Al-Risala · July 2003

۱۷ اپریل ۲۰۰۳

Al-Risala, July 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

صبح کو میں بی بی سی ورلڈ سروس پر خبریں سُن رہا تھا۔ اس درمیان دو آدمیوں کا مکالمہ نشر کیا گیا۔ ایک اسلام پسند نوجوان کہہ رہا تھا کہ امریکا اسلام دشمن ہے۔ اُس نے اسلام کو مٹانے کے لیے موجودہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس سلسلہ میں اُس نے ہنٹنگٹن کی مشہور کتاب کا حوالہ دیا۔ دوسرا آدمی ایک امریکی جرنلسٹ تھا۔ اُس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی لڑائی ٹیررزم کے خلاف ہے، نہ کہ اسلام کے خلاف:

America is fighting against terrorism and not against Islam. مجھے امریکی جرنلسٹ کے جواب سے بالکل اتفاق ہے۔ امریکا کی پالیسی حقیقۃً پرو امریکا

پالیسی ہے، نہ کہ اینٹی اسلام پالیسی۔ عراق پر امریکا کا حملہ اسلام کو مٹانے کے لیے نہیں ہے بلکہ اُس ٹیررزم کو مٹانے کے لیے ہے جو اعلان کے ساتھ یہ کہہ رہا ہے کہ اُس کا مقصد امریکی مفادات پر ضرب لگانا ہے اور عملاً وہ ایسا ہی کر رہا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے میرے پاس دو مسلم نوجوان آئے۔ دونوں امریکا کے خلاف بول رہے تھے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کو دو اسکالرشپ ملے۔ ایک، عراق کا اور دوسرا امریکا کا تو آپ کہاں جائیں گے۔ دونوں نے پر جوش طور پر کہا کہ ہم عراق جائیں گے۔ اب جب کہ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں ۔ مسلم نوجوان امریکا جا چکے ہیں اور وہاں اطمینان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ اسی طرح ایک بار میری ملاقات چھ پاکستانی نوجوانوں سے ہوئی۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ پاکستان کے نوجوان امریکا کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کے سب امریکا کے خلاف بولتے ہیں۔ کے بعد ایک شخص بولا کہ مگر اُن کا حال یہ ہے کہ اگر ایک کمرہ میں دس پاکستانی نوجوان بیٹھے ہوں اور آپ باہر کی کھڑکی سے ایک گرین کارڈ اندر پھینکیں تو سب کے سب اٗس کو لینے کے لیے ٹوٹ پڑیں گے۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ آج تمام دنیا کے مسلمانوں کا یہی حال ہے۔ ہر ایک امریکا کے خلاف لکھتا اور بولتا ہے مگر جب ذاتی فائدہ کا معاملہ ہو تو ہر ایک فوراً ہوائی جہاز کا ٹکٹ لے کر امریکہ روانہ ہو جاتا ہر ایک اپنے بیٹے اور بیٹی کو امریکا بھیج کر فخر کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ وہ اب امریکا میں سٹل ہو گئے یہ بلاشبہ منافقت ہے۔ اور منافقت کی روش پر کبھی کسی گروہ کو خدا کی مدد نہیں مل سکتی۔ ۱۸ اپریل ۲۰۰۳ بی بی سی ورلڈ سروس اپنے سامعین کو کوئی سوال دیتا ہے جس کا جواب وہ ٹیلی فون یا ای میل کے ذریعہ بی بی سی لندن کو بھیجتے ہیں۔ یہ جوابات روزانہ صبح کے نشریہ میں سنائے جاتے ہیں۔ عراق کی صدام حکومت ختم ہوگئی ہے اور یہ سوال سامنے ہے کہ آئندہ عراق میں کس قسم کی حکومت بنے۔ بی بی سی لندن نے لوگوں کے سامنے یہ سوال رکھا:

Printed page