۱۳ اپریل ۲۰۰۳
Al-Risala, July 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۲۷ میں حضرت سلیمان اور ملکۂ سبا کا قصہ بیان ہوا ہے۔ کو اللہ تعالیٰ نے عظیم سلطنت عطا فرمائی تھی۔ اُنہوں نے ملکۂ سبا (یمن) سے مطالبہ کیا کہ تم ہماری سیاسی اطاعت (النمل ۳۱) قبول کرو۔ اس موقع پر ملکۂ سبا کے درباریوں نے کہا کہ ہم اطاعت قبول نہیں کریں گے بلکہ ہم لڑیں گے۔ ملکۂ سبا نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے درباریوں سے کہا کہ: بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اُس میں فساد کرتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ اور یہی یہ لوگ کریں گے۔
قرآن میں ملکۂ سبا کا یہ قول تردید کے بغیر نقل کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ملکۂ سبا کی روش کی تصدیق کر رہا ہے۔ اس قرآنی آیت کو عراق کے صدر صدام حسین پر منطبق کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صدام حسین کو امریکی صدر کے مطالبہ کو ماننے کا راستہ اختیار کرنا چاہئے تھا، نہ کہ وہ مطالبہ کو ٹھکرا کر ٹکراؤ کا راستہ اختیار کریں۔ صدام حسین نے امریکا کے مقابلہ میں جو راستہ اختیار کیا وہ بہادری کا راستہ نہیں تھا بلکہ بے دانشى کا راستہ تھا۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ بہادری کے نام پر بے دانشی کا طریقہ اختیار کرنا ہمیشہ بدترین بزدلی پر ختم ہوتا ہے۔ یہی صدام حسین کے ساتھ پیش آیا۔ آغاز میں وہ بہادری کے نام پر لڑنے کی باتیں کرتے تھے مگر جب امریکا نے صدام حسین کے محلوں اور بنکروں پر شدید بمباری کی تو وہ بزدل کی طرح روپوش ہو کر بھاگ گئے۔
اصل یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں ناقابلِ عمل اُصول کا حوالہ دینے کے بجائے
حقیقی نتیجہ کو دیکھنا چاہئے۔ اس اعتبار سے یہاں صدام حسین کے لیے یہ ایک کم تر برائی (lesser evil) تھی کہ وہ شخصی اقتدار کو چھوڑ کر ملک کو تباہی سے بچالیں ۔ مگر بدقسمتی سے انہوں نے زیادہ بڑی برائی (greater evil) کا طریقہ اختیار کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود بھی تباہ ہوئے اور ملک بھی تباہ ہوگیا۔ ۱۴ اپریل ۲۰۰۳ امریکی فوج کے مسلسل حملہ کے نتیجہ میں بغداد کا انتظامیہ درہم برہم ہوگیا۔ صدام حسین اور ان کے ساتھی شہر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پولیس کا پورا نظام ختم ہو گیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ شہر میں زبردست لوٹ مار شروع ہوگئی۔ بغداد کے جن محلوں اور بڑی بڑی عمارتوں کو لوٹ لیا گیا اُن میں سے ایک بغداد کا نیشنل میوزیَم تھا۔ اس میوزیَم میں انمول قسم کے تاریخی نوادر کثیر تعداد میں موجود تھے۔ واقعہ کی خبر دیتے ہوئے ٹائمْس آف انڈیا (۱۴ اپریل ۲۰۰۳) نے لکھا ہے کہ سات ہزار سال کے تاریخی نوادرات کو صرف ۴۸ گھنٹہ میں تباہ کردیا گیا:
The National Museum of Iraq recorded a history of civilizations that flourished in Mesopotamia more than 7000 years ago. But it took only 48 hours for it to be destroyed. (p. 1)
میسوپوٹامیا اُس زرخیز علاقہ کو کہا جاتا ہے جو عراق کی دو دریاؤں، دجلہ اور فرات کے درمیان مورخین کے مطابق، پہلی انسانی تہذیب اسی علاقہ میں بنی۔ یہ علاقہ سات ہزار سال سے تہذیبوں کا گہوارہ بنا رہا ہے۔ چنانچہ عراق میں کثرت سے تاریخی یادگاریں ہیں۔ تیل کے بعد عراق کی سب سے بڑی آمدنی سیاحوں کے ذریعہ ہوتی تھی جو ان تاریخی یادگاروں کو دیکھنے کے لیے آتے تھے۔ انہی میں سے ایک بغداد کا نیشنل میوزیَم تھا۔
عملی اقدام کو ہمیشہ نتیجہ رخی (result oriented) ہونا چاہئے ۔ صرف وہی اقدام درست ہے جو مثبت نتیجہ پیدا کرے۔ جو اقدام اپنے عملی نتیجہ کے اعتبار سے تباہ کن یا غیر مفید ہو، وہ موت کی چھلانگ ہے، نہ کہ زندگی کی طرف اقدام ۔ کوئی بھی عذر خواہ بظاہر وہ کتنا ہی خوش نما ہو بے نتیجہ اقدام کو جائز ٹھہرانے کے لیے کافی نہیں۔
کل تک اخباروں کی پہلی سرخی عراق سے متعلق ہوتی تھی۔ آج عراق سرخیوں کی فہرست میں نمبر دو پر چلا گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۵ اپریل ۲۰۰۳) کے پہلے صفحہ کی دوسری سرخی یہ ہے کہ عراق میں امریکا کا سیاسی مقصد حاصل ہو گیا: