Al-Risala · July 2003

۷ اپریل ۲۰۰۳

Al-Risala, July 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

آج کل عراقی جنگ کے بارہ میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کے مضامین کثرت سے مسلم اخباروں اور مسلم جرائد میں آرہے ہیں۔ ان مضامین میں تقریباً مشترک طور پر یہ ہورہا ہے کہ یہ لوگ ڈکشنری کے تمام الفاظ امریکا کی مذمت میں استعمال کر رہے ہیں۔ ہر ایک امریکا کے بارہ میں یہ ثابت کرنے میں مشغول ہے کہ اُس کی پالیسی دوہرا معیار پر مشتمل ہے۔ امریکانے خود تو ہتھیاروں کا ذخیرہ اپنے ملک میں اکٹھا کر رکھا ہے اور عراق سے مطالبہ کرتا ہے کہ تم اپنے ہتھیاروں کو ختم کر دو۔ وہ خود تو ظالمانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور عراقی عوام سے مانگ کرتا ہے کہ تم اپنے یہاں سے ظالم حکمراں کو ہٹاؤ۔ وہ خود تو عراق اور دوسرے مسلم ملکوں کے خلاف تشدد کی کارروائی کرتا ہے اور دوسروں سے کہتا ہے کہ وہ امریکا کے اداروں پر متشددانہ حملے نہ کریں۔ مسلم میڈیا آج کل اس قسم کے مضامین سے بھرا ہوا نظر آتا ہے۔

مگر یہ ایسا گناہ ہے کہ در شہر شما نیز کنند کا معاملہ ہے۔ میرے تجربہ کے مطابق، امریکا کی بے تکان مذمت کرنے والے ان مسلمانوں کا اپنا حال یہ ہے کہ اُن میں سے جس کے بھی بس میں ہے وہ اپنے بیٹے اور بیٹی اور اپنے رشتہ داروں کو امریکا میں سٹل کیے ہوئے ہے۔ یہ لوگ جس دوہرے معیار کا الزام امریکا کو دے رہے ہیں اُسی دوہرے معیار میں وہ خود مبتلا ہیں۔ ان لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ میں یا چپ رہیں یا اُصول پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنے عزیزوں کو امریکا سے واپس بلا لیں۔

جو لوگ امریکا یا غیر امریکا کو دشمن قرار دے کر اُن کے خلاف اس قسم کے الفاظ بکھیر رہے ہیں اُن کے اوپر قرآن کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں کہ: ہم العدو فاحذرھم (المنافقون ۴) یعنی وہ خود دشمن ہیں، تم اُن سے بچو۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری قوموں کو عدو قرار دے کر مسلمانوں کے اندر اُن کے خلاف نفرت اور عداوت کی نفسیات پیدا کرنا اسلام کے منصوبہ کے سراسر خلاف ہے۔ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے عدو کے ساتھ بھی بہتر سلوک کریں، وہ اپنے عدو کو بھی اپنا دوست بنانے کی (حم السجدہ ۳۴)

قرآن کے اس بیان کے مطابق، یہ خود سب سے بڑی اسلام دشمنی ہے کہ ایسی باتیں کی جائیں جن سے مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور عداوت کے جذبات بھڑک اُٹھیں۔ اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہو کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اتنی تلخی بڑھے کہ دعوتی عمل کے امکانات ختم ہو جائیں۔ جب کہ دعوتی عمل ہی اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

Printed page