Al-Risala · July 2003

Option for Saddam Husain

Al-Risala, July 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

کئی عرب ملکوں نے صدام حسین کو یہ پیشکش کی کہ وہ اپنے ملک میں اُن کی میزبانی کے لیے مگر صدام حسین بغداد کے اقتدار پر جمے رہے۔ یہاں تک کہ امریکا نے عراق پر حملہ کر کے صدر صدام حسین کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ میں نے دوبارہ اس جنگ کی ڈائری لکھنا شروع کیا تھا۔ ڈائری کو ماہنامہ الرسالہ میں ایک خصوصی شمارہ کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے۔ اس ڈائری کے لکھنے میں

حسبِ معمول میرا رہنما اصول وہی رہا ہے جس کو شیخ سعدی نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے ــ ہر ایک غیر کے خلاف فریاد کرتا ہے ــ مگر سعدی کو خود اپنے آپ سے شکایت ہے:

ہر کس از دستِ غیر نالہ کند سعدی از دست خویشتن فریاد قرآن کی سورہ نمبر ۱۷ کی ابتدائی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجدِ حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے تا کہ ہم اُس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں ــ بے شک وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اُس کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا کہ میرے سوا کسی کو اپنا کار ساز نہ بناؤ۔ تم اُن لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا، بے شک وہ ایک شکر گز ار بندہ تھا۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتا دیا تھا کہ تم دومرتبہ زمین (شام) میں فساد برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گےـ پھر جب اُن میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے، نہایت زور والے۔ وہ گھروں میں گھس پڑے اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا۔ پھر ہم نے تمہاری باری اُن پر لوٹا دی اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تم کو زیادہ بڑی جماعت بنا دیا۔ اگر تم اچھا کام کروگے تب تم اپنے لیے اچھا کرو گے اور اگر تم برا کام کرو گے تو بھی تم اپنے لیے برا کرو گے۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے اور بندے بھیجے کہ وہ تمہارے چہرے کو بگاڑ دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح وہ اس میں پہلی بار گھسے تھے اور جس چیز پر اُن کا زور چلے اُس کو وہ برباد کر دیں۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہارے اوپر رحم کرے ۔ اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی وہی کریں گے اور ہم نے جہنم کو منکرین کے لیے قید خانہ بنا دیا ہے (بنی اسرائیل ۱-۸)

قرآن کے اس حصہ میں مکہ کی مسجد حرام سے یروشلم کی مسجد اقصی تک پیغمبرانہ سفر کا ذکر ہے ۔ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے غالباً ۶۲۱ء میں پیش آیا۔ یہاں یہ سوال ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کو اس میں یروشلم کی جو نشانی دکھائی گئی وہ کون سی نشانی تھی۔ نشانی ( آیت) کا لفظ قرآن میں تاریخی کھنڈروں کے لیے استعمال ہوا ہے (الحجر ۷۵)۔ اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یروشلم کی نشانی سے مراد

مسجدِ اقصی تھی جو اس سفر کے وقت ایک کھنڈر کی حالت میں تھی۔ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، مسجدِ اقصی کو دوسری بار ٹائٹس (Titus) رومی نے ۷۰ء میں مکمل طور پر ڈھادیا تھا۔ پیغمبرِ اسلام کے سفر کے وقت مسجدِ اقصی اِسی کھنڈر کی حالت میں تھی۔ مسجدِ اقصی کی موجودہ عمارت بعد کو بنو امیہ کی خلافت کے زمانہ میں بنائی گئی۔

یروشلم کی نشانی کو دکھانے کے اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد فوراً بنی اسرائیل کی تاریخ بتائی گئی جو مسجدِ اقصی کے کھنڈر سے جڑی ہوئی تھی۔ وہ تاریخ یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو خدا نے پیغمبروں کے ذریعہ اپنا ہدایت نامہ دیا تا کہ وہ اس پر عمل کریں اور دوسری قوموں کو اس سے آگاہ کریں مگر بنی اسرائیل کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ اور سرکشی آگئی۔ اس کے بعد ان پر خدا کی مختلف تنبیہات آئیں۔ ان تنبیہات کا انتہائی ظہور ۵۸۶ ق م میں ہوا جب کہ بابل کے حکمران بخت نصر (Neouchadnezzar) نے مرکز یہود یروشلم پر حملہ کر کے مسجدِ اقصی (ہیکل سلیمانی) کو تباہ کر دیا۔

مذکورہ قرآنی بیان کے مطابق، اس صدمہ کے بعد یہود کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ توبہ و اصلاح کی۔ اس کے بعد خدا نے ان کی مدد کی اور ان کو دوبارہہ ایک ترقی یافتہ قوم بنا دیا۔ نسلیں گزرنے کے بعد بنی اسرائیل میں پھر بگاڑ شروع ہوا۔ دوبارہ اُن کو مختلف تنبیہات بھیجی گئیں ۔ ان کا بگاڑ جاری رہا۔ آخر کار دوبار ۷۰ء میں رومی حکمران نے یروشلم پر حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی (مسجد اقصی) کو تباہ کر دیا جو کہ یہودیوں کے لیے عزت اور سرفرازی کی علامت کی حیثیت رکھتا تھا۔ بیان کے مطابق، اس کے بعد دوبارہ یہود کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے اپنی اصلاح کی اور پھر دوبارہ وہ خدا کی رحمت کے مستحق قرار پائے۔

یہود کی تاریخ میں اس طرح زوال کے بعد تنبیہات کا آنا اور پھر تباہی سے دوچار ہونے کے بعد ان کا دوبارہ ترقی کرنا ایک ایسا واقعہ ہے جو یہود کی تاریخ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ یہ تباہی یہود کی تاریخ اور ان کے ادب میں ایک تاریخ ساز واقعہ بن گئی:

The disaster became the great epoc-making event in Jewish history and literature. (13/48) غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قرآنی بیان میں لنریہ من آیاتنا (بنی اسرائیل ۱) میں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ قدیم اہل کتاب (بنی اسرائیل) کی تاریخ میں جس طرح دو بار تنبیہی حادثہ کا واقعہ پیش آیا اسی طرح امت مسلمہ میں بھی دو بار تنبیہی حادثہ کا واقعہ پیش آئے گا۔ جب ایسا ہو تو امت مسلمہ کے لیے بھی ضروری ہوگا کہ اس کے اندر احتساب اور اصلاح کی تحریکیں اٹھیں۔ اسی احتساب اور اصلاح کے ذریعہ ممکن ہوگا کہ امت مسلمہ دوبارہ خدا کی رحمت کی مستحق بنے جس طرح قدیم اہل کتاب ایسے ہی عمل کے ذریعہ مستحق بنے تھے۔

قدیم اہل کتاب (یہود) پر دو بار جو تنبیہی عذاب آیا وہ اُن کے مرکزی مقام یروشلم میں آیا۔ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ امت مسلمہ کے ساتھ اسی طرح دو بار جو تنبیہی واقعہ آنے والا ہے وہ بھی امت مسلمہ کے تاریخی مرکز بغداد میں آئے گا۔ پہلی بار مرکزِ اقتدار کے طور پر، اور دوسری بار مرکزِ دولت کے طور پر۔ یہ تنبیہی واقعہ امت کے استیصال کے لیے نہیں ہوگا بلکہ یہ دھماکہ خیز واقعہ امت کو جگانے کے لیے اور اس کو دوبارہ زندہ امت بنانے کے لیے ہوگا۔ واضح ہو کہ ایسا واقعہ حجاز کے علاقہ میں نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ حدیث کی صراحت کے مطابق، حجاز کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے محفوظ علاقہ قرار دیا ہے۔ (مشکوٰة المصابیح ار ۴۰)

جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ طولِ امد (الحدید ۱۶) سے لوگوں میں قساوت آتی ہے، یعنی قوم کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ آ جاتا ہے۔ یہ بگاڑ بڑھتے بڑھتے جب اپنی آخری حد پر پہنچ جاتا ہے تو خدا کی طرف سے وہ واقعہ پیش آتا ہے جس کو قرآن میں بعثنا علیکم عباداً لنا اولی باس شدید (بنی اسرائیل ۵) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ امت مسلمہ میں یہ واقعہ پہلی بار تیرہویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب امت مسلمہ سے حقیقی دینی اسپرٹ نکل چکی تھی اور وہ ایک بے روح ڈھانچہ بن گئی تھی۔ اس وقت چنگیز خاں اور ہلاکو خاں کی قیادت میں وحشی تاتاریوں کی فوج اُٹھی اور اِس نے اس وقت کی عباسی سلطنت کو تباہ کر دیا جس کا مرکز بغداد تھا۔

اس تباہی کے بعد مسلمانوں میں احتساب کا جذبہ جاگا۔ انہوں نے اپنی دینی اصلاح کی۔ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت دوبارہ متوجہ ہوئی اور تاتاریوں کی قوم کو اسلام کی توفیق دی گئی۔ بعد اسلام کی عظمت کی ایک نئی تاریخ شروع ہوئی جو نو آباد یاتی دور کے آغاز تک قائم رہی۔ اب پچھلے دوسوسال سے دوبارہ مسلمان زوال کی حالت میں مبتلا ہیں۔ اسلام کی اصل روح بے حد کمزور ہو گئی ہے۔ بظاہر مسلمانوں میں دین کے نام پر بہت سی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں مگر تقریباً سب کی سب اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہیں۔ وہ آج کل کی اصطلاح میں کمیونٹی ورک کی حیثیت رکھتی ہیں وہ حقیقی معنوں میں اسلامی ورک یا دینی عمل کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ پچھلے دوسوسال میں جب سے مسلمانوں میں یہ بگاڑ آیا اُن پر خدا کی طرف سے چھوٹی چھوٹی تنبیہات نازل ہوتی رہیں۔ نو آبادیاتی دور میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے ذریعہ، فلسطین میں یہود کے ذریعہ، پاکستان، بنگلہ دیش اور کشمیر میں ہندوؤں کے ذریعہ، افغانستان میں امریکا کے ذریعہ، وسط مسلم ایشیا میں روس کے ذریعہ، وغیرہ۔ مگر یہ تنبیہات مسلمانوں کی اصلاح کے لیے کافی نہ ہوسکیں۔ آخر کار مارچ ۲۰۰۳ میں یہ ہوا کہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکا کے ذریعہ مسلمانوں پر سخت حملہ شروع کر دیا دوبارہ اس حملہ کا مرکز بغداد تھا۔ اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تمام دفاعی قوت بھی عاجز ہو گئی۔ عراق کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی کا جو واقعہ پیش آیا وہ بہت غیر معمولی تھا۔ کے آغاز سے پہلے لمبے عرصہ تک امریکا یہ مانگ کرتا رہا کہ صدر صدام حسین اگر عراق کو چھوڑ دیں اور کسی دوسرے ملک میں چلے جائیں تو اُن کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ کئی عرب ملکوں نے پیش کش کی کہ وہ صدام حسین کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ مگر صدام حسین نے اس پیش کش کو قبول حالانکہ قریبی تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب کہ مسلم حکمراں نے جلاوطنی کو قبول کر لیا اور باہر کے ملک میں جا کر آرام سے رہنے لگے۔ مثلاً افغانستان کے ظاہر شاہ، مصر کے شاہ فاروق، پاکستان کے نواز شریف، وغیرہ۔ صدام حسین جو فوجی انقلاب کے ذریعہ عراق پر قابض ہوئے تھے وہ بھی ایسا ہی کر سکتے تھے۔ مگر اس معاملہ میں اُن کا دل اتنا سخت ہو گیا کہ وہ اس پیش کش کو

قبول کرنے کے لیے راضی نہیں ہوئے ۔ یہاں تک کہ امریکا نے عراق پر حملہ کر دیا۔ دوسری طرف صدر امریکا جارج بش کا معاملہ بھی تقریباً یہی ہے ۔ دنیا کے بیشتر مدبرین اور بہت سے لوگوں نے عراق کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی کی مخالفت کی ۔ خود راقم الحروف نے اس معاملہ میں امریکا کو اس اقدام کے خلاف کھلے طور پر متنبہ کیا تھا۔ گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ ٹاور کے حادثہ کے صرف ایک ہفتہ بعد میں نے ایک اخباری انٹرویو دیا تھا جو نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ The Times of India کے شمارہ ۱۶ ستمبر ۲۰۰۱ میں چھپا تھا۔ اس میں میں نے واضح طور پر کہا تھا کہ امریکا کو پر امن ذرائع سے اپنا عمل کرنا چاہئے ۔ اگر اس نے فوجی کارروائی کی تو اس کا نتیجہ آخر کار الٹا نکلے گا۔

Printed page