۶ اپریل ۲۰۰۳
Al-Risala, July 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
عراق پر امریکی حملہ سے پہلے میں نے ایک مضمون انگریزی میں لکھا جس میں صدام حسین کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اقتدار سے ہٹ جائیں اور عراق چھوڑ کر کسی عرب ملک میں چلے جائیں۔ طرح وہ اپنے آپ کو اور عراقی عوام کو بچا لیں گے۔ اس مضمون کا عنوان یہ تھا: Option for Saddam Husain. کئی عرب ملکوں نے بھی صدام حسین کو خاموشی کے ساتھ یہی مشورہ دیا تھا۔ مگر صدام حسین نے اس مشورہ کو قبول نہیں کیا اور نادانی کی لڑائی لڑ کر اپنا خاتمہ کر لیا۔ عام طور پر مسلمان اس قسم کے فعل کو عزیمت کہتے ہیں اور اُس پر فخر کرتے ہیں۔ مگر میں اُس کو نادانی کی سیاست سمجھتا ہوں۔ اس قسم کی سیاست کا آغاز جدید دور میں سلطان ٹیپو سے ہوا جو بے سرو سامانی کے باوجود خود ساختہ طور پر شیر کی لڑائی
لڑے اور 1897ء میں انگریز کی گولی کا شکار بن گئے۔ اس کے بعد سید احمد بریلوی، جمال الدین افغانی، سید قطب، یاسر عرفات، جیسے بہت سے لوگ اسی قسم کی بے فائدہ قربانی کی مثالیں ہیں۔ اس طرح کے معاملہ میں پوری مسلم قوم اتنا زیادہ جذباتی ہو گئی ہے کہ اب کسی لیڈر کے لیے اس کے سوا کوئی دوسری صورت ممکن نہیں رہی کہ وہ بطور خود عزیمت سمجھ کر اپنی جان دے دے۔ کیوں کہ اگر وہ ایسا کرے تو وہ مسلمانوں میں بزدل شمار ہوگا اور اچانک مسلمانوں کے اندر اپنی مقبولیت کھودے گا۔ صدام حسین اس غلط روایت کو توڑ سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے کہ اقتدار سے ہٹ کر کسی دوسرے ملک میں جا کر مقیم ہو جاتے اور وہاں ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی قائم کرتے تو یہ امت کے لیے اُن کا ایک عظیم کارنامہ ہوتا۔ صرف اس اعتبار سے نہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کو ایک یونیورسٹی دی بلکہ اس اعتبار سے بھی کہ انہوں نے اس تباہ کن روایت کو توڑ کر نئی صحت مند روایت قائم کی جس کے مطابق، لوگ خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں اور عزیمت کا غلط نمونہ قائم کر رہے ہیں۔ اسلام کے مطابق، حقیقی عزیمت یہ ہے کہ آدمی غیر نزاعی طریقہ اختیار کر کے اپنے آپ کو بچائے اور اپنی قوتوں کو تعمیر واستحکام کے عمل میں لگا دے۔