Al-Risala · July 2003

۲۰ اپریل ۲۰۰۳

Al-Risala, July 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

دہلی کے ایک مسلمان کبھی کبھی میرے پاس آتے ہیں۔ ان کے اندر وہی منفی سوچ ہے جو عام مسلمانوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ وہ ڈگری والی تعلیم حاصل کئے ہوئے ہیں مگر ان کا مطالعہ بہت زیادہ عام مسلمانوں کی طرح ان کی معلومات کا زیادہ تر ماخذ اردو اخبارات ہیں۔ ایک دن گفتگو کے دوران انہوں نے ایسی باتیں کہیں جو علمی اعتبار سے درست نہ تھیں۔ مثلاً ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ قدیم عہد نامہ (Old Testament) اور نیا عہد نامہ (New Testament) میں کیا فرق ہے۔ صدی میں جب تاتاری لشکر نے بغداد کو تباہ کیا تو اس کا سبب کیا تھا، وغیرہ۔ اس کم علمی کے باوجود وہ عراق اور امریکہ کے مسائل پر پورے اعتماد کے ساتھ بول رہے تھے۔ وہ صدام حسین کے صدفی صد حامی تھے اور جارج بش کے صدفی صد مخالف۔ میں نے کہا کہ آپ کی علمی استعداد اتنی کم ہے اس کے باوجود آپ عالمی سیاست پر اتنے اعتماد کے ساتھ تبصرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے پر جوش طور پر کہا: ہم عالمی سیاست کو خوب جانتے ہیں۔

میرے تجربہ کے مطابق، یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ نہ صرف سیکولر علوم

بلکہ دینی علوم کے بارے میں بھی ان کی معلومات بہت ناقص ہیں۔ اس کے باوجود ہر آدمی زبان اور قلم کا بادشاہ بنا ہوا ہے۔ اپنے خیال کے مطابق ، وہ عالمی سیاست کا ماہر ہے۔ مگر کسی کو یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ جس بات کو جانتا ہوا سی پر بولے اور جس بات کو وہ نہ جانتا ہو اس کے بارے میں وہ کہہ دے کہ میں نہیں جانتا۔

فارسی کا ایک مقولہ ہے — یک من علم راده من عقل می باید (ایک من علم کے لئے دس من عقل چاہئے) آج کل بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ یا تو اُن کے پاس ایک من علم نہیں یا اگر ان کے پاس ایک من علم ہے تو ان کے پاس دس من عقل نہیں۔ موجودہ زمانہ میں علمی ذوق نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے مادی مفادات کو تو خوب جانتے ہیں مگر علمی اور تاریخی باتوں کے بارے میں ان کی واقفیت بے حد ناقص ہے۔ علم کی اس کمی کا مزید نقصان یہ ہے کہ وہ فن تفکیر (art of thinking) کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ یہاں تک کہ ان کے خواص بھی فن تفکیر سے حالانکہ فن تفکیر سے آگہی تبصرہ اور تجزیہ کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ عراق کی سیاست یا عالمی تناظر میں مسلم سیاست کے بارے میں بظاہر ہر ایک لکھ اور بول رہا ہے مگر یہ سب بیشتر خطابت اور شاعری کی زبان میں ہوتا ہے۔ واقعات کا گہرا تجزیہ کر کے درست رائے تک پہنچنا جیسے کہ ان کا نہ تو کنسَرن ہے اور نہ ان کے اندر اس کی استعداد موجود ہے۔ ۲۱ اپریل ۲۰۰۳ عراق کے خلاف امریکا کی جنگ ختم ہوگئی ۔ اس جنگ میں جو نقصانات ہوئے ان کا اندازہ کرنا ابھی مشکل ہے۔ بی بی سی لندن نے بتایا کہ اس جنگ میں اب تک امریکی حکومت کے ۲۰ بلین ڈالر خرچ ہوئے ۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ سے لے کر اب تک امریکا کی اقتصادیات پر جو زبردست اثرات پڑے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ امریکا کے تین سو ہوائی جہاز گراؤنڈ کردئے گئے ہیں۔ امریکا کی ہوائی کمپنیوں کو روزانہ ۵ ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، وغیرہ۔

دوسری طرف عراق ہر اعتبار سے تباہ ہو چکا ہے۔ صدر صدام حسین کی ۲۴ سالہ حکومت اچانک

صدام حسین نے عراق میں اپنے لیے 8 عالیشان محل بنائے تھے۔ اُن میں سے ایک، خبر کے مطابق، ایسا زمین دوز محل تھا جس کے اندر بیس میٹر موٹی زمینی چھت تھی۔ یہ چھت اعلیٰ ٹیکنیک کے ذریعہ لوہے اور دوسرے معدنی اجزاء سے اس طرح بنائی گئی تھی کہ ایٹم بم کے سوا کوئی اور بم اس کو توڑ مگر امریکی فوج نے اُس پر ۲۰۰۰ سے زیادہ تباہ کن بم برسائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہاڑ جیسی چھت اور پورا محل پگھل کر ایک جامد چٹان کی طرح ہوگیا۔ اس کے اندر جو لوگ چھپے ہوئے تھے ان کا کوئی نام ونشان تک باقی نہ رہا۔

اس سلسلہ میں عجیب بات یہ ہے کہ امریکا کے زبردست اقتصادی نقصان اور عراق کی غیر معمولی تباہی کے باوجود صدام کا ابھی تک پتا نہیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ مر گئے یا زندہ ہیں۔ امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص صدام حسین کا سر لائے گا اسے دو لاکھ ڈالر انعام دئے جائیں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ عراق کی یہ جنگ متشددانہ طریقہ کار کا آخری تجربہ ہے۔ صدام حسین نے عراق کی تیل کی دولت کو مسرفانہ حد تک خرچ کرکے زبردست جنگی تیاری کی۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صدام حسین کی قیادت میں عراق پوری مسلم تاریخ کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔ طرف امریکا نے جدید ترین ٹکنالوجی کو جنگی سازوسامان کے لیے بھر پور استعمال کیا یہاں تک کہ وہ واحد سپر پاور بن گیا۔ اس طرح دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھئے تو جنگ کا کوئی حقیقی فائدہ کسی کے حصہ میں نہیں آیا۔

عراق کی اس جنگ پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور بہت کچھ لکھا جائے گا۔ جہاں تک میرا خیال ہے، میں سمجھتا ہوں کہ دو جنگی طاقتوں کا یہ ٹکراؤ غالباً اس پیشین گوئی کے مطابق تھا جو حدیث میں آئی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرات کے علاقہ میں سونے کا پہاڑ نکلے گا جس پر قومیں جنگ کریں گی۔ یہ جنگ قیامت کی قربت کی ایک علامت ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہی وہ جنگ تھی اور اب غالباً قیامت کے آنے میں زیادہ دیر نہیں۔

صدام حکومت میں ناجی صبری عراق کے وزیر خارجہ تھے۔ بی بی سی لندن نے ۳۱ مارچ ۲۰۰۳ کو اُن کا ایک انٹرویو نشر کیا۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ اتحادی ذہنی طور پر جنگ ہار چکے ہیں۔ کے داخلی دروازوں پر یقینی موت امریکی اور برطانوی فوجیوں کا انتظار کر ی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی فوجیوں کی پیش قدمی روک دی گئی ہے اور ہم انہیں اب ایک آخری موقع دیتے ہیں کہ اتحادی فوج تیزی کے ساتھ پسپا ہو جائے ورنہ وہ بہت نقصان میں رہے گی۔ اتحادیوں کی عراق میں مکروہ خواہشات پوری نہیں ہوسکیں، جارحیت ناکام ہو گئی ہے۔ عراقی فوجی، فدائین اور عراقی عوام نے اُن پر جو کاری ضرب لگائی ہے اُسے وہ بہت دیر تک بلکہ صدیوں تک یاد رکھیں گے۔ عراق کے خلاف جارحیت میں بہت سے اتحادی مارے گئے ہیں، بہت سے زخمی ہوئے ہیں اور بہت سے اتحادی جنگ سے راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ اتحادیوں نے جو جھوٹ بولا عراقی فوج نے اُس کا پول کھول دیا۔ شکست اُن کا مقدر اور فتح ہمارا مقدر رہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا عراق میں شکست کے بعد اب سپر پاور نہیں رہا (نوائے وقت، یکم اپریل ۲۰۰۳)

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈرس طرح خیالی بنیاد پر اپنا سیاسی قلعہ تعمیر کرتے ہیں۔ وہ شکست کی خبر کو فتح کی خبر بناتے ہیں۔ وہ پسپائی کو اقدام کی زبان میں بیان کرتے ہیں۔ وہ عجیب و غریب طور پر ناکامی کو بیان کرنے کے لیے کامیابی کے الفاظ پا لیتے ہیں۔ یہی واقعہ موجودہ زمانہ میں بار بار ہر جگہ پیش آیا ہے اور یہی واقعہ عراق میں بھی پیش آیا۔ ۲۳ اپریل ۲۰۰۳ عراق کی جنگ کا ایک نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ مسلم ممالک میں نیٹو (NATO) کے انداز کی ایک دفاعی تنظیم بنائی جا رہی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی ممالک کا مشترکہ دفاعی نظام تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ نیٹو کی طرز پر میٹو (MATO) کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ ملیشیا کے وزیراعظم اور عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نے میٹو کی تشکیل کے لیے

رابطے شروع کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت مسلم ممالک کی ایک کثیر تعداد میں فوج تیار کی جائے گی اور کسی بھی میٹو ملک پر حملہ تمام ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ایک مسلم ملک کے سربراہ کے مطابق، اس معاہدے پر دستخط کے لیے مسلم ممالک کے سربراہان حرم شریف میں جمع ہوں گے جب کہ اس کا صدر مقام بھی مکہ میں ہی ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق، میٹو کا نام اور بنیادی تصور بین الاقوامی سیاسی و سفارتی امور کے ایک پاکستانی نژاد رہنما اور عرب لیگ سے تعلق رکھنے والی دو اہم شخصیات نے پیش کیا (نوائے وقت ، لاہور، اپریل ۲۰۰۳ ، صفحہ ۳)

میرے نزدیک یہ محض ایک رزمیہ شاعری ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ اس طرح کا معاملہ پہلے عمل کے اندر ظہور میں آتا ہے اور پھر اُسے کا غذ پر لکھ دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے معاملہ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پہلے وہ کاغذ پر لکھا جائے اور پھر یہ کاغذی الفاظ عمل کی صورت میں ڈھل جائیں۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ۵۷ مسلم ملک ہیں۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ یہ تمام ملک کسی مسلم ایشو پر متحد ہو گئے ہوں۔ جو لوگ اتنے نازک مسئلہ پر متحد ہو کر رائے بھی نہ دے سکیں وہ آخر ہو کر عمل کس طرح کریں گے۔

Printed page