ایک حدیث
Al-Risala, June 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خطبہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور اپنے زمانہ سے لے کر قیامت تک پیش آنے والی ساری باتیں آپ نے ہم کو بتائیں۔ اس خطبہ میں آپ نے اپنی امت کو نہایت شدت کے ساتھ سیاسی بغاوت سے منع کیا۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی حکمراں خواہ تمہارے نزدیک ظالم ہو، وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے اور تمہارا مال چھین لے تب بھی تم اس کی اطاعت کرو۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: وانما اخاف على امتى الائمة المضلين، وإذا وضع السيف في امتى لم يُرفع عنها الى يوم القيامة، (سنن ابی داؤد، كتاب الفتن والملاحم، ۹۵/ ۴) یعنی میں اپنی امت پر سب سے زیادہ گمراہ کرنے والے لیڈروں سے خائف ہوں، اور جب میری امت میں تلوار داخل ہو جائے گی تو وہ اس سے قیامت تک اٹھائی نہ جائے گی۔ اس قسم کی دوسری حدیثوں کی روشنی میں اس حدیث پر غور کیا جائے تو اس کا مطلب یہ سمجھ میں
آتا ہے کہ سیاسی معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ پر تشدد عمل سے روکا اور پر امن عمل کی نصیحت کی۔ اس لیے کہ پر تشدد عمل کی روایت اگر ایک بار قائم ہو جائے تو اس کے بعد اُس کوختم کرنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔
حدیث کی کتابوں میں کثرت سے اس قسم کی روایتیں آئی ہیں جن میں آپ نے حکمراں کے خلاف خروج سے آخری حد تک منع فرمایا ہے۔ اس بنا پر علماء نے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف کسی بھی عذر کی بنا پر بغاوت کرنا حرام ہے۔ (الغلو فی الدین صفحہ ۲۱۷) ایک طرف حاکم کے خلاف متشددانہ سیاست کی یہ مطلق ممانعت ہے۔ دوسری طرف روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: افضل الجہاد من قال کلمة حق عند سلطان جائر (الترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، احمد، النسائی) یعنی افضل جہاد یہ ہے کہ کوئی شخص ظالم بادشاہ کے سامنے حق کی بات کہے۔
ان دونوں قسم کی روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو کوئی حکمراں شخص ظالم دکھائی دے تب بھی اس کے لئے زیادہ سے زیادہ جس حد تک جانے کی اجازت ہے وہ صرف قولی معنی میں اظہار رائے ہے، نہ کہ عملی معنی میں مخالفانہ سیاست چلانا یا حکمراں کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ لفظوں میں یہ کہ اسلام میں صرف پر امن جدوجہد (peaceful struggle) ہے۔ (violent struggle) کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر اسلام میں جائز نہیں۔ اسلام کی بعد کی تاریخ کا غالباً سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مذکورہ واضح ہدایات کے باوجود بعد کی مسلم نسلوں میں جہاد کے نام پر متشددانہ سیاست کی روایت چل پڑی۔ حتیٰ کہ یہ ذہن مسلمانوں پر اتنا زیادہ چھایا کہ دین رحمت (الانبیاء ۱۰۷) ان کے یہاں دین جہاد بمعنی قتال بن گیا۔ بعد کی صدیوں میں تیار ہونے والا بیشتر لٹریچر براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔ بعد کے زمانہ میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئیں اُن میں اس ذہن کی عکاسی اس طرح ہوئی کہ صبر و اعراض کی آیتوں کے بارے میں لکھ دیا گیا کہ قتال کا حکم اُترنے کے بعد یہ آیتیں منسوخ ہو گئیں۔
احادیث جمع کرکے مرتب کی گئیں تو اُن میں کتاب الجہا د تو نہایت تفصیل کے ساتھ درج کیا گیا مگر کتاب الدعوہ والتبلیغ سرے سے کسی کتاب میں شامل نہیں۔ یہی حال فقہ کی تمام کتابوں کا ہے۔ کتابوں میں جہاد اور متعلقات جہاد کے احکام نہایت تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں مگر دعوت اور متعلقات دعوت کے ابواب کسی بھی فقہی کتاب میں قائم نہیں کئے گئے۔
یہی حال بعد کو پیدا ہونے والے تقریباً تمام اسلامی لٹریچر کا ہوا۔ ابن تیمیہ سے لے کر شاہ ولی اللہ تک، اور شاہ ولی اللہ سے لے کر موجودہ زمانہ کے مصنفین تک، کوئی بھی شخص دعوت کے موضوع پر کوئی کتاب تیار نہ کر سکا۔ اگر کسی کتاب کا نام دعوت و تبلیغ ہے تو وہ بھی ایسا ہی ہے جیسے سیاست یا فضائل کی کسی کتاب کا نام دعوت و تبلیغ رکھ دیا جائے۔
اس قسم کے لٹریچر کے تحت مسلمانوں کا جو مزاج بنا اُسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنے والے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں اور جو شخص ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کرے وہ اُن میں غیر مقبول ہو کر رہ جاتا ہے۔
اسی بنا پر ایسا ہوا کہ امام حسین کے کردار کو تو ہمارے مقررین اور محررین نے خوب نمایاں کیا مگر امام حسن کا کردار نمایاں نہ کیا جا سکا۔ صلاح الدین ایوبی کو مسلمانوں کے درمیان زبردست شہرت حاصل ہوئی ۔ مگر وہ لوگ جنہوں نے تاتاری غارت گروں کو اسلام میں داخل کر کے انہیں اسلام کا خادم بنایا اُن کا کوئی تذکرہ ہماری تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتا۔ موجودہ زمانہ میں اسامہ بن لادن جیسے تشدد کی بات کرنے والے لوگ نہایت آسانی سے مسلمانوں کے درمیان ہیرو بن جاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص امن اور احترام انسانیت کی بات کرے تو وہ مسلمانوں کے درمیان عمومی قبولیت حاصل نہ کر سکے گا۔
اس ذہن کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عام انسانیت مسلمانوں کا کنسرن (concern) ہی مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ خدا کے بندوں کو وہ اپنی قوم اور غیر قوم میں تقسیم کرکے دیکھنے دعوتی طرزِ فکر کے مطابق، مسلمان اور غیر مسلم داعی اور مدعو قرار پاتے ہیں۔ اس کے برعکس
جہادی (بمعنٰی قتالی) طرز فکر میں یہ ہوتا ہے کہ مسلمان دوسروں کو اپنا حریف اور رقیب سمجھنے لگتے ہیں۔ مغربی قوموں کے استیلاء کے بعد یہ فرق بہت بڑھ گیا۔ مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ مغربی قوموں نے اُن سے اُن کا برتری کا مقام چھین لیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ رقابت مزید اضافہ کے ساتھ نفرت بن گئی۔ مسلمان عام طور پر دوسری قوموں کو دشمن کی نظر سے دیکھنے لگے۔ اسلام اکیسویں صدی میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ دورِ اول میں جو انقلاب آیا اُس کا ایک پہلو وہ ہے جس کی تکمیل دورِ اول ہی میں ہوگئی۔ یعنی نزولِ قرآن کی تکمیل اور اسلامی طرزِ زندگی کا نظری اور عملی نمونہ دنیا میں قائم ہو جانا۔ یہ نمونہ قرآن اور حدیث اور سیرت اور احوالِ صحابہ کی صورت میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا ہے۔ وہ ابدی طور پر انسان کے لیے ربانی طرزِ زندگی کا مستند نمونہ ہے۔ دورِ اول کے اسلامی انقلاب کا دوسرا پہلو وہ ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے تدرّج کا طالب چنانچہ وہ لمبی مدت کے بعد اپنی تکمیل کو پہنچا۔ یہ دوسرا پہلو ایک مسلسل عمل (process) کے طور پر انسانی تاریخ میں داخل ہوا۔ یہ تاریخ میں ایک بے حد دور رس تبدیلی کا معاملہ تھا۔ اُس کے لیے ہزار سالہ تغیراتی عمل درکار تھا۔ چنانچہ یہ عمل مکہ اور مدینہ سے جاری ہو کر دمشق اور بغداد تک پہنچا۔ کے بعد وہ مزید آگے بڑھا۔ وہ اولاً یورپ (اندلس) میں داخل ہوا اور اُس کے بعد وہ ساری دنیا میں مستقبل میں آنے والے اس انقلاب کا ذکر قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ سلسلہ میں چند آیتوں کے حوالے نقل کئے جاتے ہیں۔
اور تم اُن سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے۔
آج منکر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے۔ پس تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔
عنقریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ (حم السجدہ ۵۳)
اے ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ اسلامی انقلاب کے اس دوسرے پہلو کا خلاصہ یہ تھا کہ تاریخ میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں کہ اُس کے بعد اسلام پر عمل کرنا زمانۂ ماضی کے مقابلہ میں آسان ہو جائے۔ پچھلے دور کے اہل ایمان کو جو کام ’’عُسر‘‘ کے حالات میں کرنا پڑتا تھا وہ اگلے دور کے اہل ایمان کے لئے ’’يُسر‘‘ کے حالات میں انجام دینا ممکن ہو جائے۔ (الانشراح) تيسير کے اس عمل کے مختلف پہلو ہیں۔
اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں بادشاہت کے تحت سیاسی جبر کا نظام قائم تھا۔ کے تحت انسان کو سوچنے یا عمل کرنے کی آزادی حاصل نہ تھی۔ جب کہ آزادی کے بغیر نہ دینی احکام پر عمل کیا جا سکتا اور نہ دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیا جا سکتا ہے۔ اسلامی انقلاب نے نہ صرف ابتدائی طور پر جبر کے اس نظام کو توڑا بلکہ تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری کیا۔ اس عمل کی تکمیل موجودہ زمانہ میں اس طرح ہوئی ہے کہ آج اہل ایمان کو دینی عمل اور دینی دعوت دونوں کی مکمل آزادی حاصل ہے، الا یہ کہ وہ خود اپنی کسی نادانی سے حالات کو مصنوعی طور پر اپنے مخالف بنالیں۔ اس انقلاب کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ٹیکنیکل ترقی کے ذریعہ کمیونیکیشن کے جدید ذرائع حاصل ہوگئے ۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ حق کی دعوت کو تیزی کے ساتھ دنیا کے ہر حصہ میں
اسی طرح موجودہ زمانہ میں سائنسی دریافتوں نے اس کو ممکن بنا دیا کہ کائنات میں چھپی ہوئی خدا کی نشانیاں ظاہر ہوں اور خدا کے دین کو خود علم انسانی کی روشنی میں مدلّل اور مبرہن کر سکے۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ عمل اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا تھا۔ اب اہل ایمان کے لیے یہ ممکن ہو گیا تھا کہ وہ امن اور آزادی کی فضا میں بخوبی طور پر اللہ کے دین پر عمل کریں اور اللہ کے دین کو دوسری اقوام تک پہنچانے کا دعوتی فریضہ کسی رکاوٹ کے بغیر انجام دیں۔ مگر عین اسی صدی
میں مسلمانوں کے نااہل رہنماؤں نے غلط رہنمائی کر کے انہیں ایسی سرگرمیوں میں الجھا دیا جس کا نتیجہ صرف یہ ہو سکتا تھا کہ اہل ایمان جدید مواقع کو استعمال نہ کر سکیں، حتیٰ کہ وہ اُن کے شعور سے بھی بے بہرہ ہو جائیں۔ یہ غلطیاں بنیادی طور پر دو قسم سے تعلق رکھتی ہیں۔
ایک غلطی وہ ہے جو اسلام کی سیاسی تعبیر کے نتیجہ میں پیدا ہوئی۔ اس تعبیر نے غلط طور پر مسلمانوں کا یہ ذہن بنایا کہ وہ اسلام کے کامل پیرو صرف اُس وقت بن سکتے ہیں جب کہ وہ اسلام کے تمام قوانین کو عملاً نافذ کر دیں۔ اس سیاسی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم عوام اپنے حکمرانوں سے لڑ گئے، تاکہ اُن کو ہٹا کر وہ شریعت کا قانون نافذ کر سکیں۔ اس سیاسی بدعت کے نتیجہ میں کوئی خیر تو سامنے نہیں آیا البتہ مسلم دنیا میں خود مسلمانوں کے ہاتھوں وہ جبر اور ظلم دوبارہ قائم ہو گیا جس کو لمبے تاریخی عمل کے نتیجہ میں ختم کیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ بندوں سے اسلام کی کامل پیروی مطلوب ہے، نہ کہ اسلام کا کامل نفاذ۔
دوسری غلطی وہ ہے جو جہاد کے نام پر موجودہ زمانہ میں شروع کی گئی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دوسری قوموں سے کچھ سیاسی اور مادی شکایتیں تھیں۔ ان شکایتوں کو پرامن طریق کار کے ذریعہ حل کیا جا سکتا تھا مگر پرجوش رہنماؤں نے فوراً جہاد کے نام پر ہتھیار اٹھا لیے اور دوسری قوموں کے خلاف مسلح لڑائی شروع کردی۔ اس خود ساختہ جہاد کے نتیجہ میں نہ صرف جدید امکانات ضائع ہو گئے بلکہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اتنی بڑی تباہی سے دوچار ہوئے، جیسی تباہی ماضی کی طویل تاریخ میں اُن کے ساتھ کبھی پیش نہیں آئی تھی۔
مسلم رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں مسلمان بیسویں صدی کو کھو چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی ان غلطیوں کی اصلاح کریں گے یا موجودہ صدی کو بھی وہ اُسی طرح کھو دیں گے جس طرح وہ پچھلی صدی کو کھو چکے ہیں۔
صدام حسین کے لیے انتخاب (Option for Saddam Hussein)
عراق کے صدر صدام حسین کے سامنے محفوظ طور پر صرف ایک ہی چوائس ہے۔ وہ یہ کہ وہ عراق کو چھوڑ کر خاموشی کے ساتھ باہر چلے جائیں اور اپنی زندگی کے بقیہ ایام پرسکون جلاوطنی میں گزاریں۔ جیسا کہ ان سے پہلے بہت سے حکمران کر چکے ہیں۔ خوش قسمتی سے کئی عرب ملک اُن کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔
صدام حسین کے لیے یہی واحد چوائس ہے۔ دوسرا چوائس جو اس وقت وہ لیے ہوئے ہیں وہ عملی طور پر کوئی چوائس نہیں۔ یعنی اپنی پولیٹیکل گدی پر بدستور جمے رہنا۔ اس دوسری چوائس میں یقینی طور پر آخر کار ان کی اپنی تباہی بھی ہے اور عراق کی تباہی بھی۔
صدام حسین اگر اسلامی اصول کی بنیاد پر فیصلہ کریں تو میں اُن کو یاد دلاؤں گا کہ پیغمبر اسلام کی پالیسی کیا تھی۔ عائشہ زوج رسول کہتی ہیں کہ جب بھی پیغمبر اسلام کو دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو وہ ہمیشہ آسان انتخاب (easier option) کو لے لیتے اور مشکل انتخاب (harder option) کو چھوڑ دیتے (البخاری)
موجودہ حالات میں یہ بالکل واضح ہے کہ صدام حسین کے لیے ترک وطن کا چوائس ہی واحد آسان انتخاب (easier choice) ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنی موجودہ حالت پر اصرار کریں تو یہ امریکہ کو عراق پر بمباری کی دعوت دینے کے ہم معنی ہوگا۔ دوسری صورت اُن کے لیے مشکل انتخاب ہے جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ صدام حسین اگر اس شرعی اصول کو نہ مانیں تب بھی میں کہوں گا کہ اُن کے حق میں عقل کا فیصلہ بھی یہی ہے۔ دنیا کے تمام دانشمند سیاست داں کا کہنا ہے کہ سیاست ممکن کا آرٹ ہے: