Al-Risala · July 2003

تمهید

Al-Risala, July 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۹۹۱ میں عراق کے صدر صدام حسین نے کویت میں اپنی فوجیں داخل کر کے اُس پر قبضہ اس کے بعد امیر کویت کی درخواست پر امریکا نے عراق پر حملہ کر دیا اور کویت کو آزاد کرایا۔ واقعہ پر میں نے تاریخ وار ڈائری لکھی تھی جو ماہنامہ الرسالہ کے شمارہ مئی ۱۹۹۱ میں چھپی۔ بعد کو یہ مجموعہ پمفلٹ کی صورت میں اُردو میں الخلیج ڈائری اور عربی میں یومیات حربِ خلیج کے نام سے شائع ہوا۔ عراق تیل کی دولت کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ عراقی صدر نے تیل کی اس دولت کا بہت بڑا حصہ فوجی تیاری میں خرچ کر دیا۔ یہاں تک کہ ایک اندازہ کے مطابق، عراق دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فوجی طاقت بن گیا۔ یہ فوجی طاقت عراق کے کچھ کام نہ آئی۔ اقوام متحدہ کے دباؤ کے تحت عراق کو مجبوراً اپنے ہتھیاروں کے ذخیرہ کو خود ہی تباہ کرنا پڑا۔ یہ گویا وہی معاملہ تھا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یخربون بیوتہم بایدیہم (الحشر ۲) عراقی صدر کی انتہا پسندانہ سیاست مغربی قوتوں کے لیے اشتعال انگیز ثابت ہوئی۔ پہلے صدر صدام حسین کو یہ الٹی میٹم دیا کہ وہ عراق کو چھوڑ کر ملک کے باہر چلے جائیں۔ راقم الحروف نے ۱۵ فروری ۲۰۰۳ کو ایک اخباری مضمون لکھا تھا۔ اس میں صدر صدام حسین کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور اہون البلیتین کے فقہی اصول پر عمل کرتے ہوئے اقتدار چھوڑ کر عراق کے باہر چلے جائیں۔ اس مضمون کا عنوان یہ تھا:

Printed page