غم کو دعا میں ڈھالنا
Al-Risala, January 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۱۲ میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا ہے۔ اُن کے سوتیلے بھائیوں کے غلط سلوک کی وجہ سے وہ وقت آ یا جب کہ حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب بظاہر اپنے دو عزیز بیٹوں سے محروم ہو گئے ۔ اس حادثہ کے وقت حضرت یعقوب علیہ السلام کی زبان سے یہ دعائیہ کلمہ نکلا: انما أشکوا بثي وحزنى الى الله (یوسف (۸۶) یعنی میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں۔
پیغمبر کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ ایک اہم حقیقت کو بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن جب کسی غم سے دوچار ہوتا ہے تو وہ عام انسان کی طرح آہ اور فریاد میں مبتلا نہیں ہوتا بلکہ اس کا ایمانی شعور اُس کے غم کو دعا میں ڈھال دیتا ہے۔ وہ اللہ کی طرف رجوع ہو کر اُس سے التجا کرنے لگتا ہے کہ وہ اُس کے کھونے کو یافت میں بدل دے، وہ اُس کی محرومی کی حسن تلافی فرمائے۔ کسی انسان کے ساتھ جب غم اور محرومی کا تجربہ پیش آتا ہے تو اُس وقت اُس کے لیے ردعمل کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک ہے، انسانوں کی طرف دیکھنا، اور دوسرا ہے، خدا کی طرف دیکھنا۔ حادثہ کے وقت انسان کی طرف دیکھیں وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ انسان کے خلاف فریاد و فغاں میں مبتلا مگر جس شخص کا یہ حال ہو کہ وہ اس قسم کے تجربہ کے بعد خدا کو یاد کرنے لگے، وہ چھیننے والے کے بجائے دینے والے کو اپنا مرکز تو جہ بنا لے گا۔ اُس کا ذہن مایوسی کے بجائے اُمید کا آشیانہ بن جائے گا۔ دعا ایک طاقت ہے۔ نازک وقتوں میں دعا مومن کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ دعا اس اعتماد کا سر چشمہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی کھونا آخری نہیں، بلکہ ہر کھونے میں از سرِ نو پانے کا راز چھپا ہوا ہے۔ ہر آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ ایسے لمحات میں خدا سے دعا کرنا آدمی کے دل کو سکون بخشتا ہے۔ دعا گو یا کسی آدمی کے لئے کرائسس مینجمنٹ (crisis management) کا بہترین ذریعہ ہے۔