Tolerance is maturity. Tolerance is the ability
Al-Risala, April 2003, pp. 41–46
By Maulana Wahiduddin Khan
نئی دہلی کے انگریزی ماہنامہ لائف پازیٹیو (Life Positive) کی کرسپانڈنٹ سسمتا ساہا (Susmita Saha) نے ۲۲ نومبر ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ موضوع اسلامی میڈیٹیشن تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ میڈیٹیشن کی دو قسمیں ہیں۔ جس میں آدمی خود اپنے اندر دھیان لگاتا ہے۔ یہ میڈیٹیشن آنکھ بند کر کے کیا جاتا ہے۔ سوچ کو معطل کر کے خاموشی کی دنیا میں پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسرا میڈیٹیشن جو اسلامی میڈیٹیشن ہے وہ خدا پر مبنی ہے۔ اس میں سارا دھیان خدا کی طرف لگایا جاتا ہے۔ پہلی قسم کے میڈیٹیشن میں فائنڈر اور فائنڈنگ دونوں ایک ہوتے ہیں ۔ مگر دوسری قسم کے میڈیٹیشن میں فائنڈر الگ ہوتا ہے اور فائنڈنگ الگ ۔ اس میں انسان فائنڈر ہوتا ہے اور خدا فائنڈنگ ۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ صوفی ازم میں جو نئے طریقے شامل کئے گئے وہ اسلام میں ریفارم نہ تھا بلکہ صرف ایک قسم کا جزئی اضافہ تھا۔
ڈیلی امریکی اخبار ایری زونا ری پبلک (Daily Arizona Republic) کی کالمسٹ
منطوشی دیو جی (Mantoshe Devji) نے ۳۰ نومبر ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام اور مسلمانوں سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام کا کوئی نیا انٹرپریٹیشن (current interpretation) نہیں ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات ابدی ہیں۔ آج کل اسلامی جہاد کے نام پر مختلف مقامات پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسلام وہ اسلام کا خود ساختہ انٹرپریٹیشن ہے۔ اسلام مکمل طور پر پر امن طریق کار کی حمایت کرتا ہے۔ متشددانہ طریق کار کی اسلام میں کسی بھی حال میں گنجائش نہیں۔ ۱۳| انڈین سنٹر فار فیلانتھراپی کے تحت ۲ دسمبر ۲۰۰۲ کو انڈیا ہیبیٹٹ سنٹر نئی دہلی میں ایک سیمینار ہوا_ اس کا موضوع Religion and Social Development تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور حسب ذیل موضوع پر اس میں ایک تقریر کی : Role of Islam in Social Development اس تقریر میں قرآن وحدیث کے حوالوں سے بتایا گیا کہ اسلام کی بنیاد انسانیت کی خیر خواہی پر ہے_ توحید کے بعد اسلام میں سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیا گیا ہے وہ یہی انسانی خیر خواہی اس انسانی خیر خواہی کی تکمیل کے لئے اسلام میں جو معاشرتی احکام دئے گئے ہیں ان کا ایک خاکہ لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ سارا پروگرام انگریزی میں تھا۔ اس موقع پر سوامی گوگانندا نے اس موضوع پر ہندو نقطہ نظر پیش کیا اور فادر والسن تھمیو نے مسیحی نقطہ نظر پیش کیا۔ ۱۴| نئی دہلی کے ادارہ سمپر دان (Sampradaan) کے تحت انڈین سینٹر فار فیلان تھراپی (Indian Centre for Philanthropy) میں ۳ دسمبر ۲۰۰۲ کو ایک پروگرام ہوا۔ دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور ریلیجیوس چیریٹی (Religious Charity) کے موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تقریر کی۔
۱۵| حیدر آباد میں ۷۔ ۸ دسمبر ۲۰۰۲ کو تھنکرس میٹ (Thinkers' Meet) کے نام سے ایک اس کا اہتمام وگیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی اے ۔ پی کی طرف سے کیا
اس میں اعلی تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ ۷ دسمبر کی صبح کو وہ حیدر آباد پہنچے اور ۱۱ دسمبر ۲۰۰۲ کو واپسی ہوئی۔ اس موقع پر سیمینار کے علاوہ مختلف اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔ سیمینار کا موضوع انڈینائزیشن آف ایجوکیشن (Indianization of Education) تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمارے سماج میں جو بگاڑ آیا ہے اس کا حل انڈینائزیشن نہیں ہے بلکہ اسپر پچولا یئریشن (spiritualization) ہے۔ وسیع کوشش کے ذریعہ لوگوں کی سوچ کو بدلنا ہے۔ لوگوں کے اندر اخلاقی اور روحانی انقلاب لانا ہے۔ اس کے بعد ہی ہمارے سماجی حالات درست ہوں گے۔
۱۶ آؤٹ لُک میگزین (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر رنجیت بھوشن نے ۱۹ دسمبر ۲۰۰۲ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ پالیٹکس میں آئیڈیل نہیں چلتا، پالیٹکس میں ہمیشہ پرکٹکل چلتا ہے۔ مسلمانوں کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ پالیٹکس میں آئیڈیل چلانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لمبی کوشش کے باوجود وہ کوئی سیاسی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا گیا کہ الیکشن کے وقت مسلمانوں کو مقامی حالات کی روشنی میں الیکشن پالیسی بنانا چاہئے ، نہ کہ ملکی نقشہ کے مطابق۔
۱۷ نیشنل ڈیولپمنٹ اور اسلامی ریسرچ فاؤنڈیشن کی طرف سے سہارنپور میں ۲۲ دسمبر ۲۰۰۲ کو ایک آل انڈیا کا نفرنس ہوئی۔ یہ پروگرام شہر کے پنجاب ہوٹل میں کیا گیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے سہارنپور کا سفر کیا۔ وہاں کئی پروگرام ہوئے— پنجاب ہوٹل میں پریس کانفرنس، پنجاب ہوٹل کے عمومی جلسہ میں تقریر ، خواتین کی تنظیم تیور (TEVOR) کی طرف سے کئے گئے ایک جلسہ میں تقریر، وغیرہ۔ ان تقریروں میں اسلام اور روحانیت کے پہلو سے وضاحت کی گئی۔
۱۸ گاندھی دھام (نئی دہلی) میں ۲۴ دسمبر ۲۰۰۲ کو عید ملن کا ایک پروگرام ہوا۔ اس میں بڑی
تعداد میں سیاسی اور سمابی شخصیتیں شریک ہوئیں۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور وہاں ایک تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ عید ملن کا تصور بہت مفید حقیقت یہ ہے کہ ملن کا اصول پوری کائنات میں جاری ہے۔ کائنات کی ہر چیز مختلف چیزوں کے ملنے سے بنتی ہے۔ یہاں کی ہر چیز مجموعہ کے روپ میں ہے۔ گویا ملن کلچر ہی عالمی کلچر ہے۔ ملن کلچر کے اسی فطری طریقہ کو انسانی زندگی میں بھی اختیار کرنا چاہئے۔ ہر قسم کی ترقی ملن کلچر کے ماحول ہی میں ہوسکتی ہے۔ ملن کلچر امتزاج کا نام نہیں ہے بلکہ تنوع کو رواداری کے جذبہ کے ساتھ قبول کرنے کا نام ہے۔
۱۹ | دہلی کے اُردو روزنامہ راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر ودود ساجد نے ۲۶ دسمبر ۲۰۰۲ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کے نام پر قتل کرنا بلا شبہ ایک قابل مذمت کام ہے۔ برائی عام حالات میں بھی برائی ہے اور جو برائی اسلام کے نام پر کی جائے اُس کا جرم اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
۲۰ | مودی ہاؤس (نئی دہلی) میں ۲ جنوری ۲۰۰۲ کو ایک جلسہ ہوا۔ یہ جلسہ ڈاکٹر جی کے مودی کے جنم دن کی تقریب میں تھا۔ اس موقع پر مختلف مذاہب کے نمائندوں کو بلایا گیا تھا کہ وہ اپنے مذہب کی روشنی میں مساوات اور انسانیت کے موضوع پر اظہار خیال کریں۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر اسلام کی روشنی میں موضوع پر ایک تقریر کی۔ موقع کے لحاظ سے یہ تقریر انگریزی زبان میں تھی۔
۲۱ | ای ٹی وی (Ernadu TV) نے جنوری ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کمپنی کے نائڈا کے اسٹوڈیو میں ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر حج سے تھا۔ سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ کمبھ میلا اور حج میں کوئی مشابہت نہیں۔ کمبھ میلا گنگا کی معبودیت کے تصور پر قائم ہے۔ جب کہ حج صرف ایک اللہ کی پرستش کے تصور پر۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ حجر اسود اور شیولنگ میں کوئی مشابہت نہیں۔ شیولنگ کو اس کے پرستار افزائش نسل کا
دیوتا سمجھتے ہیں۔ جب کہ حجر اسود صرف ایک پتھر ہے۔ وہ کوئی قابل پرستش چیز نہیں۔ نے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ ظاہری شکل کے اعتبار سے اس میں کوئی مشابہت نہیں۔ ۲۲ سعودی عرب (ریاض) میں ہر سال المہرجان الوطنی کے نام سے بڑے پیمانہ پر تقاریر ہوتی اس سال یہ تقریب ۸ جنوری ۲۰۰۳ کو شروع ہوئی اور ایک ہفتہ تک جاری رہی۔ موقع پر صدر اسلامی مرکز کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ وہاں اُن کو اظہار خیال کے لیے جو عنوان دیا گیا وہ تھا: ہذا ہوالاسلام۔ سفر کے انتظامات مکمل کر دیے گئے تھے مگر بعض وجوہ سے یہ سفر نہ ہوسکا۔ البتہ موضوع پر ایک پیپر اُنہیں بھیج دیا گیا۔
۲۳ مسٹر سلمان خورشید (سابق مرکزی منسٹر) کی صاحب زادی عائشہ (۱۷ سال) کا ۱۱ جنوری ۲۰۰۳ کو انتقال ہوگیا۔ دہلی پبلک اسکول (آر کے پورم) میں اس موقع پر بہت بڑا فنکشن اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور زندگی اور موت کے موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تقریر کی۔
۲۴ انجمن طلبۂ قدیم مدرسة الاصلاح کی طرف سے ۱۲ جنوری ۲۰۰۳ کو ایک سمپوزیم ہوا۔ سمپوزیم مولانا شبلی نعمانی اور مولانا حمید الدین فراہی کے نام پر تھا۔ اس کا انعقاد ہمدرد یونیورسٹی (نئی دہلی) کے کنونشن سینٹر میں کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں بحیثیت صدر شرکت کی اور موضوع پر ایک تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں مولانا شبلی اور مولانا حمید الدین فراہی کے کارنامے بتائے۔ نیز یہ بتایا کہ مدرسہ کا تعلیمی نظام کتنا عام ہے اور وہ نہ صرف مسلمانوں کی بلکہ ملک کی بہت بڑی خدمت انجام دے رہا ہے۔ ۲۵ نئی دہلی کے روز نامہ راشٹریہ سہارا (ہندی) کے نمائندہ مسٹر نیراج نے ۱۳ جنوری ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا موجودہ ملکی مسائل پر انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوتو کوئی welldefined نظریہ نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ملک کی اکثریت کی حمایت اُس کو حاصل نہ ہوسکی۔ اس لیے ہندوتو ابھی تک ملک میں کوئی حقیقی مسئلہ نہیں ہے۔
۲۶ آل انڈیا ریڈیو (نئی دہلی) کے ہندی شعبہ میں ۱۶ جنوری ۲۰۰۳ کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ میں دہلی کے پانچ اعلی تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کا موضوع تھا: ہندوستانی جمہوریہ کے سامنے چنوتیایاں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی چنوتی تعلیم میں پچھڑا پن ہے۔ تعلیم لوگوں کو باشعور بناتی ہے۔ مثلاً ہمارا سماج اسی بنا پر رائٹ کانشس ہو گیا ہے جب کہ اچھا سماج وہ ہے جس کے افراد ڈیوٹی کانشس ہوں۔ کی وجہ سے ہمارے یہاں نعروں کی پولیٹکس عام ہو گئی ہے جب کہ ایشوز کی پالینکس ہونا اسی لیے ہمارے سیاست داں صرف جیت کو جانتے ہیں۔ حالاں کہ جمہوریت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ لوگ ہار کو بھی ماننا جانتے ہوں۔
۲۷ تروینی کلا سبھاگار (منڈی ہاؤس) میں ۲۵ جنوری ۲۰۰۳ میں ایک پری سمواد ہوا۔ پترکار دین دیال اپادھیائے کے نام پر کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس شرکت کی اور موضوع کے بارے میں مختصر اظہار خیال کیا۔
۲۸ سوسائٹی فاردی پروموشن آف ریشنل تھنکنگ (SPRAT) کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے احمد آباد کا سفر کیا۔ وہاں انہوں نے ۲۵ ۔ ۲۶ جنوری ۲۰۰۳ کے پروگرام میں حصہ لیا۔ کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔
۲۹ امریکہ سے جناب لئیق احمد صاحب نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے الرسالہ مطبوعات کو پھیلانے کے دوسرے طریقوں کے علاوہ یہ کیا کہ ہندوستان کے ماہنامہ سائنس کو حل یہاں ہے اور فسادات کا مسئلہ پانچ سو کی تعداد میں فراہم کیا۔ اور ’’سائنس‘‘ نے ان کتابوں کو اپنے ماہانہ شمارے میں رکھ کر اپنے تمام خریداروں کو بھیج دیا۔ اس طرح یہ کتابیں بیک وقت بہت سے لوگوں تک پہنچ گئیں۔ اس کام میں امریکہ کے مزید جن لوگوں نے تعاون کیا اُن کے نام یہ ہیں : جناب شاہد صاحب، جناب احمد صاحب، جناب ساجد ضیاء صاحب، جناب خالد خاں، جناب لئیق محمد خاں۔