Islam and Terrorism
Al-Risala, July 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
اس پمفلٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور اُس کے ساتھی مسلمانوں کو دہشت گرد (terrorist) مگر یہ صحیح نہیں۔ مسلمان متشدد ہوسکتا ہے مگر اُس کا تشدد صرف سماج دشمن عناصر کے خلاف ہوتا ہے تاکہ وہ سماج میں امن اور انصاف قائم کرے :
He should be terrorist only towards the anti-social elements in order to promote peace and justice in society. یہ بات بلاشبہ عقل اور اسلام دونوں کے خلاف ہے۔ کسی مسلم فرد یا مسلم تنظیم کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں کہ وہ امن اور انصاف قائم کرنے کے نام پر کسی کے خلاف تشدد کرنے لگے۔ پر امن نصیحت کر سکتا ہے، نہ کہ متشددانہ کارروائی۔
اگر امن اور انصاف کے نام پر اس قسم کی متشددانہ کارروائی جائز ہو تو وہ صرف مسلمان کے لیے جائز نہ ہوگی بلکہ وہ ہر ایک کے لیے جائز قرار پائے گی۔ مثلاً امریکا نے عراق کے خلاف جو فوجی کارروائی کی ہے اُس کو وہ آپریشن عراقی فریڈم (Operation Iraqi Freedom) کہتا ہے۔ اگر مذکورہ اصول کو درست مان لیا جائے تو کس دلیل سے کہا جائے گا کہ عراق کے خلاف اُس کا یہ آپریشن غلط ہے۔ اگر مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امن و انصاف قائم کرنے کے نام پر متشددانہ آپریشن کرے تو امریکا کے اس موقف کو بھی جائز تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ اپنے دعوے کے مطابق، عراق کی نجات کے لیے جو متشددانہ آپریشن کر رہا ہے وہ درست ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلم ہو یا غیر مسلم، ہر ایک کے لیے یہ مشترک اصول ہے کہ کسی بھی عذر کی بنا پر کسی کو تشدد کا طریقہ اختیار کرنے کا حق نہیں۔ پر امن عمل ہر ایک کے لیے جائز ہے لیکن پر تشدد عمل کسی کے لیے بھی جائز نہیں۔
آج کی خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحادی فوجوں (Allied Forces) نے صدام ائیرپورٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اُس کا نام صدام ائیرپورٹ کے بجائے بغداد ائیرپورٹ رکھ دیا ہے۔ یہ ائیرپورٹ بغداد شہر سے صرف بیس کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اب بظاہر یقینی ہے کہ جلد ہی امریکی فوجیں بغداد پر قبضہ کر لیں گی اور جلد ہی پورا عراق اُن کے ماتحت ہو جائے گا۔ اس معاملہ کا ایک بے حد سبق آموز پہلو ہے۔ اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ اس حملہ کے خلاف تھا۔ روس، جرمنی، فرانس، چین، وغیرہ ممالک امریکا کو اس سے روک رہے تھے۔ تمام دنیا کے مسلمان تقریباً متفقہ طور پر اس معاملہ میں عراق کے حامی اور امریکا کے مخالف بنے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود امریکا نے عراق پر حملہ کر دیا اور دنیا کی کوئی رائے عامہ اس کا راستہ روکنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس تجربہ میں ایک بہت بڑا سبق ہے۔ اکثر مسلم رہنماؤں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ہمیں اپنے مسائل کے حق میں دنیا کی رائے عامہ کو ہموار کرنا ہے اور انٹرنیشنل سپورٹ حاصل کرنا ہے۔ فلسطین اور افغانستان جیسے متعدد مسائل پر ان لوگوں نے اربوں ڈالر صرف اس لیے خرچ کیے کہ اپنے قومی کاز کے لیے انٹرنیشنل حمایت حاصل کریں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی رائے عامہ کا ملنا بھی اتنا ہی بے فائدہ ہے جتنا کہ اس کا نہ ملنا۔ عراق کی مثال بتاتی ہے کہ کسی مسئلہ کو انٹرنیشنلائز کرنا صرف ایک نادان خوش فہمی ہے۔ اس کا کوئی بھی حقیقی فائدہ نہیں۔ اگر اس میں فائدہ ہوتا تو عراق کو یہ فائدہ بخوبی طور پر حاصل ہو چکا ہوتا۔ ایک عوامی مثل ہے کہ: بل تو اپنا بل۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی قسم کا فائدہ کسی کو خود اپنی طاقت کے ذریعہ ملتا ہے، نہ کہ کسی دوسرے کی طاقت کے ذریعہ۔
ہمارے لیڈر جو طاقت کسی مسئلہ کو انٹرنیشنلائز کرنے میں لگاتے ہیں اُس کو اگر وہ اپنے داخلی استحکام میں لگائیں تو یقینی طور پر وہ زیادہ مفید ہوگا۔
صبح کو میں نے ریڈیو کھولا تو اُس پر امریکا کے صدر جارج بُش کی تقریر آ رہی تھی۔
پرجوش طور پر کہا کہ عراق میں ہمارا آپریشن کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ ہم اپنے منصوبہ کے مطابق، مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ عراقی حکومت کے دن اب ختم ہونے والے ہیں: