۲۲ مارچ ۲۰۰۳
Al-Risala, July 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکا نے عراق کے خلاف جنگ یہ کہہ کر شروع کی تھی کہ ہم نے پچھلے مہینوں کے اندر اتنی زیادہ تیاری کر لی ہے کہ ایک ہفتہ کے اندر ہماری فتح کی صورت میں یہ جنگ ختم ہو جائے گی۔ تک جنگ کے خاتمہ کا کوئی واضح نقشہ دکھائی نہیں دیتا۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۴ مارچ ۲۰۰۳) میں ایک سیاسی مبصر کا تبصرہ چھپا ہے۔ اِس نے کہا کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے مگر اُس کے کورس کے بارہ میں پیشین گوئی کرنا سخت مشکل ہے:
It is easy to start a war but very difficult to predict its course. (p. 11) ایک مبصر نے کہا کہ امریکا نے صدام حسین کی فوجی طاقت کا اندازہ کر کے ایسا کہا تھا۔ کے بعد ایک غیر متوقع صورت پیش آگئی، اور وہ ہے عراقی نیشنلزم کا بھڑک اُٹھنا: US attack has managed to provoke Iraqi nationalism. یہ مسئلہ صرف عراقی نیشنلزم کا نہیں ہے بلکہ وہ عرب نیشنلزم کا، حتیٰ کہ پوری دنیا کے مسلم نیشنلزم کا ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان امریکا کی نفرت میں جی رہے تھے۔ اس لیے جب اُنہوں نے دیکھا کہ امریکا نے ایک مسلم ملک پر حملہ کر دیا ہے تو اُن کی منفی نفسیات پوری طرح بھڑک اُٹھی۔ تقریباً متفقہ طور پر اس معاملہ میں امریکا کے مخالف اور عراق کے حامی بن گئے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ امریکا نے جو لڑائی چھیڑی ہے وہ صرف عراق کے خلاف نہیں ہے بلکہ پوری مسلم دنیا اِس کی زد
گویا امریکا نے بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا۔ اس جنگ میں امریکا کی جیت ہو یا ہار، اُس کو آئندہ اس کی بنا پر سنگین مسائل کا سامنا پیش آئے گا۔
آج عراقی جنگ کا چھٹا دن ہے۔ اقوام متحدہ اور دنیا بھر کی عوام کی اکثریت امریکا کے اس فوجی اقدام کی مخالف تھی۔ ایسی حالت میں امریکا کی حکومت نے کیوں عراق پر حملہ کیا۔ اُس کا ایک خاص امریکا کے مدبّرین یہ سمجھتے تھے کہ عراق کے عوام صدام حسین کی آمرانہ حکومت کے مخالف ہو چکے ہیں۔ وہ امریکی فوج کو نجات دہندہ سمجھ کر اُس کا استقبال کریں گے مگر غالباً ایسا نہیں ہوا۔ ٹائمز آف انڈیا (۲۵ مارچ ۲۰۰۳) کی ایک رپورٹ میں یہ الفاظ چھپے ہوئے ہیں : The earlier expectation was that the Iraqi towns would welcome the Americans as liberators and not require any pacification. (p. 12)
ہزار سال پہلے مسلم فوجوں نے ایشیا اور افریقہ کے اکثر ملکوں میں نہایت تیزی سے فتح حاصل کر لی تھی۔ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ ان ملکوں کے عوام اپنے حکمرانوں سے ناراض تھے۔ نے مسلم فوجوں کا استقبال نجات دہندہ کی حیثیت سے کیا مگر آج ایسا نہ ہوسکا۔ اس کا بڑا سبب زمانی فرق ہے۔ قدیم زمانہ کی جنگ صرف میدان جنگ میں دو فوجوں کے درمیان ہوتی تھی ۔ عوام براہ راست طور پر اُس کی زد میں نہیں آتے تھے۔ آج کی جنگ نئے ہتھیاروں سے ہوتی ہے۔ اُس کے برے اثرات فوراً ہی عوام تک پہنچنے لگتے ہیں۔ اس بنا پر عوام کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ اُن کے ملک پر حملہ کرنے والے لوگ مصیبت دہندہ ہیں، نہ کہ نجات دہندہ۔