Be always insan-friendly
Al-Risala, June 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
ایران ٹی وی کی ٹیم نے ۷ مارچ ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع نماز اور نماز با جماعت سے تھا۔ آدھ گھنٹہ کے اس انٹرویو میں جو کچھ کہا گیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ نماز اصلاً اللہ کی یاد کے لیے ہے۔ وہ اللہ سے قربت کا ذریعہ ہے۔ ساتھ وہ ہماری روز مرہ کی زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ سچ وقتہ نماز گویا ٹائم مینجمنٹ کی تربیت اللہ اکبر تواضع کا سبق ہے۔ سورہ فاتحہ کی قرأت خدا رخی زندگی اختیار کرنے کا پیغام ہے۔ نماز کے آخر میں السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہنا پر امن زندگی گزارنے کا عہد ہے۔ با جماعت نماز کا مطلب، تنظیم اور ڈسپلن کے ساتھ نماز ادا کرنا۔ یہ تمام مسلمانوں کے لیے اتحاد کا پیغام ہے۔ لیے قرآن میں نماز کو فلاح کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔
نئی دہلی کے میگزین راشٹریہ سہارا (انگریزی) کے نمائندہ مسٹر عابد حسین نے ۸ مارچ ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا تعلق مسلمانان ہند سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے بارے میں یہ کہنا کہ ان کے حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں بالکل حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے حالات بد سے بہتر ہو رہے ہیں۔ مسائل زندگی کا
ناگزیر حصہ ہیں۔ وہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کو بھی دوسروں کی طرح مسائل پیش آتے ہیں اور پیش آتے رہیں گے۔ مگر اسی کے ساتھ نیا زمانہ مسلمانوں کے لیے بہت سے نئے مواقع لایا ہے۔ ان مواقع کو استعمال کر کے مسلمان ہر جگہ ترقی کر رہے ہیں۔ آدمی خود اپنے حالات کو دیکھ کر جان سکتا ہے کہ آج اس کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں۔ مسجد، مدرسہ، اسلامی ادارے ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں آج پہلے سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ لیے یہ وقت شکر کرنے کا ہے، نہ کہ شکایت کرنے کا۔
۱۳ سینٹر فار پروموٹنگ ملٹی کلچرل ڈائیلاگ (نئی دہلی) کی طرف سے ۱۷ مارچ ۲۰۰۳ کو ہمدرد یونیورسٹی کے کنونشن سینٹر میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کا عنوان یہ تھا: Communal Harmony for Peace And Progress اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور موضوع پر خطاب کیا۔ اُن کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ سماجی ہم آہنگی ہر ملک کے لیے ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔ مگر سماجی ہم آہنگی اس طرح نہیں آسکتی کہ سماج کے اندر اختلافات کو ختم کر کے یکسانیت لائی اس قسم کا اتحاد جس کو یونی کلچر لزم کہا جاتا ہے وہ بالکل ناممکن ہے۔ جو چیز ممکن ہے وہ صرف ملٹی کلچر لزم ہے۔ ضرورت ہے کہ لوگوں کو برداشت اور ٹالرنس کی تعلیم دی جائے، نہ کہ بے فائدہ طور پر کلچرل یکسانیت کا بلڈوزر چلایا جائے۔
۱۴ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام چنمیا مشن (نئی دہلی) میں ایک آل انڈیا اس کا موضوع یہ تھا: اکیسویں صدی میں فروغ اردو کا ایجنڈا۔ اس سیمینار کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس کے دو اجلاس ۲۱ مارچ اور ۲۳ مارچ ۲۰۰۳ میں شرکت اس موقع پر انہوں نے دو تقریریں کیں۔ ان تقریروں میں خاص طور پر بتایا گیا کہ ۱۹۴۷ کے بعد کے حالات میں اردو زبان کو ملک میں زندہ رکھنے کا سب سے بڑا کام مدارس نے کیا ہے جس کا جال ہمارے علماء نے سارے ملک میں پھیلا دیا۔ یہ مدارس جن کا ذریعۂ
تعلیم اردو ہوتا ہے وہ ملک میں اردو زبان کے فروغ کے سلسلہ میں سب سے بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اردو اخبارات کا کردار اس سلسلہ میں صرف ثانوی کیوں کہ اردو خواں طبقہ پیدا کرنے کا کام مدارس نے کیا ہے۔ اردو اخبارات تو صرف مدارس کی اس فصل کو کاٹ رہے ہیں۔
۱۵ ساؤتھ افریقہ کے ڈاکٹر محمد سادات نے ۲۶ مارچ ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو یہ انٹرویو ایک مقالہ کے سلسلہ میں تھا جو وہ امریکی جرنل پیس اینڈ کانفلکٹ (Peace and Conflict) کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ اس مقالہ کا عنوان یہ ہے: Violence, Peace and Peace Promotion in Contemporary Islamic Thought: Implications for Dialogue. جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کااقدامی عمل دعوت ہے۔ موجودہ زمانہ میں کمیونیکیشن اور اظہار رائے کی آزادی نے دعوتی عمل کے زبردست امکانات کھول دئے ہیں۔ امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ اب جنگ و قتال کی کوئی ضرورت نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اسلام کا نشانہ حکومت کا قیام نہیں بلکہ افراد کے اندر فکری اور اخلاقی انقلاب لانا ہے۔ بدلنے سے ادارے بدلتے ہیں۔ سوسائٹی میں تبدیلی آتی ہے اور آخر کار ریاستی نظام میں انقلاب آتا ہے۔ حکومت کو نشانہ بنا کر سیاسی تحریک چلانا غیر فطری ہے اور گاڑی کو گھوڑے کے آگے باندھنے کے ہم معنی ہے۔
۱۶ میرٹھ شہر میں الرسالہ کے قارئین کا حلقہ عرصہ سے دعوتی کام کر رہا ہے۔ وہاں پابندی کے ساتھ ہفتہ وار اجتماع ہوتا ہے اور الرسالہ اور کتابوں کی تقسیم جاری ہے۔ الرسالہ مشن کے سلسلہ میں معلومات حاصل کرنا ہو یا الرسالہ یا کوئی کتاب برائے مطالعہ درکار ہو تو ذیل کے پتہ پر رابطہ قائم کریں: Muhammad Sajid Khan Highway Tailors, 143 Valley Bazar Meerut-250002, Tel. 912-2533268
پختگی نام ہے اس استعداد کا کہ کسی تلخی کے بغیر ناخوش گوار اور مایوس کن حالات کا مقابلہ کیا جائے۔