صرف ایک ہی صورت ہے۔ وہ تو بہ کریں اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے پر تشدد جدو جہد کو چھوڑ کر پر امن تعمیر کا کام کریں۔ میں آپ کے الرسالہ کا برابر مطالعہ کرتا ہوں۔ آپ کی بات ہمیشہ دلائل پر مبنی ہوتی ہے۔ آپ سے ایک سوال کا جواب چاہئے ۔ مجھے بچے رکھنے میں زبردست دشواری محسوس ہوتی میں نے اپنے دل میں ٹھان لیا ہے کہ میں شادی کے بعد پوری زندگی بے اولاد رہوں گا۔ معاملہ میں آپ اپنے مشورہ سے آگاہ فرمائیں۔ (ڈاکٹر عمر علی، مہاراشٹر)
اولاد مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اولاد سے غیر معتدل محبت کی بنا پر اپنے خرچ کو غیر ضروری طور پر بڑھا لیا جائے۔ خرچ کو اپنی آمدنی کے دائرہ میں رکھا جائے تو کبھی اس قسم کا مسئلہ پیدا نہ ہوگا۔ اصل ضرورت خرچ پر کنٹرول کرنے کی ہے، نہ کہ اولاد پر کنٹرول کرنے کی۔