Al-Risala · June 2003

عسکری دور سے غیر عسکری دور تک

Al-Risala, June 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتویں صدی کے نصف اول میں جب اسلام کا ظہور ہوا، اُس وقت ساری دنیا میں سیاسی جبر کا وہ نظام قائم تھا جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے مطلق بادشاہت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔ یہ نظام جبر انسان کو ہر قسم کے خیر سے محروم کئے ہوئے تھا۔ اُس وقت حکم دیا گیا کہ اس مصنوعی نظام کا خاتمہ کر دو تا کہ انسان کے اوپر ان بھلائیوں کا دروازہ کھل جائے جو اللہ نے اُن کے لیے مقدر کیا ہے۔

قرآن (الانفال ۳۹) میں یہ حکم ان الفاظ میں دیا گیا: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله ۔ (اور اُن سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے اس آیت میں فتنہ سے مراد سیاسی جبر کا وہ قدیم نظام ہے جو آیت کے نزول کے وقت ساری دنیا میں رائج تھا۔ اور دین سے مراد فطرت پر مبنی خدا کا تخلیقی نظام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصنوعی جبر کا نظام ختم ہو جائے اور دنیا میں خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق حالت فطری قائم ہو جائے۔ جس میں ہر انسان اپنے عمل کے لیے آزاد ہو، ہر انسان کھلے ماحول میں اپنا ٹیسٹ دے سکے۔ رسول اور اصحاب رسول کی جدوجہد اور اُن کی قربانی سے مذکورہ قدیم نظام ٹوٹ گیا اور دنیا میں وہ نظام آ گیا جو اللہ کو مطلوب تھا۔ تاہم یہ ایک عظیم تبدیلی تھی۔ یہ وہ انوکھا انقلاب تھا جس کو ہنری پرین نے اس طرح بیان کیا ہے۔ اسلام نے دنیا کی حالت کو بدل دیا۔ تاریخ کا روایتی ڈھانچہ توڑ کر پھینک دیا گیا۔

Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. یہ انقلاب اتنا بڑا تھا کہ وہ اچانک نہیں آ سکتا تھا۔ چنانچہ اللہ کی خصوصی مدد سے وہ ایک عمل (process) کے روپ میں جاری ہوا۔ اسلام کے دور اول کا یہ انقلاب گویا ایک دھکا تھا جو تاریخ کو دیا اس کے بعد انسانی تاریخ ایک مخصوص رُخ پر چل پڑی۔ ساتویں صدی کا یہ عمل مسلسل جاری

یہاں تک کہ وہ بیسویں صدی کے وسط میں اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد یہ ناممکن ہو گیا کہ قدیم طرز کا جبری نظام دوبارہ زمین پر قائم ہو۔

بعد کے زمانہ میں دوبارہ کسی اور ایمپائر کا دنیا میں قائم نہ ہونا کوئی اتفاقی بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ پچھلی چند صدیوں کے عمل کے نتیجہ میں دنیا میں ایسی ہمہ گیر تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں جو کسی نئے ایمپائر کے قیام کی راہ میں فیصلہ کن طور پر رکاوٹ ہیں۔ اب وہ اسباب دنیا میں موجود ہی نہیں جب کہ کوئی سیاسی حوصلہ مند دوبارہ قدیم طرز کا ایمپائر کھڑا کر سکے۔

موجودہ زمانہ میں سیاسی ایمپائر کے قیام کے خلاف جو موانع (deterrents) پیدا ہوئے ہیں اُن کو چند مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔

قدیم زمانہ میں یہ صورت حال تھی کہ جب کوئی بادشاہ فوجی طاقت کے زور پر ایک علاقہ پر قبضہ کر لیتا تھا تو وہاں کے لوگ اٗس کو بادشاہ کا فطری حق سمجھ کر اٗس کی سیاسی بالا دستی کو قبول کر لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں ایک بادشاہ کو صرف دوسرا بادشاہ ختم کر سکتا تھا، نہ کہ عوام۔ مگر موجودہ زمانہ میں جمہوریت اور سیاسی آزادی اور قومی حکومت کے تصورات کے نتیجہ میں رائے عامہ اتنی زیادہ بدل چکی ہے کہ اب کسی بیرونی بادشاہ کو وہ اجتماعی قبولیت (social acceptance) حاصل نہیں ہوتی جو کسی حکومت کے قیام و بقا کے لیے ضروری ہے۔

قدیم زمانہ میں اقتصادیات کا انحصار تمام تر زمین پر مبنی ہوتا تھا اور زمین صرف بادشاہ کی ملکیت سمجھی جاتی تھی۔ موجودہ زمانہ میں صنعتی انقلاب نے بے شمار نئے اقتصادی ذرائع پیدا کر دیے یہ نئے ذرائع ہر انسان کے لیے قابل حصول ہیں۔ اس لیے اب عام لوگوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ سیاسی حکمراں کے خلاف ایسے آزاد اقتصادی وسائل پالیں جو سیاسی حکمراں کے دائرۂ اقتدار کے اس اقتصادی تبدیلی نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ آج ایسی انقلابی تحریک چلائی جا سکے جس کو روکنا سیاسی حکمراں کے لیے ممکن نہ ہو۔

اسی طرح ایک چیز وہ ہے جس کو مانع میڈیا (media deterrent) کہا جا سکتا

موجودہ زمانہ میں میڈیا اور کمیونیکیشن کی ترقی نے یہ صورت حال پیدا کر دی ہے کہ ایک علاقہ میں پیش آنے والا واقعہ فورا ہی ساری دنیا میں پہنچ جائے ۔ تمام دنیا کے لوگ اُس سے پوری طرح با خبر ہو جائیں ۔ یہ ایک ایسا چیک (check) ہے جس نے قدیم طرز کے سیاسی ایمپائر کے قیام کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ اب کوئی بادشاہ اپنے اختیارات کا اِس طرح بے خوف استعمال نہیں کر سکتا جو پہلے ممکن ہوا کرتا تھا۔

اِسی طرح ایک اور چیز وہ ہے جس کو عالمی مانع (universal deterrent) کہا جا سکتا موجودہ زمانہ میں اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کے تحفظ کے نام پر قائم ہونے والے ادارے، ایسے مستقل چیک ہیں جن کو کوئی سیاسی حکمراں نظر انداز نہیں کر سکتا اور نہ دیر تک اُن کی خلاف ورزی کا تحمل کر سکتا ہے۔

اِن عالمی تبدیلیوں کے بعد انسانی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ قدیم دور اگر عسکری دور تھا تو اب نیا دور غیر عسکری دور ہے۔ قدیم زمانہ میں پرتشدد طریقہ کو کسی بڑی کامیابی کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب پر اَمْن طریقہ (peaceful method) کو مطلق طور پر کامیاب طریقہ کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ اب کسی مقصد کے حصول کی جدوجہد کو اول سے آخر تک اِس طرح چلایا جا سکتا ہے کہ اُس کے کسی بھی مرحلہ میں تشدد کے استعمال کی ضرورت پیش نہ آئے۔ وہ مکمل طور پر پُر امن ذرائع کی پابند رہتے ہوئے کامیابی کی آخری منزل تک پہنچ جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اب پرتشدد طریق کار ایک خلاف زمانہ عمل (anachronism) کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اب وہ وقت کے مطابق، کوئی عمل نہیں۔

جہاد بمعنی قتال کو تمام علماء حسن لغیرہ مانتے ہیں، نہ کہ حسن لذاتہ ۔ اب موجودہ حالات میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اب جہاد بمعنی قتال کا وقت نہیں رہا ، اب جہاد بمعنی پرامن جدوجہد کا وقت دنیا میں واپس آگیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاد بمعنی قتال اب منسوخ ہو گیا۔ وہ حکماً بدستور باقی ہے۔ نیا معاملہ جو پیش آیا ہے اِس کا تعلق خود حکم کی منسوخی سے نہیں ہے بلکہ احوال کی تبدیلی سے ہے۔

اس کی توجیہہ اس فقہی مسلمہ میں پائی جاتی ہے کہ:۔ تتغیر الأحكام بتغير الزمان (زمان ومکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں) یہ امر واضح ہے کہ تبدیلی اور منسوخی میں نوعی فرق پایا جاتا ہے۔

یہ تبدیلی جو موجودہ زمانہ میں پیش آئی ہے وہ عین اسلام کے حق میں ہے اور وہ اسلام ہی کے پیدا کردہ انقلاب کے نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے۔ ایسا اس لیے ہوا ہے کہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کے مواقع آخری حد تک کھول دیے جائیں۔ اب اہل اسلام گویا آخری طور پر اس دور میں داخل ہو چکے ہیں جس کی آمد کی دعا رسول اور اصحاب رسول نے ان الفاظ میں کی تھی: ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا (البقرہ) اب اسلام کے دعوتی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کسی ٹکراؤ کی ضرورت نہیں۔ اب پُر امن طریق کار پر عمل کرتے ہوئے وہ سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے جو اسلام میں مطلوب ہے۔

Printed page