Al-Risala · May 2003

Symbiosis between Science & Spirit

Al-Risala, May 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مضمون میں آئنسٹین کا ایک قول نقل کیا گیا تھا۔ اس نے کہا کہ سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے اور مذہب سائنس کے بغیر اندھا ہے:

Science without religion is lame, religion without science is blind. میرے نزدیک سائنس کی محدودیت یہ ہے کہ وہ اپنی تحقیق کا دائرہ مادی چیزوں تک محدود رکھتی ایسی حالت میں ایک سائنٹسٹ کو اگر روحانی موضوعات پر رائے قائم کرنا ہو تو اس کو مذہب سے مدد لینا ہوگا۔ اس اعتبار سے مذہب گویا سائنس کی محدودیت کی تکمیل ہے۔ دوسری طرف مذہبی مطالعہ کا دائرہ بھی ایک اعتبار سے محدود ہے۔ مذہب کا مطالعہ بنیادی طور پر غیر مرئی دنیا (unseen world) سے تعلق رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں ایک مذہبی انسان کو اگر مرئی دنیا (seen world) کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا ہو تو اس کو سائنسی معلومات سے مدد لینا ہوگا۔ اس طرح مذہب اور سائنس دونوں ایک دوسرے کے لیے مددگار (complementary) بن جاتے ہیں۔

ہندوستان ٹائمس (۲۷ جنوری) میں بلزاک (Honore de Balzac) کا قول نقل کیا وہ قول یہ تھا بیٹھ کر رائے زنی کرنا بہت آسان ہے، لیکن جو چیز مشکل ہے وہ یہ اٹھ کر عمل کیا جائے :

It is easy to sit up and take notice. What is difficult is getting up and taking action. اس کو پڑھ کر مجھے یاد آیا کہ اکبر الہ آبادی جو سرسید کے ہم عصر شاعر تھے، وہ سرسید کا مذاق اڑایا خواجہ الطاف حسین حالی نے سرسید کی سوانح عمری (حیات جاوید) لکھ کر شائع کی تو اکبر الہ آبادی نے یہ شعر کہا:

سید کی داستان کو حالی سے پوچھئے غازی میاں کا حال ڈفالی سے پوچھئے مگر جب سرسید کا انتقال ہوا تو اکبر الہ آبادی کو سرسید کی عملی خدمات یاد آئیں۔ اپنے اس احساس کا اظہار ایک قطعہ کی صورت میں کیا جس کا ایک شعر یہ تھا: ہماری باتیں ہی باتیں تھیں سید کام کرتا تھا نہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں ۲۷ جنوری کی دوپہر کو جہاز دہلی کے رن وے پر اُتر کر کچھ دور چلا اور اُس کے بعد وہ قبل از وقت رک گیا۔ کیپٹن نے اعلان کیا کہ ہائیڈرالک فیلیر (hydraulic failure) کی وجہ سے ہم کو جہاز کا انجن بند کرنا پڑا۔ واضح ہو کہ ہائیڈرالک فیلیر کا مطلب ہے، جہاز کے بریک کا فیل ہو جانا۔ حالت میں جہاز اگر رن وے پر چلتا رہتا تو مطلوب مقام پر پائلٹ اُس کو روک نہ پاتا۔ پائلٹ نے انجن کو بند کر کے درمیان ہی میں جہاز کو روک دیا۔ پائلٹ نے اس حادثہ کی خبر ایر پورٹ کے ذمہ داروں کو دی۔ کچھ دیر کے بعد ایک ٹریکٹر آیا جو جہاز کو کھینچ کر آگے لے گیا۔ میں نے سوچا کہ جہاز میں ہائیڈرالک فیلیر ہو جائے تو جہاز زمین کے اوپر کھڑا ہو سکتا ہے۔ لیکن زمین جو خود بھی ایک خلائی جہاز ہے، اگر اُس میں ہائیڈرالک فیلیر جیسا حادثہ پیش آجائے تو اُس کے بعد جو تباہی آئے گی اُس کا اندازہ کرنا ممکن نہیں۔

ائیر پورٹ سے باہر نکلا تو یہاں مسٹر ررجت ملہوترا اپنی گاڑی کے ساتھ موجود تھے۔ مجھے گھر تک پہنچایا۔ راستہ میں اُن سے اسلام اور روحانیت پر باتیں ہوتی رہیں۔ مسٹر جت ملہوترا (۳۰ سال) ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں سروس کرتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کا کافی مطالعہ کیا ہے۔ براہ راست مطالعہ سے پہلے وہ اسلام سے نفرت کرتے تھے۔ مگر مطالعہ کے بعد اُن کی غلط فہمیاں دور ہو گئیں۔ اب اُن کے دل میں اسلام کے لیے گہری عقیدت پائی جاتی ہے۔ سی ایسی چیزوں کو چھوڑ چکے ہیں جن کو اسلام میں منع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سچائی کی تلاش اس سلسلہ میں میں بہت سے مذہبی پیشواؤں سے ملا اور بہت سی کتابیں پڑھیں۔ یہ سلسلہ برسوں تک جاری رہا۔ مگر جب میں نے اسلام کو پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ جس سچائی کو میں تلاش کر رہا تھا وہ یہاں موجود ہے۔

احمد آباد کے سفر سے واپسی کے بعد میں نے ایک خط لکھا۔ یہ خط احمد آباد کے جناب محمد حسن جوہر کے نام تھا۔ اس خط میں میں نے جو باتیں لکھی تھیں وہ مسلمانوں کی عمومی حالت پر ایک تبصرہ تھا۔ اس خط کو یہاں نقل کیا جاتا ہے:

برادر محترم محمد حسن جو ہر صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۲ جنوری ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر آپ سے گفتگو کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں ۔ ہندو بھاری اکثریت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مسلم رہنما بد قسمتی سے ابھی تک ہندو۔ مسلم تعلقات کے بارے میں کوئی قابل عمل فارمولا دریافت نہ کر سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دونوں فرقوں کے درمیان مسلسل تناؤ اور ٹکراؤ کی حالت جاری ہے۔ یہ غیر معتدل صورت حال اقلیت کی ترقی میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد دونوں دوروں میں مسلم رہنماؤں کی سوچ یہ رہی ہے کہ ہندوؤں میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ان کے الفاظ میں ہندوؤں کا ایک گروہ وہ ہے جو سیکولر اور انسان اور دوسرا گروہ وہ ہے جو کٹر اور اینٹی مسلم ہے۔ مسلم رہنماؤں نے تقریباً سو سال سے یہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے کہ سیکولر اور انسان دوست ہندوؤں کو ساتھ لے کر کٹر اور اینٹی مسلم ہندوؤں کا

مقابلہ کیا جائے۔ مگر سوسال کا ناکام تجربہ بتاتا ہے کہ سوچ عملی اعتبار سے سراسر بے فائدہ تھی۔ ہے، خالص منطقی تجزیہ (logical analysis) میں یہ بات درست نظر آئے۔ مگر جب اصل مسئلہ جان ومال کو بچانے کا ہو تو منطقی تجزیہ یہ بظاہر درست ہونے کے باوجود نا قابل قبول ہوگا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ عملی زندگی میں کبھی آئیڈیل نہیں چلتا۔ عملی زندگی کو ہمیشہ پریکٹکل تدبیر کے ذریعہ حل کیا جاتا ہے۔ اور ایسا ہی ہمیں ملی مسائل میں بھی کرنا چاہیے۔

اگر بالفرض مان لیا جائے کہ ہندوؤں میں کچھ پرابلم ہندو ہیں اور کچھ نو پرابلم ہندو۔ تب بھی یہ کوئی کارگر فارمولا نہیں کہ ہندوؤں کے ایک طبقہ کو ہندوؤں کے دوسرے طبقہ کے مقابلہ میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے۔ اولاً تو ایسا ممکن ہی نہیں اور اگر بالفرض ایسا ممکن ہو جائے تب بھی وہ صرف اصل مسئلہ کو بڑھانے کا سبب ہوگا۔ اس تقسیم کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ مفروضہ نو پرابلم ہندو بقیہ ہندوؤں سے کٹ جائیں گے۔ اور نتیجہ وہ خود ہندوؤں میں غیر مؤثر ہو کر رہ جائیں گے۔

اس معاملہ میں زیادہ درست طریقہ یہ ہے کہ تقسیم و تفریق کے اس ذہن کو ختم کرکے سارے ہندوؤں کو ایک نظر سے دیکھا جائے ۔ اگر بالفرض اس ملک میں ایسے ہندو ہیں جو مسلم دشمن ہیں تب بھی اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ ایسے ہندوؤں کو اپنا دوست بنایا جائے اور ان کو اپنا کر اصل مسئلہ کو حل کیا جائے۔ عقل اور مذہب دونوں کا تقاضہ یہی ہے۔ ارباب دانش مسئلہ کو حل کرنے کے اس طریقہ کو برتر حل (superior solution) کہتے ہیں۔ دوسری ورلڈ وار میں امریکہ نے جاپان کے اوپر تباہ کن بمباری کرکے بدترین دشمنی کا معاملہ کیا تھا مگر جنگ کے بعد جاپان نے امریکہ کی دشمنی کو بھلا کر اس سے دوستی کر لی۔ اس کا شاندار نتیجہ یہ نکلا کہ جاپان نے پہلے سے بھی زیادہ بڑی ترقی حاصل کر لی۔ کہ وہ اقتصادی سپر پاور (economic superpower) بن گیا۔

یہی وہ حسن تدبیر ہے جس کو مسیح نے اپنے مشہور الفاظ میں اس طرح بتایا تھا اپنے دشمن سے محبت رکھو (Love your enemy)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کو اپنا دوست بنا کر دشمنی کا مسئلہ حل کرو۔ (Solve the problem of enemity by befriending your enemy.)

اس طرح کے مسئلہ کا یہی وہ برتر حل ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے خدا کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (حم السجدہ ۳۳۔ اس معاملہ میں فیصلہ کن بات یہ ہے کہ ہر شخص فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی کے اندر ضمیر ہر آدمی اسی طرح ایک انسان ہے جس طرح میں یا آپ ایک انسان ہیں۔ کا مطلب یہ ہے کہ دشمنی ہمیشہ صرف ایک اوپری چیز ہوتی ہے، وہ انسان کی گہری شخصیت کا حصہ نہیں یہ اوپری دشمنی صرف اس وقت تک زندہ رہتی ہے جب کہ فریق ثانی اپنے منفی ردعمل (negative reaction) سے اس کو غذا دیتا رہے۔ اگر فریق ثانی اپنے آپ کو منفی ردعمل سے بچائے اور مثبت سلوک (positive behaviour) کا طریقہ اختیار کرے تو یقینی طور پر مفروضہ دشمن دشمنانہ رویہ ختم ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں دشمنی ہمیشہ جوابی دشمنی کی بنیاد پر قائم ہوتی اگر فریق ثانی اپنے آپ کو جوابی دشمنی سے بچائے اور جوابی دوستی کا طریقہ اختیار کرے تو یقینی طور پر وہی معجزاتی واقعہ پیش آئے گا جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے— جو شخص بظاہر تمہارا دشمن تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ فطرت کا قانون ہے۔ اور میں نے اپنے ذاتی تجربہ میں بار بار فطرت کے اس اٹل قانون کو نزاعی مسئلہ کا یقینی حل پایا ہے۔ اس سلسلہ میں میرے تجربات سیکڑوں سے بھی زیادہ جن لوگوں نے میری کتابیں پڑھی ہیں یا میری ڈائری یا میرے سفر نامہ کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ میں نے اس نوعیت کے سیکڑوں تجربات اپنی تحریروں میں نقل کئے ہیں۔

یہ سلسلہ میں نے ۱۹۶۵ میں ہفت روزہ ندائے ملت (لکھنؤ) سے شروع کیا تھا۔ اس کے بعد ۱۹۶۷ سے الجمعیۃ ویکلی (نئی دہلی) کی صورت میں اس کا تسلسل قائم رہا۔ ۱۹۷۶ سے یہ سلسلہ ماہنامہ الرسالہ کی صورت میں برابر جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ اصول نظری اعتبار سے بھی

درست ہے اور عملی تجربہ میں بھی وہ مکمل طور پر نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے۔

لکھنؤ کے ایک مسلم تاجر سے میں نے پوچھا کہ اپنی زندگی کا کوئی تجربہ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان کا مطلب غیر سنجیدہ (insincere) انسان ہے۔ میں نے بھی اپنے تجربہ میں یہ پایا ہے کہ تقریباً ہر مسلمان اپنے ذاتی معاملہ کو آئیڈیل سلوشن کے بجائے پریکٹیکل سلوشن کی بنیاد پر حل کرتا ہے۔ لیکن جب ملت کا کوئی معاملہ ہو تو وہ فوراً آئیڈیل سلوشن کی حمایت میں پرجوش طور پر بولنا شروع کر دیتا یہی غیر سنجیدگی (insincerity) ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے، نہ کہ وہ مفروضہ مسائل جن کا عام طور پر اخباروں اور جلسوں میں تذکرہ کیا جاتا ہے۔

نئی دہلی ۲۹ فروری ۲۰۰۳

Printed page