۸ اپریل ۲۰۰۳
Al-Risala, July 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
عراق کی جنگ میں پہلے امریکی فوج فضائی بمباری کر رہی تھی۔ اُس وقت جنگ کا معاملہ یک طرفہ امریکی مارنے والے تھے اور عراقی مرنے والے۔ لیکن صرف فضائی بمباری سے جنگ کا فیصلہ نہیں چنانچہ امریکا اور برطانیہ کی فوج زمین پر اُتر گئی اور عراق کے شہروں میں زمینی راستہ سے گھسنا شروع اب لڑائی دو طرفہ ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں طرف کے ہزاروں فوجی مارے جا چکے ہیں۔
میں نے وائس آف امریکا (ریڈیو) پر امریکا کے صدر جارج بش کی تقریر سنی۔ پرجوش طور پر کہا کہ صدام ختم ہوگیا (Saddam is finished)۔ مگر عراق کی جنگ میں صدام حسین کی حیثیت صرف ایک علامت کی ہے۔ درحقیقت اس جنگ میں ساری دنیا کے مسلمان براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر شامل تھے۔ موجودہ صورت حال کے مطابق، تمام دنیا کے مسلمان اس احساس میں جی رہے ہیں کہ امریکا اور دوسری قومیں مسلم دشمن یا اسلام دشمن بن چکی ہیں۔ وہ ہمارا وجود مٹادینا چاہتی ہیں۔ ایسے حالات میں اصل مسئلہ جنگ کا نہیں ہے بلکہ مذکورہ قسم کی منفی سوچ کا ہے۔ جب تک یہ سوچ نہ بدلے جنگ وتشدد کسی نہ کسی صورت میں جاری رہے گا، خواہ صدام حسین زندہ ہوں یا زندہ نہ ہوں۔ میں ذاتی طور پر اس نظریہ کو بے بنیاد سمجھتا ہوں کہ امریکا یا دوسری قومیں اسلام دشمن ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پیدائشی طور پر ہر آدمی اسلام دوست ہے۔ یہ مسلمانوں کی غیر حقیقی سوچ ہے جس کی بنا پر دوسرے لوگ اُن کو منفی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔