Al-Risala · May 2003

Be always positive

Al-Risala, May 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈیڑھ گھنٹہ کی پرواز کے بعد جہاز احمد آباد کے ایر پورٹ پر اُترا۔ لینڈنگ ایسی تھی جیسے جہاز اچانک زمین پر گر پڑا ہو۔ جہاز کے پہیے خصوصی طور پر بہت مضبوط بنائے جاتے ہیں ورنہ وہ اس طرح کی لینڈنگ کا تحمل نہ کر سکیں۔

ایر پورٹ پر جو ہر بھائی اور فرید بھائی، وغیرہ موجود تھے۔ اُن کے ساتھ روانہ ہو کر ہوٹل آرام یہاں کے کمرہ نمبر ۲۰۳ میں میرا قیام تھا۔

۲۵ جنوری کو ایر پورٹ سے محمد حسن جوہر صاحب کی کار پر شہر کے لیے روانگی ہوئی۔ سیٹ پر میں اور جوہر صاحب بیٹھے تھے اور آگے ایک نو جوان گاڑی چلا رہا تھا۔ جو ہر صاحب بار بار ڈرائیور کو ’بیٹے‘ کے لفظ سے خطاب کرتے تھے۔ بیٹے ادھر سے چلو، بیٹے اس طرح گاڑی چلاؤ۔ جوہر صاحب کے اس اندازِ خطاب سے میں سمجھا کہ جونو جوان گاڑی چلا رہا ہے وہ جوہر صاحب کا صاحب زادہ ہے۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ وہ ملازم تھا۔ اس ۲۴ سالہ ڈرائیور کا نام حیدر تھا۔ فساد میں وہ بے روزگار ہو گیا تھا۔ اس کے بعد جو ہر صاحب نے اُس کو اپنے یہاں رکھ لیا۔ ۲۵ جنوری کی شام کو جب میں ہوٹل آرام میں پہنچا تو وہاں میرا پہلا تجربہ بڑا انوکھا تھا۔ ہوٹل کے مالک علی بھائی جی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گجرات کے فساد (مارچ ۲۰۰۲) میں یہ ہوٹل جلا دیا مگر چار مہینہ کے اندر ہم نے اس کو دوبارہ بنالیا۔ میں نے غور کیا تو وہاں ہوٹل کے جلائے جانے کا کوئی نشان مجھ کو نظر نہیں آیا۔ علی بھائی جی سے میں نے پوچھا کہ ہوٹل کو دوبارہ یہاں بناتے ہوئے کیا

آپ کو ڈر نہیں لگا۔ انہوں نے فوراً کہا کہ نہیں صاحب، خدا جب ہمارے ساتھ ہے تو ڈر کیسا۔ احمد آباد پہنچتے ہی یہ تجربہ جو مجھے ہوا وہ میرے لیے بڑا حوصلہ افزا تھا۔ احمد آباد میں اگر ایک طرف یہ مثال ہے کہ انسان پر جب نفرت کا دورہ پڑتا ہے تو وہ کیسے بھیا نک واقعات کر سکتا ہے۔ دوسری طرف اسی احمد آباد میں انسانی شخصیت کا یہ دوسرا پہلو بھی دکھائی دیتا ہے کہ انسان جب عزم کر لیتا ہے تو کوئی بھی حادثہ اُس کو زیر نہیں کر پاتا۔ ہر بار گرنے کے بعد وہ دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ سفر میں وقفہ تو آ سکتا ہے مگر انسان کے سفر کو کبھی ہمیشہ کے لیے روکا نہیں جا سکتا۔ احمد آباد ریاست گجرات کا سب سے بڑا شہر ہے۔ وہ سا برمتی ندی کے کنارے واقع ہے۔ گجرات کے مسلم حکمراں سلطان احمد شاہ نے ۱۴۱۱ء میں احمد آباد کا شہر بسایا تھا۔ ۱۵۷۲ میں احمد آباد مغل شہنشاہ اکبر کے قبضہ میں آیا۔ ۱۸۱۸ میں وہ برٹش حکومت کے تحت آگیا۔ احمد آباد میں پہلی کاٹن مل ۱۸۵۹-۶۱ میں قائم کی گئی۔ اس وقت احمد آباد انڈیا کا ساتواں سب سے بڑا شہر ہے۔ احمد آباد عارضی طور پر ۱۹۶۰ میں گجرات کی راجدھانی بنا۔ ۱۹۷۰ میں ریاستی ایڈمنسٹریشن گاندھی نگر میں قائم کیا گیا۔ شہر کی تقریباً آدھی آبادی کا معاشی انحصار کاٹن انڈسٹری پر ہے۔ ۲۵ جنوری کی شام کا کھانا جو ہر صاحب کی رہائش گاہ پر کھایا۔ جوہر صاحب نے گجرات کے فساد سے پہلے یہ طے کر لیا تھا کہ وہ نیوزی لینڈ جائیں گے اور وہاں سے اپنا کاروبار کریں گے۔ اہلیہ ذکیہ نیوزی لینڈ پہنچ چکی تھیں۔ اس درمیان میں گجرات کا فساد ہو گیا۔ جو ہر صاحب کو اس سے سخت انہوں نے سوچا کہ مظلوموں کو اس طرح چھوڑ کر میں کیسے نیوزی لینڈ جا سکتا ہوں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کم از کم فی الحال احمد آباد میں رہ کر اپنا کام کریں گے۔ اُن کی اہلیہ بھی نیوزی لینڈ سے واپس آگئیں ۔ اب یہ لوگ پوری طرح انسانی خدمت اور سوشل سروس کا کام کر رہے ہیں۔ یہاں کھانے کی میز پر سراج بھائی بھی موجود تھے۔ وہ بہت متحرک آدمی ہیں اور یہاں گجرات ٹوڈے کے نام سے گجراتی زبان میں ایک روزانہ اخبار نکالتے ہیں۔ اس اخبار کی اشاعت ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اس اخبار کے پڑھنے والوں میں ۷۰ فیصد مسلم ہیں اور ۳۰ فیصد غیر مسلم ہیں۔

سراج بھائی چاہتے ہیں کہ گجرات ٹوڈے کو ایک تعمیری تحریک بنا دیں۔ وہ اُس میں ایسے مضامین اور رپورٹیں شائع کرنا چاہتے ہیں جو مسلمانوں کو تعمیر و ترقی پر ابھارنے والے ہوں۔ پچھلے کچھ دنوں سے مسلمانوں میں سب سے زیادہ تذکرہ عراق اور گجرات کا ہوتا ہے۔ ہی تذکرے منفی انداز میں ہوتے ہیں۔ ہر ایک کے پاس شکایت اور احتجاج کے الفاظ کا ڈھیر ہے اور وہ ہر مجلس میں اور ہر جگہ اُن کو بکھیرتا رہتا ہے۔ مجھے اپنے تجربہ میں کوئی ایسا مسلمان نہیں ملا جو یہ کہے کہ آؤ، ہم اپنے مسائل کا حل قرآن میں دریافت کریں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو بہت جلد وہ دریافت کرتے کہ قرآن میں اس کی بابت یہ واضح آیت موجود ہے: وما اصابکم من مصيبة فبما كسبت ايديکم (الشوریٰ ۳۰)۔ یعنی اور جو پڑے تم پر کوئی سختی سو وہ بدلا ہے اُس کا جو کمایا تمہارے ہاتھوں نے (ترجمہ شیخ الہند)

اس آیت کے تحت مولا ناشبیر احمد عثمانی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے: بندوں کو جو کوئی سختی اور مصیبت پیش آئے اُس کا سبب قریب یا بعید بندوں ہی کے بعض اعمال وافعال ہوتے ہیں (صفحہ ۲۳۱) قرآن کی ایک آیت کو بھلانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کو اپنے مسائل کے بارہ میں سوچنے کا صحیح نقطہ آغاز ہی نہیں ملا۔ قرآن کے مطابق ، سوچنے کا صحیح نقطہ آغاز یہ تھا کہ مسلمان داخلی احتساب کو اس معاملہ میں اپنا نقطہ آغاز بنائیں۔ مگر وہ برعکس طور پر خارجی شکایت و احتساب کو اپنا نقطہ آغاز بنائے ایسی حالت میں یہی ممکن ہے کہ مسلمانوں کو نہ اپنے مسئلہ کی نوعیت معلوم ہو اور نہ اٗس کا

احمد آباد میں ایک سال پہلے بھیانک فساد ہوا تھا۔ موجودہ سفر میں مجھ کو بہت سے ایسے مسلمان ملے جنہوں نے اپنے گھر اور دُکان کو دکھایا۔ اُنہوں نے بتایا کہ یہ سب ایک سال پہلے جل چکے تھے۔ آج دیکھئے تو وہاں کھنڈر کے بجائے نئی تعمیر کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ زندگی دوبارہ معمول پر آتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر خالق نے عجیب وغریب صفت رکھی ہے۔ جسم میں ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کا ایک خودکار نظام قائم ہے۔ یہی معاملہ انسانی ذہن کا ہے۔

فطرت کے زور پر بربادی کے بعد دوبارہ تعمیر کی لامحدود صلاحیت رکھتا ہے۔

میرے نزدیک گجرات کے حادثہ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اس دنیا میں تخریب وقتی ہے اور کوئی شخص آپ کو وقتی یا جزئی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے مگر کوئی بھی اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ فطرت کے قانون کو بدل سکے۔ ہر تخریب کے مقابلہ میں آخر کار فطرت کا قانون غالب آتا ہے۔ وجہ ہے کہ تاریخ میں ہم بار بار دیکھتے ہیں کہ زندگی کا قافلہ وقتی ٹھہراؤ کے بعد دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ سرگرم سفر ہو گیا۔

گجرات کے سفر میں مجھے جو مسلمان بھی ملا، ہر ایک نے یہی کہا کہ گجرات کا فساد ایک منصوبہ بند فساد تھا، وہ سازش کے تحت کیا گیا۔ میں نے کہا کہ یہ سب ہمارے لکھنے اور بولنے والوں کی باتیں ہیں جن کو آپ پڑھ کر یا سن کر دہرا رہے ہیں۔ اس طرح کے معاملہ میں قرآن میں بھی ایک واضح بات لکھی مگر آپ حضرات نے اُس پر غور نہیں کیا۔ اس لیے کہ آپ نے قرآن کو کتاب تدبر نہیں بنایا، آپ نے قرآن کو صرف کتاب تلاوت بنانے کو کافی سمجھ لیا۔

میں نے کہا کہ قرآن میں واضح طور پر یہ آیت موجود ہے: وإن تصبروا و تتقوا لا يضركم كيدهم شيئا (آل عمران ۱۲۰) یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو اُن کی کوئی بھی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ اس آیت سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان کے لیے اصل مسئلہ سازش کا ہونا نہیں ہے بلکہ صبر اور تقویٰ کا نہ ہونا ہے۔ اگر کسی گروہ کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود ہے تو یہ صبر و تقویٰ ان کے لیے ہر سازش کے خلاف ایک چیک بن جائے گا۔ لفظوں میں یہ کہ اگر کوئی مسلم گروہ کسی مخالف گروہ کی سازش کا نشانہ بنے تو یہ یقین کرنا چاہئے کہ صبر و تقویٰ کے نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ ایسے ہر حادثہ کے بعد تمام لکھنے اور بولنے والوں کو صبر اور تقویٰ کی اسپرٹ جگانے پر مصروف ہو جانا چاہئے، نہ یہ کہ وہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف شکایت اور احتجاج کی مہم میں لگ جائیں۔

یہاں میری ملاقات جن لوگوں سے ہوئی اُن میں سے ایک محمد حسن جوہر صاحب تھے۔

کے اندر میں نے استثنائی طور پر یہ صفت دیکھی کہ وہ اپنی بات چیت میں ہندو اور مسلمان کے درمیان تفریق اور امتیاز نہیں کرتے تھے۔ وہ ہر ایک کے لیے انسانی انداز میں کلام کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے اندر یہ سوچ کیسے آئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ اُن کی ماں اس معاملہ میں انسانی مزاج رکھتی تھیں۔ وہ تفریق کی بولی کو ناپسند کرتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ نو جوانی کی عمر میں ایک بار اُن کے یہاں اسکول کا ایک طالب علم اُن سے ملنے کے لیے آیا۔ جب وہ چلا گیا تو میری ماں نے پوچھا کہ یہ کون تھا۔ میں نے کہا کہ یہ ایک ہندولڑکا تھا جو میرے اسکول میں پڑھتا ہے۔ ماں نے فوراً کہا کہ میں نے لڑکے کا نام پوچھا تھا، میں نے لڑکے کا مذہب نہیں پوچھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ والدہ کی اس طرح کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ بچپن ہی سے میرے اندر فرقہ وارانہ تعصب کا مزاج ختم ہو گیا۔ میں ہر ایک کو انسان کی نظر سے دیکھنے لگا، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔

ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ کچھ لوگ نا سمجھی کے تحت میرے بارہ میں یہ کہتے ہیں کہ میں ہندوؤں کا کٹر حامی ہوں۔ یہ بلاشبہ ایک لغو بات ہے۔ کوئی بھی شخص جو دہلی میں میرے پاس آتا جاتا ہو یا میرے پاس رہتا ہو، اُس سے آپ پوچھیں تو یقینی طور پر وہ کہے گا کہ یہ میرے اوپر سراسر ایک غلط الزام ہے۔ میں نے کہا کہ کوئی شخص میرے نقطۂ نظر سے اختلاف کر سکتا ہے۔ نقطۂ نظر سے اختلاف کرنا عین جائز ہے۔ ہر مدرسہ میں درسِ حدیث کی کلاس میں علماء اور ائمہ کے خلاف کھل کر اظہار خیال کیا جاتا ہے مگر کوئی اُس کو غلط نہیں بتاتا۔ لیکن کسی شخص کو ہندوؤں کا حامی یا ایجنٹ بتانا کردار کشی کی بات ہے اور کردار کشی بلاشبہ حرام ہے۔ کردار کشی ایک ایسا جرم ہے جو اللہ تعالیٰ کے یہاں قابلِ معافی نہیں الاّ یہ کہ آدمی کھلے طور پر اُس سے رجوع کرے۔

۲۶ جنوری کی صبح کو نمازِ فجر کے بعد میں ہوٹل سے باہر نکلا۔ جناب جوہر صاحب کے ساتھ ٹہلتے ہوئے ہم ٹیگور ہال کے علاقہ میں پہنچے اور اس کے پارک میں ٹہلنے لگے۔ یہاں کچھ لوگ ٹہلتے ہوئے دکھائی دیے ۔ وہ میرے پاس آئے اور مجھ کو سلام کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔

نے کہا کہ ہم لوگ نماز فجر سے فراغت کے بعد یہاں ٹہلنے کے لیے آجاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بہت اچھی عادت ہے۔ پھر میں نے انہیں ایک حدیث سنائی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: من صلی الصبح فہو فی ذمۃ اللہ ( صحیح مسلم کتاب المساجد ، سنن الترمذی کتاب الصلاۃ ، ابن ماجہ کتاب الفتن ، مسند احمد ) یعنی جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کی ذمہ داری میں آ گیا۔ اس حدیث میں نماز فجر کی ادائیگی کا جو فائدہ بتایا گیا ہے وہ کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ کر کے اس فائدہ کو سمجھ سکتے ہیں۔ نماز ایک اعتبار سے خدا سے قربت تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ دوسرے اعتبار سے وہ تنظیم اوقات ( time management ) کا ذریعہ ہے۔ پانچ نمازوں کی بروقت ادائیگی آپ کے اوقات کو منظم کر دیتی ہے۔ مثلاً صبح کی نماز وقت پر ادا کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ آپ صبح کو سویرے اُٹھ جاتے ہیں۔ وضو اور نماز ایک اعتبار سے صبح کی ہلکی ورزش ہے۔ پھر اس کی وجہ سے آپ کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ آپ گھر سے باہر آ کر ٹہل سکیں اور صبح کی آکسیجن لے سکیں۔ اسی طرح صبح کے وقت آپ کی ان سرگرمیوں کے درمیان دوسروں کے ساتھ آپ کا انٹراکشن ہوتا ہے۔ کے کمرے میں گھنٹوں تک پڑے رہنے کے بجائے باہر کی دنیا میں آتے ہیں اور اپنے ذہن کو وسیع کرتے ہیں ، وغیرہ۔

۲۶ جنوری کو صبح کا ناشتہ فرید بھائی کی رہائش گاہ پر تھا۔ یہاں اُن کے صاحب زادگان اور خاندان کے دوسرے لوگ موجود تھے۔ اُن سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ آج کل نوجوانوں میں یہ رجحان ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرکے باہر جانا چاہتے ہیں۔ رجحان کو غلط سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک اپنا وطن چھوڑنا کسی اعلیٰ مقصد کے لیے تو ضرور درست ہے مگر صرف زیادہ کمائی کے لیے باہر جانا ہرگز درست نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ من کانت ہجرتہ الی الله ورسوله فہجرتہ الی الله ورسوله و من کانت ہجرتہ الی دنیا یصیبہا، او الی امرأة ینکحہا، فہجرتہ الی ما ہاجر اليه ۔

ہجرت اسلام میں ایک بہت بابرکت عمل مانا گیا ہے۔ مگر اسلام کے مطابق ، مطلوب ہجرت

وہی ہے جو مقصد حق کے لیے کی گئی ہو۔ اس کے برعکس جو آدمی دنیا کو پانے کے لیے ہجرت کرے وہ ممکن ہے کہ دنیا کو پالے مگر وہ خدا کی رضا کو نہیں پا سکتا۔ اس حدیث میں واضح طور پر معاشی اور مادی ہجرت کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے اندر نہایت گہری حکمت چھپی ہوئی اس کا ایک نمونہ پاکستان میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے قیام کے ابتدائی زمانہ میں وہاں بڑی تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ جمع ہو گئے تھے۔ مگر جلد ہی بعد مادی ترقی کے شوق میں لوگ پاکستان چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں چلے گئے۔ یہی سب سے بڑا سبب ہے کہ پاکستان نصف صدی سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود اب تک ترقی یافتہ ملک نہ بن سکا۔

۲۶ جنوری کو ہوٹل آرام میں محمد حسن جوہر صاحب سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وہ ایک انسان دوست اور درد مند شخص ہیں۔ اُن سے جو باتیں ہوئیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے کہا کہ آدمی کو آئیڈیل اور پریکٹیکل میں فرق کرنا چاہیے۔ میں نے پایا ہے کہ اکثر لوگ دونوں میں فرق کو شعوری طور پر نہیں جانتے۔ اس لیے وہ کوئی بڑا کام نہیں کر پاتے۔

میں نے کہا کہ آپ اپنی ذات کے لیے آئیڈیل بن سکتے ہیں مگر جب آپ سماج میں آئیں اور دوسروں کے درمیان کام کریں تو لازمی طور پر آپ کو پریکٹیکل بننا پڑے گا۔ یہ زندگی کی حکمت ہے اور اس حکمت کے بغیر سماجی زندگی میں کوئی نتیجہ خیز کام کرنا ممکن نہیں۔

اکثر لوگ پریکٹیکل نہیں بن پاتے۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پریکٹیکل بننے کا مطلب اصول پر سمجھوتہ کرنا ہے۔ حالاں کہ یہ نا سمجھی کی بات ہے۔ پریکٹیکل بننے کا مطلب اصول پر سمجھوتہ کرنا نہیں ہے بلکہ اصول کو قائم کرنے کے لیے عملی راستہ نکالنا ہے۔ یہ دراصل ایک عملی تدبیر ہے جو آپ کو غیر ضروری ٹکراؤ سے بچاتی ہے۔ یہ تدبیر آپ کی کوشش کو قابل بقا کوشش (sustainable effort) بنا دیتی ہے۔ یہ ایک حکمت ہے جو اس بات کی ضامن ہے کہ آپ غیر ضروری ٹکراؤ سے بچتے ہوئے اپنی کوشش کو مسلسل جاری رکھیں، یہاں تک کہ آپ اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔

جو ہر صاحب سے ایک اور موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور وہ کنفیوژن کا مسئلہ ہے۔ میں نے کہا

کہ موجودہ زمانہ میں بے شمار تقریریں ہو رہی ہیں اور بے شمار تحریریں چھپ رہی ہیں۔ لیکن اگر جائزہ لیجئے تو ابھی تک لوگوں پر واضح نہیں کہ ہمارے لیے راہِ عمل (line of action) کیا ہو۔ اس کا سبب میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ لکھنے اور بولنے والے افراد خود کنفیوژن میں مبتلا ہیں۔ اپنی تقریروں اور تحریروں میں صرف اپنے کنفیوژن کو بکھیرتے ہیں۔ ایسی حالت میں لوگوں کو کوئی واضح راہ عمل کیسے مل سکتی ہے۔

مثال کے طور پر فرقہ واریت (communalism) کے مسئلہ پر پچھلے سو برس میں بے شمار صفحات لکھے اور چھاپے گئے ہیں۔ مگر فرقہ واریت کو ختم کرنے میں وہ کچھ بھی کارآمد نہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اس موضوع پر لکھنے اور بولنے والے تقریباً تمام لوگ ’’انصاف‘‘ کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل ڈھونڈھ رہے ہیں۔ حالانکہ اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ انصاف اور قانون کا تقاضا کیا ہے۔ بلکہ یہ دیکھا جائے کہ صورت موجودہ کی روشنی میں اُس کا عملی حل کیا دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس معاملہ میں آئیڈیلزم نہ چلایا جائے بلکہ پریکٹیکل بنیاد پر اُس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہی ہے۔ مگر بدقسمتی سے اب تک کسی نے بھی اس اصلی حل کی طرف نشان دہی نہیں کی۔

ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ گفتگو کے دوران میں نے دیکھا کہ وہ لمبی چوڑی باتیں کرتے ہیں۔ ساری دنیا کے مسائل کا حوالہ دیتے ہیں۔ تمام ملکی اور غیر ملکی معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنے مشن کو بین اقوامی اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ طریقہ صحیح نہیں۔ آپ کا فکری فوکس بہت پھیلا ہوا ہے۔ اس فوکس کو سمیٹیے ورنہ آپ اپنے آپ کو ضائع کر دیں گے۔

میں نے کہا کہ سائنسی طرزِ فکر کی ایک شرط یہ ہے کہ آدمی غیر متعلق چیزوں کو حذف کر کے ایک پوائنٹ پر اپنے ذہن کو مرتکز کر سکے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مشہور واقعہ کے مطابق ، نیوٹن نے دیکھا کہ ایک سیب شاخ سے ٹوٹ کر زمین پر گر پڑا۔ اس واقعہ کے بہت سے پہلو تھے۔ مثلاً یہ کہ

سیب کچا ہے یا پکا ۔ اُس کو کسی گلہری نے توڑ کر گرایا ہے یا وہ اپنے آپ گر پڑا ہے۔ درخت کے دوسرے سیبوں کے مقابلہ میں اُس کا سائز چھوٹا ہے یا بڑا ۔ وہ خراب ہے یا اچھا سیب ہے، وغیرہ۔ اس قسم کے مختلف سوالات کو چھوڑ کر اُس نے صرف ایک سوال پر سوچنا شروع کیا۔ وہ کہ یہ سیب شاخ سے ٹوٹ کر نیچے کیوں آیا، وہ اوپر کیوں نہیں چلا گیا۔ اسی ترکیزی فکر کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ نیوٹن قانون کشش کو اگر اُس کی سوچ مختلف چیزوں میں بکھر جاتی تو وہ کیہ بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ جدید تعلیم یافتہ تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے میں مذہب کی خدمت نہیں کرنا چاہتا بلکہ میں انسان کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ کی یہ سوچ مذہب کے بارہ میں غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ آپ اہل مذاہب کے اندر رسوم وروایات کے ہنگاموں کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہی مذہب ہے۔ حالاں کہ وہ سرے سے مذہب ہی نہیں۔ معرفت حق کا نام ہے اور جب کسی آدمی کو حقیقی معنوں میں حق کی معرفت حاصل ہو جائے تو اُس کے اندر لازمی طور پر انسان کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی خیر خواہی کے عملی اظہار کا نام انسانی حقیقت یہ ہے کہ مذہب اور انسانی خدمت دونوں کے درمیان نہایت گہرا تعلق ہے۔ جہاں سچا مذہب ہو وہاں انسانی خدمت بھی ضرور ہوگی۔ دونوں کا ایک دوسرے سے جدا ہونا ممکن نہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ احمد آباد میں ۱۰ لاکھ مسلمان ہیں۔ مگر یہاں مسلمانوں کا نہ کوئی اچھا تعلیمی ادارہ ہے اور نہ ہی اُن کا کوئی قابل ذکر رفاہی ادارہ۔ اگر یہاں مسلمانوں کے تعلیمی اور رفاہی ادارے ہوتے تو ناممکن تھا کہ یہاں مسلمانوں کے خلاف فساد ہو۔

میں نے کہا کہ آپ کی بات بالکل درست ہے۔ اسلام کی ایک تعلیم یہ ہے کہ مسلمان جہاں بھی ہوں وہاں وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بن کر رہیں ۔ اسی کی منظم صورت کا نام رفاہی ادارہ ہے۔ رفاہی ادارہ اپنی اصل کے اعتبار سے انسانی خدمت ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اُس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جب سماج میں رفاہی کام کیے جائیں تو لوگوں کے اندر باہمی نفرت پرورش نہیں پائے گی۔ دوسرے کو اپنا سمجھیں گے۔ لوگوں کے درمیان حُسن ظن کی نفسیات کو فروغ ملے گا۔

میں اپنے آپ باہمی لڑائی جھگڑے کی نفسیات ختم ہوتی رہتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو اپنا دوست سمجھنے لگتے ہیں، نہ کہ اپنا دشمن۔ ظاہر ہے کہ ایسے ماحول میں امن کو فروغ ملے گا، نہ کہ تشدد کو۔ احمد آباد میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک دینی جماعت سے وابستہ تھے۔ بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ گجرات کے فساد کے دوسرے پہلوؤں پر بہت بولا اور لکھا گیا ہے۔ اس کا جواہم ترین پہلو ہے اس پر ابھی تک نہ کوئی کچھ بولا اور نہ کسی نے کچھ لکھا۔ پھر میں نے کہا کہ گجرات ملک کی وہ ریاست ہے جس کے بارے میں برسوں سے کہا جاتا رہا ہے کہ یہاں دینی محنت کرنے والوں نے دین کی ہوائیں چلا دی ہیں۔ یہاں کی مسجدیں اور مدرسے خوب آباد ہیں۔ یہاں مختلف قسم کی اسلامی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ مزید یہ کہ یہاں کے مسلمانوں نے معاشی اعتبار سے کافی ترقی کی ہے، مثال کے طور پر ہوٹل کی انڈسٹری میں۔ مگر ان سب کے باوجود گجرات میں ملک کا سب سے زیادہ بھیانک فساد ہوا۔ یہ بات بہت زیادہ سوچنے کی ہے کہ دینی سرگرمیوں کے باوجود ایسا کیوں ہوا۔

میں نے اس سوال پر کافی غور کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ ”دینی محنت“ کے ساتھ ”شعوری محنت درکار ہے جو گجرات میں نہیں کی گئی۔ یہاں یہ ہوا کہ کچھ لوگ بزرگوں سے برکت لے کر اپنے کاروبار کو ترقی دینے لگے۔ کچھ لوگوں نے مسجد اور مدرسے کی شاندار عمارتیں بنانے کو کام کچھ لوگوں نے نقل و حرکت کو سب سے بڑا دینی کام سمجھ لیا۔ کچھ لوگوں نے مختلف نام سے اسلامی ادارے بنا کر یہ سمجھا کہ انہوں نے اسلام کا جھنڈا گاڑ دیا ہے، وغیرہ۔

اس طرح گجرات کے مسلمان گجرات میں اپنا ایک دینی جزیرہ بنا کر اس کے اندر رہنے لگے۔ بطور خود انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ ایک محفوظ ملی قلعہ میں جی رہے ہیں۔ انہیں اس بات کی خبر نہ تھی کہ ان کے سوا جو اکثریتی فرقہ گجرات میں آباد ہے اس کی سوچ کیا ہے۔ ان لوگوں کے اندر کس قسم کے خیالات پرورش پا رہے ہیں۔ اس بے خبری کا ایک نتیجہ وہ ہے جو ۲۸ فروری ۲۰۰۲ میں شروع ہونے والے فسادات کی صورت میں مسلمانوں کو ملا۔

اصل یہ ہے کہ ایک ہزار سال پہلے محمود غزنوی نے باہر سے آکر سومنات پر حملہ کیا۔ اس نے کئی حملے کئے اور یہاں کے مندر کو توڑا اور اس کو لوٹا۔ یہ مندر ہزار سال تک کھنڈر کی صورت میں غزنوی حملہ کی یاد دلاتا رہا۔ یہاں تک کہ آزادی کے بعد نہرو گورنمنٹ نے وہاں از سرِ نو مندر کی تعمیر کی۔ غلطی یہ ہوئی کہ میرے علم کے مطابق ، کسی بھی قابلِ ذکر مسلمان نے محمود غزنوی کے اس سراسر غیر اسلامی واقعہ کی مذمت نہیں کی۔

اسی کے ساتھ ملی تشخص کے انتہا پسندانہ مزاج کی بنا پر مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان اختلاط (interaction) بھی عملاً نہ ہو سکا جو غلط فہمیوں کو دور کرنے کا ذریعہ بن سکتا تھا۔ میں پاکستان نے اپنے میزائل کا نام غزنوی رکھ کر ایک بم کا کام کیا۔ یہ ساری ناموافق صورت حال مسلسل طور پر پرورش پاتی رہی۔ مگر مسلمانوں کے عوام و خواص اپنی بے شعوری کی بنا پر اس سے بے

اسی ناموافق صورت حال کا پہلا اظہار ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو ہوا جب اجودھیا کی بابری مسجد اس واقعہ میں شامل ہونے والے ہندو نوجوانوں کی بیشتر تعداد گجرات کے سیوکوں کی تھی۔ اس واقعہ پر مسلمانوں کو چوکس ہو جانا چاہیے تھا مگر انہوں نے صرف برا بھلا کہنے کو کافی سمجھا۔ قابلِ ذکر مسلمان نے حالات کا گہرا تجزیہ کر کے مسلمانوں کو رہنمائی دینے کی کوشش نہ کی۔ میں یہ لاوا مسلسل طور پر پکتا رہا اور گجرات یا غیر گجرات کے کسی بھی مسلمان کو اپنے غیر حقیقت پسندانہ ذہن کی بنا پر اس کی خبر نہ ہوسکی۔ یہی لاوہ ہے جو گجرات کے فساد (فروری ۔ مارچ ۲۰۰۲) کی صورت

اب یہاں کے مسلمانوں کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر نظر ثانی کریں۔ کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کے اندر بڑے پیمانہ پر شعوری بیداری کی مہم چلائیں۔ وہ ہندوؤں سے معتدل تعلقات قائم کریں۔ وہ یہاں صرف لینے والے گروہ (taker group) بن کر نہ رہیں بلکہ دینے والے گروہ (giver group) بن کر رہنے کی کوشش کریں۔ وہ غزنوی حملہ یا غزنوی میزائل

جیسے واقعات کی کھلی مذمت کریں۔ وہ اپنی اس سوچ کو ختم کریں کہ فلاں سیکولر ہندو ہے اور فلاں متعصب ہندو ہے۔ یا فلاں پارٹی مسلم دشمن ہے اور فلاں پارٹی مسلم دوست ہے۔ وہ ہر ایک کو انسان کی نظر سے دیکھیں۔ وہ ہر ایک کے ساتھ یکساں طور پر اختلاط (interaction) کریں۔ طور پر نہیں بلکہ مخلصانہ طور پر برادران وطن کے ساتھ خوشگوار تعلقات بنائیں ۔ یہی مسئلہ کا واحد حل دوسری کوئی بھی تدبیر اس مسئلہ کو ختم نہیں کر سکتی۔

ایک صاحب نے پاکستان کا ایک ماہنامہ دکھایا۔ اس میں لکھا ہوا تھا کہ ۔ یہود اور ہنود اسلام کے ازلی دشمن ہیں۔ اسی پرچے میں علامہ اقبال کی بہت زیادہ تعریف کی گئی تھی۔ میں نے کہا کہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں اُن سے پوچھنا چاہئے کہ آپ کے محبوب شاعر نے کہا ہے کہ :

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود اب سوال یہ ہے کہ اگر ہنود اور یہود اسلام کے دشمن ہیں تو اقبال کے مذکورہ بیان کے مطابق، مسلمان کو کس خانہ میں رکھا جائے گا۔

ایک صاحب نے ایکتا کارواں (جنوری ۲۰۰۳) کا ذکر کیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ ایکتا کارواں کے جلسہ میں شریک ہوئے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے پوچھا کہ وہاں کیا باتیں کہی گئیں۔ اُنہوں نے ایک مقرر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان مایوس نہ ہوں۔ انڈیا میں اب بھی ایسے ہندو ہیں جو سیکولر ہیں، جو گاندھیائی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی بات نہیں جس کو کہنے کے لیے آل انڈیا ایکتا کارواں کا اہتمام کیا میں نے کہا کہ شخصیتوں کے اوپر زندگی کی تعمیر نہیں ہوتی۔ شخصیتیں آج ہیں اور کل نہیں۔ کہ گاندھی اور نہرو پہلے تھے مگر آج وہ نہیں ہیں۔ مسلمانوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ تم خود اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرو کہ تم خود اپنی صلاحیت کے بل پر کھڑے ہو سکو۔ تم خود اپنی صلاحیت کے بل پر اپنی جگہ بناؤ۔ تم اپنی اعلیٰ کارکردگی کے ذریعہ ملک کی ضرورت بن جاؤ اور پھر ہر مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔

احمد آباد کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ میں نے اپنے تجربہ سے سمجھا ہے کہ مسلمانوں میں اعتراف کا مادہ نہیں۔ مسلمان خود غلطی کرکے حالات کو بگاڑتے ہیں اور پھر جب اُس کا برا نتیجہ سامنے آتا ہے تو وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنی غلطی کو مان لیں۔ میرے نزدیک غلطی پر پردہ ڈالنا غلطی پر ایک اور غلطی کا اضافہ ہے۔ غلطی کو مان لینا اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی دوبارہ وہ غلطی نہیں کرے گا۔ چونکہ مسلمان اپنی غلطی نہیں مانتے اس لیے وہ بار بار اُسی غلطی کو دہراتے رہتے ہیں۔ احمد آباد کی سڑکوں اور اُس کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ احمد آباد میں شہری ترقی زیادہ نہیں ہوئی۔ حالاں کہ احمد آباد ایک دولت مند شہر مانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں پولیٹکل لیڈر زیادہ منفی ذہن کے ہوئے، مثبت ذہن کا کوئی لیڈر یہاں نہیں اُھرا۔ جیسا کہ حیدر آباد میںچندرا بابو نائیڈو کی مثال میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر احمد آباد کے سیاسی لوگ اتنے بے شعور تھے کہ انہوں نے پچھلے فساد کے موقع پر یہاں کے بہت سے ہوٹل جلا دیے۔ جب کہ چندرا بابو نائیڈو نے ان لوگوں کو آندھرا پردیش میں بلا کر وہاں جگہ دی تا کہ وہاں ٹورزم کو ترقی ہو۔

احمد آباد میں کچھ مسلمانوں نے فساد کے حوالہ سے بربادی کی کہانی بیان کی اور کچھ لوگوں نے یہ بتایا کہ فساد کے بعد کافی نئی تعمیرات ہوئی ہیں۔ میں نے کہا کہ مشہور قصہ کے مطابق، میز پر شیشہ کا ایک گلاس رکھا ہوا تھا۔ اس میں آدھا گلاس پانی تھا۔ جب اُس کے بارے میں پوچھا گیا تو کسی نے کہا کہ آدھا گلاس بھرا ہوا ہے اور کسی نے کہا کہ آدھا گلاس خالی ہے۔ یہی فرق مجھے مذکورہ لوگوں میں نظر آیا۔ مسلمانوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ قوموں کی زندگی میں سب سے زیادہ اہم چیز قوموں کا مزاج ہوتا ہے۔ قومی مزاج اگر صبر اور احتیاط اور حقیقت پسندی اور اعتراف کا ہو تو ہر موقع پر خود بخود لوگ صحیح روش اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر جوش اور اشتعال اور لڑنے بھڑنے جیسا مزاج ہو تو ہر موقع پر اُن کی روش غلط ہو جاتی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ یہ قومی مزاج قوم کے بڑے لوگ بدقسمتی سے برصغیر ہند میں پچھلے دو سو سال کے درمیان جور ہنما اُٹھے وہ زیادہ تر ایسے لوگ

تھے جنہوں نے مسلمانوں کو جذباتی طور پر ابھارا۔ انہیں غیر دانش مندانہ اقدامات کی طرف چلایا۔ اس سے قومی مزاج بگڑ گیا۔

یہی معاملہ اکثر دوسرے لیڈروں کے بھی ہے۔ مثلاً مہاتما گاندھی نے ہندوستانیوں کو تشدد سے روکا مگر اس کے ساتھ انہوں نے ’’سیاسی حقوق‘‘ کے نام پر جو تحریک اٹھائی اُس نے پوری قوم کو رائٹ کانشس (right conscious) بنا دیا، جب کہ صحیح یہ تھا کہ لوگوں کو ڈیوٹی کانشس (duty conscious) بنایا اسی طرح ساؤتھ افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے اگرچہ لوگوں کو تشدد سے روکا مگر اس کے ساتھ انہوں نے سفید فام لوگوں کے خلاف افریقی عوام کو بھڑکایا۔ اس غلط مزاج کا نتیجہ آزادی کے بعد یہ نکلا کہ ساؤتھ افریقہ میں سماجی جھگڑے بہت زیادہ بڑھ گئے جو اب تک جاری ہیں۔

ایک صاحب نے اقبال کے کچھ اشعار پڑھے اور کہا کہ ایک وقت تھا کہ مسلمان یہاں غالب حیثیت رکھتے تھے۔ اب مسلمان یہاں مغلوب بنے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ غالب حیثیت اور مغلوب حیثیت کی یہ تقسیم بذات خود غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا مسلمان ہر جگہ پہلے کے مقابلہ میں ہر اعتبار سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ اُس وقت میں اُن کے گھر میں بیٹھا ہوا تھا۔ پختہ گھر، جدید فرنیچر، ٹیلی فون، گھر کے سامنے کار، وغیرہ۔

میں نے کہا کہ یہ زندگی جو آج آپ کو حاصل ہے وہ نام نہاد غالب دور میں کسی بھی مسلمان کو حاصل نہ تھی۔ اُس زمانہ میں کسی کے پاس نہ ایسا مکان تھا، نہ ایسا فرنیچر، نہ ایسی سواری اور نہ اس قسم کے پر راحت سامان۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں کے لیے شکر کا موقع ہے، نہ کہ غم کا موقع۔ کہا کہ مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کی غلط رہنمائی کرکے غیر ضروری طور پر انہیں احساس پس ماندگی میں مبتلا کر دیا ہے۔

ایک مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک مغل شہزادی کا آئینہ اُس کی کنیز کے ہاتھ سے گر کر کنیز نے احساس ندامت کے ساتھ کہا:

Printed page