Efforts to confirm a lasting peace through
Al-Risala, June 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
راقم الحروف کو اس نظریہ سے اتفاق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ ایک ناقص مطالعہ کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ یہ حضرات جب قیام امن کے سوال پر غور کرتے ہیں تو وہ اسلام کو حذف کر کے صرف دوسرے مذاہب کے مطالعہ کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں۔ کیوں کہ غلط طور پر یہ بات مشہور ہو گئی ہے کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے۔ حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام پورے معنیٰ میں امن کا مذہب ہے۔ نے پہلی بار عملی طور پر امن کا نظام قائم کیا اور انسانیت کے لئے پر امن زندگی کے بند راستے کھول دیے۔ یہاں اسلام سے میری مراد اسلام کا دورِ اول ہے جو اسلام کو سمجھنے کے لیے گویا نما ئندہ حیثیت اس دور میں اسلام کے زیر اثر دو بڑے واقعات ہوئے ۔ (۱) امن کے راستہ کی رکاوٹ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا۔ (۲) نظریاتی اور عملی دونوں اعتبار سے امن کا ایک کامل ماڈل قائم کرنا۔ یہ صحیح ہے کہ اسلام کے دور اول میں کچھ لڑائیاں نظر آتی ہیں۔ مگر ان لڑائیوں کا مقصد عین وہی تھا جس کو اہل علم ان الفاظ میں بیان کرتے رہے ہیں۔ آخری جنگ تمام جنگوں کو ختم کرنے کے لیے: Last war to end all wars (13/851)
پیغمبرِ اسلام ۵۷۰ء میں مکہ میں پیدا ہوئے ۔ ۶۳۲ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔
جیسا کہ معلوم ہے، اُس زمانہ میں دنیا میں شہنشاہیت کا نظام قائم تھا۔ یہ نظام ہزاروں سال سے چلا آ رہا اس سیاسی نظام نے انسانی آزادی کا خاتمہ کر دیا تھا۔ بادشاہ کی مرضی واحد فیصلہ کُن طاقت کی حیثیت رکھتی تھی۔
آزادی اور امن کے قیام کے لئے اس جبری نظام کا خاتمہ ضروری تھا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے محدود مدت کے لیے طاقت کا استعمال کیا تاکہ اس نظام کو ختم کر دیا جائے۔ یہ نظام اولاً عرب میں ختم کیا گیا۔ اُس کے بعد اُس زمانہ کے دو سب سے بڑے شہنشاہی نظام۔ رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر سے اُن کا ٹکراؤ پیش آیا۔ اس ٹکراؤ میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو کامیابی حاصل ہوئی اور دونوں ایمپائر ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئے۔
فرانس کے مؤرخ ہنری پرین (Henry Pyrenne) نے اس قدیم نظام کو مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔ اُس نے لکھا ہے کہ اہل اسلام اگر اس مطلق شہنشاہیت کو نہ توڑتے تو دنیا میں کبھی آزادی اور امن کا دور نہ آتا۔