Al-Risala · May 2003

خوب شد اسباب خود بینی شکست

Al-Risala, May 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ چار سوسال پہلے کی بات ہے جب کہ آئینہ صرف چین میں بنتا تھا اور دیر طلب دست کاری کی بنا پر بہت کم تعداد میں اور بہت مہنگی قیمت پر حاصل ہوتا تھا۔ مگر اب صنعتی دور میں حالات بالکل بدل اب یہ حال ہے کہ اگر کسی گھر میں آئینہ ٹوٹ جائے تو وہ نہایت آسانی کے ساتھ بازار سے دوسرا آئینہ سستی قیمت پر حاصل کر لیتا ہے۔ گویا کہ اب آئینہ کے بارہ میں وہ بات واقعہ بن چکی ہے جو غالب نے اپنے مٹی کے پیالہ کے بارہ میں کہی تھی:

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا جام جم سے یہ مرا جام سفال اچھا ہے اس غلط رہنمائی کے نتیجہ میں مسلمانوں سے سب سے بڑی چیز جو کھوئی گئی وہ شکر خداوندی مثال کے طور پر قدیم زمانہ میں کسی بھی بادشاہ یا نواب کو دھوئیں کے بغیر روشنی حاصل نہ تھی۔ کیوں کہ اُس زمانہ میں روشنی تیل کو جلا کر حاصل کی جاتی تھی۔ یہ صرف موجودہ زمانہ میں ممکن ہوا ہے کہ بجلی کی صورت میں دھوئیں کے بغیر ہر گھر کو روشن کیا جا سکے۔ اس قسم کی ہزاروں باتیں ہیں جو ایک انسان کے دل کو شکر کے جذبہ سے بھر دیں مگر غلط رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان شکر جیسی قیمتی چیز سے محروم ہو گئے۔

احمد آباد کی سابق خاتون میسر بھاؤنا بن دیو (Bahnwaben Deve) سے ملاقات ہوئی۔ (7546080 ,079-7546070 :Tel)۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔ گجرات کے حالات پر گفتگو ہوئی۔ گفتگو سے اندازہ ہوا کہ یہ لوگ پرو ہندو تو توکہے جاسکتے ہیں مگر اُنہیں اینٹی مسلم کہنا درست نہیں۔ اُن کی سرگرمیوں کا نشانہ ہندو قوم کا احیاء ہے، نہ کہ مسلم قوم کا میرے نزدیک اصل کام یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے بارہ میں اُن کے اندر جو غلط فہمیاں ہیں اُن کو دور کیا جائے۔ میرا بار بار کا تجربہ ہے کہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے بعد وہی شخص

ایک معتدل انسان بن جاتا ہے جو اس سے پہلے بظاہر دشمن نظر آتا تھا۔

یہی معاملہ دوسری قوموں کا بھی ہے۔ مثلاً امریکی حکومت پر امریکہ ہے، نہ کہ اینٹی مسلم۔ اس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمان غیر ضروری طور پر دوسروں کو اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں اور پھر اس کی مہنگی قیمت ادا کرتے ہیں۔ حالاں کہ خود مسلمانوں کا یا اُن کی جماعتوں کا حال یہی ہے۔ پروخویش ہے، نہ کہ اینٹی غیر۔

۲۶ جنوری کی شام کو ایک صاحب میرے ہوٹل کے کمرہ میں آئے۔ یہ مسٹر وقار صدیقی (5358734 Tel) تھے۔ اُن کے ہاتھ میں ایک بڑا سا بیگ تھا۔ اس میں الرسالہ کے تمام شمارے، نمبر ایک سے لے کر اب تک کے موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ الرسالہ میری فکری غذا ایک بار مجھے لائبریری میں الرسالہ کا ایک شمارہ پڑھنے کو ملا۔ وہ مجھے اتنا زیادہ پسند آیا کہ میں نے الرسالہ کے تمام شمارے اکٹھا کیے اور اُن کی سال بہ سال جلد بندی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ میں الرسالہ کی ان جلدوں کو کسی باقاعدہ لائبریری میں دے دوں تاکہ وہ مستقل طور پر محفوظ رہیں ۔

۲۶ جنوری کی شام کو احمد آباد کے مہدی نواز جنگ ہال میں عمومی جلسہ تھا۔ اس میں احمد آباد کے تعلیم یافتہ مسلمان شریک ہوئے۔ ابتدائی کارروائی کے بعد میں نے ایک مفصل تقریر کی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام میں مایوسی کو کفر بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام امید کا دین ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ عُسر میں بھی یُسر کو دیکھو۔ قرآن میں فطرت کا یہ قانون بتایا گیا ہے کہ کتنی ہی اقلیتیں کتنی ہی اکثریتوں پر غالب آتی ہیں، اللہ کی اذن سے۔ میں نے کہا کہ اس آیت میں فطرت کا ایک اہم قانون بتایا گیا ہے۔ یہ قانون جدید تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ جب کسی خطہ میں ایک گروہ اقلیت میں ہو اور دوسرا گروہ اکثریت میں تو خود فطرت کے قانون کے تحت ، ایسا ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان چیلنج اور مسابقت کی صورت حال پیش آتی ہے۔ اس صورت حال کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اکثریت دن بدن غیر تخلیقی

اکثریت(un-creative majority) بننے لگتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں اقلیت تخلیقی اقلیت (creative minority) بنتی چلی جاتی ہے۔ یہ عمل(process) جب اپنی تکمیل تک پہنچتا ہے تو وہ واقعہ ظہور میں آتا ہے جس کو مذکورہ قرآنی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔

اس تقریر میں میں نے جو باتیں کہیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ آپ دوسری قوم کے لوگوں کو کافر نہ کہیں، بلکہ انسان کہیں اور دل سے اُنہیں اپنے جیسا انسان سمجھیں ۔ اس طرح آپ کے اور دوسروں کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوں گے جو آپ کے دین کے لیے بھی مفید ہوں گے اور دنیا کے لیے بھی۔

۲۶ جنوری کی شام کو احمد آباد میں میری تقریر ہورہی تھی۔ درمیان میں سامعین میں سے کسی صاحب کے موبائل ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ جوہر صاحب نے مائک پر آ کر کہا کہ یہاں اتنی سنجیدہ بات ہورہی ہے، آپ لوگ اپنے موبائل بند کر لیں۔ میں نے اپنی تقریر روک کر کہا کہ موبائل ٹیلی فون ایک مفید چیز ہے مگر جس کثرت سے اُس کا استعمال ہورہا ہے وہ ایک مصیبت ہے۔ کیوں کہ وہ ایک خلل اندازی(distraction) کے ہم معنی بن گیا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اعلیٰ حقیقتوں پر غور کرے تاکہ اُس کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل برابر جاری رہے۔ مگر موبائل ٹیلی فون اور اس طرح کی دوسری چیزیں ذہنی اور فکری ارتقاء میں ایک مستقل رکاوٹ بن گئی ہیں۔

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک ہیومنسٹ ہیں۔ اُن کا مذہب میں نے کہا کہ ہیومنیزم سادہ طور پر انسانیت کے معنی میں نہیں ہے ۔ وہ خدا رخی (God oriented) سوچ کا نام نہیں۔ وہ دراصل انسان رخی(man-oriented) سوچ کا نام ہے۔ کسی نے درست طور پر ہیومنزم کے بارے میں کہا ہے گاڈ سے انسان کی طرف سیٹ کا منتقل ہونا: transfer of seat from God to man میں نے کہا کہ ہیومنیزم کا یہ فلسفہ محض خیالی ہے۔ یہ خوبصورت لفظ کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں نہایت گہرائی کے ساتھ اپنے سے بڑے کا تصور موجود ہے۔

طور پر اس بڑے کو پا کر اُس کا پرستار بننا چاہتا ہے۔ اب جو لوگ نہ دکھائی دینے والے خدا کو اپنا خدا نہیں بنا پاتے وہ کسی نہ کسی دکھائی دینے والی چیز کو اپنا خدا بنا لیتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں انسان سورج اور چاند جیسی نمایاں چیزوں کو خدا مان کر اُس کی پرستش کرتا رہا۔ موجودہ سائنسی زمانہ میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس قسم کے فطری مظاہر محض مخلوق ہیں، وہ اپنے اندر خدائی صفات نہیں رکھتے۔ اس دریافت کے بعد مظاہر فطرت کی پرستش کا دور ختم ہوگیا۔ مگر جلد ہی انسان نے انسان پرستی (Humanism) کا نظریہ وضع کر لیا۔ حالانکہ یہ ایک بے معنی بات ہے۔ یہ گویا عابد کو معبود بنانا ہے یا اپنے آپ کو خدا کا درجہ دینا ہے۔ عملی طور پر ایسا ہونا ممکن نہیں۔

خدا انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ایک برتر خدا (supreme God)

انسانی فطرت کا لازمی تقاضا ہے۔ ایک ایسا خدا جس میں تخلیق کے واقعہ کی توجیہہ ملتی ہو۔ انسان اپنا قیوم(sustainer) سمجھ سکے۔ جو اُس کے لیے مشکل وقتوں میں کرائس مینجمنٹ (crisis management) کا ذریعہ ہو۔ جو انعام دینے اور سزا دینے کا اختیار رکھتا ہو۔ جو ہر اعتبار سے انسان کی اپنی ذات سے بلند ہو۔ اس قسم کی سپریم ہستی صرف خدا کی ہوسکتی ہے۔ کے لیے دوسرا انسان سپریم نہیں بن سکتا۔ اس لیے ہیومنزم کو مذہب کا بدل بنانا ممکن نہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں آپ کی تحریروں کا فین(fan) ہوں۔ میں نے کہا کہ میرا تجربہ ہے کہ اکثر لوگ اس قسم کے الفاظ بولتے ہیں مگر یہ صرف کہنے کی ایک بات ہوتی ہے۔ حقیقت میں وہ فین کسی اور چیز کے ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ دہلی میں ایک تعلیم یافتہ مسلم خاتون ملنے کے لیے ہمارے دفتر میں آئیں۔ ان کے بھائی نے ٹیلی فون پر بتایا تھا کہ وہ آپ کی تحریروں کی فین ہیں۔ ہمارے دفتر میں بیٹھی ہوئی تھیں اور ان سے خدا اور آخرت کی بات ہورہی تھی۔ اچانک ان کے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ انہوں نے موبائل اپنے کان سے لگایا اور کہا: ’’اچھا بیٹا، میں آرہی اس کے بعد وہ فوراً اٹھ گئیں اور میری بات مکمل ہونے سے پہلے اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے روانہ ہوگئیں جو دہلی میں کسی مقام پر ان کا انتظار کر رہے تھے۔

میرے تجربے کے مطابق، تقریباً ہر مرد اور عورت کا یہی حال ہے۔ ہر ایک اپنے مادی انٹرسٹ کافین ہے اور فرضی طور پر کہتا ہے کہ میں سچائی کا فین ہوں۔

میں بچپن سے یہ سنتا اور پڑھتا رہا ہوں کہ ماں محبت کی علامت ہے۔ یہ بات ساری دنیا کے لٹریچر میں ہزاروں سال سے دہرائی جاتی رہی ہے۔ مگر یہ سراسر بے بنیاد ہے۔ بہت بعد کو میں نے یہ دریافت کیا کہ ماں بیٹا پرستی کی علامت ہے، نہ کہ محبت کی علامت۔ جب مجھے یہ دریافت ہوئی تو میری زبان سے نکلا:

Printed page