Al-Risala · August 2003

Peace is to try to defend statusquo.

Al-Risala, August 2003, pp. 20–24

By Maulana Wahiduddin Khan

امن کی اس تعریف میں ایک بات نہیں آئی ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کو ختم کر کے امن قائم کرنے کا مطلب وہی ہے جس کو وقت کا حصول (buy time) کہا جاتا ہے۔ یعنی معتدل ماحول قائم کر کے کام کا موقع حاصل کرنا۔

ایک صاحب نے کہا کہ اس وقت پولیٹیکل لیڈرس مختلف ملکوں میں امن کے لئے کام کر رہے مذہبی رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ آئیں اور اس کام کو آگے بڑھائیں: Religious leaders should come forward and set off a spark to this new world of peace. یہ بات صحیح ہے کہ پولیٹیکل لیڈرس یا انٹلکچول لیڈرس امن کے نام پر آج کل کافی سرگرمی مگر میرے تجربے کے مطابق ، یہ بھی ان کی لیڈری کا ایک حصہ ہے۔ میں اس قسم کی بہت سی کانفرنسوں میں شریک ہوا ہوں ۔ میں نے پایا ہے کہ یہ قائدین امن کانفرنس ٹیبل پر تو خوبصورت الفاظ میں امن کی باتیں کرتے ہیں مگر اس کے بعد وہ اپنا بقیہ پورا وقت اس طرح تفریحی انداز میں گزارتے ہیں جیسے کہ امن ان کا کنسَرن (concern) ہی نہیں۔ مجھے یقین نہیں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مذہبی رہنماؤں کی شرکت کوئی واقعی نتیجہ پیدا کرسکتی ہے۔ امن کے قیام کے لیے سب سے پہلی شرط سنجیدگی ہے۔

رؤس کے سابق صدر میخائیل گوربا چوف نے روسی زبان میں تقریر کی جس کا ترجمہ انگریزی

زبان میں کیا گیا ۔ ترجمہ کے مطابق ، ان کی کچھ باتیں یہ تھیں ۔

UN is a relic of the past. Developed nations used everything to their own advantage. We need governance of the world, not govern the world. We need a new world order— more just, more humane. یہ ساری باتیں خود مقرر پر صادق آ رہی تھیں۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر تھے اور اسی کی بنیاد پر سوویت یونین کے صدر بنے ۔ جو کچھ انہوں نے اپنی تقریر میں دوسروں کے بارے میں کہا وہ سب خود اُن کے اوپر اور ان کے سیاسی عقیدے کے اوپر صادق آتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ انسان اپنی ناکامی کا اعتراف نہیں کرتا۔ مگر وہ دوسروں سے امید رکھتا ہے کہ وہ اس کو ناقد کا کریڈٹ عطا کریں۔ مسٹر آندرے بیکوف (Andrey Bykov) نے کسی قدر مفصل تقریر کی ۔ ان کی تقریر کے کچھ جملے یہ تھے دنیا میں دہشت گردی وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ کسی طرح ایک نیا نظام بنایا جائے جس میں جوہری ہتھیاروں کو کنٹرول کیا جاسکے: There prevails an epidemic terrorist situation in the world. How to create a new system of nuclear control. انہوں نے مزید بتایا کہ ایٹم بموں کا جو ذخیرہ اس وقت دنیا میں موجود ہے اس کا ۹۰ فیصد حصہ چار قوموں کے پاس ہے— امریکہ، روس، برطانیہ اور فرانس۔ یہ چاروں قومیں اکثریت کے اعتبار سے مسیحی قومیں ہیں۔ راؤنڈ ٹیبل میٹنگ کے بعد ہم لوگ قریب کے ایک گیسٹ ہاؤس میں لے جائے گئے۔ اس کا نام تھا راتوس کلر (Rathauskeller)۔ یہاں کانفرنس کے شرکاء کے لیے لنچ کا انتظام تھا۔ لنچ کے دوران مختلف لوگوں سے تبادلہ خیال جاری رہا۔ کھانے کے دوران ہمارے ایک ساتھی نے ویٹر سے بریڈ (bread) کی فرمائش کی۔ ویٹر کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ کافی دیر کے بعد ویٹر نے کہا کہ اچھا شاید آپ بروڈ چاہتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ تلفظ کے فرق کی بنا پر ویٹر کو ہماری بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی جس چیز کو ہم بریڈ کہتے ہیں اُس کو وہ لوگ بروڈ بولتے ہیں۔

۱۲ اکتوبر کی شام کو شرکاء اجتماع ہوٹل کسینو کے تھیٹر ہال میں اکٹھا ہوئے۔ یہاں روسی نیشنل آرکسٹرا کا ایک پیانو کانسرٹ (Piano Concert) تھا۔ یہ غیر معمولی طور پر ایک بڑا پروگرام تھا جس میں تقریباً ۱۰۰ آرٹسٹوں نے حصہ لیا۔ اس کو پروفیسر ولادمیر (Vladimir Spivakov) نے کنڈکٹ کیا۔ ولادمیر اپنے کام کو اتنی زیادہ محنت اور لگن کے ساتھ کر رہے تھے کہ ان کا چہرہ واضح طور پر پسینہ سے شرابور ہو گیا۔ حاضرین اتنا زیادہ خوش تھے کہ بار بار تالیوں کے ذریعہ خراج تحسین ادا کر رہے تھے۔ ہر آئٹم جب ختم ہوتا تو پروفیسر ولادمیر اسٹیج کے اوپر حاضرین کی طرف اپنا چہرہ کرکے کھڑے ہوتے اور رکوع کی طرح جھک کر حاضرین کا شکریہ ادا کرتے۔ نے پروفیسر ولادمیر سے اس کی بابت پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے فخر آمیز خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

آرکسٹرا کے اس شو کے بعد دوسرا پروگرام تھا جو اس کانفرنس کا سب سے اہم جز تھا۔ وہ تھا دنیا بھر کے سات منتخب لوگوں کو پیس کا ایوارڈ دینا۔ یہ پروگرام ژگ کے کسینو تھیٹر میں تھا۔ یہ ایک محل نما شاندار ہال تھا جس میں تمام لوگ اکٹھا ہوئے۔

اس کانفرنس کا خاص مقصد دنیا بھر کے سات منتخب افراد کو پیس انٹرنیشنل کی طرف سے انٹرنیشنل پیس ایوارڈ دینا تھا۔ یہ تقریب ۱۲ اکتوبر کو شام کے سات بجے ژگ کے شاندار کسینو تھیٹر میں ہوئی۔ مجھے اسی ایوارڈ کے لیے یہاں بلایا گیا تھا۔ میرے علاوہ چند اور لوگوں کو ایوارڈ دیا گیا، ان میں روس کے صدر مسٹر ولادیمیر پٹن اور افریقہ کے نوبل انعام یافتہ آرچ بشپ ڈسمانڈ ٹوٹو شامل ہیں۔ اس پروگرام کے لیے کسینو تھیٹر کو خصوصی طور پر سجایا گیا تھا۔ خوبصورت اسٹیج پر سات کرسیاں ترتیب کے ساتھ رکھی ہوئی تھیں ۔ ان کرسیوں پر ان لوگوں کو بیٹھنا تھا جن کو ایوارڈ کے لیے منتخب کیا ہر کرسی کے اوپر اس ملک کا جھنڈا لہرارہا تھا جس سے صاحب ایوارڈ کا تعلق تھا۔ کے اوپر انڈیا کا جھنڈا لگایا گیا تھا۔ اس طرح ہر جگہ دوسرے چھ جھنڈوں کے ساتھ انڈیا کا جھنڈا ابھی

اس موقع پر بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ہر ایک کو کسی خاص شخصیت کے ذریعہ انعام دلوایا گیا۔ انعام لینے کے بعد ہر ایک نے مختصر تقریر کی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ دنیا میں امن قائم کرنے کا کام پر امن طریقہ سے ہوگا، نہ کہ تشدد کے طریقہ سے۔ اس سلسلہ میں میں نے مسیح کے مشہور قول کا حوالہ دیا کہ اپنے دشمن سے محبت رکھو۔ میں نے کہا کہ دشمن سے محبت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کے مسئلہ کو محبت کی طاقت سے حل کرو۔ ٹرسٹ بھی اسی طرح ایک دشمن ہے۔ اس لیے مسیح کی اس تعلیم کے مطابق ، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ٹرسٹ سے محبت رکھو۔ یعنی ٹررزم کے مسئلہ کو محبت کی طاقت سے حل کرو۔ ٹررزم کے چیلنج کا مقابلہ محبت اور امن کی طاقت سے کرو۔

اس موقع پر مجھ کو جو ایوارڈ دیا گیا اس میں دوسری چیزوں کے ساتھ ایک سرٹیفکٹ شامل اس سرٹیفکٹ میں یہ لکھا گیا تھا :

سویٹر لینڈ کے مختلف حصوں میں بار بار سفر کے دوران جانے کا اتفاق ہوا۔ جو مناظر دیکھنے میں آئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ یہاں کے درختوں میں ہرے رنگ کی پتیوں کے ساتھ ایک اور رنگ کی پتیاں ہوتی ہیں جن کو سنہرارنگ یا گولڈن کلر کہا جاسکتا ہے۔

یہاں کے درخت کی پتیوں میں اس قسم کا رنگ کیوں ہے۔ اس کا راز اس وقت سمجھ میں آیا جب کہ مجھے ایک اور تجربہ ہوا۔ سوئٹزر لینڈ ایک سرد ملک ہے۔ یہاں اکثر بدلی یا کہر رہتا ہے جس کی وجہ سے دن ہونے کے باوجود سورج اکثر چھپا رہتا ہے۔ کئی بار مجھے اس قسم کا تجربہ ہوا کہ سورج بظاہر نکلا ہوا نہیں ہے مگر فضا میں اجالا نظر آتا ہے۔ غور کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ اجالا انہی سنہری پتیوں کی وجہ سے یہ سنہری پتیاں فضا میں ہلکی روشنی پیدا کرتی رہتی ہیں۔ یہ خدا کی قدرت کی کیسی عجیب نشانی ہے۔ فطرت میں اس قسم کی بے شمار مثالیں ہیں۔

Printed page