Al-Risala · July 2003

۲۴ اپریل ۲۰۰۳

Al-Risala, July 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

پاکستان کے اُردو روزنامہ نوائے وقت (لاہور) کے شمارہ ۱۳ اپریل ۲۰۰۳ میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف (حال مقیم ریاض) کا ایک بیان چھپا تھا۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ سقوط بغداد عالم اسلام کے خلاف ایک گہری سازش ہے۔ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ امریکا اور برطانیہ اسلام کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ نے سلامتی کونسل اور عالمی رائے عامہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے عراق پر حملہ کیا اور معصوم بے گناہ شہریوں کا قتل عام کیا جو کھلی دہشت گردی ہے۔ عراق پر حملہ کر کے ہلاکو خاں اور چنگیز خاں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ عالم اسلام امریکا اور برطانیہ کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرے۔

یہی بات آج کل تمام دنیا کے مسلمان مختلف الفاظ میں کر رہے ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ

بالکل بے بصیرتی کی بات ہے۔ اگر بالفرض امریکا اور برطانیہ چنگیز اور ہلاکو کی تاریخ دہرارہے ہیں تو اُس کے مقابلہ میں سب وشتم کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے بجائے لوگوں کو کہنا چاہئے کہ ہم بھی اُس تاریخ کو دہرائیں گے جو چنگیز اور ہلاکو کے معاصر مسلمانوں کی تاریخ ہے۔ اُس زمانہ کے مسلمانوں نے یہ کیا تھا کہ انہوں نے جواب میں اسلامائزیشن آف تاتار کی مہم چلائی۔ یہاں تک کہ تاریخ کو برعکس طور پر اسی طرح آج کے مسلمانوں کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ اسلامائزیشن آف امریکا کی مہم چلائیں اور دوبارہ تاریخ کے دھارے کو اپنی موافقت میں بدل دیں۔ یہی اسلام کی تاریخ ہے۔ سب وشتم کرنا یا مال کے بائیکاٹ کی دھمکی دینا، اس طرح کی باتیں محض بے سود ہیں۔ یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے، نہ کہ پیش آمدہ صورت حال کا سامنا کرنا۔

Printed page