Al-Risala · July 2003

۲۱ مارچ ۲۰۰۳

Al-Risala, July 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

انگلینڈ سے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے عراق پر امریکی حملہ کی میں نے کہا کہ امریکا کا عراق پر حملہ بلا شبہ قابل مذمت ہے مگر آپ کو یا میرے سوا دوسرے مسلمانوں کو اس مذمت کا حق نہیں۔ میں نے کہا کہ پچھلے سیکڑوں سال کے درمیان مختلف مسلم حکمراں مثلاً بابر، غزنوی اور غوری، وغیرہ اسی قسم کے حملے کرتے رہے مگر کسی بھی مسلمان نے نہ پہلے اُس کی مذمت کی اور نہ آج وہ اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ میں اکیلا مسلمان ہوں جو ان واقعات کی تبریر (justification) نہیں کرتا۔ آپ لوگوں کو یا تو دونوں حملوں کو جائز بتانا ہوگا یا دونوں حملوں کو ناجائز قرار دینا ہوگا۔ تضاد فکری کے لیے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ میں چونکہ مسلم حکمرا نوں کے اس قسم کے جارحانہ حملوں کو قابلِ مذمت سمجھتا ہوں اس لیے مجھے یہ حق ہے کہ میں جارج بش کے جارحانہ حملہ کی مذمت کروں۔

امریکا نے عراق پر جو حملہ کیا ہے، اس حملہ کو شاک اینڈ آ (Shock and Awe) کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی حیرانی کا جھٹکا۔ آج کے اخباروں میں بتایا گیا ہے کہ صدام حسین اپنے قریبی

ساتھیوں اور فوجی جنرلوں کے ساتھ بغداد کے باہر ایک خصوصی میٹنگ کر رہے تھے۔ یہ میٹنگ نہ کسی بنکر میں تھی اور نہ صدام حسین کے بہت سے محلوں میں سے کسی محل میں ۔ اس میٹنگ کو صیغہ راز میں رکھنے کے لیے اُس کا انتظام ایک نجی مکان میں کیا گیا تھا۔ یہ لوگ یہاں صرف چند گھنٹہ کے لیے جمع ہوئے تھے۔ مگر امریکا کے خفیہ محکمہ کو اس کا علم ہو گیا اور عین وقت پر ٹھیک اُس مقام پر بم گرایا گیا جس سے وہ مکان تباہ ہو گیا۔ امریکی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس حملہ میں صدام حسین یا تو مر گئے یا شدید زخمی ہو گئے۔ عراقی ذرائع نے خود حملہ کی تردید نہیں کی۔ البتہ وہ اس کی تردید کر رہے ہیں کہ صدام حسین اُس کی زد میں آئے۔ آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ صدام حسین یقینی طور پر اس ہوائی حملہ میں زخمی ہوئے ہیں۔ البتہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ یہ زخمی ہونے والا انسان ریل(real) صدام تھا یا ڈبل (double) صدام۔

Printed page