Politics is the art of the possible.
Al-Risala, June 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
اس عقلی فارمولے کی روشنی میں بھی صدام حسین کے لیے درست پالیسی یہ ہے کہ وہ امریکہ کے پیش کردہ محفوظ نقل مقام (safe passage) کی پیشکش کو قبول کر لیں اور عراق کے باہر جا کر پرسکون اس طرح کی زندگی کے لیے وسائل کے اعتبار سے ان کے پاس اب بھی بہت کافی وسائل موجود ہیں۔
اس کے برعکس اگر وہ عراق میں اپنی سیٹ پر جمے رہنے پر اصرار کریں تو یہ اُن کے لیے یقینی طور پر ناممکن کا آرٹ (art of the impossible) کو اختیار کرنے کے ہم معنی ہوگا اور ظاہر ہے کہ ناممکن کی سیاست ایک ایسی بھیانک چیز ہے جس کا کوئی بھی دانش مند آدمی تحمل نہیں کر سکتا۔ یہاں میں یاد دلاؤں گا کہ صدام حسین کے لیے جنگ کوئی نیا تجربہ نہیں۔ اس سے پہلے کم از کم دوبار وہ باقاعدہ جنگ کر چکے ہیں۔ پہلی بار ایران کے ساتھ اور دوسری بار کویت کے معاملہ میں امریکہ کے ساتھ جس کو انہوں نے ام المعارک (mother of battles) کا نام دیا تھا۔ مگر ان دونوں جنگوں میں صدام حسین کو ایسی شکست ہوئی جس کو مبصرین نے ذلت آمیز شکست کا نام دیا تھا۔ دوبارہ کے اس ناکام تجربہ کے بعد اب وہ کس چیز کے بل پر تیسری بار امریکا جیسے سپر پاور سے لڑنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ جب کہ حالت یہ ہے کہ صدام حسین بوقت تحریر (۱۵ فروری ۲۰۰۳) پہلے سے زیادہ کمزور ہو چکے ہیں اور دوسری طرف امریکا اب پہلے سے زیادہ طاقتور حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ صدام حسین اور امریکا کے درمیان فوجی طاقت کے اعتبار سے اتنی واضح نامابری (disparity) ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص یہ کہنے کی جرأت نہیں کرے گا کہ اگر جنگ ہوئی تو صدام حسین امریکا کو شکست دے دیں گے اور فتح کا جشن منائیں گے۔
صدام حسین کے لیے افغانستان میں دو مختلف مثالیں موجود ہیں۔ ایک ظاہر شاہ کی اور دوسری ملا محمد عمر کی۔ ظاہر شاہ نے اسی قسم کی صورت حال میں اپنی گدی چھوڑ دی اور افغانستان سے ہجرت کر کے اٹلی چلے گئے۔ وہاں وہ آج بھی عافیت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے برعکس مثال ملا محمد عمر انہوں نے غیر حقیقت پسندانہ ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود بھی ہلاک
ہوئے اور افغانستان کو بھی تباہ کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ صدام حسین اگر ظاہر شاہ کی مثال کو اپنائیں تو یہ ان کے لیے بھی اچھا ہوگا اور عام مسلمانوں کے لیے بھی۔
صدام حسین کے متعلق معلوم ہے کہ وہ نہایت ذہین آدمی ہیں۔ عرب سربراہان مملکت میں وہ غالباً سب سے زیادہ تعلیم یافتہ حکمران ہیں۔ اُن کو عربی زبان پر غیر معمولی قدرت حاصل ہے۔ ہوں کہ اگر وہ اس حقیقت کو سمجھیں تو سیاست اُن کے لیے صرف ایک سیکنڈری چوائس ہے۔ خداداد صلاحیت کو اس سے زیادہ بڑے کام میں استعمال کر سکتے ہیں اور اپنے بعد دنیا کے لیے زیادہ بہتر وراثت چھوڑ سکتے ہیں۔
مثلاً وہ امریکہ کے جیفرسن کی طرح ایک بڑی یونیورسٹی قائم کریں۔ وہ برطانیہ کے چرچل کی طرح اپنی ممائرس(memoirs) لکھیں۔ حتیٰ کہ اپنی غیر معمولی صلاحیت کی بنا پر وہ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ گوتم بدھ کی طرح سیاسی اقتدار کو چھوڑ کر مذہب کے احیاء کا کام کریں، وغیرہ۔ صدام حسین اگر یہ فیصلہ کریں کہ آئندہ وہ سیاسی رول کے بجائے تعمیری رول کو اپنے لیے منتخب کریں گے تو یہ بلاشبہ ایک عظیم واقعہ ہوگا۔ اس طرح وہ اپنے جیسے بہت سے لوگوں کے لیے ایک کامیاب رول ماڈل بن جائیں گے۔ عین ممکن ہے کہ اُن کا یہ فیصلہ جدید تاریخ میں ایک نئے دور انقلاب کا آغاز بن جائے۔ (۱۵ فروری ۲۰۰۳)