سوال و جواب
Al-Risala, June 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
میری خواہش ہے کہ مذکورہ ذیل چند عناوین پر آپ کے خیالات معلوم کروں :
ختم نبوت کی حقیقت۔ مسئلہ حیات و ممات حضرت عیسیٰ السلام۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام، یعنی ان کا کام کیا ہوگا۔ آپ کے نزدیک ان کا مقام کیا ہوگا۔ مسئلہ اجزائے وحی کی حقیقت۔ یعنی وحی کی کتنی اقسام ہیں۔ کیا وحی کا تعلق صرف انبیاء سے ہوتا ہے۔ کیا اب ہر قسم کی وحی بند ہے۔ (محمد وسیم خاں، قادیان)
ختم نبوت کے بارہ میں میں اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں۔ نزدیک پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلہ نبوت آخری طور پر ختم ہو گیا۔ اب نہ کوئی براہ راست پیغمبر آنے والا ہے اور نہ کوئی بالواسطہ پیغمبر۔ پیغمبر اسلام کے بعد دین خداوندی کا متن محفوظ ہو گیا۔ طور پر اُس کا ایک تاریخی نمونہ قائم ہو گیا۔ دنیا کے حالات میں ایسی تبدیلیاں ہوئیں جن کے بعد دین خداوندی میں کسی قسم کی تحریف کا امکان باقی نہیں رہا۔ اس لیے اب کسی نئے نبی کی ضرورت بھی نہیں۔ میرے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اُسی طرح ہو چکی ہے جس طرح دوسرے پیغمبروں کی ہوئی۔ جہاں تک حضرت مسیح کی آمدثانی کا سوال ہے تو اس بارہ میں میری رائے تقریباً وہی ہے جو علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں بیان کی ہے :
ابن مریم سے مسیح ناصری مقصود ہیں یا مجدد جس میں ہوں فرزند مریم کی صفات مہدی کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ وہ پیغمبر کی طرح کوئی عہدہ نہیں ہے بلکہ وہ خدمتِ دین کا ایک معاملہ ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، مہدی دراصل ایک ہدایت پایا ہوا شخص ہوگا، نہ کہ ہدایت دینے والا شخص۔ غالباً اسی لیے اُس کو ہادی نہیں کہا گیا بلکہ مہدی کہا گیا۔ بعض روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک ایسا وقت آئے گا جب کہ بگاڑ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ سچائی لوگوں سے اوجھل ہو جائے گی۔ اُس وقت اللہ کی توفیق سے ایک ’’رجل مؤمن‘‘ ہوگا جو حقیقی سچائی
کو پائے ہوئے ہوگا اور اُس کو لوگوں کے سامنے بیان کرے گا۔ میرے نزدیک مہدی سے مراد مجدَّد لیکن مہدی کا مہدی ہونا خود مہدی کو بھی شعوری طور پر معلوم نہ ہوگا۔ اُس کا علم صرف اللہ کو ہوگا جو آخرت میں اُس کا اظہار فرمائے گا۔
وحی کی صرف ایک قسم ہے۔ اور یہ وہی وحی ہے جو فرشتہ کے ذریعہ پیغمبر تک پہنچتی ہے۔ البتہ جیسا کہ قرآن اور حدیث سے ثابت ہے، غیر انبیاء کو بھی خواب یا القاء (inspiration) کی صورت میں خدائی رہنمائی دی جاتی ہے۔ تاہم یہ رہنمائی صرف ایک قرینہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ نہ قطعی ہے اور نہ وہ کسی کے لیے حُجّت ہوسکتی ہے۔
میں ذہنی اعتبار سے پریشان ہوں اور اس کا حل آپ کے ذریعہ سے حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ میں ایک دینی ادارے میں سروس کرتا ہوں۔ میری تنخواہ کم اور گھریلو حالات نا قابلِ بیان ہیں۔ وقت حالات بڑے ہی خراب ہیں۔ اگر کچھ کہتا ہوں تو لڑائی وفساد رونما ہوتا ہے۔ ان حالات میں دل کو اطمینان نہیں ہوتا اور خیالات فاسدہ دل ودماغ میں آتے ہیں۔ اب آپ ہی بتایئے میں کیا کروں۔ سروس ختم کردوں یا ان تمام حالات کو برداشت کروں۔ میں معاشی اعتبار سے بہت ہی پریشان ہوں۔ برائے کرم اس کا کوئی حل بتائیں۔ (محمد عتیق الرحمٰن، ہنگولی )
معاشی مسئلہ ایک انفرادی مسئلہ ہے۔ اس کا حل ہر ایک کو اپنے حالات کے اعتبار سے ڈھونڈھنا پڑتا ہے۔ کسی کے لیے معاشی مسئلہ کا حل یہ ہوتا ہے کہ وہ کفایت اور سادگی کا طریقہ اختیار کرے، کسی کے لیے یہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی ہنر سیکھے، کسی کے لیے یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف تنہا نہ کمائے بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی اس کام میں لگائے۔ کسی کا کیس یہ ہوتا ہے کہ وہ بہتر تعلیم حاصل نہ کر سکا۔ شخص کے لیے میرا مشورہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے لیے قناعت کا طریقہ اختیار کریں اور بچوں کو اچھی تعلیم تاکہ آپ کی اگلی نسل دوبارہ اس مسئلہ کا شکار نہ ہو۔
اس سلسلہ میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ مسائل ہر ایک کو پیش آتے ہیں، خواہ اُس کی آمدنی کم ہو یا زیادہ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملہ میں صبر کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ گھر والوں کی طرف سے شکایات ہوں تو اُن کا جواب تحمّل کے ساتھ دیا جائے۔ ردّعمل کا طریقہ ہرگز نہ اختیار کیا جائے۔ کامیاب زندگی گزارنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز دانش مندی ہے، نہ کہ زیادہ آمدنی۔ یہ حقیقت واضح ہے کہ پانچ وقت کی نماز کا تحفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں عطا کیا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کے رسول معراج میں جانے سے قبل بیت المقدس میں تمام سابقہ انبیاء کرام کی امامت فرمارہے ہیں ۔ برائے مہربانی یہ بتانے کی زحمت فرمائیں کہ وہ کون سی نماز تھی جس کی ہمارے رسول نے امامت فرمائی۔ (زبیر احمد، بهاگلپور)
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سوال سے منع فرمایا اور یہ کہا کہ پچھلی امتیں کثرت سوال کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں (فانما هلك من كان قبلكم بكثرة سؤالهم (النسائی، کتاب الحج، مسند احمد ۲ / ۲۷۲)
مذکورہ سوال اسی نوعیت کا ایک سوال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب اس قسم کا سوال ذہن میں آئے تو اُس کو شیطانی وسوسہ سمجھ کر اِس کو اپنے دماغ سے نکال دینا چاہئے، نہ یہ کہ اُس کا جواب حاصل کرنے کے لیے اپنا وقت ضائع کیا جائے۔
کثرت سوال سے مراد دراصل غیر متعلق سوال (irrelevant question) ہے۔ ہے کہ فکر صحیح کے لیے ترکز (concentration) بہت ضروری ہے۔ ترکیز یہ ہے کہ آدمی اپنے فکری عمل کو صرف متعلق سوال تک محدود رکھے اور غیر متعلق سوال میں اُلجھنے سے اپنے آپ کو بچائے۔ مثلاً انبیائے کی امامت کے معاملہ میں یہ ایک غیر متعلق سوال ہے کہ وہ نماز کس وقت کی نماز تھی۔ اُس کا اصل پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اہتمام کے تحت پیغمبر اسلام نے تمام انبیائے کی امامت کی۔
یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ پچھلے نبیوں کے پیروؤں کو چاہئے کہ اب وہ ہدایت کے معاملہ میں پیغمبرِ اسلام کی اقتدا کریں۔
ایسا جو کیا گیا اُس کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ کہ دوسرے ادیان کو ماننے والے یہ جان لیں کہ اب نجات دینِ محمدی کی پیروی میں منحصر ہوگئی ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام کی اُمّت اپنی بڑھی ہوئی ذمہ داری کو محسوس کرے۔ انسانیت کے حق میں اُس کی خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مزید شدّت کے ساتھ تمام انسانوں تک پیغمبرِ اسلام کا لایا ہوا دین پہنچائے۔ وہ اس معاملہ میں آخری حد تک لوگوں کی ہدایت کے لیے حریص بن جائے۔
حدیث میں یہ پیشین گوئی آئی ہے کہ مسلمان تہتر فرقوں میں بٹ جائیں گے اور ایک کے علاوہ باقی سب جہنم میں جائیں گے۔ کیا آج کے دور میں ایسا کوئی فرقہ موجود ہے جو رسول اللہ ﷺ کے طریقوں پر ہو بہو عمل پیرا ہے جس سے ہم اپنا ناطہ جوڑ کر اپنی عاقبت سنوار سکیں ۔ مذکورہ حدیث کا صحیح مفہوم بھی سمجھائیے۔ (محمد اسلم چوگلے، باندرا)
مذکورہ حدیث میں اگر چہ فرقہ کا لفظ آیا ہے مگر اُس سے مراد اجتماعی معنوں میں کوئی فرقہ یا تنظیم یا جماعت نہیں ہے۔ اٗس سے مراد کوئی مجموعی فرقہ نہیں ہے بلکہ ایسے صالح افراد ہیں جو بگاڑ کے زمانہ میں امت کے اندر پائے جائیں گے۔ بعد کے زمانہ میں دین کے نام پر اُمت کے اندر جو تنظیمیں بنائی گئیں وہ میرے نزدیک تنظیمی بدعتیں تھیں۔ یہ تصور بلا شبہ بے بنیاد ہے کہ ان تنظیموں میں سے کوئی تنظیم ایسی ہے جو فرقہ ناجیہ کی حیثیت رکھتی ہو اور جس سے منسلک ہو کر نجات حاصل ہو جائے۔ اسلامی تصور کے برگزیدہ نہیں، عیسائیوں کی طرح اور نہ ہی ہندؤں کے رجحانات، بلکہ مطابق، نجات ایک انفرادی معاملہ ہے، نہ کہ اجتماعی معاملہ۔