Al-Risala · July 2003

۳۱ مارچ ۲۰۰۳

Al-Risala, July 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ عراق کے خلاف جنگ میں اُس کی جیت یقینی ہے۔ اُس نے مختلف کمپنیوں کو دعوت دی ہے کہ وہ عراق کی بعد از جنگ تعمیر میں حصہ لیں۔ خاص طور پر عراق کی تیل کی صنعت کو دوبارہ منظم کرنے کے لیے۔ امریکی انتظامیہ نے اس مقصد کے لیے جن کمپنیوں کو چنا ہے وہ سب امریکی کمپنیاں ہیں۔ اس پر امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنا تبصرہ شائع کیا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (۳۱ مارچ) کے مطابق، نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکی حکومت کا یہ فیصلہ کہ وہ صرف امریکی کمپنیوں کو عراق کی تعمیر نو کے لیے مدعو کرے، اُس بین اقوامی تقسیم میں مزید اضافہ کرے گا جو کہ پہلے ہی سے بڑے پیمانہ پر موجود ہے: The (US) government's decision to invite only American Corporations... has added to the profound international divisions that already surround the war. (p. 14)

امریکا اس جنگ میں اقوام متحدہ کی تائید حاصل نہ کر سکا۔ بڑی طاقتیں مثلاً فرانس، روس، چین سب اس معاملہ میں امریکا کے خلاف تھیں۔ ساری دنیا کے عوام تقریباً ۷۰ فیصد تک امریکا کے مخالف ہوگئے ۔ اب اگر تجارتی مفاد کے معاملہ میں بھی امریکا سب سے الگ ہو گیا تو جنگ کے بعد

امریکہ کو ایسے مسائل پیش آ سکتے ہیں جن کا حل آسان نہ ہو گا۔

اپنے آپ کو سپر پاور سمجھنے کے باوجود، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے عراق کے خلاف لڑائی چھیڑ کر اپنے آپ کو ایک مشکل میں پھنسا لیا ہے۔ اب اگر وہ ویتنام کی طرح عراق چھوڑ کر لوٹ جائے تو یہ امریکہ کے لیے بہت بڑی بے عزتی کے ہم معنی ہوگا۔ اور اگر وہ اپنی بڑھی ہوئی فوجی طاقت سے عراق کو تباہ کر دے تب بھی اندیشہ ہے کہ امریکہ کی یہ فتح پُرک فتح (pyrrhic victory) ثابت ہو جو ہار سے کچھ ہی مختلف ہو۔

Printed page