Al-Risala · January 2003

Don't preach, just teach.

Al-Risala, January 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

۲ جون کی صبح کو ۱۰ بجے یہاں کے وسیع ہال میں ایک جلسہ تھا۔ اس میں گانے بجانے کے پروگرام کے علاوہ ایک خصوصی پروگرام تھا۔ وہ بھگوت کتھا (کرشن کتھا) کا پروگرام تھا۔ اس پروگرام کو شری کانت ویاس نے کیا۔ وہ بھگوت کتھا کے ایکسپرٹ مانے جاتے ہیں۔

اس پروگرام میں مجھے اسٹیج پر بٹھایا گیا تھا۔ ہال کے اندر بڑی تعداد میں مرد اور عورتیں موجود تھیں ۔ ہر ایک خوشی سے سرشار دکھائی دیتا تھا۔ مگر میرا حال یہ تھا کہ میں شدید غم کی وجہ سے مسلسل رو رہا تھا۔ میں دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر رہا تھا کہ خدایا، یہ لوگ میرے وطنی بھائی ہیں۔ ان کے لئے ہدایت کے دروازے کھول دے، تو ان کو جنت کا مسافر بنا دے۔

ایک بات کو سوچ کر میرا دل ہمیشہ تڑپ اٹھتا ہے۔ ہندوستان کے مسلم علماء اور مسلم دانشور عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ ظلم اور تعصب کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ میرے نزدیک اس ملک میں ہمارے لئے جو سب سے بڑی مصیبت پیدا ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت اور تناؤ کا ماحول قائم ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ناممکن ہو گیا ہے کہ معتدل فضا میں کھلی بات چیت (open dialogue) کیا جاسکے۔ مسلمان ایک عالمی مشن کے حامل ہیں۔ اس اعتبار سے سب سے زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ مسلمانوں اور دیگر اقوام کے درمیان آزادانہ ڈائیلاگ کے مواقع موجود ہوں ۔ مگر مسلم رہنماؤں اور مسلم دانشوروں کی ناقابل فہم نادانی کی بنا پر سب سے زیادہ ملک میں اس مطلوب چیز کا خاتمہ ہو گیا۔ مسلمانوں کے اوپر لازم ہے کہ وہ یک طرفہ صبر و اعراض کے ذریعہ دوبارہ ایسا ماحول قائم کریں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے یہاں قابل معافی نہ ٹھہریں گے ، خواہ انہوں نے شاندار مسجدیں بنا رکھی ہوں اور بظاہر ان مسجدوں کو نمازیوں سے بھر دیا ہو۔

شری کانت ویاس کو کتھا کرنے کی خصوصی مہارت حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی کتھا میں بہت سی عوام پسند باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ کرشن کے بنا بھی کام چل اور دوسرا یہ کہ کرشن کے بنا کام ہی نہیں چل سکتا۔ اپنے اس نظریہ کے ثبوت کے لیے انہوں نے ایک مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ آپ سبزی لینے کے لیے بازار جائیں۔ آپ کی چاہ تھی کہ آپ پرول لیں گے۔ لیکن اگر بازار میں پرول نہ ہو تو آپ بھنڈی یا کوئی بھی سبزی لے کر واپس آ جائیں لیکن اگر آپ کے گھر میں ایک مریض ہے اور ڈاکٹر کہتا ہے کہ اس کو انار کھلاؤ۔ اب اگر آپ انار لانے کے لیے بازار جائیں اور ایک دکان پر انار نہ ہو تو آپ دوسری دکان پر جائیں گے۔ یہاں تک کہ انار حاصل کرنے کے لئے پورا بازار چھان ماریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج کل لکھ پتی اس کو سمجھا جاتا ہے جس کے پاس لاکھ روپیہ ہو اور کروڑ پتی اس کو سمجھا جاتا ہے جس کے پاس کروڑ روپیہ ہو۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ لکھ پتی وہ ہے جو لاکھ بار کرشن کا نام لے اور کروڑ پتی وہ ہے جو کروڑ بار کرشن کا نام لے۔ میں نے دیکھا کہ مقرر کے اس قسم کے الفاظ کو سن کر حاضرین جوش سے بھر جاتے تھے۔ حالانکہ اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ صرف الفاظ کا کھیل ہے، اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ الفاظ کا یہ کھیل خود مسلمانوں میں بھی اتنا ہی پایا جاتا ہے جتنا کہ دوسرے لوگوں میں۔

انہوں نے کہا کہ گیتامیں ایک بہت بڑی بات کہی گئی ہے۔ مہا بھارت میں جب ارجن لڑائی کے لئے آگے بڑھنے سے ہچکچار ہے تھے تو کرشن نے ان کو اکساتے ہوئے کہا کہ تم سوچتے ہو کہ میں ان زندہ لوگوں کو کیسے ماروں۔ مگر میں تم کو بتا تا ہوں کہ یہ مرتیو نہیں، بلکہ یہ تو چولا بدلنا ہے۔ یہ سن کر میں نے ایک صاحب سے کہا کہ چولا بدلنے کا یہ نظریہ اگر کسی سماج میں عام ہو جائے تو اس سماج کا کیسا عجیب وہ میری اس بات کو سن کر مسکرا دیے۔

۲ جون کی شام کو خصوصی پروگرام تھا۔ اس پروگرام کے لیے عین گنگا کے اوپر ایک بہت بڑا رنگا رنگ پلیٹ فارم بنایا گیا تھا۔ بہت سی کشتیوں کے اوپر اس پلیٹ فارم کو قائم کیا گیا تھا۔ اس کے اوپر

بڑی تعداد میں لوگ خصوصی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس پلیٹ فارم میں ذرا بھی جنبش نہیں تھی۔ معلوم ہوا کہ ماہر تیراکوں کی مدد سے گنگا کی تہہ میں بڑے بڑے پتھر جمائے گئے ہیں۔ ان پتھروں کے اوپر بہت سے کھمبوں کو جمایا گیا اور پھر اس کے اوپر خصوصی تکنیک کے ذریعہ مسطح منچ سجایا گیا تھا۔ تک لوگ گنگا کے ساحل پر گنگا کی پوجا کیا کرتے تھے۔ یہاں جدید تکنیک کو استعمال کر کے ایسا منچ بنایا گیا جس کے نیچے گنگا موجیں مارتی ہوئی بہہ رہی تھی اور اس کے اوپر گنگا پوجا کے پروگرام پر سکون طور پر

شام کے پروگرام کے درمیان مغرب کی نماز کا وقت آگیا۔ منچ کے ایک حصہ میں کچھ جگہ خالی یہاں کھڑے ہو کر میں نے مغرب کی نماز پڑھی۔ لوگوں کے بیان کے مطابق، وہاں موجود کیمرہ مین نے میری نماز کا فوٹو بھی لے لیا۔ میرے لئے یہ ایک بڑا عجیب تجربہ تھا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ جس منچ کے اوپر لوگ گنگا کی پرستش کے لئے اکٹھا ہوئے تھے۔ وہاں میں نے لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر خالق گنگا کی عبادت اور پرستش کا فریضہ انجام دیا۔

شام کے اس پروگرام میں اترانچل کے چیف منسٹر نارائن دت تیواری آکر شریک ہوئے۔ ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ آئے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ شام کے اس فنکشن میں ۷ بجے گنگا آرتی کا پروگرام تھا جس کو چیف منسٹر انجام دینے والے تھے۔ مگر چیف منسٹر کے لیٹ آنے کی وجہ سے گنگا آرتی کا یہ پروگرام دیر سے ہوا۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ اس زمانہ میں چیف منسٹر کا درجہ بھگوان سے بھی زیادہ بڑا ہے۔

نارائن دت تیواری نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریر کی۔ میں نے پہلی بار ان کی تقریر وہ اگر چہ ایک تجربہ کار سیاست داں سمجھے جاتے ہیں۔ مگر جہاں تک تقریر کا تعلق ہے، وہ مجھے کوئی اچھے مقرر نظر نہیں آئے۔ انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ میں یہاں مکھیہ منتری کے روپ میں نہیں آیا ہوں بلکہ میں یہاں مکھیہ سیوک کے روپ میں آیا ہوں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں گنگا کے پانی کی صفائی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہری دوار سے لے کر گنگوتری تک گنگا کی صفائی کے لئے جو بھی

پروگرام بنایا جائے گا اس میں اترا نچل گورنمنٹ پوری مدد کرے گی۔

شام کے پروگرام کے خاتمہ پر عشاء کی نماز با جماعت ادا کی گئی۔ میں نے اس کی امامت کی۔ جماعت میں کل چھ آدمی شریک تھے۔ ان میں سے دو ہندو (آر۔ اس قسم کی با جماعت نماز بھی شاید پہلی بار رشی کیش میں پڑھی گئی۔ میرے ساتھ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ہندوؤں نے میرے پیچھے جماعت میں شریک ہو کر نماز پڑھی۔

۲ جون کو شام کا کھانا ایک ایسے مقام پر کھایا گیا جو عین گنگا کے کنارے واقع تھا۔ ہم لوگ ایک میز کے چاروں طرف کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ دوسری طرف گنگا ہلکی موسیقی کے ساتھ مسلسل بہتی ہوئی نظر آتی تھی۔ اس کے آگے دوسری طرف ہمالیہ پہاڑ پھیلا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ اور اس کے اوپر کھلا آسمان اور پھر خالص ہوا کے خوشگوار جھونکے۔ یہ ایک آفاقی منظر تھا جو فطرت کے ناقابل بیان کائناتی حسن کی یاد دلارہا تھا۔

میں نے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کو قرآن کی ایک آیت سنائی : یوم تبدل الارض غیر الارض (ابراہیم ۴۸) یعنی جب ارض کو بدل کر غیر ارض کر دیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ اس آیت میں تبدیلی سے مراد غالباً وہی چیز ہے جس کو کنورژن (conversion) کہا جاتا ہے۔ کنورژن فطرت کا عالمی اصول ہے۔ یہاں ہر چیز کنورژن کے عمل (process) سے گزر کر ارتقا یافتہ صورت اختیار کرتی مثلاً لوہا (ore) بدل کر ایک با معنی انجن بن جاتا ہے۔ مٹی اور معدنیات بدل کر خوراک کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح ہماری پوری دنیا آخر میں ایک سپر کنورژن (super conversion) کے عمل سے گزرے گی اور پھر وہ زیادہ بہتر اور کامل دنیا وجود میں آئے گی جس کو آخرت کی دنیا کہا گیا ہے۔

مختلف اوقات میں کھانے کی میز پر جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ایک ریٹائرڈ جسٹس گردھر مالوی تھے۔ وہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے بانی مدن موہن مالوی کے پوتے ہیں۔ نے ملاقات کے دوران کئی باتیں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے دادانے بنارس یونیورسٹی کو ایک قومی

یونیورسٹی کے طور پر بنایا تھا۔ وہاں ملک کے ہر اسٹیٹ کے لیے کوٹا مقرر تھا۔ حیدر آباد کا بھی ایک کوٹا تھا۔ چنانچہ حیدر آباد کے طلبہ کے لیے وہاں ایک نظام کالونی بنائی گئی تھی جو ابھی تک موجود ہے۔ انہوں نے کئی دلچسپ واقعات بتائے۔ مثلاً انہوں نے بتایا کہ ایک بار مدن موہن مالوی ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ محمد علی اور شوکت علی بھی تھے۔ نماز کا وقت آیا تو علی برادران نے نماز پڑھنے میں دیر کی۔ اس پر مدن موہن مالوی نے یاد دلایا کہ آپ کی عبادت کا وقت آگیا اور ابھی تک آپ نے نماز نہیں پڑھی۔

اگر آپ مدن موہن مالوی کی تصویر دیکھیں اور اس کے نیچے ان کا نام لکھا ہوا نہ ہو تو آپ یقین نہیں کر سکیں گے کہ یہ کسی ہندو کی تصویر ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ان کے چہرے پر شاندار داڑھی ہے اور ان کا لباس بھی مسلم لباس ہے۔ اسی لیے ایک اُردو شاعر نے کہا تھا:

ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی یہ وہ دور تھا جب کہ مسلم کلچر کا غلبہ ملک میں قائم تھا۔ مدن موہن مالوی ایک پنڈت تھے مگر ان کی وضع قطع ایسی تھی کہ ان کو دیکھ کر بظاہر یہ سمجھنا مشکل تھا کہ وہ پنڈت مدن ہیں یا مولوی مدن۔ زبانوں کے ساتھ وہ عربی اور فارسی زبان بھی جانتے تھے۔

۲ جون کو ایک مجلس میں میں نے سورہ والعصر کی تشریح کی۔ میں نے بتایا کہ قرآن میں انسان کی زندگی کو زمانہ (ٹائم) سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ جس طرح ٹائم ہر لمحہ گھٹتا رہتا ہے اسی طرح انسان ہر دن اپنی زندگی کی مقرر مدت کو کم کرتا ہوا موت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح برف پگھل کر ہر لمحہ کم ہوتی جارہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہر آدمی کا کاؤنٹ ڈاؤن (countdown) ہو رہا ایک آدمی کی کل عمر اگر تقدیر میں دس ہزار دن کی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی اس کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا۔ یعنی آج اگر اس کی مدت عمر دس ہزار دن تھی تو کل اس کی عمر ۹۹۹۹ دن ہو اگلے دن ۹۹۹۸ دن اور اس کے بعد ۹۹۹۷ دن، وقس علی هذا۔

رشی کیش پہلے یوپی کا ایک ٹاؤن تھا۔ اب وہ نئی اسٹیٹ اترا نچل کا ایک حصہ ہے۔

ہمالیہ کے دامن میں واقع ہے۔ اس کے ایک طرف ہمالیہ کی پھیلی ہوئی چوٹیاں دکھائی دیتی ہیں اور دوسری طرف گنگا کا پانی ہلکی موسیقی کے ساتھ بہتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہاں ہر طرف فطرت کا آفاقی ماحول پوراشی کیش اسی طرح فطرت کی گود میں بسا ہوا ہے۔

یہاں کا پروگرام ہندی زبان میں چھپا ہوا تھا۔ اس میں زیادہ تر سنسکرت کے الفاظ استعمال کئے میرے لیے ان کو سمجھنا مشکل تھا۔ ۲ جون کو مجھے ایک پروگرام میں لے جایا گیا۔ کے کنارے مخصوص سجے ہوئے منچ پر گدی کی نشستیں بنی ہوئی تھیں۔ ان گدیوں پر ممتاز مہمان بٹھائے مجھے بھی لے جا کر وہاں ایک گدی پر بٹھا دیا گیا۔ میری تمام تر دلچسپی اس وقت یہ تھی کہ میں یہ جانوں کہ ہندو دھرم کیا ہے اور اس کے رسم و رواج کیا ہیں۔ یہاں پہلے باجے کے ساتھ بھجن گایا گیا۔ تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اس کے بعد تمام لوگ ایک ایک تھال لے کر کھڑے ہو گئے جس میں کچھ روایتی چیزیں تھیں اور دئے جل رہے تھے۔ لوگوں نے کھڑے ہو کر مخصوص انداز میں اس کو گھمانا شروع یہ گنگا پوجا کی رسم تھی۔ میں نے سادہ طور پر یہ کیا کہ میں بدستور اپنی جگہ خاموش بیٹھا رہا۔ طرح میں نے اپنے منصوبہ کے مطابق ، گنگا پوجا کا معائنہ تو کیا مگر میں نے اپنے آپ کو اس میں شرکت سے بچائے رکھا۔

۳ جون کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد میں اپنے کمرے سے باہر آیا۔ یہاں درختوں کے سایہ میں لمبا پختہ راستہ بنا ہوا تھا۔ یہاں میں اپنا جوتا اتار کر ننگے پاؤں ٹہلنے لگا۔ تازہ ہوا میں ٹہلنا ایک بے حد فرحت بخش تجربہ ہے۔ اسی کے ساتھ اگر ننگے پاؤں ٹہلنا ہو تو تاثیر اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ میں لمس فطرت (contact with nature) کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہ تجربہ اس وقت نہیں ہو سکتا جب کہ آدمی جوتا اور موزہ پہن کر چل رہا ہو۔

یہاں جین مذہب کے کئی لوگ آئے ہوئے تھے۔ ایک جینی پیشوا جو اپنے منہ پر پٹی لگائے ہوئے تھے ان سے گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ مندر بنانا چھوڑ و، انسان بناؤ۔ میں نے پوچھا کہ انسان بنانے کا فارمولا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی

خواہشوں (desires) کو ہلاک کرنا۔ انہوں نے بتایا کہ جینی طریقہ کے مطابق، منہ پر پٹی باندھنا اسی با پر ہیز زندگی کی ایک علامت ہے۔

میں نے کہا کہ دوسرے لفظوں میں، آپ کا نظریہ سیلف کنٹرول کا نظریہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کوئی شخص سیلف کنٹرول کیوں کرے۔ کوئی شخص اپنی طاقتور خواہشوں کو کیوں دبائے۔ سیلف کنٹرول پر آمادہ کرنے کے لیے ایک زیادہ بڑا محرک درکار ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے انہیں اسلام کے نظریہ جنت سے متعارف کرایا۔

رشی کیش میں ایک ادارہ ہے جس کا نام یہ ہے۔ سٹریٹجک مینجمنٹ سروسز (SMS)۔ کے نمائندے (مسٹر انل نائر اور شیو ساگر چو پڑا) وغیرہ ۳ جون کو میرے کمرے میں آئے اور کہا کہ ہمیں آپ کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کرنا ہے۔ وہ ایجوکیشن اور اخلاقی سدھار کے بارہ میں میرے خیالات ریکارڈ کرنا چاہتے تھے۔ میں نے کہا کہ یہ بلاشبہ ہمارے دیش کا سب سے زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ میں اپنے تجربہ کے مطابق، اس کو نہیں مانتا کہ تعلیمی نصاب کو بدل کر یا ہسٹری کو دوبارہ لکھ کر یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ کا حل ہوتا تو اب تک مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔ کیوں کہ ۷ ۱۹ کے بعد ہماری ہر گورنمنٹ اسی مقصد کی بنیاد پر نصاب میں تبدیلی کرتی رہی ہے۔ مگر جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اس کا کوئی بھی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ ہمارے ملک میں تعلیمی اصلاح کے نام سے بہت سے ادارے قائم ہیں۔ مثلاً شانتی نکیتن اور گرو کل وغیرہ، مگر یہ سب بے نتیجہ رہے۔ اسی طرح انگریزوں کی مثال بھی ہے۔ لارڈ میکالے کی سفارشات کے تحت برٹش گورنمنٹ نے ملک میں ایک ایسا انگریزی تعلیمی نظام جاری کیا جس کے متعلق اُن کا اندازہ یہ تھا کہ ہندوستانیوں کے خیالات اس طرح بدل جائیں گے کہ وہ ہمیشہ کے لیے برٹش حکومت کی ماتحتی قبول کر لیں گے۔ اس کا نتیجہ بالکل الٹا نکلا۔ اسی انگریزی نظام تعلیم سے وہ تمام لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف فریڈم موومنٹ کی قیادت کی۔

پھر میں نے کہا کہ میں تعلیم برائے تعلیم (education for the sake of education)

کا قائل ہوں ۔ میرا نظریہ ہے کہ تعلیم کے نظام کو خالص فنی بنیاد پر چلانا چاہئے ۔ اخلاق اور کریکٹر کی بات ہے تو اس کام کے لئے زیادہ مؤثر طریقہ وہ ہے جس کو غیر رسمی تعلیم (informal education) کہا جاتا ہے۔ ہم خود ۴۰ سال سے اسی کام کو کر رہے ہیں۔ فضل سے ہمارے مشن کے ذریعہ ہزاروں لوگوں کے اندر ذہنی اور اخلاقی انقلاب آیا ہے۔ ۳ جون کو ناشتہ اور کھانے کی میز پر کئی لوگوں سے ملنے کا اور گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ ساتھ نو آدمی تھے۔ ان میں سے ۳ فارنر تھے۔ ان لوگوں کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ انہیں روحانیت کا وہ تجربہ ہوا ہے جس کو وجد (ecstasy) کہا جاتا ہے۔ میں نے مختلف سوالات کر کے یہ جاننا چاہا کہ وجد کیا ہے۔ مگر وہ لوگ بار بار یہی کہتے رہے کہ وجد ایک اندرونی کیفیت ہے جس کو لفظوں کے ذریعہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ گفتگو کے آخر میں انہوں نے کہا کہ اب آپ بتائیے کہ وجد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ برا نہ مانیں تو میں کہوں گا کہ جو لوگ وجد کی اصطلاح میں روحانیت کی بات کرتے ہیں وہ صرف ایک مصنوعی یا غیر حقیقی تجربہ کو حقیقی سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔ میں نے قرآن کی آیت والذين آمنوا اشد حبا لله (البقره ۱۶۵) کی روشنی میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر فطری طور پر اپنے خالق (خدا) کے لیے بے پناہ جذبہ محبت موجود ہوتا ہے۔ ہر آدمی خود اپنی فطرت کے زور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ اس مرکز محبت کو پالے جس سے وہ اپنے اعلیٰ جذبات کو وابستہ کر سکے۔ موجودہ حالات میں خدا کا تصور لوگوں پر واضح نہیں ہے۔ خاص طور پر آریائی مذاہب (Aryan Religions) میں خدا کا عقیدہ وحدت وجود (monism) کے تصور پر مبنی ہے۔ میں خدا ہم سے علیحدہ کوئی مستقل وجود نہیں۔ وہ ایک غیر مشخصی قسم کا مجرد تصور (abstract idea) ہے۔ اس لئے جو لوگ آریائی روایات میں پرورش پا کر نکلے ہیں وہ عملاً ایسے کسی شخص خدا سے روشناس نہیں ہوتے جس کو وہ اپنا مرکز محبت بنائیں اور اس کے ذریعہ ان کے اندر وجد کی کیفیت پیدا ہو۔ اس لئے وہ خود ساختہ ورزشوں کے ذریعہ اپنی ایک مفروضہ دنیا بناتے ہیں اور اس کو وجد سے تعبیر کرتے ہیں۔ وجد حقیقۃً ایک فطری حقیقت کا غیر حقیقی انتساب (attribution) ہے، نہ کہ حقیقی مرکز محبت سے مربوط

ہونے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا تجربہ۔

ایک تعلیم یافتہ ہندو سے بات کرتے ہوئے اندازہ ہوا کہ ان کے دل میں اسلام کے خلاف سخت نفرت ہے۔ میں نے سنجیدگی کے ساتھ ان سے پوچھا کہ اسلام کے بارہ میں آپ کی وہ کون سی معلومات ہیں جن کی وجہ سے آپ کے دل میں اُس کے خلاف منفی جذبات پیدا ہوئے۔ چند باتیں بتائیں ۔ مثلاً محمود غزنوی نے سومناتھ کے مندر کو لوٹا۔ بابر نے انڈیا پر حملہ کیا۔ اور نگ زیب نے ہندوؤں کے خلاف جنگ کی۔ ہندوستان میں جبر کے ذریعہ اسلام پھیلایا گیا۔ میں نے کہا کہ آپ کو اسلام اور مسلمانوں کے درمیان فرق کرنا چاہئے ۔ اس کے بعد ہی آپ اس معاملہ میں منصفانہ رائے قائم کر سکیں گے۔ میں نے کہا کہ محمود غزنوی کا مندر کے سونے کو لوٹنا اسلام کے نزدیک بھی اتنا ہی غلط تھا جتنا کہ وہ آپ کے نزدیک غلط ہے۔ اسی طرح بابر کے حملہ کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں ۔ اسلام کے نقطہ نظر سے بابر کو یا کسی مسلمان کو پر امن پیغام لے کر ہندوستان میں داخل ہونا چاہئے تھا، نہ کہ تلوار لے کر ۔ اسی طرح اور نگ زیب نے جو کچھ کیا اس کا بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ جہاں تک جبری کنورژن کا تعلق ہے تو یہ صرف ایک الزام ہے اس کا کوئی تاریخی ثبوت خود ہندو اسکالرس نے تسلیم کیا ہے کہ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت پرامن طور پر ہوئی ہے، نہ کہ جبر اور تشدد کے ذریعہ۔

رشی کیش میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی اُن میں سے ایک قابلِ ذکر شخص مسٹر ترلوچن سنگھ تھے ۔ وہ نیشنل کمیشن فار مائینارٹیز کے وائس چیرمین ہیں ۔ وہ دہلی میں رہتے ہیں ۔ وہ مجھ کو میری تحریروں سے جانتے تھے۔ دوران اندازہ ہوا کہ وہ ایک سمجھ دار اور حقیقت پسند آدمی ہیں اور اپنے موجودہ عہدہ کے لیے پوری طرح موزوں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ کی جو حالت ہے وہ گویا ایک قسم کی سرد جنگ (cold war) ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فرقہ وارانہ مسئلہ کا صرف ایک ہی مؤثر

حل ہے، اور وہ دونوں فرقوں کے درمیان سوشیلائیزیشن(Socialization) ہے۔ ضرورت ہے کہ دونوں کے درمیان ملنے جلنے کے مواقع کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔ ملنا جلنا اپنے آپ اس مسئلے کا حل بن جائے گا۔

ایک اور بات اُنہوں نے یہ کہی کہ دونوں فرقوں کے صرف نرم دل والے لوگ اگر ملیں تو اس سے مطلوب فائدہ حاصل ہونے والا نہیں۔ ضرورت ہے کہ دونوں طرف کے گرم دل کے لوگ باہم ملیں اور تعلقات کو بڑھائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دونوں طرف کے انتہا پسندوں کو مل کر بیٹھنا چاہئے: Extremists should sit. کانفرنس کے رسمی اجتماعات میں شرکت کے علاوہ بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ملاقات میں خدا کے وجود کا تذکرہ ہوا۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا: خدا کہیں باہر نہیں، وہ تو خود ہمارے اندر موجود ہے۔ میں نے کہا کہ بہت سے لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں مگر اس نظریہ کے حق میں کوئی علمی دلیل موجود نہیں۔ ’’خدا انسان کے اندر ہے‘‘ صرف ایک لفظی بیان ہے، وہ کوئی مدلّل بیان (reasoned statement) نہیں۔

اصل یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہندو ازم ایک گہرے تضاد کا شکار ہے۔ ہندو ازم کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان خدا کا ایک اَنش ہے۔ اس عقیدہ کو ادویت واد کہتے ہیں۔ انسان اگر خدا کا جز ء ہے تو انسان کے اندر خدا والی صفت ہونی چاہئے، مثلاً تخلیق کی قدرت۔ مگر کسی بھی دلیل سے اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے قطرہ اور سمندر کی مثال دی جاتی ہے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، قطرہ میں سمندر کے سارے اوصاف موجود ہیں جب کہ انسان میں کوئی بھی خدائی صفت موجود نہیں۔ اس فکری تضاد کو رفع کرنے کے لیے ہندوؤں میں دوسرا عقیدہ پیدا ہوا جس کو دوئت واد کہا جاتا ہے، یعنی خدا الگ ہے اور انسان الگ۔ اس نظریہ کی حامی ایک ممتاز شخصیت مادھو چاریہ کی ہے۔ ہندوؤں میں شنکر آچاریہ کا ادویت واد زیادہ مقبول ہوا اور مادھو چاریہ کا دوئت واد زیادہ مقبول نہ ہوسکا۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو سے خدا کے عقیدہ پر گفتگو ہوئی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ خدا

انسان کے اندر ہے، خدا انسان کے باہر نہیں جس کو کہیں اور تلاش کرنے کی ضرورت ہو۔ میں نے کہا کہ خدا کی موجودگی کا احساس ضرور انسان کے اندر ہے۔ مگر خدا کی ذات ہمارے وجود کے باہر ہے، نہ کہ ہمارے اندر۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ جب خدا کا احساس ہمارے اندر موجود ہے تو یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا ہمارے اندر ہے، اُس کو باہر ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ میں نے کہا کہ خدا کا احساس اندر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ باہر موجود نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو ہر انسان کا عام تجربہ ہے۔ ہر شخص یہ جانتا ہے کہ پیاس ہمارے اندر موجود ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ خود پانی بھی ہمارے اندر موجود ہے۔ ہر آدمی کا ذاتی تجربہ ہے کہ پیاس اگرچہ ہمارے اندر ہے مگر پانی ہم سے الگ اپنا مستقل وجود رکھتا ہے۔ احساسِ خداوندی کو وجودِ خداوندی کے مفہوم میں لے رہے ہیں۔ میری یہ بات سن کر وہ کچھ دیر چپ رہے اور کہا کہ میں اپنے گرو سے پوچھ کر کل آپ کو بتاؤں گا۔ لیکن اگلے دن اُن سے ملاقات نہ ہو سکی۔ رشی کیش کا یہ اجتماع بہت بڑے پیمانے پر کیا گیا تھا۔ اس میں نہ صرف ملک کے بلکہ دوسرے ملکوں کے ہندو نمائندے شریک ہوئے۔ تین دن تک ہر طرف زبردست مذہبی دھوم نظر آئی— بھجن، مذہبی سنگیت، کرشن کتھا، گنگا پوجا، طرح طرح کی مذہبی رسمیں، وغیرہ۔

میں نے سوچا کہ کیا یہ حقیقی معنوں میں مذہبی دھوم ہے۔ میرے دل نے کہا کہ نہیں۔ یہاں ظاہری ہنگامے تو کافی تھے مگر مذہب کی حقیقی روح نظر نہ آئی۔ ایک بوڑھے ہندو نے درد کے ساتھ کہا کہ یہاں آکر مجھے زیادہ خوشی نہیں ہوئی۔ رنگ برنگ کے یہ پروگرام مجھے صرف تام جھام دکھائی دیتے ہیں۔ مذہب کی اصل اسپرٹ کا کہیں پتہ نہیں۔

میں نے مزید سوچا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ سب مذہب نہیں ہے بلکہ کلچرل ہے۔ خود مسلمانوں کا حال بھی تقریباً یہی ہے۔ آج کل مسلمانوں میں مذہب کے نام پر کافی دھوم دکھائی دیتی ہے۔ مگر یہ سب اپنی حقیقت کے اعتبار سے کلچر اسلام کے مظاہر ہیں، نہ کہ ربانی اسلام کے۔ ربانی اسلام وہ ہے جس میں معرفت کی گہرائی ہو۔ جس میں سچائی کا اعتراف ہو۔ جس میں خوف خدا کا غلبہ ہو۔

اخلاقی اقدار زندہ ہوں۔ جس میں انصاف کی بولی بولی جائے خواہ وہ اپنے موافق ہو یا اپنے خلاف، مگر یہی وہ چیزیں ہیں جن کا اسلام کے نام پر ہونے والے ہنگاموں میں کہیں پتہ نہیں۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اُنہوں نے میڈیٹیشن (meditation) کے اُنہوںنے کہا کہ ہمارے سماج میں سب سے بڑا پرابلم ایگو(ego) کا پرابلم ہے۔ آدمی کا یہ حال ہے کہ کوئی بات اپنے مزاج کے خلاف ہو تو فوراً اُس کا ایگو بھڑک اُٹھتا ہے۔ آخری نتیجہ بریک ڈاؤن (break down) ہوتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ میڈیٹیشن کے ذریعہ ہم ایگو کو تحلیل (dissolve) کر دیتے ہیں۔ گویا کہ انا والا آدمی بے انا بن جاتا ہے اور پھر وہ کسی کے لیے پرابلم

میں نے کہا کہ یہ صرف کہنے کی ایک بات ہے۔ انا یا ایگو انسان کی ایک فطری صفت ہے، اُس کو میڈیٹیشن جیسی ورزشوں کے ذریعہ تحلیل یا ڈیزیلو کرنا ممکن ہی نہیں۔ میں نے کہا کہ ایگو انسانی دماغ کی ایک صفت ہے۔ اور میڈیٹیشن میں آپ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ ایک جسمانی ورزش (physical exercise) ہوتی ہے اور ایک دماغی صفت کو جسمانی ورزش کے ذریعہ ختم کرنا نفسیاتی اعتبار سے ممکن ہی نہیں۔ چنانچہ تجربہ یہی بتاتا ہے کہ میڈیٹیشن کے پورے کورس سے گزرنے کے باوجود لوگوں کے اندر ایگو پوری طرح موجود ہوتا ہے اور جب بھی اُس کے انا پر چوٹ پڑے تو وہ بھڑک

میں نے کہا کہ ایگو کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ البتہ اُس کو ڈیفیوز (defuse) کیا جا سکتا ہے۔ طریقہ یہی ہے۔ اسلام آدمی کی سوچ کے اندر انقلاب لاتا ہے۔ یہ سوچ اس بات کی ضامن بن جاتی ہے کہ جب بھی آدمی کی انا بھڑکے تو اُس کی سوچ متحرک ہو کر اُس کی انا کے بم کو ڈیفیوز کر دے۔ نے کہا کہ انا (ایگو) کوئی برائی نہیں، وہ ایک طاقت ہے۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ اپنے ذہن کو اتنا زیادہ ترقی دیں کہ وہ انا کو صرف اچھے استعمال میں لے، وہ اُس کو برے استعمال تک نہ جانے دے۔ ایک صحافی نے انٹرویو کے دوران سوال کیا کہ اسکول اور کالج کی تعلیم میں آج کل ریفارم کی

باتیں ہورہی ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سوسائٹی میں جو اخلاقی بگاڑ آیا ہے اُس کو اس طرح دور کیا جاسکتا ہے کہ تعلیمی نصاب میں اخلاق کو ایک مستقل مضمون کے طور پر شامل کر دیا جائے۔ میں نے کہا کہ یہ تجربہ تو کیا جا چکا ہے۔ موجودہ تعلیمی نصاب میں بھی اکثر جگہ کسی نہ کسی طور پر اخلاقی چیزیں پڑھائی جاتی شانتی نکیتن اور گروکل جیسے، بہت سے تعلیمی ادارے تو خاص اسی مقصد کے لیے قائم کیے گئے تھے۔ مگر اُن سے مطلوب اخلاقی نتیجہ حاصل نہ ہوسکا۔

میں نے کہا کہ تعلیم کے دو الگ الگ شعبے ہیں۔ ایک فارمل ایجوکیشن، اور دوسرے انفارمل فارمل ایجوکیشن سے مراد اسکول اور کالج کی تعلیم ہے اور انفارمل ایجوکیشن سے مراد اصلاحی کوشش ہے جو رسمی تعلیم کے باہر تعمیر شعور کے لیے کی جائے۔ اخلاقی شخصیت پیدا کرنے کے لیے انفارمل ایجوکیشن مفید ہے، نہ کہ صرف فارمل ایجوکیشن۔

اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ فارمل ایجوکیشن میں سارا زور نمبر پر ہوتا ہے۔ طالب علم کی آخری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ امتحان کے موقع پر کسی نہ کسی طرح زیادہ نمبر لائے تا کہ وہ امتحانی اصطلاح میں کامیاب ہوسکے۔

بہائی مذہب کے ایک صاحب بھی یہاں آئے تھے۔ اُنہوں نے "یونیورسل مذہب" کے موضوع پر اپنی مختصر تقریر کی۔ اُنہوں نے آٹھ صفحہ کا ایک پمفلٹ (اپریل ۲۰۰۲) تقسیم کیا۔ عالمی مرکز کے بیت العدل اعظم کی طرف سے تیار کیا گیا تھا۔ یہ پمفلٹ عمدہ کاغذ پر نہایت عمدہ چھپا ہوا تھا مگر پورا پڑھنے کے باوجود اُس کا کوئی خلاصہ میری سمجھ میں نہ آسکا۔ اُس کا ایک اقتباس یہ تھا: "۱۸۹۳ء میں مشہور عالمی کولمبیائی اجلاس (شکاگو) نے "مذہبی پارلیمنٹ" کو وجود میں لاکر سب کو حیران کر دیا۔ روحانی اور اخلاقی اشتراک کی اس استصواب رائے نے تمام براعظموں کی توجہ مبذول کرائی اور اُس نے سبھی سائنسی، تکنیکی اور تجارتی کامیابیوں سے زیادہ شہرت تھوڑے عرصہ کے لیے لگا کہ پابندیوں اور قدامت پرستی کی دیواریں گرگئیں۔ مؤثر مفکرین کے لیے بھی یہ اشتراک انوکھا اور تاریخ عالم میں اہمیت کا حامل تھا۔

”مذہبی پارلیمنٹ“ کے منتظمین نے کہا کہ ”مذہبی پارلیمنٹ“ نے دنیا کو مذہبی جنون سے بچالیا‘۔ یہ میرے نزدیک ایک خیالی بات ہے۔ عالمی انقلاب کبھی کسی جلسہ یا سیمینار کے ذریعہ ظہور میں نہیں آتا۔ اس قسم کا جلسہ صرف ایک مظاہرہ ہے۔ انسانوں کے درمیان کوئی حقیقی انقلاب لانے کے لیے ایک مسلسل فکری تحریک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس قسم کا انقلاب ہمیشہ طویل فکری جدوجہد کے ذریعہ آتا ہے، نہ کہ وقتی قسم کے مظاہروں سے۔

بہائی مذہب کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ بہائی لوگوں کے درمیان آپس میں سلام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں: اللہ ابهی (God is most glorious)۔ واضح ہو کہ بہائی مذہب کے بانی کا نام بہاء اللہ تھا۔

رشی کیش میں ایک اور بات معلوم ہوئی جس کا ابھی تک مجھے علم نہ تھا۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کے پان اسلام ازم کی طرح ہندوؤں میں ایک عالمی تحریک پان ہند وازم کے نام پر چل رہی ہے۔ مقصد تمام دنیا کے ہندوؤں کو متحد کرنا ہے جن کی تعداد تقریباً ایک ارب بتائی جاتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہوا، یہ تحریک تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ مثلاً یہاں پر تُگال کے ایک ہندو لیڈر ملے۔ نے بتایا کہ پر تگال میں بسنے والے تمام ہندوؤں کو انہوں نے ایک اتحاد میں جوڑ دیا ہے۔ موجودہ ہندوؤں کے ذہن میں یہ خیال ڈالا جا رہا ہے کہ مستقبل میں ہندوؤں کے لیے خطرہ عیسائیت وغیرہ سے نہیں ہے بلکہ صرف اسلام سے ہے۔ اس لیے اپنے خیال کے مطابق ، وہ ہر قیمت پر اسلام کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں کچھ ایسے ہندوؤں سے ملاقات ہوئی جو عربی اور فارسی زبانیں بے تکلف بولتے تھے۔ میں نے ایسے ہی ایک ہندو سے کہا: حال شما چیست۔ خالص ایرانی لہجہ میں اس کا جواب دیا۔

رشی کیش کے اس عالمی اجتماع کو کنڈکٹ کرنے یا چلانے کا کام ایک ۳۵ سالہ خاتون کر رہی وہ ایک امریکن خاتون تھیں۔ مگر انہوں نے ہندو مذہب کو اپنا لیا تھا اور اب اُن کا نام بھاگونتی وہ سفید رنگ کی ساڑی پہنے ہوئی تھیں اور انتہائی پھرتی کے ساتھ تمام پروگرام کو چلا رہی تھیں۔

اجلاس کے دوران انہوں نے انگریزی میں بولتے ہوئے مجھے تقریر کے لیے مدعو کیا۔ میں نے سادہ اُردو زبان میں اپنی تقریر کی۔ تقریر کے بعد وہ میرے پاس آئیں اور میری تقریر پر اچھے تاثر کا اظہار کیا۔ میں نے کہا کہ یہاں جو لوگ اکٹھا ہیں اُن کی اکثریت ہندی سمجھتی ہے اس لیے میں نے اپنی تقریر ہندی زبان میں کی۔ میں نے اُن سے یہ بات انگریزی میں کہی تھی۔ اس کو سن کر انہوں نے امریکی لہجہ میں کہا:

مولاناصاحب ، میں ہندی سمجھتی ہوں۔

رشی کیش میں جو نئی باتیں معلوم ہوئیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ سنسکرت پاٹھ شالا ئوں میں ایک مستقل شعبہ ہوتا ہے جس کو کتھا کار یتا کہتے ہیں۔ اس شعبہ میں خصوصی تربیت کے ذریعہ کتھا کار تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ لوگ کرشن کتھا اور رام کتھا جیسے پروگرام کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی تقریروں کو قصے کہانیوں اور لطیفوں اور مختلف اداؤں کے ساتھ اتنا دلچسپ بنا دیتے ہیں کہ سننے والے گھنٹوں دلچسپی کے ساتھ اُس کو سنتے رہتے ہیں۔ دیکھنے والوں نے بتایا کہ اُن کی تقریر کے دوران ایسے بھی لمحات آتے ہیں جب کہ لوگ باقاعدہ رونے لگتے ہیں۔ کبھی اُن پر وجد (ecstacy) کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

عجیب بات ہے کہ یہ کتھا کار کئی کئی گھنٹے مسلسل بولتے ہیں، مگر اُن کی آواز میں فرق نہیں آتا۔ اُن کے گلے کی طاقت بدستور یکساں طور پر موجود رہتی ہے۔ ان لوگوں کو ہر کتھا پر بڑی بڑی رقمیں ادا کی

کتھا کار کی ایک خصوصیت پر مجھے بہت تعجب تھا۔ وہ یہ کہ مسلسل کئی گھنٹہ تک بولنے کے باوجود اُن کی آواز خراب کیوں نہیں ہوتی۔ ایک انگریزی صحافی نے اس کا راز بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں میں کتھا کار سے ملا اور اُن سے دوسری باتوں کے ساتھ ان کے گلے کی طاقت کا راز بھی دریافت کیا۔ کتھا کار نے کہا کہ یہ سب ہمارے گرو کی کرپا ہے۔ کتھا کار نے مذکورہ جرنلسٹ کو ایک پڑیا دکھائی اور کہا کہ یہ ہمارے گرو کی دی ہوئی ہے اور اس کا نام مسٹیریس پاؤڈر (mysterious powder)ہے۔

جرنلسٹ نے پڑیا کھول کر پاؤڈر کو چکھا اور کہا کہ مجھے یہ شک ہے کہ اس کے اندر ایسٹرائڈس (steroids) ملا ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ جرنلسٹ نے اپنا تعارف کراتے ہوئے یہ بھی بتا دیا کہ وہ فلاں مشہور انگریزی اخبار کا کرسپانڈنٹ ہے۔ اس کے بعد کتھا کار کافی سنجیدہ ہو گئے۔ نے کہا کہ اصل میں یہ ملہٹھی کا سفوف ہے۔ مذکورہ اخبار نویس نے یہ پڑیا مجھے دی اور میں نے اُس کو چکھا تو میرے اندازے کے مطابق، اُس کا ذائقہ بالکل ملہٹھی جیسا تھا۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اپنی اصلاح کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز خود احتسابی (self-criticism) ہے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو دنیا میں سب سے کم پائی جاتی سلف کریٹیسزم کیا ہے، اس کی مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ حال میں میں ریڈیوسن رہا تھا۔ اس دوران اُس پر ایک فلم ایکٹر کا انٹرویو آنے لگا۔ انٹرویو ر نے پوچھا کہ اپنی زندگی کا کوئی خاص واقعہ فلم ایکٹر نے کہا کہ ایک بار ممبئی میں شوٹنگ ہو رہی تھی۔ میں اُس میں ایک رول ادا کر رہا تھا۔ اچانک فلم ڈائریکٹر نے شوٹنگ بند کر دی۔ میں اُس کے پاس گیا اور کہا کہ آپ نے شوٹنگ کیوں بند فلم ڈائریکٹر نے کہا کہ تمہارا رول مجھے کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا ہے۔ اب فلم ایکٹر نے ایسا نہیں کیا کہ وہ ڈائرکٹر سے جھگڑنے لگے۔ اس کے بجائے وہ خاموشی کے ساتھ اپنے کمرہ میں چلا گیا۔ وہاں وہ آئینہ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اپنے بارے میں غور کرنے لگا۔ آئینہ میں جب اُس نے اپنی صورت دیکھی تو اصل راز اُس کی سمجھ میں آ گیا۔ بات یہ تھی کہ اُس دن صبح کو وہ مشہور تاج محل سیلون میں گیا اور شاندار طور پر اپنے بال درست کرائے اور شیمپو لگایا۔ اس طرح وہ ایک جینٹلمین تو دکھائی دینے لگا مگر وہ اپنے فلمی رول کے لیے غیر موزوں ہو گیا۔ اس لیے کہ فلم میں وہ ایک ایسے آدمی کا رول ادا کر رہا تھا جو فطری طور پر ناقص العقل تھا۔ اُس کو محسوس ہوا کہ میرا موجودہ چہرہ ایک صاحب عقل آدمی کا چہرہ دکھائی دیتا ہے، نہ کہ ناقص العقل آدمی کا چہرہ۔

اس دریافت کے بعد اُس نے یہ کیا کہ ایک قینچی لی اور آئینہ دیکھے بغیر وائلڈ ہیر کٹ (wild haircut) کے انداز میں اپنے بال کو بے ترتیبی کے ساتھ ادھر ادھر سے کاٹ دیا اور پھر اپنے

چہرہ اور بال پر مٹی لگالی۔ اس طرح اپنی صورت کو بگاڑ کر جب وہ فلم ڈائریکٹر کے سامنے آیا تو ڈائریکٹر نے کہا کہ اب تم بالکل ٹھیک ہو۔ اس کے بعد اُس نے اسی طرح پوری شوٹنگ کرائی۔ میں نے کہا کہ جو آدمی اپنی ترقی چاہتا ہو اُس کو نہایت بے رحمی کے ساتھ اپنی تنقید آپ کے اصول پر عمل کرنا چاہیے۔ ایک شخص نے نجی گفتگو کے دوران بتایا کہ میرا تجربہ ہے کہ ہندوؤں کو عیسائیت، جین ازم، سکھ ازم، بودھ ازم اور دوسرے مذہبوں سے کوئی نفرت نہیں۔ مگر میرا تجربہ ہے کہ اسلام کے خلاف اکثر ہندوؤں میں نفرت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخر اس مسئلہ کا کیا حل ہے۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا سادہ اور آسان حل یہ ہے کہ مسلمان ردعمل کا طریقہ چھوڑ دیں۔ یک طرفہ طور پر ہندوؤں سے محبت کرنے لگیں۔ دشمنی کا جواب دشمنی نہیں ہے۔ بلکہ دشمنی کا جواب محبت یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی تجربہ کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔

میں نے کہا کہ اس قسم کی دشمنی کوئی فطری چیز نہیں۔ وہ ہمیشہ اوپری اسباب کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسا ہی ہے جیسے کسی پتھر کے اوپر کچھ مٹی جم جائے۔ جیسے ہی آپ اُس کے اوپر پانی ڈالیں گے وہ بہہ کر ختم ہو جائے گی۔ ایسا ہی معاملہ اس قسم کی نفرت کا ہے۔ آپ محبت کے سیلاب سے دھو کر اس کو کسی بھی وقت صاف کرسکتے ہیں۔

۴ جون ۲۰۰۲ء کی صبح کورشی کیش سے واپسی تھی۔ سوامی چیدانند سے آخری ملاقات کر کے ہماری گاڑی چلتے ہوئے میرٹھ کے قریب پہنچی تو سڑک کے دونوں طرف سرسبز مناظر تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ مودی پورم ہے۔ تقریباً ۲۵ کلومیٹر کے رقبہ میں ایک ہری بھری دنیا بنائی جارہی ہے۔ اس میں انتہائی جدید قسم کی سہولتیں موجود ہوں گی۔ یہاں تک کہ اس میں فلم بندی کے انتظامات بھی یہ نئی دنیا اُن دولت مندوں کے لیے بنائی جارہی ہے جو شہر کے مسائل سے بیزار ہیں اور فطرت کی کھلی فضا میں رہنا چاہتے ہیں۔ مودی پورم کو مودی نگر والوں نے بنایا ہے۔ (مودی انڈسٹریز) کو یہاں ۱۹۳۲ میں قائم کیا گیا تھا۔

مودی پورم کے مختلف منفی اور مثبت پہلو ہیں۔ اِس کا ایک پہلو یہ ہے کہ موجودہ ہندوستان جس کو

کرپٹ سیاستداں آخری حد تک تباہ کر چکے ہیں، اُس کو یہاں کے تجارتی طبقہ نے بچایا ہے۔ میں سینکڑوں سال سے تجارت کی روایات قائم تھیں۔ آزادی سے پہلے یہاں ایک طبقہ موجود تھا جو ملک کے اندر مضبوط تجارتی بنیاد قائم کر چکا تھا۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے ملک کو اقتصادی تباہی سے بچارکھا ورنہ جہاں تک سیاسی لیڈروں کا تعلق ہے، اؔنہوں نے پہلے سوشلزم کے نام پر ملک کو تباہ کیا تھا اور اس کے بعد لیڈروں کے ناقابل بیان کرپشن نے ملک کو بالکل کھوکھلا بنا دیا۔

کانفرنس کے منتظمین نے واپسی کے سفر کے لیے مجھے جو گاڑی دی تھی، اُس کا ڈرائیور ایک اُس کا نام راکیش شرما تھا۔ وہ گاڑی کو تیز دوڑانے لگا۔ میرے ساتھی نے اُس کو منع کیا مگر وہ بدستور تیز دوڑاتا رہا۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ تھی کہ وہ بار بار اوور ٹیک کرتا تھا۔ ساتھی نے کسی قدر سختی کے ساتھ کہا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ سڑک کے دونوں طرف کئی گاڑیاں الٹی پڑی کیا تم ہمارا انجام بھی یہی کرنا چاہتے ہو۔

اس کے بعد ڈرائیور نے گاڑی کھڑی کر دی اور باہر نکل کر سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔ کہا کہ میں ایک پروفیشنل ڈرائیور ہوں۔ میں تو اسی طرح گاڑی چلاؤں گا۔ میرے ساتھی نے محسوس کیا کہ اگر ہم اس ڈرائیور سے ضد کرتے ہیں تو ہمارا سفر مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے اُنہوں نے ڈرائیور کو منانے کی پالیسی اختیار کی اور پھر ہمارا سفر آگے کے لیے جاری ہو گیا۔ یہ واقعہ غازی آباد سے کچھ پہلے پیش آیا۔

اس تجربہ کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ سڑکوں پر جو حادثے ہوتے ہیں، اُن کا سبب زیادہ تر اپنے بارے میں بڑھا ہوا اعتماد ہوتا ہے۔ جن لوگوں میں کسی قسم کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے وہ عام طور پر اس نفسیاتی مرض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے آس پاس اس کا برا انجام دیکھتے ہیں مگر اُن کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ۔ یہ دوسروں کا معاملہ تھا، میرے ساتھ ایسا ہونے والا نہیں۔

خدا کسی انسان کو زیادہ صلاحیت دیتا ہے تا کہ وہ زیادہ کام کرے۔ مگر وہ اپنی برخود غلط نفسیات کی بنا پر اکثر اپنے آپ کو تباہ کر لیتا ہے۔ اپنے کو زیادہ سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایسا کام کر ڈالتا ہے

جواس کے لیے انتظامی حد (managable limit) سے باہر ہو۔ اکثر لوگوں کی ناکامی کا سبب اُن کا یہی مزاج ہوتا ہے۔

رشی کیش کا یہ سفر میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ وہاں جس ہندو سے بھی اسلام پر گفتگو ہوئی اُس نے دلچسپی کے ساتھ اُس کو سنا۔ کئی لوگوں کو کتابیں دی گئیں جن کو انہوں نے شوق کے ساتھ لیا اور پڑھنے کا وعدہ کیا۔ یہاں مجھے چند بار عمومی خطاب کا موقع ملا۔ اپنے خطابات میں میں نے اسلام کو دینِ رحمت کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی۔

میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ لوگ اس کو بہت بُرا مانتے ہیں کہ اُن کے اوپر مذہبی کٹّر پن کا الزام آئے۔ اس لیے وہ اپنے مذہب کے سوا دوسرے مذہب کی بات کو توجہ کے ساتھ سنتے یہ زمانی مزاج ہم کو موقع دیتا ہے کہ ہم دینِ حق کی دعوت کو موافق ماحول میں پیش کرسکیں ۔ یہ یہ زمان سُراں | دُروں ریاب ہہ | ہیں اس کی صورت ۴ جون ۲۰۰۲ کی رات کو میں واپس ہو کر دہلی پہنچا۔

Printed page