Al-Risala · June 2003

جنت کی دریافت

Al-Risala, June 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

غالباً 1983 کی بات ہے۔ اُس وقت دہلی میں ایک انگریز مسٹر جان بٹ (John Butt) انہوں نے میری انگریزی کتابیں پڑھی تھیں اور میری فکر سے کافی مانوس ہو چکے تھے۔ ملاقات کے دوران ایک بار میں نے اُن سے کہا کہ قلم میری محبوب چیز ہے۔ میں نے بہت سے قلم استعمال کیے مگر مجھے اپنی پسند کا قلم ابھی تک نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ میں جلد ہی لندن جانے والا ہوں، وہاں سے میں آپ کے لیے ایک اچھا قلم لے آؤں گا۔

کچھ عرصہ کے بعد وہ مجھ سے ملے اور انگلینڈ کا بنا ہوا ایک قلم مجھے دیتے ہوئے کہا کہ میں نے لندن اور آکسفورڈ کی مارکیٹ میں کافی تلاش کے بعد یہ قلم (فاؤنٹین پین) حاصل کیا ہے۔ امید نہیں کہ یہ قلم آپ کی پسند کے مطابق ہوگا۔ میں نے کہا، کیوں۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ ایک پرفیکشنسٹ (perfectionist) ہیں اور دنیا میں چونکہ کوئی بھی قلم پرفیکٹ قلم نہیں، اس لیے آپ کو کوئی بھی قلم پسند نہیں آئے گا۔

اصل یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر پرفیکشنسٹ ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان ایک کمال پسند

Printed page