Al-Risala · July 2003

۲۸ اپریل ۲۰۰۳

Al-Risala, July 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

آج کل کثرت سے امریکا کے خلاف مضامین چھپ رہے ہیں۔ ان میں امریکا کو کنڈم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا تاریخ کا سب سے بڑا دہشت گرد(terrorist) ہے۔ امریکا کی آبادی اگر چہ عالمی آبادی کا چار فیصد حصہ ہے مگر وہ دنیا کی ۸۰ فیصد دولت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ جان رسکن (John Ruskin) نے بجا طور پر کہا تھا کہ مغرب جنون کی حد تک دولت کا پرستار ہے۔ اُس کے لیے انسانیت یا محبت میں کوئی اپیل نہیں ہے:

The West madly worships Mammon, the God of wealth. For them humanity or love has no appeal. ٹیررزم کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ متشددانہ طاقت کا ناجائز استعمال جس میں بے گناہ لوگ ٹیررزم کی اس تعریف کے مطابق، پرزیڈینٹ جارج بش ٹھیک یہی کام کر رہے ہیں: George Bush has been doing just that. لوگ امریکا کی مذمت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صدام حسین کو صدام کس نے بنایا۔ ہی تھا جس نے صدام حسین کو ہتھیار دیے ۔ یہ امریکا ہی تھا جس نے صدام حسین کو ایران اور کویت کے خلاف حملہ کے لیے اکسایا۔ یہ امریکا ہی تھا جس نے دنیا کو یہ خبر دی کہ صدام حسین فوجی اعتبار سے چوتھی سب سے بڑی طاقت بن چکا ہے۔ اور جب یہ سب کچھ ہو چکا تو امریکا صدام حسین کی سرکوبی کے لیے

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکا قدیم ٹیررسٹ ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں اُس کا ٹیررزم پڑوسی ملکوں کے خلاف تھا۔ مگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکا نے اپنے ٹیررزم کو دنیا کے دوسرے حصوں تک پہنچادیا، وغیرہ۔

میرے نزدیک اس قسم کی باتیں بے سود ہیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ امریکا دہشت گرد ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عراق نے اس حقیقت کو جانتے ہوئے اُس سے بچنے کی تدبیر کیوں نہ کی۔ صدام حسین کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ امریکا سے ٹکراؤ کو اعراض کریں مگر انہوں نے غیر ضروری جرأت دکھاتے ہوئے امریکا سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ وہی سیاست ہے جس کو عام زبان میں آبيل مجھے مار کہا جاتا ہے۔

دہشت گرد افراد ہر دور میں پائے گئے ہیں۔ ایسے لوگوں سے نپٹنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ اُن سے لڑائی چھیڑ دی جائے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اُن کے وار کو خالی کر دیا جائے اور وار کو خالی کرنے کی یہ پالیسی ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔ اُس کی کامیابی کی ضامن صرف ایک چیز ہے اور وہ ہے دانشمندی۔ ۲۹ اپریل ۲۰۰۳ صدر صدام حسین کی پہلی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے اس سادہ حل کو استعمال نہیں کیا کہ پولیٹکل گدّی کو چھوڑ کر امریکا کے وار کو خالی کر دیں۔ اس کے بعد جب امریکا نے عراق پر بمباری شروع کردی تو وہ خود تو کسی بنکر میں داخل ہوگئے اور وہاں سے ایک پیغام بھیجا جو اُن کی طرف سے ٹی وی پر انہوں نے عراقیوں کو للکارا کہ تم لوگ امریکی فوجوں کی گردنیں کاٹ دو۔ اب جب کہ عراق کی جنگ ختم ہوگئی ہے، صدام کی طرف سے ایک خط سامنے آیا ہے۔ یہ خط عربی اخبار القدس میں چھپا ہے جس پر ۲۸ اپریل ۲۰۰۳ کی تاریخ درج ہے۔ اُس میں کہا گیا ہے کہ عراقیو اُٹھو اور امریکا اور برطانیہ کے قبضہ کو ختم کردو۔

یہ خط اگر بالفرض صحیح ہو تب بھی وہ ناقابل لحاظ ہے۔ اس لیے کہ وہ صرف ایک بزدلی کا مظاہرہ صدر صدام حسین اگر زندہ ہیں تو وہ کیوں چھپے ہوئے ہیں۔ خود کسی محفوظ مقام پر روپوش رہنا اور

عراقی عوام کو لڑنے کے لیے ابھارنا نہ قیادت ہے اور نہ بہادری۔ بہادر قائد وہ ہے جو اپنے عوام کے ساتھ لڑے، نہ کہ اپنے آپ کو محفوظ رکھ کر دوسروں کو لڑائی کے میدان میں جھونک دے۔ امریکا کا مشہور طیارہ بردار جہاز (ایئر کرافٹ کیریر) ایس ایس ابراہمن لنکن سے واپس ہو کر امریکا پہنچا اور لاس اینجلس کے ساحل پر ٹھہرا۔ یہاں اُس کے اوپر ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام میں امریکا کے صدر جارج بُش نے اپنی تاریخی تقریر کی ۔ اُنہوں نے اعلان کیا کہ عراق کی جنگ اب ختم ہو چکی ہے:

Printed page