US aggression would be counter-productive
Al-Risala, July 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر امریکی صدر جارج بش نے کسی کے مشورہ کو نہیں مانا اور عراق پر حملہ کر دیا۔ ان غیر موافق اسباب کے باوجود عراق کی ہولناک جنگ شروع ہوئی ۔ اس جنگ کی ایک امتیازی صفت یہ تھی کہ اس کو ساری دنیا کے مسلمانوں نے اپنے T.V.Set پر شروع سے آخر تک چونکہ دنیا بھر کے مسلمان اس معاملہ میں صدام حسین کے حامی تھے اور اپنے آپ کو پوری طرح صدام حسین اور عراق کے ساتھ وابستہ کئے ہوئے تھے اس لیے یہ حملہ عملاً ساری دنیا کے مسلمانوں کے خلاف حملہ بن گیا۔ ہر مسلمان مرد اور عورت نے اس کی زد کو اپنے اوپر محسوس کیا۔ یہ مسلمانوں کی تاریخ میں غالباً پہلا موقع تھا کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کی آبادی بیک وقت اپنے اوپر تباہی کو ٹوٹتا ہوا دیکھے مگر وہ اُس کے خلاف کچھ نہ کر سکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی اتفاقی بات یہ دراصل ایک قسم کا شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ہے جو خدائی فیصلہ کے تحت پیش اس کا مقصد مسلمانوں کو جگانا اور اُن کے اندر نظر ثانی کی تحریک چلا کر انہیں دوبارہ صحت مند حالت کی طرف لے جانا ہے۔
شاک ٹریٹمنٹ ہی فطرت کا واحد اصلاحی طریقہ ہے۔ فطرت کا اس طرح کے معاملات میں یہ
ابدی اصول ہے کہ تعمیر سے پہلے تخریب کی جائے۔ نیا ڈھانچہ بنانے سے پہلے پرانے بے روح ڈھانچہ کو توڑ دیا جائے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مولا ناروم نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے کہ جب کسی تعمیر کو دوبارہ بنانا ہوتا ہے تو پہلے پرانی تعمیر کو ڈھادیا جاتا ہے: چوں بنائے کہنہ آباداں کنند اولاً تعمیر را ویراں کنند تیرہویں صدی میں بغداد پر تاتاری حملہ کی صورت میں جو تنبیہی واقعہ پیش آیا وہ ایک اعتبار سے امت مسلمہ کے لیے خدائی تازیانہ تھا۔ دوسرے اعتبار سے اس واقعہ میں یہ سبق بھی موجود ہے کہ اس تازیانہ کے بعد اُمت کی سرگرمیوں کا رُخ کس سمت میں ہونا چاہئے ۔
عام مسلم تاریخوں میں اگر چہ یہ پہلو تقریباً غیر مذکور ہے۔ مگر انگریز مستشرق ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے غیر معمولی تحقیق کے بعد اس کو نمایاں کیا ہے ۔ اُن کی یہ تحقیق اُن کی کتاب دعوت اسلام (The Preaching of Islam) میں تفصیل کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ تاریخ بتاتی ہے کہ اُس زمانہ کے مسلمانوں کے لیے جب سیاسی اور فوجی راستے عملاً بند ہو گئے تو اُنہوں نے دعوتی رُخ پر اپنی جد وجہد شروع کر دی ۔ مسلم مردوں اور مسلم عورتوں نے بڑے پیمانہ پر اور خاموش طور پر اسلام کی دعوت کا کام شروع کر دیا ۔ اس کا نتیجہ جلد ہی مثبت انداز میں نکلنے یہاں تک کہ صرف پچاس سال کے اندر یہ انقلابی واقعہ پیش آیا کہ تاتاریوں کی اکثریت نے خدا کے دین کو اپنا دین بنا لیا ۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن مسلمانوں کے سب سے بڑے دوست بن گئے ۔
مجھے یقین ہے کہ جس طرح تیرہویں صدی میں تاتاری حملہ کے بعد اسلام کی تاریخ کا ایک نیا دور آگیا تھا اُسی طرح اکیسویں صدی میں دوسری بار امریکی حملہ کے بعد یقینی طور پر اسلام کی نئی زندہ تاریخ شروع ہوگی ، وہ تاریخ جس کا پوری انسانیت کو انتظار ہے۔