Al-Risala · August 2003

چند معلومات

Al-Risala, August 2003, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

سوئٹزر لینڈ وسط یورپ میں واقع ہے۔ وہ ایک لینڈ لاکڈ (land locked) ملک ہے۔ سوئٹزر لینڈ امن کے اعتبار سے ایک مثالی خطہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ امن اختلاف کو ختم کر کے حاصل نہیں ہوا بلکہ اختلاف کو گوارا کر کے حاصل ہوا۔ سوئٹزر لینڈ ایک ایسی نیشن ہے جس کے باشندوں کے درمیان نسلی روایت اور زبان اور مذہب کے اعتبار سے وحدت نہیں۔ مگر وہ ایک ایسی نیشن ہے جو ان اختلافات کے باوجود متحد اور خوشحال ہے:

Switzerland is a nation the people of which have no unity of ethnic heritage nor of language or relegation but it is a nation that nonetheless is united and prosperous. (17/867)

ہندوستان میں نہ سماجی اتحاد ہے اور نہ خوشحالی۔ اس کا سبب کچھ لیڈر اور دانشور یہ بتاتے ہیں کہ یہاں مختلف مذہب اور کلچر پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے پچاس سال سے یہاں یہ کوشش کی جارہی ہے کہ گروہی اختلاف کو مٹاؤ تا کہ ملک میں اتحاد قائم ہو سکے۔ مگر یہ ایک نا قابل عمل منصوبہ ہے۔ لیے وہ اب تک کامیاب نہ ہو سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ اتحاد اختلافات کے باوجود متحد ہونے کا نام ہے، نہ کہ اختلافات کو مٹا کر متحد ہونے کا۔

ہزار سال پہلے مسلمان یورپ میں اقدام کرتے ہوئے سوئٹزر لینڈ کے علاقہ میں داخل ہو گئے تھے۔ مگر یہ داخلہ بہت محدود مدت تک رہا۔ وہ کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہو گیا۔ ایک برطانی پروفیسر

جارج رچرڈ پوٹر (George Richard Potter) نے لکھا ہے کہ دسویں صدی عیسوی میں مسلمان سوئزرلینڈ کے علاقہ میں داخل ہو گئے۔ مگر وہ اپنے مرکز سے اتنا زیادہ دور تھے کہ وہ ایک وقتی خلل پیدا کرنے کے سوا وہاں کچھ اور نہ کر سکے:

In the 10th century Muslims reached Swiss territory, but they were too far from their base to have any thing more than nuisance value.

پروفیسر جارج رچرڈ پوٹر یو نیورسٹی آف شیفیلڈ میں قرون وسطی کی تاریخ کے اُستاد تھے۔ میں اُن کی وفات ہوئی۔ وہ سوئزرلینڈ کی تاریخ کے بارے میں ایک کتاب کے شریک مصنف اس کتاب کا نام یہ ہے:

Printed page