ہر کہ شمشیر زند سکہ بنامش خوانند
Al-Risala, July 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت اہل عراق کے لیے جن دو کے درمیان انتخاب ہے وہ امریکا کے ماتحت حکومت اور آزاد جمہوری حکومت کے درمیان نہیں ہے بلکہ ان کے لیے انتخاب امریکا کے ماتحت حکومت یا مزید تباہی کے درمیان ہے، ایسی حالت میں شریعت کا اصول اہون البلیتین کا ہے۔ ۱۹ اپریل ۲۰۰۳ بی بی سی لندن نے ورلڈ نیوز میں بتایا کہ جمعہ (۱۸ اپریل) کو بغداد کی سڑکوں پر مسلمانوں کا ایک بڑا جلوس نکلا۔ اس جلوس کی قیادت نام نہاد اسلام پسند لوگ کر رہے تھے۔ بغداد کی سڑکوں پر گزرتے ہوئے جلوس اپنے لیڈروں کا دیا ہوا یہ نعرہ لگا رہا تھا نہ بش نہ صدام، بلکہ صرف اسلام: No Bush, No Saddam Yes yes to Islam یہ نعرہ بظاہر خوشنما معلوم ہوتا ہے مگر میرے نزدیک وہ ایک خطرہ کی گھنٹی ہے۔ اسلام پسند (الاخوان المسلمون جیسی جماعتوں کے لوگ) موجود تھے۔ سابق صدر صدام حسین نے اپنی
سخت گیر پالیسی کے تحت انہیں دبا رکھا تھا۔ مگر سابق صدر صدام حسین کے خاتمہ کے بعد یہ لوگ دوبارہ عراق میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ اور اگر یہ لوگ زیادہ ابھرے تو یقینی طور پر وہ اسی طرح عراق کو دوبارہ برباد کریں گے جس طرح یہ لوگ مصر، پاکستان، شام، سوڈان، ترکی اور پاکستان جیسے ملکوں کو تباہ کر چکے میرے نزدیک مذکورہ نعرہ عراق کے لیے ایک خطرہ کی گھنٹی ہے نہ کہ کسی نئے اور بہتر دور کے آنے موجودہ زمانہ میں نام نہاد اسلام پسندوں نے اپنی سیاسی تحریکوں کے ذریعہ مسلمانوں کے ذہن کو تخریبی بنا دیا ہے۔ ہر مسلم ملک میں وہ یہ کر رہے ہیں کہ حکمراں طبقہ کے خلاف مسلم عوام کو بظاہر اسلام کے نام پر وہ یہ سنگین برائی کر رہے ہیں کہ وہ حکمراں اورعوام دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا کر دیتے ہیں۔ اس خود ساختہ اسلامی سیاست نے ہر مسلم ملک کے بہترین امکانات کو برباد کر دیا ہے۔