Bush goes Vietnam way.
Al-Risala, July 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح ہندوستان ٹائمْس کے آج کے اداریہ کا عنوان یہ ہے کہ سنگین نوعیت کا کمتر اندازہ
میڈیا میں جو رپورٹیں آرہی ہیں اُن کے اعتبار سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب امریکی صدر جارج بُش کے لیے شاید دو میں سے ایک کا چوائس ہے۔ یا تو وہ ویتنام کی طرح عراق سے واپسی کا یا وہ بھاری بم گرا کر عراق کو بالکل تباہ کردیں۔ مگر جارج بُش کے لیے دونوں ہی چوائس یکساں طور پر سخت مشکل ہے۔ اگر وہ عراق سے واپسی کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ اُن کے لیے اور امریکہ کے لیے بد ترین رسوائی کے ہم معنی ہوگا۔ یہ قومی رسوائی اُن کے لیے غالباً شکست سے زیادہ بُری ثابت اور اگر وہ بھاری بم باری کر کے عراق کو تباہ کریں تو جارج بُش کو امریکی عوام کے اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ امریکی تاریخ کی یہ سب سے بڑی قربانی کیوں دی گئی۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اس طرح کے معاملہ کو آدمی عزت کا سوال بنا لیتا ہے۔ اور پھر وہ کسی بھی حال میں پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ۳۰ مارچ ۲۰۰۳ قدیم زمانہ میں کسی جنگ کی خبر بقیہ دنیا کو برسوں کے بعد پہنچتی تھی۔ مگر آج کمیونیکیشن کا زمانہ عراق کے خلاف امریکا کی جنگ کی خبریں ہر لمحہ ساری دنیا تک پہنچ رہی ہیں۔ حتی کہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے اپنے ٹی وی سیٹ پر جنگ کا حقیقی منظر دیکھ رہے ہیں۔
اسی کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں میں غم اور غصہ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ مختلف ملکوں سے مسلمان سفر کر کے عراق پہنچ رہے ہیں تاکہ عراقی مسلمانوں کی مدد کریں۔ ایک خبر کے مطابق، ہندوستان سے ۶ مسلم نو جوانوں کی ایک ٹیم عراق پہنچی ہے۔ اس ٹیم کی قیادت سعید نوری کر رہے ہیں جو بمبئی کی رضا اکیڈمی کے صدر ہیں۔
اس قسم کے امدادی دستوں کا تجربہ بہت پُرانا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ہجرت کی اس میں ہندوستان کے مسلمان ہزاروں کی تعداد میں سفر کر کے کابل پہنچے۔ اسی طرح پچھلی عراق جنگ میں مختلف ملکوں سے لوگ عراق پہنچے تھے۔ اسی طرح طالبان کی تحریک کے زمانہ میں ہزاروں مسلمان افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔ مگر یہ تمام مہاجر مجاہدین ایک ہی انجام سے وہ یہ کہ وہ یا تو ہلاک ہوگئے یا بھاگ کر اپنے وطن واپس آئے۔ یقینی طور پر یہی انجام اُن لوگوں کا بھی ہونے والا ہے جو موجودہ جنگ میں عراق پہنچ رہے ہیں۔ اس قسم کے غیر منظم اور غیر تربیت یافتہ لوگ موجودہ جنگ میں کوئی بھی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ وہ دوسروں کے لیے بھی مصیبت ہیں اور خود اپنے لیے بھی مصیبت۔