Al-Risala · June 2003

جہاد کیا ہے

Al-Risala, June 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاد کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان جہاد کے نام پر جو کچھ کر رہے ہیں، وہ جہاد نہیں ہے۔ یہ سب قومی جذبات کے تحت چھیڑی ہوئی لڑائیاں ہیں جن کو غلط طور پر جہاد کا نام دے دیا گیا ہے۔

جہاد اصلاً پر امن جدوجہد کا نام ہے، وہ قتال کے ہم معنی نہیں۔ کبھی تو وسیعی استعمال کے طور پر جہاد کو قتال کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ مگر لغوی مفہوم کے اعتبار سے جہاد اور قتال دونوں ہم معنی الفاظ یہاں اس سلسلہ میں قرآن وحدیث سے جہاد کے بعض استعمالات درج کئے جاتے ہیں: قرآن میں ارشاد ہوا ہے: والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا (العنكبوت ۶۹) یعنی جن لوگوں نے جہاد کیا ہماری خاطر تو ہم اُن کو اپنی راہیں دکھائیں گے۔ آیت میں تلاش حق کو جہاد کہا گیا ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی معرفت حاصل

کرنے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی قربت ڈھونڈھنے کے لیے کوشش کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس جہاد کا قتال یا ٹکراؤ سے کوئی تعلق نہیں۔

اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وجاهدوا بأموالهم (الحجرات (۱۵) یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے مال سے جہاد کیا۔ اس آیت کے مطابق، اپنے مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا ایک جہادی عمل ہے۔

اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وجاهدهم به جهاداً كبيراً (الفرقان ۵۲) یعنی غیر مومنین کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کرو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے پرامن جدوجہد کرو۔

اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: المجاهد من جاهد نفسه في طاعة الله (الترمذی، فضائل الجہاد) یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ معلوم ہوا کہ نفس کی ترغیبات سے لڑ کر اپنے آپ کو سچائی کے راستہ پر قائم رکھنا جہاد ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ لڑائی داخلی طور پر نفسیات کے میدان میں ہوتی ہے، نہ کہ خارجی طور پر کسی جنگ کے میدان میں۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحج جهاد (ابن ماجہ، کتاب المناسک ) یعنی حج جہاد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کا عمل ایک مجاہدانہ عمل ہے۔ حج کو مطلوب انداز میں انجام دینے کے لیے آدمی کو سخت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی خدمت کے بارے میں فرمایا: ففيهما فجاهد (البخاری، کتاب الجہاد) یعنی تم اپنے والدین میں جہاد کرو۔ معلوم ہوا کہ ماں باپ کی خدمت کرنا جہاد کا ایک عمل ہے۔

اس طرح کی مختلف آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا عمل اصلاً ایک پرامن عمل ہے۔ وہ کسی مطلوب خدائی کام میں پرامن دائرہ کے اندر جدوجہد کرنا ہے۔ جہاد کے لفظ کا صحیح ترجمہ پرامن جدوجہد (peaceful struggle) ہے۔

Printed page