سوئٹزر لینڈ کا سفر
Al-Risala, August 2003, pp. 2–12
By Maulana Wahiduddin Khan
یورپ کا ایک عالمی ادارہ ہے جس کا نام پیس انٹرنیشنل (Peace International) اُس کے تحت ایک اور ذیلی ادارہ قائم ہے جس کا نام نیوکلیئر ڈس آرمامنٹ فورم (Nuclear Disarmament forum) ہے۔ اس ادارہ کا صدر دفتر سوئٹزر لینڈ میں ہے۔ طرف سے مئی ۲۰۰۲ میں ہمارے دفتر کو انفارمیشن (Information) کے نام سے ایک اطلاعاتی اس میں دوسری متعلق معلومات کے ساتھ یہ اطلاع درج تھی: An International Conference in London took place in September 2001 where an outstanding Indian Peace-maker and leader of the Moslem community of India—Professor Maulana Wahiduddin Khan--put forword a proposal to establish a world wide movement for nuclear disarmament, encouraging Russia to make the first step. Nuclear Disarmament forum A G, accepted this proposal after Russia completed the first operation in history of utilization of the weapons-grade plutonium, a call which is set forth in both "The Bell of Zug" and in the decisions of the London پیس انٹرنیشنل (Nuclear Disarmament Forum) کی مذکورہ تحریر بتاتی ہے کہ ایٹم بم کے ذخیرے کو ختم کرنے کے سلسلہ میں راقم الحروف نے یک طرفہ اخلاقیات (unilateral ethics) کو اختیار کرنے کی تجویز پیش کی اور اس کے حق میں مضبوط دلائل دیے۔ حکومت روس نے اس تجویز کو مان کر یک طرفہ طور پر اُس پر عمل کرنا شروع کردیا۔ اکتوبر ۲۰۰۲ تک ۲۰۰۷ نیوکلیئر وار ہیڈ ختم کیے جا چکے تھے۔
راقم الحروف نے یہی تجویز پاکستان کے سامنے پیش کی۔ مطبوعہ تحریروں کے علاوہ اس سلسلہ میں میں نے ایک خط مورخہ ۹ جولائی ۲۰۰۱ پاکستان کے صدر پرویز مشرف کو روانہ کیا۔ اہل پاکستان کو میری تجویز سمجھ میں نہ آسکی۔ وہ یک طرفہ اخلاقیات کے اصول کے تحت میری تجویز کو تو
قبول نہ کر سکے، مگر یک طرفہ تباہی کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے وہ ہندوستان کے خلاف اپنی بے فائدہ نزاع کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد پیس انٹرنیشنل (Switzerland) کی طرف سے ہمیں ایک خط ملا جس پر ۱۸ جون ۲۰۰۲ کی تاریخ تھی۔ اس خط کے نیچے حسب ذیل پانچ افراد کے دستخط تھے : اناٹلی کارپود (Anatoly Karpov) پریزیڈنٹ آف دی بورڈ آندرے بیکوف (Andrey Bykov) وائس پریزیڈنٹ آف دی بورڈ البن براڈ بک (Alban Brodbeck) ممبر آف دی بورڈ ڈاکٹر آٹوسی میر۔ بوس چینستین (Dr. Otto C. Meier-Boeschenstein) ممبر آف دی بورڈ ہنس روڈالف وائلڈ(Hans-Rudolf Wild)۔
اس خط میں دوسری ضروری باتوں کے ساتھ یہ اطلاع درج تھی کہ پیس انٹرنیشنل اور نیوکلیئر ڈس آرمامنٹ فورم نے متفقہ طور پر مجھے انٹرنیشنل پیس ایوارڈ کے لیے چنا ہے۔ اس ایوارڈ کی تقریب ۱۲ اکتوبر ۲۰۰۲ کو سوئٹزرلینڈ کے تاریخی شہر زگ (Zug) میں منعقد ہوگی۔ اس خط کے الفاظ یہ تھے : Most hounoured Maulana Wahiduddin Khan, We have the honour to inform you that you have been nominated for the Award of the world wide movement for nuclear disarmament “Demiurgus Peace International” for the year 2002. The decision was adopted by the Board of Directors of Nuclear Disarmament Forum AG on a recommendation of “Demiurgus Peace International Council”. The Award is presented to individuals as well as to public organisations for outstanding achievements in the field of strengthening peace among nations. We are deeply convinced that your unique personal contribution towards the cause of peace for many years fully justifies our اس دعوت نامہ کے مطابق، سوئٹزرلینڈ کا سفر ہوا۔ اس سفر میں بہت سے تجربات اور مشاہدات
سامنے آئے ۔ اس سفر کی روداد مختصر طور پر یہاں درج کی جاتی ہے۔
سوئٹزر لینڈ کے لیے میرا یہ سفر پیس انٹرنیشنل کی دعوت پر ہوا۔ منتظمین نے میرے لیے اور میرے ساتھی کے لیے سوئس ایر میں دو سیٹ پیشگی ریزرو کر دی تھی ۔ مگر عملاً مجھے ٹکٹ کافی دیر سے، آخروقت میں ملا۔ اس سلسلہ میں ہمارے آفس سے انٹرنیٹ کے ذریعہ کئی ای میل بھیجے گئے ۔ کودہلی میں سوئس ایر کے آفس میں اس کے بارے میں ٹیلی فون کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کمپیوٹر پر دو سیٹ ریزرو ہے۔ مگر اس کے لیے سوئٹزر لینڈ والوں کی طرف سے وہاں کے آفس میں ابھی ٹکٹ کی رقم جمع نہیں کرائی گئی ہے۔ پوچھا گیا کہ سوئٹزر لینڈ میں رقم جمع ہونے کے کتنی دیر کے بعد دہلی میں آپ ٹکٹ ایشو کر دیں گے۔ جواب میں آواز آئی کہ بس دو منٹ میں۔
اس کے بعد ہمارے آفس کی طرف سے سوئٹزر لینڈ کے آفس کے نام ای میل سے پیغام بھیجا انہوں نے وہاں رقم جمع کر دی ۔ ۴ اکتوبر کو دوپہر میں یہ کارروائی ہوئی۔ اسی دن تھوڑی دیر کے بعد دہلی میں سوئس ایر کے دفتر سے ٹیلی فون ملا کہ آپ کے دونوں ٹکٹ تیار ہیں ۔ اس کے جلد ہی بعد دونوں ٹکٹ ہمیں مل چکے تھے۔ یہ جدید کمیونی کیشن کا کرشمہ ہے۔ دہلی اور سوئٹزر لینڈ کے درمیان آٹھ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ مگر یہ پوری کارروائی بہت تھوڑے وقت میں اس طرح انجام پائی جیسے کہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں۔
سوئٹزرلینڈ کے لئے میرا پہلا سفر دسمبر ۱۹۸۶ میں ہوا۔ یہ سفر ورلڈ کونسل آن ریلیجس لبرٹی (The World Council on Religious Liberty) کی دعوت پر ہوا تھا۔ اس سفر کی روداد ماہنامہ الرسالہ فروری، مارچ ۱۹۸۷ میں دو قسطوں میں شائع ہو چکی ہے۔ مذکورہ کانفرنس کی کارروائی سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں انجام پائی تھی۔
سوئٹزرلینڈ کے لیے میرا دوسرا سفر جولائی ۲۰۰۱ میں ہوا۔ یہ سفر نیو کلیئر ڈس آرمامنٹ فورم (Nuclear Disarmament Forum) کی دعوت پر ہوا تھا۔ اس سفر کی روداد ماہنامہ الرسالہ مارچ ۲۰۰۲ میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ شائع ہو چکی ہے۔
سوئزرلینڈ کے لیے میرا تیسرا سفر موجودہ سفر تھا جو اکتوبر ۲۰۰۲ میں ہوا۔ یہ سفر دوبارہ نیو کلیئر ڈس آرمامنٹ فورم کمی دعوت پر ہوا جو پیس انٹرنیشنل کا ذیلی شعبہ ہے۔ اس کانفرنس کی کارروائیاں سوئزرلینڈ کے تاریخی شہر ژوگ میں انجام پائیں۔
سوئزرلینڈ یورپ کا ایک درمیانی ملک ہے۔ اس کے پاس سمندری ساحل نہیں۔ یعنی وہ ایک لاگڈ (Logged) کنٹری ہے۔ موجودہ کمیونی کیشن کے زمانہ میں کسی ملک کا سمندری ساحل سے محروم ہونا ایک بہت بڑی کی سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کمی کے باوجود سوئزرلینڈ ایک ترقی یافتہ ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔
عراق صرف جزئی طور پر سمندری ساحل سے محروم ہے۔ یعنی اس کا ساحل بہت چھوٹا ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے عراق نے اپنے تمام وسائل کو استعمال کر کے زبردست فوج بنائی اور اپنے پڑوسی ملک کویت پر حملہ کر دیا تا کہ اس کے ساحلی حصہ پر قبضہ کر کے اپنی سمندری کمی کی تلافی کرے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا۔ سوئزرلینڈ برابر ترقی کر رہا ہے مگر عراق اتنا زیادہ تباہ ہو گیا کہ شاید سو سال میں بھی اس کے نقصان کی تلافی ممکن نہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس فرق کا سبب پر تشدد طریقہ کار اور پرامن طریقہ کار کے فرق میں چھپا ہوا ہے۔ سوئزرلینڈ نے اپنی سمندری محرومی کی تلافی اس طرح کی کہ اس نے اپنی کوئی طاقتور فوج نہیں بنائی تاکہ اس کا کوئی پڑوسی اس سے خوفزدہ نہ ہو۔ اس نے اپنے پڑوسی ملکوں سے یکطرفہ طور پر اچھے تعلقات کئے۔ اس نے ضرر رسانی کے بجائے نفع رسانی کو اپنا طریقہ کار جب کہ عراق نے اس کے بالکل برعکس طریقہ کار کو اپنایا۔ نتیجہ بتاتا ہے کہ دونوں میں سے کون سا طریقہ زیادہ مفید ہے۔
سوئزرلینڈ کے اس سفر میں ایک ہندوستانی مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ کسی کام کے تحت یورپ جا رہے تھے۔ میرے ساتھی نے اُن کو بتایا کہ سوئزرلینڈ کے ایک عالمی ادارہ پیس انٹرنیشنل کی طرف سے مجھے ایک پریس میں ایوارڈ دیا جا رہا (Demiurgus Peace International) یہ سن کر انہوں نے کہا:
ہندوستان کے مسلمان تو تباہ و برباد ہو رہے ہیں۔ پھر اس قسم کے ایوارڈ پر خوشی کیا۔ ہندوستانی مسلمانوں کی حالت کے بارے میں یہ منفی سوچ کوئی انفرادی نہیں، وہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے افراد اسی قسم کی باتیں لکھ رہے ہیں اور بول رہے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ہندوستان کے تمام مسلمانوں کے مزاج کو شکایتی مزاج بنا دیا ہے۔
اس کے بعد سوال و جواب کے دوران مذکورہ ہندوستانی مسلمان نے بتایا کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے اُس کے خاندان کی معاشی حالت بالکل معمولی تھی۔ آج وہ ایک ایکسپورٹ بزنس کرتے ہیں۔ کے مقابلہ میں آج وہ معاشی اعتبار سے سوگنا زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ یہی حالت ہندوستان کے بیشتر مسلمانوں کی ہے۔ موجودہ ہندوستان میں جو مسلمان بھی کسی کام میں مصروف ہے، اُس سے پوچھئے کہ ۱۹۴۷ء میں اُس کے خاندان کی اقتصادی حیثیت کیا تھی اور آج کیا ہے، تو معلوم ہوگا کہ اس مدت میں تقریباً ہر مسلم فرد اور ہر مسلم ادارہ نے بہت زیادہ ترقی کی ہے۔
یہ ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے پاکستانی لیڈروں نے کہا تھا کہ ہم ہندوستانی مسلمانوں کو قربان کر کے پاکستان بنائیں گے۔ کٹر ہندو یہ سمجھتے تھے کہ آزادی کے بعد یہاں کے مسلمانوں کا وہی انجام ہوگا جو اس سے پہلے اندلس میں ہوا۔ آزادی کے بعد ہندوستان کے تمام مسلم رہنما اور مسلم دانشور اپنے پچھلے ذہن کے تحت یہ خبر دیتے رہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں، وہ سخت متعصبانہ سلوک کا شکار ہیں۔ انہیں ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ "مسلم میڈیا" کے مطابق، ہندوستان کو دوسرا اسپین بنانے کا عمل برابر جاری رہا۔ مگر ان سب کے باوجود ہندوستان کے مسلمان ہر اعتبار سے غیر معمولی ترقی کا سفر کرتے رہے۔
دہلی کے مسلمانوں کی آج کی حالت کا تقابل اُن کی ۱۹۴۷ء کی حالت سے کیجئے ۔ کے آج کے مسلمانوں کی اقتصادی حالت کا تقابل اُن کی اس حالت سے کیجئے جو نظام اسٹیٹ کے زمانہ میں اُن کی تھی۔ اسی طرح دوسرے شہروں اور قصبوں کے مسلمانوں کی حالت کا تقابل اس
انداز سے کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ہر جگہ کے مسلمانوں نے اس مدت میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب : ہندوستانی مسلمان)
آزادی کے بعد ۵۵ سال کی مدت میں یہ حیرت انگیز واقعہ آیا ہے۔ ضرورت تھی کہ اس واقعہ پر ریسرچ کرکے اُس سے سبق حاصل کیا جائے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کے موجودہ مسلمان شکایت کی نفسیات میں جی رہے ہیں اور جو لوگ شکایت کی نفسیات میں جئیں وہ مثبت حقیقتوں کو جاننے کے لیے اُسی طرح نااہل ہوجاتے ہیں جس طرح روایتی ساس اپنی شکایتی نفسیات کی بنا پر اپنی بہو کی خوبیوں سے بے خبر رہتی ہے اور اسی طرح روایتی بہو اپنی شکایتی نفسیات کی پر ساس کی خوبیوں کو دریافت نہیں کرپاتی۔
اللہ کے فضل سے میرے اندر شکایتی مزاج نہیں۔ اپنے اس غیر شکایتی مزاج کی بنا پر میں نے اس معاملہ کی غیر جانب دارانہ تحقیق کی۔ اس تحقیق کے بعد مجھ پر ایک عظیم حقیقت کا انکشاف ہوا۔ وہ یہ کہ یہ فرق دور میں فرق کی بنا پر ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ہندوستان زرعی دور میں تھا۔ اُس وقت وسائل معاش بہت کم تھے۔ لوگ صرف محدود دائرہ میں اپنی کوشش کر سکتے تھے۔ مگر آزادی کے بعد ہندوستان میں تیزی سے صنعتی دور آیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو اقتصادی انفجار (economic explosion) کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب نے اقتصادی ترقی کے مواقع لامحدود حد تک بڑھا دیے۔ ان نئے حالات کی بنا پر کسی کے لیے یہ ممکن ہی نہ رہا کہ وہ کسی دوسرے کی ترقی کو روک سکے۔ یہ انقلاب بلاشبہ قرآن کے الفاظ میں : ویرزقه من حيث لا يحتسب (الطلاق ۳) کا یہ اس قابل تھا کہ سارے مسلمان شکر کے جذبہ سے سرشار ہو جائیں۔ مگر اُن کی شکایتی نفسیات نے اُنہیں اس عظیم دریافت سے محروم کر دیا اور اسی طرح عظیم شکر گزاری سے بھی۔ اسی قسم کا ایک تجربہ سوئزر لینڈ میں بھی پیش آیا۔ وہاں اتفاقی طور پر ایک عرب مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ تعلیم یافتہ تھے مگر وہ مجھے مایوسی کا شکار نظر آئے۔ انہوں نے موجودہ مسلم دنیا کی تاریک تصویر پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں مجھے ایک انگریزی کتاب
ملی جس میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان ایک محروم گروپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جمہوریت میں وہ غیر موثر ہوکر رہ گئے ہیں۔ چنانچہ کتاب کا نام تھا، منفعل آوازیں: میں نے کہا کہ یہ کتاب میں نے دیکھی ہے۔ مگر وہ ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح تصویر پیش نہیں آپ کو اگر ہندوستانی مسلمانوں سے دلچسپی ہے تو آپ سفر کر کے ہندوستان جائیں اور وہاں کے مسلمانوں کا سروے کریں۔ آپ ہندوستانی مسلمانوں سے صرف ایک سوال کریں: ۱۹۴۷ء میں تمہارے خاندان کی معاشی حالت کیا تھی اور آج تمہاری معاشی حالت کیا ہے۔ آپ حیرت انگیز طور پر پائیں گے کہ ہندوستان کا تقریباً ہر مسلمان یہ بتائے گا کہ ۱۹۴۷ء کے مقابلہ میں آج اس کی مالی حالت بہت زیادہ بہتر ہے۔ اسی طرح آپ ہندوستان کی مسجدوں، وہاں کے مدرسوں اور وہاں کے مسلم اداروں کا جائزہ لیں اور یہ معلوم کریں کہ ۱۹۴۷ء میں مادی اعتبار سے اُن کی حالت کیا تھی اور آج اُن کی حالت کیا ہے۔ آپ حیرت انگیز طور پر دیکھیں گے کہ وہاں کی ہر مسجد اور ہر مدرسہ اور ہر ادارہ بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے۔
میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ غیر مسلم قوموں کی نفرت میں جیتے اس بنا پر آپ لوگ بغضك الشيئ يعمی و يصم کا مصداق بنے ہوئے ہیں۔ حقیقت جو سورج کی طرح نمایاں ہے مگر وہ اسی کمزوری کی بنا پر آپ جیسے لوگوں کو دکھائی نہیں دیتی۔ کہ اس کمزوری کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ آپ زمانہ کی ایک تبدیلی سے بالکل بے خبرہے۔ میں نے کہا کہ قدیم زمانہ اقتصادی اعتبار سے زراعت کا زمانہ تھا اور سیاسی اعتبار سے بادشاہت کا زمانہ۔ اس کے نتیجہ میں قدیم زمانہ کچھ لوگوں کی اجارہ داری (monopoly) کا زمانہ بنا اقتصادیات میں اُن لوگوں کی اجارہ داری تھی جن کے قبضہ میں زرعی زمین ہو۔ میں اُن لوگوں کی اجارہ داری تھی جن کے قبضہ میں بادشاہت کا تخت ہو۔ جدید انقلاب میں یہ دونوں اجارہ داریاں ٹوٹ گئیں۔ جدید صنعتی انقلاب نے اقتصادی ذرائع کو اصحاب زمین (land lords) کے
قبضے سے نکال کر اُن کو آخری حد تک عمومی بنا دیا۔ اس طرح جمہوری آزادی کے فکری انقلاب نے سیاسی اقتدار کو شاہی خاندان کے محدود دائرہ سے نکال کر سارے عوام کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس جدید اقتصادی انقلاب کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی قوم محرومی کا شکار ہو۔ واقعات زرعی دور کا نتیجہ تھے۔ جدید اقتصادی دور میں اس قسم کی محرومی ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے ۱۹۴۷ کے بعد بہت زیادہ ترقی کی۔ مگر ہمارے مسلم رہنما ۱۹۴۷ کے پہلے والے زرعی نقشہ میں سوچتے ہیں۔ وہ جدید اقتصادی نقشہ میں سوچنے والے نہ بن سکے۔ ہے کہ اُن کی بولی جدید حالات کے مطابق نہیں۔
ریزرویشن کے مطابق، دہلی سے روانگی کی تاریخ ۱۰ اکتوبر کی شام کو تھی۔ میں ایک قافلہ کی صورت میں روانہ ہوا۔ اس میں میرے سوا مزید ۵ افراد شامل تھے۔ ڈاکٹر ثانی اثنین خاں، محمد خالد انصاری، رجت ملہوترا، پریا ملک، ڈاکٹر فریدہ خانم۔ ائر پورٹ پر ہم لوگ رات کو ۱۱ بجے پہنچے۔ جہاز کی روانگی رات کو ایک بجے تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پرواز کے وقت کلنڈر بدل چکا تھا۔ کلنڈر میں رات کے بارہ بجے کے بعد اگلا دن شروع ہو جاتا ہے۔ مگر قمری کلنڈر میں غروب آفتاب بالفاظ دیگر طلوع قمر سے نیا دن شروع ہوتا ہے۔
دہلی سے سوئس ائیر کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ یہ دہلی سے زیورک تک کے سفر کے لئے ایک ڈائرکٹ فلائٹ ہے جو ساڑھے آٹھ گھنٹہ میں پہنچتی ہے۔ دوران پرواز مختلف اخبارات اور پرچے دیکھے: ائر کمپنی کا ان فلائٹ میگزین سوئس میگزین (Swiss Magazine) کا شمارہ اکتوبر ۲۰۰۲ دیکھا۔
اس کے تمام مضامین بیک وقت دو زبانوں میں تھے۔ جرمن اور انگریزی۔ ایک مضمون میں سوئزر لینڈ کے نقشہ کے ساتھ ملک کے بارے میں مختلف قسم کی معلومات دی گئی تھیں۔ مثلاً اس میں بتایا گیا تھا کہ جاپان کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کا سب سے زیادہ وسیع نظام سوئزرلینڈ میں ہے۔ سب سے زیادہ طویل کیبل ریلوے کا نظام سوئزرلینڈ میں ہے، وغیرہ۔
لندن کے انگریزی روزنامہ ٹائمز (The Times) کا شمارہ ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۲ دیکھا۔ کے صفحہ اول پر عراق کے صدر صدام حسین کی ایک بہت بڑی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ اس اسٹیچو کے سامنے ایک کاریگر کھڑا ہوا اس پر کچھ کام کر رہا ہے۔ عظیم اسٹیچو کے سامنے وہ آدمی بونا نظر آتا ہے۔ یہ بغداد میں نصب کئے جانے والے 9 نئے مجسموں میں سے ایک تھا:
کر سکے کہ انسان کو نیند کیوں آتی ہے۔ نیند کے بارے میں نپولین بونا پارٹ (وفات ۱۸۲۱) نے کہا تھا کہ کیا ہی خوش کن چیز ہے۔ بستر میرے لیے ایک ایسی راحت کی چیز ہے جس کے بدلے میں دنیا بھر کے تخت کو لینا بھی پسند نہ کروں گا:
What a delightful thing rest is—The bed has become a place of luxury to me. I would not exchange it for all the thrones in the world. دہلی سے زیورک تک کی پوری پرواز نہایت ہموار تھی۔ زیورک ائیرپورٹ پر لینڈنگ بھی اسی طرح ہوئی کہ مسافروں کو اس کا پورا اندازہ بھی نہ ہوسکا۔ جہاز فضا میں ٹیک آف (take off) کرتا ہے اور اڑتے ہوئے ۸ کلومیٹر اور ۱۰ کلومیٹر کی اونچائی تک پہنچ جاتا ہے اور پھر آہستگی کے ساتھ نیچے آکر وہ زمین پر اتر جاتا ہے۔ اس قسم کی باتوں کو لوگ ٹکنالوجی کا کارنامہ سمجھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ وآتاکم من كل ما سألتموه (ابراہیم ۳۴) کا کرشمہ ہے۔
زیورک ایئر پورٹ پر کانفرنس کے افراد مل گئے۔ یہاں سے بذریعہ کار ڈگ کے لئے روانگی یہ تقریباً ایک گھنٹہ کا راستہ تھا۔ پورا راستہ ایک گل زار ماحول میں طے ہوا۔ ایک طرف مسلسل سر سبز پہاڑیاں نظر آتی تھیں اور دوسری طرف سلیقہ کے ساتھ بنی ہوئی بلڈنگوں کی قطاریں۔ کبھی کسی گاڑی نے اوور ٹیک (overtake) نہیں کیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ہر گاڑی اسی طرح اپنی لین(lane) میں چل رہی ہے جس طرح ستارے اپنے مدار میں چلتے ہیں۔ ڈرائیور ملک کے حالات کے بارے میں ہر بات اس طرح بتا تا جاتا تھا جیسے کہ وہ صرف ڈرائیور نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ وہ گائیڈ(driver cum guide) ہو۔
سوئزرلینڈ چونکہ ایک سیاحتی ملک ہے۔ اس لئے غالباً یہاں کار چلانے والے کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے مسافروں کو دوران سفر بھر پور معلومات دیتا رہے۔
معلوم ہوتا ہے لیکن اگر ہم لوگوں کو مستقل طور پر یہاں رہنا ہو تو یہ ہمارے لیے کوئی اچھی بات نہ ہوگی۔ اس قسم کی پر راحت زندگی کی یہ لازمی قیمت دینی پڑے گی کہ ہمارے ذہن میں تھنکنگ پر اس رک ہم اعلیٰ انسانیت سے تنزل کر کے بس ایک قسم کے بے فکر حیوان بن کر رہ جائیں گے۔ زگ (Zug) سوئزرلینڈ کا ایک تاریخی شہر ہے۔ زُگ کے دو حصے ہیں ۔ قدیم شہر اور زُگ یہاں کی ایک جھیل کا نام ہے۔ یہ شہر اس جھیل کے کنارے واقع ہے۔ اسی نسبت سے اس کا نام زُگ پڑ گیا۔ زُگ کا سب سے پہلا تاریخی حوالہ ۱۲۲۴ء میں ملتا ہے۔ یہ علاقہ شاہ روڈولف (Rudolf IV of Habsburg) نے ۱۲۷۳ میں خریدا تھا۔ وہ ۱۳۵۲ میں سوئس کنفیڈریشن (Swiss Confederation) میں شامل ہوا۔ ریفارمیشن تحریک کے زمانہ میں وہ رومن کیتھولک بنا رہا۔ یہاں بہت سی تاریخی عمارتیں پائی جاتی ہیں۔
ہمارے سوئٹ (401) کے اندر ایک چھوٹی سی لائبریری بھی تھی۔ اس میں عام موضوعات پر کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ ہم نے اپنے یہاں کی کچھ انگریزی کتابیں بھی اس کے اندر رکھ دیں۔ ان کتابوں میں ایک انٹرنیشنل میگزین تھا جس کا نام یہ تھا: