Al-Risala · August 2003

Education-investing in the future.

Al-Risala, August 2003, pp. 12–20

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ موجودہ زمانہ میں دنیا کی اقتصادیات تیزی سے عالمی بنتی جارہی ہے اور مارکیٹ باہمی طور پر جڑ گئی ہیں۔ سوئزرلینڈ جیسی چھوٹی اور کھلی اقتصادی مارکیٹ کے لیے گلوبلائزیشن اور مارکیٹ کا آپس میں مربوط ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ کمپنیاں مستقل طور پر مسابقت

کی حالت میں رہیں ۔ اس قسم کی مارکیٹ میں وہی کمپنیاں زندہ رہ سکتی ہیں اور مارکیٹ کے شترس حاصل کر سکتی ہیں جب کہ وہ مستقل طور پر نئے اور اوریجنل سامان تیار کریں اور خریداروں کی ضرورت کے مطابق سروس دے سکیں ۔ ریسرچ اور ترقی ، علم اور فنی معلومات ، ایجادات اور تکنکل ترقیاں ترقی کے لئے لازمی اجزاء کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

ہماری دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو چیلنج کا مقابلہ تحفظ کے ذریعہ کرنا چاہتے ہیں ۔ مندی یہ ہے کہ چیلنج کا مقابلہ جوابی تیاری کے ذریعہ کیا جائے ۔ جوابی تیاری اگر زندگی ہے تو تحفظ مقابلہ کی اس دنیا میں صرف موت ۔

11 اکتوبر کا دن زیادہ تر ملاقاتوں میں گزرا ۔ کانفرنس میں مختلف ملکوں کے لوگ کئی سو کی تعداد میں آئے ہوئے تھے ۔ ان سے گفتگو اور تبادلہ خیال ہوتا رہا ۔ یورپ کے ایک مسیحی پروفیسر نے گفتگو کے دوران اسلامی جہاد کے بارہ میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاد (متشددانہ طریق کار) کی اہمیت قدیم زمانہ کے لحاظ سے تھی ۔ موجودہ زمانہ میں اس کی مناسبت (relevance) ختم ہو چکی ہے ۔ لوگوں کو چاہئے کہ اسلام میں ریفارمیشن جیسی تحریک چلائیں اور اسلام کی قدیم تعلیمات میں نظر ثانی کر کے اُس کو وقت کے مطابق بنائیں ۔

میں نے کہا کہ اسلام میں ریفارمیشن (اصلاح) کی ضرورت نہیں بلکہ احیاء (revival) کی

جہاد اصلًا پر امن جدوجہد (الفرقان (۵۲) کا نام ہے۔ بعد کے کچھ سیاست پسند مسلمانوں نے جہاد کو مسلح عمل کے ہم معنی بنا دیا۔ اب ضرورت یہ ہے کہ جہاد کو اُس کے اصل تصور کی حیثیت سے زندہ کیا جائے۔ میں نے کہا کہ آپ کو چاہئے کہ آپ اسلام اور مسلمانوں کے درمیان فرق مسلمانوں کے قول یا عمل کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں رائے قائم نہ کریں بلکہ مسلمانوں کے عمل کو اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں جانچیں۔

۱۱ اکتوبر کی شام کا ڈنر لوسرن (Luzern) کے ہوٹل شووے ذرہاف (Shweizerhof)

زُگ سے بذریعہ کار ہم لوگوں کو لوسرن لے جایا گیا۔ وہاں ایک بڑے ہال میں لوگوں کو ڈنر دیا ڈنر سے پہلے موجودہ کانفرنس کے ناظم اعلیٰ مسٹر آندرے بیکوف نے تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں مختلف ملکوں سے آنے والے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ میرا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو ٹنشن کم ہو گیا ہے وہ مولانا کی پرامن کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس ڈنر کی تقریب کے خصوصی مہمان روس کے سابق صدر میخائیل گورباچوف تھے۔ میں مختلف میزوں کے گرد تمام مہمان بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے جس میز پر بٹھایا گیا وہاں گورباچوف بھی میری کرسی گورباچوف کے دائیں طرف تھی اور ترجمان کی کرسی اُن کے بائیں طرف تھی۔ چنانچہ اس وقت گورباچوف کی گفتگو زیادہ مجھ سے ہی ہوئی۔

افغانستان پر سوویت روس کے حملہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ حملہ سوویت روس کی ایک غلطی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو پڑوسی ملک سے صرف کو آپریشن چاہتے تھے۔ میں نے کہا کہ کو آپریشن اچھی چیز ہے مگر کو آپریشن ہمیشہ پرامن طریقہ پر ممکن ہوتا ہے نہ کہ مسلح طریقہ پر۔ اس سلسلہ میں مزید میں نے کہا کہ سوویت روس کی فوجوں کا افغانستان میں مسلح داخلہ افغانیوں کے لئے ایک سنگین چیلنج تھا۔ افغانیوں کا کلچر وار کلچر ہے۔ وہ مسائل کے حل کے لئے ہمیشہ تشدد کی اصطلاحوں میں چنانچہ انہوں نے روس کے مسلح اقدام کا جواب دوبارہ مسلح کارروائی سے دیا۔ اس میں کچھ اور اسباب افغانیوں کے حق میں تھے ۔ چنانچہ سخت نقصان کے بعد روس کو افغانستان سے واپس آنا پڑا۔

پھر اس مسئلے کا ذکر ہوا کہ موجودہ "ٹیرزم" میں زیادہ حصہ مسلمانوں کا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست ہے مگر یہ کچھ مسلمانوں کا فعل ہے۔ اس کا تعلق اسلام سے نہیں۔ اسلام مکمل طور پر ایک پر امن مذہب ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے قرآن کی کچھ آیتوں کے حوالے دیے ۔

کھانے کی میز پر بیٹھی ہوئی ایک عیسائی خاتون نے گورباچوف کی وفات یافتہ اہلیہ رئیسہ کا ذکر اس سلسلہ میں میں نے ان سے پوچھا کہ رئیسہ بظاہر ایک مسلم نام ہے۔ کیا آپ کی اہلیہ ایک مسلم انہوں نے کہا کہ نہیں وہ آرتھوڈاکس چرچ سے تعلق رکھتی تھیں۔ اپنی اہلیہ کے بارے میں انہوں نے ایک بات یہ بتائی کہ وہ ماسکو کی منجمد کر دینے والی سردی میں بھی صبح کے وقت باہر نکل کر دیر تک واک کرتی تھیں۔ اُن کے اس معمول میں کبھی فرق نہیں آیا۔

میز پر لوگوں کے سامنے شراب کا گلاس رکھا جا رہا تھا۔ ہوٹل کے آدمی سے میں نے کہا کہ مجھے پانی چاہئے ۔ اس پر گورباچوف سے شراب کے بارے میں گفتگو ہونے لگی ۔ انہوں نے شراب کے نقصانات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جب میں سوویت یونین کا صدر تھا تو میں نے کوشش کی کہ روسی شراب ووڈ کا (vodka) پر پابندی لگاؤں۔ مگر روسی عوام شراب کے اس قدر عادی ہو چکے تھے کہ وہ اس اصلاح کو قبول نہ کر سکے۔

گورباچوف دیکھنے میں ایک بھاری بھرکم شخصیت نظر آتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کی صحت بظاہر اچھی معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیسیپٹیو (deceptive) ہے۔ یعنی مغالطہ آمیز ہے۔ گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ انگریزی کم جانتے ہیں اس لئے پوری گفتگو ترجمان کے ذریعہ ہوئی۔ محسوس کیا کہ وہ کسی سوال کا فوراً جواب دیتے ہیں۔ غالباً سوچ کر جواب دینے کی انہیں عادت نہیں۔ اس کے مقابلہ میں میرا تجربہ ہے کہ چین کے لیڈر کسی سوال کا فوراً جواب نہیں دیتے۔ سوچتے ہیں اور پھر جواب دیتے ہیں۔ غالباً روسی اور چینی کے مزاج کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ روس میں کمیونسٹ اقتدار ختم ہو گیا، جب کہ چین میں کمیونسٹ اقتدار ابھی تک قائم ہے۔ گورباچوف سوویت یونین کے آخری صدر تھے۔ انہوں نے سوویت روس میں پرستراینکا

(سیاسی آزادی) چلائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ اس کے برعکس چینی لیڈروں نے تدبر سے کام لیتے ہوئے یہ کیا کہ وقت کے تقاضوں کے ساتھ اس طرح ہم آہنگی کی کہ سیاسی انتظام اور اقتصادیات دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ انہوں نے اقتصادی آزادی دیتے ہوئے سیاسی جبر کو باقی رکھا۔ اس طرح انہوں نے چین میں کمیونسٹ اقتدار کو بچالیا۔ ۱۲ اکتوبر کی صبح ہوئی تو حسب معمول صبح سویرے میری نیند کھل گئی۔ کچھ دیر کے بعد دور سے چرچ کے گھنٹے کی آواز آئی۔ دہلی میں فجر کی اذان کے ذریعہ معلوم ہوتا تھا کہ صبح ہوگئی ہے، یہاں چرچ کے گھنٹہ کی آواز سے صبح کا اندازہ ہوا۔ فجر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے کل کے سفرنامے کے اجزا لکھے۔ اس کے بعد ناشتہ اور ملاقات وغیرہ کی مصروفیات شروع ہوگئیں۔ ۱۲ اکتوبر کو کئی پروگرام تھے۔ پہلا پروگرام راؤنڈ ٹیبل میٹنگ کا تھا جو ساڑھے گیارہ بجے ژگ کی تاریخ عمارت گوشر سال (Gothischer Saal) سے شروع ہوا۔ اس اجتماع میں تقریباً ۵۰ افراد یہ دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے تھے۔ گویا کہ عالمی ذہن وہاں اکٹھا ہو گیا تھا۔ موضوع یہ تھا:

Nuclear Terrorism and Prospects of Nuclear Disarmament in the Modern World. اس اجتماع میں پہلے اس کے صدر مسٹر آندرے بیکوف نے ایک تمہیدی تقریر کی اور موضوع کا اس کے بعد سب سے پہلے مجھے بولنے کا موقع دیا گیا۔ میری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ نیوکلیئر ٹررزم اور عام ٹررزم دونوں کی نوعیت ایک ہے۔ اس لیے ہمیں دونوں کے حل کے لیے ایک ہی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔

Nuclear terrorism and non-nuclear terrorism both are same in nature. So we have to deal with both the problem by the same method, that is through sustainable disarmament. In case of nuclear bombs we have discovered a successful technology to extract the plutonium content from the nuclear war machine. Similar is the case with the terrorist. Here also we have to extract

۱۲ اکتوبر کو ۶ بجے شام ژگ کے کسینو تھیٹر میں استقبالیہ پروگرام تھا۔ اس موقع پر چند تقریریں ان میں خاص تقریر آندرے بیکوف (Andrey Bykov) کی تھی جو اس ادارے کے ان کی مادری زبان روسی ہے۔ تاہم وہ انگریزی زبان میں بھی بخوبی قدرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے انگریزی میں بولتے ہوئے اپنے مشن کا تعارف کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جو ہری بم کی صورت میں تاریخ کے سب سے زیادہ خطر ناک بم بننے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے چار بڑے ملکوں کے پاس ایٹم بموں کا تقریباً ۹۰ فیصد ذخیرہ موجود ہے۔ یہ ملک ہیں — امریکہ، روس، برطانیہ اور فرانس۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ چاروں ملک اپنی اکثریت کی بنا پر مسیحی ملک سمجھے جاتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ساری دنیا میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ایٹم بموں کے اس ذخیرہ کو ختم کیا ہم نے لمبی ریسرچ کے بعد ایک ایسی ٹیکنیک دریافت کی جس کے ذریعہ ایٹم بم کے اس حصہ کو نکال لیا جائے جو اس کا سب سے قیمتی اور اہم حصہ ہے، یعنی پلوٹونیم۔ اور پھر اس کو پر امن مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اب تک ہم 6500 بم سے پلوٹونیم کا حصہ نکال چکے ہیں اور امریکہ اس کو خرید کر بجلی پیدا کرنے کے لیے اسے استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پیرنٹ باڈی (parent body) کے طور پر ڈیرگس پیس انٹرنیشنل (Demiurgus Peace International) قائم کیا گیا ہے۔ نیوکلیئر ڈس آرمامنٹ فورم اس کا ایک ذیلی حصہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اگلے پچیس سال کے اندر ہم دنیا میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

میرا عام تجربہ یہ ہے کہ بڑی بڑی کانفرنسوں میں جو لوگ آتے ہیں وہ شاندار زبان بولتے ہیں

اور ان کے ناموں کے ساتھ شاندار القاب ہوتے ہیں مگر وہ زیادہ تر غیر متعلق (irrelevant) باتیں یہ راؤنڈ ٹیبل ڈسکشن بھی اس معاملہ میں بہت زیادہ مختلف ثابت نہ ہوسکا۔ شریک اجتماع سے میں نے اپنے اس احساس کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ مقررین کی چند باتیں جو میں نے وہاں نوٹ کیں ان کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ ساؤتھ افریقہ کے مسٹر ڈیسمنڈ ٹوٹو نے موجودہ تاریک صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خدا ایک ڈریمر ہے۔ اسی طرح ڈریمر اور پرامید ہونا چاہئے:

God is a dreamer. We also ought to be dreamers. I hope you can dream too of a world without a war. We need to be idealists. اس بات کو مجھے کہنا ہو تو میں اس کو اس طرح کہوں گا کہ آج کی دنیا میں جو تشدد کلچر چل رہا ہے اس کا سبب لوگوں کے اندر پختہ شعور (maturity) کا نہ ہونا ہے۔ لوگ امن کی طاقت کو نہیں جانتے اس لیے وہ بہت جلد تشدد پر اتر آتے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ لوگوں کی شعوری نا پختگی کو ختم کیا جائے اور ان کو امن کے فائدے سے آگاہ کیا جائے۔ اس کے بعد ہی موجودہ تشدد کلچر کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ افلاس سے مایوسی پیدا ہوتی ہے اور مایوسی تشدد کو جنم دیتی اس لئے ہمیں چاہئے کہ سب سے پہلے غریبی اور افلاس کو ختم کریں۔ اس کے بعد ہی دنیا میں پر امن سماج بن سکتا ہے:

Poverty breeds despair, and despair breeds violence. یہ بات الفاظ کے اعتبار سے خوبصورت معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ بے وزن ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ کم آمدنی اور زیادہ آمدنی کا فرق خود فطری قانون کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی کے ظلم کا نتیجہ۔ اس لئے اصل ضرورت یہ ہے کہ مواقع کار زیادہ سے زیادہ کھولے جائیں۔ اس کے بعد لوگ اپنے آپ جد و جہد کرنا شروع کر دیں گے۔

ایک صاحب نے کہا کہ ہمارے اندر خود انتقادیت (self-criticism) کا مزاج ہونا چاہئے۔ ہمیں صرف مذمت نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسباب کو دیکھنا چاہئے:

یہ بات بذات خود درست ہے مگر اصل مسئلہ اسباب کا صحیح تعین ہے۔ اگر اسباب کا صحیح تعین نہ کیا جائے تو بڑی سے بڑی کوشش بھی اکارت ہو کر رہ جائے گی۔ اس کی ایک مثال کمیونزم ہے۔ نے اسباب کی جو نشاندہی کی تھی اس کے مطابق سو سال تک غیر معمولی جدوجہد کی گئی مگر نتیجہ مزید تباہی کی صورت میں نکلا اور اس کی وجہ یہی تھی کہ اسباب کی تشخیص درست نہ تھی۔ یوگوسلاویہ کی پرنس الزبتھ نے اپنی تقریر میں کہا کہ دنیا کے مسائل کو ہم صرف خارجی کوشش سے دور نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے ہمیں داخلی کوشش کرنی پڑے گی۔

اس قسم کی بات اکثر لوگ کہتے رہتے ہیں لیکن جب ان سے کہا جائے کہ اپنی بات کو زیادہ متعین (specific) انداز میں بتائیے تو میرا تجربہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کر پاتے۔ غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ فیشن کے طور پر اس قسم کی بات کہہ دیتے ہیں لیکن اس معاملہ میں وہ اتنا زیادہ سنجیدہ نہیں ہوتے کہ گہرائی میں اتر کر اس کو زیادہ واضح انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہم اس زمین پر ایک مہمان کی حیثیت رکھتے ہیں مگر ہم ایک برے مہمان ثابت ہوئے ہیں:

اس معاملہ میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انسان خدا کی اس زمین پر جانچ (test) کے لیے رکھا گیا ”مہمان“ کا تصور آدمی کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں کرتا۔ لیکن ”جانچ“ کا تصور جس آدمی کے ذہن میں بیٹھ جائے وہ یقینی طور پر سخت محتاط ہو جائے گا، وہ ذمہ دارانہ زندگی کا طریقہ اختیار

امریکہ سے آئی ایک اعلی تعلیم یافتہ خاتون جو وہاں شوماخر انسٹی ٹیوٹ کی ڈائرکٹر ہیں، انہوں نے کہا کہ آج کی سب سے بڑی ضرورت علاقائی بنیاد پر خود کفیل اقتصادی نظام

(self-sufficient regional economy) ہے۔ مگر یہ بات عملی حقائق کے مطابق نہیں۔ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ آج تیزی سے گلوبل اکانومی دنیا میں قائم ہورہی ہے۔ ایسی حالت میں وہی نظریہ درست نظریہ ہے جو زمانہ کے حالات سے مطابقت رکھتا ہو۔ کوئی نظریہ خواہ بظاہر کتنا ہی خوبصورت ہو وہ زمانی تقاضوں کو نظر انداز کر کے قائم نہیں ہوسکتا۔

ایک صاحب نے اپنی تقریر میں امن کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امن کس لئے ہوتا ہے۔ امن کا مقصد یہ ہے کہ حالت موجودہ کو باقی رکھنے کی کوشش کرنا:

Printed page