Al-Risala · July 2003

۲۳ مارچ ۲۰۰۳

Al-Risala, July 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

بی بی سی لندن نے ایک رپورٹ نشر کی۔ آج کل مختلف ملکوں میں مسلمان بہت بڑے پیمانہ پر اینٹی امریکا جلوس نکال رہے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے نے اُردن کے ایک جلوس میں شرکت کی۔ وہاں عرب نو جوانوں نے نہایت جوش کے ساتھ جلوس نکالا تھا۔ نو جوان سے بی بی سی لندن کے نمائندہ نے بات کی۔ عرب نو جوان نے کہا کہ صدام ہمارا ہیرو صدام ہی اسرائیل کو کچل سکتا ہے۔

یہی وہ نفسیات ہے جس کے تحت تمام دنیا کے مسلمان صدام حسین کے حامی بن گئے ہیں۔ ایک بلین مسلمانوں میں شاید میں اکیلا ہوں جو صدام حسین کا حامی نہیں ۔ یہ عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے صدام حسین کے غلط کاموں پر اُس کی مذمت نہیں کی۔ صدام حسین بعث پارٹی کے ممبر ہیں جو کہ ایک قومی پارٹی ہے، نہ کہ دینی پارٹی۔ صدام حسین نے اپنے فوجی منصب کا غلط استعمال کر کے عراق پر قبضہ کر لیا۔ وہ عراق کے تیل کی دولت میں بے جا طور پر تصرف کر رہے ہیں۔ صدام حسین نے سے سیاسی مخالفین کو کسی عدالتی کارروائی کے بغیر ہلاک کر دیا۔ صدام حسین نے ایران اور کویت کے

خلاف جارحانہ کارروائی کی۔ رپورٹوں کے مطابق، دین سے اُن کا کوئی تعلق نہیں، وغیرہ۔ کے باوجود ساری دنیا کے مسلمان صدام کو اپنا ہیرو بنائے ہوئے ہیں۔ یہ اِسی نفسیات کے تحت ہے جس کو لا لحب علی بل لبغض معاویہ کہا گیا ہے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمان، تقریباً سب کے سب، دوسری قوموں کی نسبت سے منفی نفسیات میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اس منفی نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے مفروضہ دشمن کی ضد میں صدام حسین کو اپنا ہیرو بنا لیا۔

Printed page