Al-Risala · August 2003

A Short History of Switzerland.

Al-Risala, August 2003, pp. 25–28

By Maulana Wahiduddin Khan

پچھلے کئی سو سال کے درمیان سوئزرلینڈ مسلسل جنگ اور نزاع کی سرزمین تھا۔ پروٹسٹنٹ کا باہمی ٹکراؤ، روس اور فرانس اور جرمنی سے جنگ، وغیرہ۔ مگر سوئزرلینڈ کی قومی پالیسی ہمیشہ دو اصولوں پر مبنی تھی ۔ امن اور غیر جانبداری۔ اسی پالیسی کا یہ نتیجہ ہے کہ سوئزرلینڈ آج دنیا کا سب سے زیادہ پر امن اور خوش حال ملک بن گیا ہے، حالاں کہ سوئزرلینڈ کے پاس قدرتی وسائل کے اعتبار سے پانی کے سوا کوئی اور قابلِ ذکر چیز موجود نہیں۔

سوئزرلینڈ کے تعمیری مزاج کا اندازہ ایک مثال سے ہوگا۔ ۱۸۴۸ میں سوئزرلینڈ میں ایک فیڈرل اسٹیٹ بنی۔ اس کے لیے دو چیمبر (ایوان) کی گورنمنٹ بنی۔ اس کے لیے پریزیڈنٹ کے سالانہ انتخاب کا جو اصول مقرر کیا گیا وہ تھا، برابر والوں میں سے پہلا: The president, elected annually was simply first among equals. (17/886)

۱۹۱۴ میں پہلی عالمی جنگ چھڑی تو یورپی علاقوں کے بہت سے سیاسی پناہ گزیں اپنے ملکوں سے بھاگ کر سوئزرلینڈ آگئے۔ ان سیاسی پناہ گزینوں میں سے ایک مشہور کمیونسٹ ولا دیمیر لینن تھا۔

سوئزرلینڈ ایک غیر جانب دار ملک کی حیثیت رکھتا تھا۔ لینن وہاں ستمبر ۱۹۱۴ میں پہنچا۔ وہاں اس کے کچھ ساتھی بھی اکٹھا ہو گئے جو اس وقت بالشویک کہے جاتے تھے۔ جنگ کے نتیجہ میں ان کا رابطہ اپنے وطن روس سے اور دوسرے علاقوں سے منقطع ہو گیا۔ تا ہم انہوں نے ۱۹۱۵ اور ۱۹۱۶ میں دو اینٹی وار کانفرنسیں سوئزرلینڈ میں منعقد کیں۔ ان کانفرنسوں میں لینن کا نعرہ یہ تھا کہ سرمایہ دارانہ وار کو سول وار میں بدل دو:

Transform the imperialist war into civil war. (10/794)

یہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا منفی طریقہ ہے۔ اکثر لیڈر ایسا کرتے ہیں کہ وہ بظاہر ایک مثبت مقصد کے لیے اٹھتے ہیں مگر اُس کے حصول کے لیے وہ منفی طریق کار اختیار کرتے ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ مثبت مقصد ہمیشہ مثبت طریقہ کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ منفی طریقہ کبھی کسی کو مثبت انجام تک پہنچانے والا نہیں۔

تاریخ کی پہلی بین الالالاقوامی مجلس سوئزرلینڈ میں قائم ہوئی۔ یہ جمعیت اقوام (League of Nations) تھی جو جنگِ عظیم اول کے بعد ۱۹۲۰ میں قائم ہوئی۔ اس کا ہیڈ کوارٹر جنیوا میں تھا۔ اس کا مقصد بین اقوامی تعاون (international co-operation) بتایا گیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے نتیجہ میں یہ جمعیت ٹوٹ گئی۔ کے خاتمہ پر دوسری بین اقوامی مجلس اقوام متحدہ(United Nations) کے نام سے بنی۔ اس کا صدر دفتر نیو یارک میں ہے۔

لیگ آف نیشنز جب سوئزرلینڈ میں قائم ہوئی تو مسلم رہنماؤں نے اُس پر منفی تبصرے کیے۔ اس منفی تبصرہ کی ایک مثال اقبال کے اس فارسی شعر میں نظر آتی ہے:

چیست جمعیت اقوام کفن دزدے چند بہر تقسیم قبور انجمن ساخته اند یعنی جمعیت اقوام کیا ہے۔ کچھ کفن چوروں نے قبروں کی تقسیم کے لیے ایک انجمن بنا لی ہے۔ بلاشبہ نادانی کا تبصرہ ہے۔ مختلف مفادات کی اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ جو اجتماعی ادارہ بنایا جائے وہ ہر ایک کی پسند کے مطابق نہ ہو۔ ایسی حالت میں اصل کام اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا نہیں

ہے بلکہ یہ تلافی کرنا ہے کہ ناپسندیدگی کے باوجو د اُس میں وہ کون سا موافق جزء ہے جس کو اپنے حق میں استعمال کیا جاسکے۔ اِسی کا نام تدبر ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کا کوئی مسلم رہنما اس تدبر کا ثبوت نہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔

سوئزرلینڈ میں زیادہ قدرتی ذخائر نہیں۔ وہاں کی سب سے بڑی دولت سارے ملک میں پھیلی ہوئی جھیلیں ہیں۔ سوئزرلینڈ پہاڑوں کا ایک ملک ہے۔ یہاں عام طور پر ہلکی بارشیں ہوتی ہیں۔ وجہ سے پہاڑوں کے اوپر برف جمتی رہتی ہے۔ یہ برف پگھل کر بہتی ہے تو اُس سے بڑی بڑی جھیلیں سوئزرلینڈ کے لوگوں نے جھیل کی اس دولت کو بھر پور استعمال کیا ہے۔ انہوں نے جھیلوں کو سنوار کر انہیں تفریح گاہ کی حیثیت دے دی ہے۔ وہ اُن سے پانی حاصل کرتے ہیں۔ اُن سے اپنے کھیتوں اور باغوں کی آبپاشی کرتے ہیں۔ اُن سے سستی بجلی پیدا کرتے ہیں، وغیرہ۔ ہندوستان میں اس قسم کی جھیلیں تو نہیں ہیں مگر یہاں کثرت سے ندیاں پائی جاتی ہیں۔ ندیوں کو استعمال کر کے اُن کو عظیم دولت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑے بڑے ڈیم بنانے پر جو بے شمار دولت خرچ کی گئی وہ اگر دریاؤں کے صحیح استعمال پر خرچ کی جاتی تو آج ہندوستان میں پانی کا کوئی مسئلہ موجود نہ ہوتا۔

جہاں تک میں جانتا ہوں، اس مسئلہ میں پہلا قابل ذکر نام ایک انگریز کا ہے۔ یہ لیفٹیننٹ جنرل سر آرتھر کاٹن (Lt. Gen. Sir Arthur Cotton) ہے۔ برٹش حکومت کے زمانہ میں ۱۸۳۹ء میں اُس نے جنوبی ہند میں ایک نہایت اہم کام شروع کیا تھا مگر وہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ اس انگریز نے اپنی اس اسکیم کا نام انٹر بیسن ٹرانسفر آف واٹر (Inter-Basin Transfer of Water) اس کا مقصد یہ تھا کہ ملک کے مختلف دریاؤں کو نہروں کے ذریعہ ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے تاکہ ایک دریا کا پانی دوسری دریا تک پہنچنے لگے۔ تقریباً ہر سال ہندوستان میں یہ منظر سامنے آتا ہے کہ ملک کے ایک حصہ میں زیادہ بارش سے دریاؤں میں طوفان آجاتا ہے جس کا زبردست نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔ عین اُسی وقت ملک کے دوسرے حصوں میں بارش نہ ہونے یا کم ہونے کی وجہ سے

ندیاں سوکھی پڑی رہتی ہیں۔ اگر ملک کی مختلف دریاؤں کو نہریں کھود کر ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے مدیں رہیں گی پاس میں میں ڈاٹ تو یہ فرق ختم ہو جائے گا۔

ید ہیں، آزمین ے میں شکرکتاہت گڑ گڑا کر شکر کی کا شا کر تا ہواں اس کے بعد یہ ہوگا کہ زیادہ بارش والے حصّہ کا پانی نہروں سے گزر کر کم بارش والے حصّہ میں پہنچ جائے گا۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہ ملک کے لیے ایک آبی انقلاب کے ہم معنی ہوگا۔ اس کے بہت سے فائدے حاصل ہوں گے۔ پانی کی قلّت کا خاتمہ، آبپاشی، بجلی کی تیاری، آبی راستوں کے ذریعہ سفر کی آسانی، وغیرہ وغیرہ۔ یہاں ہندوستانی دریاؤں کا ایک نقشہ دیا جا رہا ہے۔ اس سے مذکورہ اسکیم کی نوعیت کا اندازہ ہو گا۔

Printed page